فرقہ وارانہ عدم برداشت کے خاتمے کیلئے پانچ اہم طبقات کا اتحاد


sabookhپاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لئے راولپںڈی اسلام آباد میں پانچ اہم طبقات نے مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔

ادارہ امن و تعلیم کے زیر اہتمام شعبہ تعلیم ، آئمہ مساجد ، مذہبی اسکالرز ، انسانی حقوق اور میڈیا سے وابستہ افراد سے وسیع مشاورت کی گئی جس کے بعد معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے نیشنل کاونٹر نیرزام اتھارٹی کے کمال الدین ٹیپو ، شعبہ اسلامیات ہری پور یونی ورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمھیمن ،ادارہ امن و تعلیم کے چئیرمین رشاد بخاری اور کرٹیکل کنکشن کی مہلکہ صمدانی نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ معاشرہ علم ، ادب اور احترام انسانیت کی بنیاد پر ہی ترقی کر سکتا ہے اور ہمیں اپنے معاشروں میں ان اقدار کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا۔

پانچوں طبقات کو اپنے موضوع کی مناسبت سے پانچ گروہوں میں تقسیم کر کے انہیں اپنے طبقات میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کام کرنے کا ٹاسک دیا گیا ۔

سات ماہ کے دوران پانچوں گروپس نے اپنے اپنے موضوعات پر کام کیا اور اور بہترین نتائج کے ساتھ اپنی رپورٹس کو مرتب کیا ۔

شعبہ تعلیم سے وابستہ گروپ نے راولپنڈی اسلام آباد کی مختلف جامعات ، کالجز ، مدارس اور اسکولوں میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جس کے نیتجے میں 200 سے زائد افراد کو تربیت دی گئی کہ وہ کیسے اقدار پر مبنی معاشرے کے قیام کے لئے جدو جہد کر سکتے ہیں۔

آئمہ مساجد نے مختلف دینی موضوعات پر مساجد میں تقریبات کا انعقاد کیا تاہم ان تقریبات کی سب سے خوبصورتی یہ تھی تمام مکاتب فکر کے علماٗ نے ان تقریبات میں شرکت اور مشترکات کو معاشرے میں پھیلانے پر زور دیا ۔ 130 سے زائد علماٗ اور طلباٗ نے اس عمل میں حصہ لیا ۔

انسانی حقوق کے حوالے سے بنائے گئے گروپ میں وکلاٗ اور معاشرے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے متحرک کارکنان شامل تھے ۔ اس گروپ نے ایک دستاویزی فلم بنائی جس میں معاشرے میں تشدد کے رحجانات کا نقصان بتانے کی کوشش کی گئی ۔

ذرائع ابلاغ سے وابستہ گروپ نے تھیٹر کے زریعے فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لیے شعورکی بیداری پر کام کیا ۔ میڈیا کروپ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے 50 سے زائد مضامین لکھے جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوئے ۔ نوجوان بلاگرز کی تربیت اور ذرائع ابلاغ میں مذہبی موضوعات کور کرنے والے صحافیوں کی تربیت کے ذریعے معاشرے میں فرقہ واراانہ ہم آہنگی کی کوششوں کو فروغ دیا گیا

نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی کے کمال الدین ٹیپو نے کہا کہ معاشرے سے فرقہ وارایت ختم نہیں ہو سکتی تاہم ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ ہم مذہبی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود کیسے پر امن طریقے سے رہ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ برصغیر میں برداشت کی روایت قائد اعظم ، باچاخان اور گاندھی سے جڑی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مدرسے کا ایک طالب علم گردی میں ملوث ہوتو دینی مدارس بند کرنے کا شور شروع کر دیا جاتا ہے تاہم جب عصری اداروں سے وابستہ جامعات کے لوگ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو اس وقت یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ یونی ورسٹیوں کو بند کر دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس وہ کام کررہے ہیں جو حکومت کو کرنا چاہیے تھا ۔

پاکستان میں فرقہ واریت کے خاتمے اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے ادارہ امن و تعلیم، کریٹکل کنیکشن اور کرونہ سنٹر فار پیس بلڈنگ نے اس پروگرام کا انعقاد کیا تھا ۔


Comments

FB Login Required - comments