پہاڑ بھی باتیں کرتے ہیں


anwaar ayub rajaیہ یونیورسٹی آف لوٹن کا ٹور ازم ڈپارٹمنٹ تھا اور میں یہاں ایک طالب علم۔ یہ بہت سال پرانی بات ہے مگر یہ میری زندگی کا ایسا باب ہے جو جتنا پرانا ہوتا جاتا ہے اسے یاد کرنے سے دل کو اتنی ہی خوشی ہوتی ہے، سمجھ لیں وہ دور یادوں کا  Ventilator ہے۔ میں یہاں برطانیہ میں پچھلی دہائی کے آغاز پر آیا تھا اور اب یہاں پندرہ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے مگر حقیقت میں وہ سفر آج بھی جاری ہے جس کے آغاز پر نہ میرا اختیار تھا اور جس کا انجام بھی میری مرضی سے نہیں ہو گا ۔

کتنا مشکل ہے آگہی کا سفر

بارہا خود سے مات کھائی ہے

زندگی میں دو چیزوں کو ساتھ لیکر چلنا مشکل ہوتا ہے مگر جب دو چیزوں کے درمیان ربط کو ساتھ لیکر چلا جائے تو پھر مشکل مشکل نہیں رہتی آپ کی دوست بن جاتی ہے اور آپ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے .اگر زندگی میں سب کام ہو جائیں، کوئی تکلیف برداشت نہ کرنی پڑے، کہیں کسی سختی کا سامنا نہ ہو اور اگر ایک دن ان سب باتوں سے تنگ آ کر آپ کسی بلند مقام پر بیٹھ کر ایک بار زور سے چیخ کر پہاڑوں سے اپنا غم بیان نہ کریں تو زندگی اس خراب ریل گاڑی کی طرح ہے جو خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر وہ مسافر کو کبھی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ زندگی کا فلسفہ صرف کامیابیوں کے میڈل سینے پر سجانے کا نام نہیں بلکہ ناکامیاں، سختیاں، الجھنیں اور دشوار رستے زندگی کے تمام موسم ہیں اور یہ موسم زندگی کی کھیتی کی آبیاری، زرخیزی اور پختگی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ جو کبھی بھٹکا نہ ہو اسے راستے کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔

Andora1“وقت کسی کے لئے نہیں رکتا! وقت کی رفتار تب بھی جاری رہتی ہے جب دلوں کی دھڑکنیں بند ہوجاتی ہیں۔ وقت زنداں کی تاریکی، سمندروں کی گہرائی اور صحراؤں کی مضطرب رتوں سے بہار کی شاموں، خزاں کی دوپہروں اور ساون کی بد مست جھڑیوں میں چلتا رہتا ہے، یہ فطرت کا تیز رفتار گھوڑا ہے جو تھکتا نہیں اور کہیں رکتا بھی نہیں مگر ایک ایسی جگہ ہے جہاں اس کی رفتار ختم ہو جاتی ہے ” پیٹر گروبسکی کا لیکچر جاری تھا اور میں لیکچر ہال میں بیٹھا پیٹر کے الفاظ کی رنگینیوں کا مزہ لے رہا تھا، مجھے اندازہ تھا پیٹر کی اگلی لائن کیا ہو گی مگر پھر بھی کلوئی نے پوچھا ” وہ کونسی جگہ ہے پیٹر؟” پیٹر مسکرا کر بولا “وہ پہاڑ ہیں کلیر “.

سوزی جو کلوئی کے ساتھ بیٹھی تھی نے پیٹر کی بات سنتے ہی کلوئی کے کان میں کہا ” لو اس کے پہاڑ پھر سے آ گئے ہمیں بور کرنے، یو نو آئی ڈونٹ لائیک ماونٹینز ( تمہیں پتہ ہے مجھے پہاڑ اچھے نہیں لگتے )، پہاڑ بھی کوئی جگہ ہوتے ہیں ؟ جگہیں تو ہیں مراکیش، شرمل شیخ، فلوریڈا، فوکیٹ یا پھر میامی کے ساحل جہاں زندگی کا احساس ہوتا ہے اور جہاں وقت چلتا نہیں بھاگتا ہے … ا ٹ جسٹ فلائز…۔ ۔ انسان ابھی سامان کھول کر ریلیکس کر رہا ہوتا ہے اور ہالیڈے ختم “۔ میں نے سوزی اور کلوئی کی بات سنی تو آگے کے سفر کا سوچنے لگ گیا جس میں ان دونوں نے میرے ساتھ اور پیٹر کے ساتھ انڈورا جانا تھا۔ اس فیلڈ ریسرچ میں ہم کوئی دس لوگ تھے اور ان میں میں واحد ایشیائی تھا- انڈورا کا سفر ایک حسین تجربہ تھا۔ چلیے اس سفر پر چلتے ہیں ! سفر کا آغاز کرنے سے پہلے چند تاریخی غلطیوں پر بات کر لیتے ہیں۔ Andora3کچھ لوگ داستان گوئی کے ماہر ہوتے ہیں اور وہ اس انداز سے داستان بیان کرتے ہیں کہ جھوٹ بھی سچ لگتا ہے۔ ترقی پزیر ملکوں کے مورخین کو اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ کوئی ان کے لکھے حقائق پر تحقیق کرے گا کیونکہ لوگوں کے وسائل محدود ہوتے ہیں اس لیے بہت سے لکھاری یہاں، وہاں، ہر جگہ سے مواد اکٹھا کرتے ہیں اور ایک ماسٹر پیس تیار کر لیتے ہیں جسے واقفیت کی بنا پر ایوارڈ بھی مل جاتا ہے۔

سفر نامہ یا سفری داستان کا بھی یہی حال ہے .جس سفری داستان میں عریانی فحاشی اور جھوٹی داستانیں نہ ہوں وہ سفری داستان یا سفر نامہ نہیں ہوتا داستان گو کو کم از کم یہ ضرور لکھنا پڑتا ہے کہ ” میں ریل کا سفر کر رہا تھا ایک ماہ جبین دروازہ کھول کرآئی میرے ساتھ والی نشت پر بیٹھی اور پھر تھکن کے مارے میرے کندھے پہ سر رکھ کر سوگئی۔ یہیں سے وہ داستان عشق شروع ہوتی ہے جو سفر کے آخر تک ایک انجان سے بندھن کے طورپر قائم رہتی ہے۔ کبھی یہ پیرس کے آئیفل ٹاور کی بلندی پہ جا پہنچتی ہے اور کبھی اس نے مصر کے اہراموں میں اپنے جلوے بکھیرے، داستان گو آخری روز تک اس رشتے میں بندھا رہتا ہے اور پھر جب اسے آخری چپٹر لکھنا ہوتا ہے تو وہ اس حسن کی ملکہ کو ایک ہوٹل کے کمرے میں سویا چھوڑ آتا ہے۔ ایک رقعہ اس کی مدہوش زلفوں کے پاس رکھ کر یہ لکھتا ہے کہ میں اجنبی انجان منزل کا مسافر ہوں، تمہاری رفاقت میری زندگی کا ایک حسین تجربہ تھی، اب مجھے جانا ہے، وغیرہ وغیرہ “۔ میں نے ایسی کوئی سفری داستان نہیں لکھی، میں پچھلے پندرہ سالوں سے سفر میں ہوں اور میں نے کبھی جھوٹ کی عینک سے دنیا کو نہیں دیکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو جو مل نہیں پاتا وہ اس کا سب سے زیادہ پیچھا کرتا ہے اور کبھی کبھی وہ ایک لا حاصل کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ دنیا بہت خوبصورت ہے مگر جو حسن میرے وطن میں ہے اور جو رنگینیاں اس کے سبزہ زاروں میں ہیں وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئیں، یہ سچ ہے کہ ہمارے نظام میں کچھ خرابیاں ضرور ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ خراب ہے۔ مجھے میرا شمال، میرا کشمیر، میرے پہاڑ، میری ندیاں، میری مٹی کے تمام موسم حسین لگتے ہیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

Andora6تولوز ایئرپورٹ سے نکلے تو ٹھنڈ نے اپنی آغوش میں لے لیا، گہری دھند اور ہوا کے سرد جھونکے، ایک جان لیوا کمبی نیشن تھا۔ سوزی اور کلوئی کا سامان گم کر کے ان کی لٹیا تو ایزی جیٹ نامی ہوائی کمپنی نے ڈبو دی تھی اور باقی لوگ نیند سے نڈھال تھے۔ میرے پاس تھوڑا سا سامان تھا، مجھے نہ تو سکینگ آتی تھی اور نہ ہی میرے پاس کوئی اضافی سامان تھا اس لیے میں نے اپنا رک سیک اٹھایا اور سیدھا کوچ کی طرف بھاگا۔ ہماری سیٹیں ریزرو تھیں کوچ کے اندر ہیٹر چل رہا تھا۔ میں نے اپنا کونا تھاما اور جھٹ سے سو گیا۔

میں کوئی دو یا تین گھنٹے سویا ہونگا جب میری آنکھ کھلی تو میرا چہرہ کوچ کی کھڑکی کے شیشے سے چپکا ہوا تھا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پر ڈین بیٹھا تھا اور کچھ حساب کتاب کر رہا تھا۔ میں نے آنکھوں کو ملتے ہوئے جب باہر دیکھا تو میرے سیدھے ہاتھ ایک گہری کھائی تھی اور سامنے پہاڑ برف سے ڈھکے تھے۔

 ایک لمحے کے لیے لگا کہ میں بابو سر ٹاپ پر ہوں، تھوڑا سر کو جھٹکا دیا اور پھر حیرت زدہ آنکھوں سے اس خوبصورتی کو اپنے ذہن کے خالی کینوس پر منعکس کیا تو محسوس ہوا کہ میں علی آباد سے درہ حاجی پیر کی طرف سفر کر رہا ہوں، مجھے انتظار تھا کہ ابھی میرے سامنے با با حاجی پیر کا مزار آئے گا، ایک فوجی چوکی سامنے ہو گی، نو گزی پہاڑ کے دامن میں گاڑی رکے گی اور میں حاجی پیر ویو پوا ئنٹ سے سامنے فرید رج دیکھوں گا، میری پشت میں علی آباد کا صحت افزا مقام ہوگا اور پھر زوزردار بارش ہو گی اور میں بھاگ کر اسی فوجی چوکی میں پناہ لوں گا جہاں کچھ جوان ایک بڑے سے برتن میں چائے بنا رہے ہونگے اور میں ان کے ساتھ دنیا کی سب سے لذیذ چائے پیوں گا مگر نہیں میں فرانس کی سرحد پار کر رہا تھا اور میرے سامنے گھاٹیوں والی ریاست انڈورا تھی۔ میں پچھلے دو تین گھنٹے سے سو رہا تھا اور اس تمام وقت میں باہر کا لینڈ سکیپ با لکل بدل گیا۔

Andora4سرحد عبور کر نا خود میں ایک تجربہ ہوتا ہے۔ زمین کی چھاتی پر انسان کے کھینچے ہوئے خط، وہ لکیریں جو عبور کرتے ہی سب کچھ بدل جاتا ہے، سب کچھ نیا نیا لگتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ اس تبدیلی سے سب سے زیادہ واقف اور متاثر ہوتے ہیں۔ انسان نے دنیا کو بانٹا اور یہ تقسیم کا عمل اس نے تسخیر کے ذریعے کیا۔ انسانی سوچ کے کئی قطب ہوتے ہیں، جو جس سمت کا سفرکرتا ہے وہ وہاں پہنچ جاتا ہے مگر اس کے لیے ارادہ، ہمت اور رضائے ربی پر غیر متزلزل ایمان و یقین ضروری ہے۔

ہم سرحد پار کر رہے تھے، بادل بہت پاس پاس نظر آرہے تھے، بارش ابھی ابھی تھمی تھی اور سب کچھ اجلا اجلا سا تھا۔ نا جانے کیوں انڈورا میں داخل ہوتے ہی کانوں میں عجیب عجیب سی دھنیں بج رہی تھیں، ہوا سرگوشیاں کر رہی تھی اور لگتا تھا کسی وادی میں کوئی حسینہ کہہ رہی ہے :

یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں

پوچھتی ہیں کب بنے گی تو دلہن

میں کہوں جب آئیں گے میرے سجن

میرے سجن چلا بھی آ، چلا بھی آ

اس سرحد کی کوکھ سے ایک نئی تہذیب جنم لے رہی تھی ہم اب کیتلونیا میں تھے۔ انڈورا اور سپین کا بارسلونا ایک قدیم تہذیب کا تاج اپنے سر پر سجانے کا امتیاز رکھتے ہے۔ جیسے انسانوں کی کہانیاں ہوتی ہیں ویسے ہی ملکوں کی بھی داستانیں ہوتی ہیں کیونکہ یہ ملک ان انسانوں نے ہی آباد کیے اور پھر وہ اس بڑی تصویر کا حصہ ہوتے ہیں جسے ہم معاشرت کہتے ہیں۔

مجھے اپنے کانوں میں کوئی مانوس سی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ ڈین نے میری طرف دیکھا اور بولا ”
Andora2آر یو او کے ؟” میں نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ ڈین ہمارا کلاس فیلو تھا مگر اسے یونیورسٹی والے Mature سٹوڈنٹ کہتے تھے کیونکہ ڈین عمر کے اس حصے میں تعلیم حاصل کرنے واپس یونیورسٹی آیا تھا جب لوگ ریٹائرمنٹ کی تیاری کرتے ہیں۔ اس Mature شخص نے پھر سے مجھ سے پوچھا کہ میں ہنس کیوں رہا ہوں۔ میں نے جواب دیا، پہاڑ مجھ سے باتیں کر رہے ہیں۔ ڈین بولا، کیا خرافات بکتے ہو، پہاڑ کیسے بات کر سکتے ہیں۔

پہاڑ باتیں کرتے ہیں ڈین، میں نے وضاحت کی، پہاڑ آپ سے مخاطب ہوتے ہیں اور جب تک آپ کو ان پہاڑوں سے پیار نہ ہو آپ کو ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ میرے ساتھ بھی پہاڑ باتیں کرتے ہیں جیسے عمران مہدی سے کرتے تھے۔ وہ کون ہے ؟ ڈین نے پوچھا! عمران کا بلتستان سے تعلق تھا مگر میری اس کی ملاقات میرپور میں ہوئی تھی۔ گورنمنٹ کالج میرپور کے نیو ہاسٹل کا میں اکیلا رہائشی تھا جس کے مہمان بہت آتے تھے۔ ان مہمانوں میں اکثر وہ لوگ ہوتے جو آج تک میری علمی میراث کا حصہ ہیں۔ عمران مہدی خپلو کا رہنے والا تھا، میں نے جب پہلی بار عمران کو دیکھا تو اس کے ہاتھ میں فیض صاحب کی نسخہ وفا تھا اور وہ لفظ پولو کا مطلب میر ے ایک پہاڑی بھائی کو سمجھا رہا تھا۔ عمران شینا زبان بولتا تھا اور میرپور میں پہاڑی زبان بولی جاتی تھی اس لیے عمران کی اردو بھی یہاں کے مقامی طلبا کے لیے سمجھ سے باہر تھی کیونکہ وہ اردو بھی بہت اچھی بولتا تھا۔ عمران کے ساتھ تین سال گزرے اور ان تین سالوں میں بہت بار عمران نے اپنی آنکھوں سے مجھے بلتستان دکھایا۔ بہت بار ساتھ چلنے کو کہا مگر مجھے فرصت نہ ملی مگر جب بھی عمران اپنے بلتستان کو یاد کرتا تو لگتا کہ رسول حمزہ توف اپنے داغستان کے پہاڑوں سے مخاطب ہے اور کہہ رہا ہے :

” سوچوں اور خیالوں کے آسمانوں سے آگے

Andora- Anwaar Ayub Raja (5)برفانی چوٹیوں اور اتھاہ سمندروں سے پرے

سچ کی آبادی میں

دل کی آنکھ سے

دیکھتا ہوں

وہ سامنے میرا داغستان ہے

میری محبت کا اہرام

میری زندگی کا ورقہ

جہاں میری ماں رہتی ہے

ایک پرانے کمرے میں

میں اس کمرے کی اینٹ ہوں

یہ اینٹ اس وقت تک قائم رہے گی

جب تک میرا داغستان قائم رہے گا

میری محبت کا نشان ” ( نظم محبت، ترجمہ حنیف چوہدری )

عمران مہدی کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا اب وہ سرمو، خپلو میں رہتا ہے اور یہاں کسی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا ہے۔ میرا جواب سن کر ڈین نے پوچھا ” بلتستان کدھر ہے ؟ خپلو اور سرمو کدھر ہیں ؟” میرے پاس اس کے کئی سوالات کا ایک جواب تھا جس نے اسے لاجواب کر دیا۔ میں نے ڈین کو بتایا کہ عمران کا وطن کے ٹو اور براڈ پیک والا حسین خطہ جنت ارضی ہے۔ ڈین تھو ڑی دیر خاموش رہا اور بولا ” راجہ تم ٹھیک کہتے ہو اگر میں کے ٹو کے دامن میں رہتا اور بلتستان میرا وطن ہوتا تو تو پہاڑ مجھ سے بھی باتیں کرتے”۔ ڈین نے مجھے بتایا کہ اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ کبھی کے ٹو سر کرتا، ڈین نے پھر سے اپنی کاپی کھولی اور حساب کتاب میں لگ گیا اور میں پہاڑوں کی باتیں سنتا رہا اور یہ سفر جاری رہا۔ ….


Comments

FB Login Required - comments