بھا، بھینسا اور مولوی


wisi 2 babaتاروں بھری رات میں چھت پر لیٹے میں اور بھا فرقہ وارانہ بحث کر رہے تھے۔ وجہ بحث یہ تھی کہ ہمارا کزن اچانک مولوی ہو گیا تھا اس کی داڑھی ممنوعہ بور چھونے لگی تھی۔ شلوار نکے بھائ کی اور قمیض بلکہ کرتا ابا جی کا پہننے لگ گیا تھا۔ ماڑا بندہ اس سے بحث کرنے سے بھی کترانے لگا تھا کہ عسکری تنظیموں کے ساتھ اس نے اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ صرف میرا ہی وہ اب بھی تھوڑا بہت لحاظ کرتا تھا اور میرے ساتھ ہنسی مذاق بھی کر لیتا تھا ۔

مولوی سے میرا خوشگوار تعلق بھا کو ناپسند تھا کہ بھا اور مولوی دونوں کی ٹسل فساد کے درجے میں داخل ہو چکی تھی زمین بھی ساتھ ساتھ تھی دونوں بہانے بہانے سے لڑتے رہتے تھے انکی لڑائیاں دیکھ کر ہی مولوی سے اس کی زمین کا چارج لے لیا گیا تھا کہ ان دونوں کی لڑائ کسی خاندانی فساد میں نہ ڈھل جائے۔ مولوی نے شکر کیا تھا اور خود کو فسادی قسم کی سرگرمیوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ بھا پھر بھی بڑا کزن ہونے کی وجہ سے مولوی پر تپا ہی رہتا تھا۔

چھت پر لیٹے میں مولوی سے متعلق امور پر ہی بھا کو کبھی سمجھانے اور کبھی تپانے کی کوششیں کر رہا تھا۔ اچانک بھا نے کہا بس کر دے بکواس اور سونے والی کر مج یعنی بھینس اب بول پڑی ہے اور صبح اس کی گود ہری کرانے لے کر جانا ہے کوئ بھینسا ڈھونڈنا ہوگا۔ بھا کو اچانک غصہ چڑھ گیا اور بولا یہ کتا کام بھی اب میں ہی کراؤں زمین اور مال ڈنگر میں پورا حصہ تمھارا ہے، تم لے کر جاؤ۔ میں نے اسکو مشورہ دیا کہ وہ خود کو ہی بھینسا سمجھ لے اور یہ نیکی کر گزرے۔ بھا نے اک ٹوں ٹوں ہی اور پھر اسکی آواز نہ آئ شائد غصے سے سو گیا تھا۔

pathanمیں صبح سو کر اٹھا تو بھا جا چکا تھا وہ سارا دن غائب رہا نوکروں سے بھی پوچھا کہ کدھر ہے تو مجھے بتایا کہ پیدل بھینس کو لیکر گیا ہے۔ شام کے بعد وہ کہیں واپس پہنچا کھانا کھاتے ہوئے اس کو کان میں بولا کہ بھا بڑی عیاشی کرتے رہے ہو آج لائیو فلم دیکھی بھا کے منہ میں نوالہ تھا اس نے اک لمبی سی گالی اپنی اس عیاشی کو دی اور میں اس کو حوصلہ دینے کے لئے اٹھ کر اس کے کندھے دبانے لگا۔

رات پھر چھت پر ہماری چارپائیاں لگائ گئیں اور میں نے بھا کی حوصلہ افزائ کی نیت سے اسے کہا کہ یار تم بڑا کام کرتے ہو فیملی کو تمھاری قدر ہی نہیں ہمارا تو چھوڑ مال ڈنگر کی سیکس لائیف تک کا تمھیں خیال ہے۔ بھا کے لئے تسلی کے دو بول ہی کافی تھے۔ بتانے لگا کہ بھینس کو انجیکشن لگا کر ماں بنانے کا خیال ہی اسے واہیات لگتا ہے ان کے بھی جزبات ہیں انجکشن کا کیا پتہ گناہ ہی ہو۔ میں نے اسے کہا کہ بھینس سے زیادہ بھینسے کے بھی تو کوئ جذبات ہوتے ہیں جسکا تم اس زمانے میں خیال رکھتے ہو اور یہ نیکی ہے۔

بھا نے تفصیل بتانی شروع کی کہ بھینسا ملنا کتنا مشکل ہو گیا ہے تیسرے گھر جا کر تو اس کو بھینسا ملا ایک بندے نے یہ کہہ کر کہ وہ اپنے بھینسے کو اس کام کے لئے استعمال نہیں کرتے بھا کو آگے ٹور دیا اور دوسرے نے یہ کہا کہ بھینسا یہی کام کر کر کے تھکا ہوا ہے تو اسے تیسری جگہ جانا پڑا اور وہاں بھی اسے سو روپیہ دے کر بھینسے کے مالک کو راضی کرنا پڑا۔

سو روپئے کا ذکر سنتے ہی میں نے بھا سے پوچھا کہ اک بھینسا دن میں کتنی بھینسوں کے ساتھ یہ نیکی کر سکتا ہے۔ بھا نے جیسے ہی مختلف اقسام کے بھینسوں کی مختلف کارکردگی کا بیان شروع کیا میں نے بھا کو بولا کہ دفع مار پانچ سو ہزار کی دیہاڑی تو کہیں نہیں گئ تم اپنا بھینسا کیوں نہیں رکھتے۔

بھا بولا بکواس بند کر یہ کتا کم ہے۔ میں نے کہا بھا تم نے کبھی خواب میں بھی ہر مہینے بیس ہزار کی تنخواہ کا سوچا ہے تھانیدار کی بھی اتنی ہی کمائ ہوتی ہے۔ اس کام میں تو کمائ کا امکان پچاس ہزار مہینہ سے بھی زیادہ لگ رہا دو بھینسے رکھ کے تو لاکھ روپیہ مہینہ کی کمائ تک بھی پہنچ سکتے ہو۔ بھا تھوڑا سا ڈھیلا پڑا اور مائل ہوتا محسوس یوں ہوا کہ اس نے لاکھ روپیہ آمدن کے خیال کو فضول قرار دے دیا البتہ تیس سے پچاس ہزار کو ممکن بتایا۔

buffبھا بولا کہ سنڈا یعنی بھینسا تو چلو میں خرید لیتا ہوں لیکن یہ کام میں نے نہیں کرنا کسی اور کو ہی چارج دینا پڑے گا۔ میں نے کہا یار وہ مولوی کو زمینداری سے بیدخل کر رکھا ہے گھر والوں نے ویلا پھرتا ہے۔ اسکی فرقہ واریت اپنی جگہ لیکن ایمانداری میں کوئ شک نہیں ہمارا کزن ہے یہ بھی دیکھو کتنا چندہ اکٹھا کرتا ہے وہ فسادی تنظیموں کے لئے۔ بھا بولا ڈھائ لاکھ تو پچھلے مہینے وہ اکٹھا کر کے لے گیا بندہ تو ٹھیک ہے لیکن میری اس سے نہیں بنتی میں نے بھا کو بولا کہ بڑے مقاصد کے لئے ذاتی خیالات نظریات کی قربانی دینی چاہئے۔ صرف اس بھینسے کا سوچ جو تمھاری وجہ سے ایک عیاش ہیرو کی زندگی گزارے گا کتنی بڑی نیکی ہے۔

بھا بولا کہ یار اے مولوی بزتی بہت کرتا ہے مجھ سے چھوٹا بھی ہے اور میں نے اس کو پھر پھڑکانا ہے مولوی ہے تو اپنے اپنے گھر ہو گا پچھلی بار بھی میں نے اس کا کان اکھاڑ دینا تھا لیکن بچا لیا اسے لوگوں نے بیچ میں پڑ کے۔ میں نے کہا بھا وہ تو اپنے گھر کا کدھر رہا اس سے تو زمین کا چارج بھی لے لیا ہے اب میں خود اس سے بات کروں گا ویلا پھرتا ہے اس کو راضی کرونگا بھلے کمائ کا آدھا حصہ ہی دینا پڑے آدھے حصے کو وہ بھلا انکار کر سکے گا ۔

بھا بولا کہ اوئے آدھا حصہ بہت زیادہ ہے اس کے لئے پانچ ہزار بھی بہت ہیں ویلا ہی تو پھرتا ہے۔ وہ کسی کام کا ہوتا تو کوئ چار پیسے بنا رہا ہوتا۔ میں نے کہا نہیں آدھا حصہ اس کا حق ہے۔ بھا بولا کہ تم اسی طرح پیسے لٹایا کرو حرام دی کمائ سمجھ کے میں نے بھا کو بولا کہ کمائ تو بھینسے کی ہوگی حق حلال کی تمھاری تو حرامدی ہی ہو گی۔ بھا بولا کیوں میں نے اس کو چارہ نہیں ڈالنا کیا میری کیسے حرام دی کمائ ہو گی۔

یہی باتیں کرتے ہم سو گئے۔ بھا اس مذاق کو بہت سنجیدہ لے گیا اور اس نے کہیں پچھلے پہر رات کے سوچا کہ اگر مولوی سے بات اس نے یعنی میں نے کی تو اس کو آدھا حصہ مان لے گا جو بہت زیادہ ہوگا تو بہتر یہ ہے کہ مولوی کو اس کی اوقات پر رکھنے کے لئے بھا اس سے خود بات کرے۔

بھا فجر کی نماز پڑھنے مسجد پہنچا وہاں مولوی کو پیار سے پکارا کہ ویرے میری گل سن۔ مولوی ہکا بکا رہ گیا کہ بھا نے مدت بعد اسے پیار سے پکارا تھا وہ بھا کی ساری کہانی سنتا رہا اور جب بھا کے بات مکانے پر اس نے ایک تاریخی جملہ ارشاد کیا کہ اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی کمائ کھانے کو میں ہی رہ گیا ہوں تو بھا کو اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے بھا اس جملے کی تاب نہ لا سکا اور مجھے بلاوجہ قصوروار سمجھ کر اگ بگولا ہو گیا

اسی آگ کی وجہ سے پہلے تو بھا اور مولوی کو مسجد کے باہر چھڑوایا لوگوں نے۔ مولوی نے اس دن گزر جانا تھا بھا کے ہاتھوں۔ مولوی کو تھوڑا بہت مدھول کر بھا اگ بگولا بنا گھر پہنچا اور اس کے بعد میری آنکھ بھی بھا کی نعرے بازی سے ہی کھلی پھر مجھے گھر سے فرار ہو کر مربعے جا کر پناہ لینی پڑی۔

 


Comments

FB Login Required - comments