مشرق کی اقدار اور مغرب کے اصول


Irfan Shahzadہر معاشرے کی اپنی مخصوص اقدار ہوتی ہیں۔ ان کی افادیت دیکھ کر عقلِ عام سے طے کیا جا سکتا ہے کہ کس کی اقدار انسانیت کے لیے بہتر ہیں اور کس کی نقصان دہ۔ مغرب پر تنقید تو بہت ہوتی ہے لیکن حققیت یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے سیاسی سامراجی چہرے سے قطع نظر، اس تہذیب نے انسانیت اور انسانی اقدار کے ضمن میں ارتقا کی جو منازل طے کی ہیں وہ انسانیت کا مشترکہ اثاثہ اور قابلِ تقلید اور تحسین ہے۔ اس کے مقابلے میں اہل مشرق خصوصاً بر صغیر پاک و ہند کی تہذیب کے فرزند اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات کے ساتھ کس پڑاؤ میں پڑے ہیں، اس کا ایک ہلکا پھلکا موازنہ یہاں دیا گیا ملاحظہ کیجئے۔

مغرب میں پڑوسی کے آرام کا خیال کرتے ہوئے بلند آواز میں موسیقی بجانے، گالم گلوچ کرنے پر پابندی ہے، لیکن ہمارے ہاں آپ چاہے ساری رات گانے، قوالیاں، نعتیں اونچی آواز میں لگائے رکھیں کوئی پابندی نہیں۔ لڑائی جھگڑے کا حسن ہی یہی ہے کہ محلے میں کھڑا ہو کر کیا جائے اور ایک دوسرے کی ماں بہن کو سرے عام گالیاں دے کر اپنے مہذب ہونے کا ثبوت دیا جائے۔

مغرب نے ہم جنس پرستی کرنا چاہی تو منافقت سے کام لینے کی بجائے اسے قانونی جواز فراہم کروا لیا جب کہ ہمارے معاشرے نے اسلامی روایات کا احترام کرتے ہوئے قانونی اور اخلاقی جواز پیدا کیے بغیر اس فعل کو اندرونِ خانہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہاں کے لوگ اس فعل کو قانونی درجہ دینے پر مغرب پر تنقید بھی کرتے ہیں، لیکن اپنے ہاں اس کے رواج پر تنقید سننا بھی پسند نہیں کرتے، اسی لیے اس کے ختم کرنے کے کوئی موثر کوشش بھی نہیں کرتے۔ یہاں گویا اس برائی کو کرپشن کی طرح ناگواری سے سہی مگر عملاً اپنا کر گوارا کر رکھا ہے۔

مغرب میں لوگ سنگل فیملی سسٹم کے ساتھ اپنی خاندانی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں، جسے بہت سے لوگ مغرب کے خاندانی نظام کے ٹوٹنے سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں، یہ ان کا طرزِ زندگی ہے، ہر عمر کے افراد کو سنبھالنے کے لیے وہاں ادارے ہیں اور بحیثیت مجموعی وہ اس نظام سے خوش ہیں، ہمارے ہاں ان کے والدین کی تنہائی سے متعلق جو کہانیاں تشکیل دی جاتی ہیں وہ زیادہ تر ہمارے اپنے تخیل کی پروازیں ہیں۔ حقیقت کا اس سے بہت کم تعلق ہے۔ اس کے مقابل، مشرق ابھی تک ہندی معاشرت کے تخلیق کردہ مشترکہ خاندانی نظام میں جکڑے ہوئے ہے۔ اسے اسلامی نظام سمجھتے ہوئے اس پر فخر کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ آئے روز لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، بچوں کے مزاج بگڑ جاتے ہیں، والدین، بچوں کی تعلیم و تربیت پر صحیح طرح توجہ نہیں کر پاتے۔ لیکن اہل مشرق جائیداد کے لالچ میں مشترکہ خاندان کی ہڈی گلے میں پھنسائے ذہنی سکون سے محروم جیے چلے جاتے ہیں۔

مغرب میں محبت کرنے کی آزادی ہے، جب کہ مشرق میں نفرت کرنے آزادی ہے، محبت کریں گے تو مار دیے جائیں گے۔ مغرب میں محبت کی شادی کی اجازت ہے، لیکن ریپ پر سخت کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ یہاں محبت کی شادی کرنا بے غیرتی سمجھا جاتا ہے۔ خاندان والے بائیکاٹ کر دیتے ہیں یا قتل کر دیتے ہیں۔ البتہ ریپ کرنے پر تھانے سے لے کر عدلیہ تک آپ کی پشت پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

مغرب میں جنسی زیادتی کی شکار لڑکی سے ہمدری کے لیے پورا معاشرہ کھڑا ہو جاتا ہے، لڑکی کی حیثیت عرفی میں کوئی فرق نہیں آتا، وہ شادی کرنا چاہے تو ہو جاتی ہے، شادی شدہ ہو تو خاوند اس سانحہ کی وجہ سے طلاق نہیں دیتا۔ جبکہ ہمارے معاشرے میں ایسی متاثرہ لڑکی کی عزت کی بحالی کی کوئی صورت نہیں، مجرموں کو سزا دلوانا تو دور کی بات لڑکی والے ہی کوشش کرتے ہیں کہ بات باہر نہ نکلے۔ تاکہ لڑکی کا کہیں رشتہ تو ہو سکے کیوںکہ ہمارے غیرت مند مرد زیادتی شدہ لڑکی سے شادی نہیں کرتے، اور اگر شادی شدہ عورت کو خدانخواستہ یہ حادثہ پیش آ جائے تو طلاق دے دیتے ہیں یا عضو معطل بنا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسی لڑکی اچھوت بن کر رہ جاتی ہے، دوسری لڑکیوں کو اس سے ملنے جلنے پر روک ٹوک شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے متاثرہ خاندان کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا کہ اپنی گزشتہ شناخت مٹا کر کسی دوسرے شہر یا ملک میں چلیں جائیں اور نئے سرے سے زندگی کا آغاز کریں۔

سوچئے یہ کام کتنا مشکل ہوتا ہے ان لوگوں کے لیے جو برسوں اپنی شناخت کے ساتھ ایک علاقے میں رہتے ہیں اور پھر سب کچھ مٹا کر زندگی کی سب یادیں، رشتے ناتے چھوڑ کر کسی اجنبی جگہ چلے جاتے ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ معاشرے ان کو قبول کرنے کو تیار نہیں، قبول کر بھی لے تو ہمدری کے نام پر ترس کے ٹوکرے لیے ہر موقع پر ان کو ان کے اس ناکردہ گناہ کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ نیز اگر لڑکی والے ہمت کر کے تھانے اور عدالت جا پہنچیں، تو پورا معاشرہ اور خود اپنا خاندان عزت کے نام پر کیس واپس لینے کا مطالبہ بلکہ دباؤ ڈالتے ہیں، ادھر ریپ کرنے والوں کی طرف سے منہ بند رکھنےکے لیے رشوت یا دھونس دھمکی دی جاتی ہے، لڑکی پھر بھی نہ مانے تو عدالت میں وکیل خود لڑکی کو حیا باختہ ثابت کر دیتے ہیں۔ یہ نہ ہو تو لڑکی پر تیزاب پھینک دیں گے یا دوبارہ اس کا ریپ کر کے انصاف حاصل کرنے کی کی جرات کی سزا دیں گے۔ متاثرہ لڑکی کے پاس اپنی عزت بحال کرنے کا طریقہ اس کے سوا اور کوئی نہیں بچتا کہ خود سوزی کر لے، گلے میں پھندا ڈال کر جھول جائے، اس کے بعد لوگ اس کو یقیناََ عزت دے دیں گے، انصاف البتہ پھر بھی نہیں دیں گے۔

مغرب میں تبدیلیِ مذہب پر کوئی پابندی نہیںِ بلکہ مذہب چھوڑ دینے پر بھی کوئی پابندی نہیں، جب کہ یہاں کوئی مذہب بلکہ مسلک ہی تبدیل کر لے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، خاندانی بائیکاٹ ہو جاتا ہے، دھونس دھمکیاں دی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں عقل و فہم کی بنیاد پر بھی اپنا مذہب یا مسلک، جسے بچپن کی ناسمجھی کے دوران سکھا دیا جاتا ہے، کو چھوڑنے یا بدلنے کی کوئی گنجائش نہیں، البتہ آپ منافق بن کر زندہ رہنا چاہیں تو اجازت ہے۔

مغرب میں آزاد شائستہ مکالمہ پر کوئی پابندی نہیں، جب کہ مشرق میں آزاد شائستہ مکالمہ کے جواب میں گالیاں پڑتی ہیں۔ مشرق میں البتہ آزاد غیر شائستہ مناظرہ پر کوئی پابندی نہیں۔

آج اقبال کا یہ شعر مشرق کی طرف منہ کر کے پڑھنے کو جی چاہتا ہے:

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “مشرق کی اقدار اور مغرب کے اصول

  • 05-06-2016 at 1:14 am
    Permalink

    مشرق اور مغرب دو بچے لگتے ہیں۔ مغرب آگے نکل گیا ہے اور مشرق اکڑ کر بیٹھا ہے کہ اس نے مجھ سے دو جماعتیں‌ زیادہ کیسے پڑھ لیں اس لئیے میں‌ مزید تعلیم کا بائکاٹ کروں گا۔

    • 05-06-2016 at 9:13 am
      Permalink

      well said

  • 07-06-2016 at 11:58 am
    Permalink

    bohtttttt khoob lika aiyna dikha dea

Comments are closed.