سماج کا ترکش اور گڈی کا قتل


akhtar hafeezوہ تصویر اب بھی میری آنکھوں کے آگے گھوم رہی ہے، جس میں ایک ہرے بھرے کھیت میں نوجوان لڑکی کی لاش کے سرہانے اس کے بوڑھے ماں باپ بے بسی میں بت بن کر بیٹھے ہیں۔ اور اس کی سرد لاش، پتھرائی ہوئی آنکھوں اور خاموش ہونٹوں کو چپ چاپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ لاش اس 17 سالہ نوجوان گڈی کی ہے، جسے سندھ کے شہر کھپرہ میں ایک زمیندار کے بیٹے نے محض اس لیے گولی مار کر قتل کردیا ہے کہ اس نے نوجوان سے دوستی رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔

میں یہ تو نہیں جانتا کہ جب گولی چلی ہوگی تو درختوں کی شاخوں اور کھیتوں میں بے خوف پرندے اس خوفناک آواز سے اڑے ہوں گے یا نہیں مگر گڈی کی روح کا پرندہ اس وقت ہی اڑ گیا جب گولی اس کے سر سے آرپار ہوگئی تھی۔ ہمارے ہاں عورتوں کو قتل کرنا ہی شاید سب سے آسان کام ہے۔ اس سے قبل بھی ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جن میں عورتوں کو قتل کیا گیا ہے اور قاتل غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھانوں میں بھی پیش ہوتے رہے ہیں مگر عورتوں کے قتل عام کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور جس قسم کی سندھ میں قانون کی حکمرانی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ سلسلہ کبھی بند بھی ہوگا۔

آج سندھ کے حکمران عورتوں کے تحفظ کی بات تو کرتے ہیں مگر جب کوئی مظلوم عورت قتل ہوتی ہے تو بجائے اسے انصاف دلانے کے ہمارے وزیر صاحبان ہی جرگے کی صدارت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سندھ میں یہ سلسلہ برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ کیا کسی کی زندگی صرف اس لیے چھینی جائے کہ اس نے دوستی رکھنے یا پیار کا ناٹک کرنے سے انکار کردیا ہو؟ سندھ میں وڈیرے کتنے بدمست ہیں اس کا اندازہ ان تمام واقعات سے ہوتا ہے، جس میں نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی ان کے ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔

آج بھی کئی کلہاڑیاں ایسی ہیں جنہیں عورتوں کی گردوں پہ چلنے کی جلدی ہے اور ایسی کئی بندوقیں دیواروں پہ ٹنگی ہوئی ہیں، جو معصوم اور بے گناہ عورتوں پہ چلنا چاہتی ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقے جہاں آج بھی کتنے ہاری خاندان اپنا پیٹ پالنے کی خاطر صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی وہ غلامی والی زندگی بھی جاگیرداروں اور بااثر لوگوں سے برداشت نہیں ہوتی، جس میں بھوک ہے، افلاس ہے، غربت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے مگر پھر بھی ان کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

guddi bheelان کسانوں کی ایک تو وہ زنجیریں ہیں جو ہمیں نظر آتی ہیں مگر ان زنجیروں کا کیا کیا جائے جو دکھائی نہیں دیتیں۔ مگر جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اس حصار سے کبھی باہر نکل ہی نہیں پائے جو ہر زمیندار ان کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ وہی کسان ہیں جن کے لیے کسی زمانے میں سندھ کے ہاریوں کے لیڈر جناب حیدر بخش جتوئی نے ہاری کمیٹی قائم کی تھی۔ جنہوں نے کسانوں کے حقوق کے لیے ایک طویل جدوجہد بھی چلائی تھی۔ جنہوں نے اس طبقے کے لیے اشعار اور نظمیں لکھیں مگر وقت کی دھول میں اب ہاری کمیٹی بھی بس برائے نام رہ گئی ہے۔ ورنہ کسی کسان پہ یہ کمیٹی آنچ بھی نہیں آنے دیتی تھی۔

لیکن یہ مسئلہ صرف ایک گڈی کا نہیں ہے جسے بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ان تمام عورتوں کا ہے جنہیں قتل کرتے وقت یہ تک نہیں سوچا جاتا کہ وہ انسان ہے، وہ ہمارے سماج کا ایک ایسا حصہ ہے جس کے بنا سماج کی تعریف ہی نامکمل ہے۔ کسی کو ملکیت چاہئے تب بھی عورت کو مارو، کسی کو کاری کرنا کے تب بھی عورت کو قتل کرو، کسی کو سنگسار کرنا ہے تب بھی سنگ باری عورت پہ ہی کرو۔ مطلب سماج کے ترکش میں جتنے بھی تیر ہیں انہیں اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ سب عورت پہ چلائے جاسکیں۔

ایسے قتل عام اس لیے بھی جائز سمجھے جاتے ہیں کہ قاتل کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی کس حد تک ہے۔ اور عدلیہ کا نظام کس حد تک طاقتور ہے۔ اس لیے ان کے لیے کسی کو قتل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ کسان اور مزدور ان ہاتھوں کے مالک ہیں جن کی محنت کے بنا ہم اس قابل بھی نہیں ہیں کہ بہتر حالت میں خود کو رکھ سکیں۔ گو کہ قتل کی واردات میں ملوث قاتل کو گرفتار کیا گیا ہے مگر کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ کوئی بھی مظہر بوزدار جیسا جنونی عاشق پھر کسی گڈی بھیل جیسی لڑکی کو قتل نہ کرے۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب زمیندار کسان طبقے کو اپنا غلام نہیں بلکہ اس سماج کا اہم عنصر سمجھ کر ان کے حقوق کا تحفظ کریں۔ کیونکہ اس قسم کے واقعات میں زیادہ تر خون کا سودا ہی کیا جاتا ہے اور اس معاملے میں بھی اسے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ میں سوچتا ہوں کہ مظہر بوزدار کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آئی کہ محبت مانگے سے نہیں ملتی۔ مگر ہمارے ہاں غیرت صرف عورت کو قتل کرنے کے لیے ہی آتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 12 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez