خوابوں سے نکل کر حقائق سمجھنے کا وقت


gen raheel امریکہ کی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو 8 ایف 16 طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے کیونکہ پاکستان نے 24 مئی تک خریداری کی دستاویزات پر دستخط نہیں کئے تھے۔ امریکہ نے 700 ملین ڈالر کی اس خریداری میں سے حسب وعدہ 430 ملین ڈالر فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے بااختیار سربراہ باب کارکر کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ اس بارے میں گزشتہ ماہ کے شروع میں خبر سامنے آ چکی تھی لیکن پاکستان کی فوجی قیادت اور خارجہ معاملات کے ذمہ دار اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ وزارت خارجہ کے علاوہ پاک فوج کو بھی یہ یقین تھا کہ سینیٹ کے انکار اور وقتی رکاوٹ کے باوجود امریکہ پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر اس فروخت سے انکار نہیں کر سکے گا۔ یہ طیارے پاک فضائیہ کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کر سکتے تھے۔ اس دوران امریکی ماہرین یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ نوشکی میں ہونے والا ڈرون حملہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا اور آئندہ بھی پاکستان کی سرزمین پر اس قسم کے حملے ہو سکتے ہیں۔ یہ تبصرہ جنرل راحیل شریف کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے کہ نوشکی ڈرون حملہ کو مسترد کرنے کیلئے ’’مذمت‘‘ چھوٹا لفظ ہے۔

شمالی امریکہ میں پاکستانی تنظیموں کی فیڈریشن پاکستانی امریکن کانگریس ہر سال واشنگٹن میں کیپیٹل ہل پر ایک سیمینار کا انعقاد کرتی ہے۔ اس کا مقصد پاکستانی حکام اور امریکی سیاسی نمائندوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرنا ہوتاہے۔ ایف 16 طیاروں کی فروخت کا معاہدہ منسوخ ہونے اور ڈرون حملوں کے خطرات کے بارے میں باتیں اسی تنظیم کے تحت منعقدہ سیمینار میں کہی گئی ہیں۔ اس لئے ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کل کابل کیلئے روانہ ہو رہے ہیں اور وہ مختلف ملکوں کا دورہ کرتے ہوئے 7 جون کو واشنگٹن پہنچیں گے۔ اس موقع پر ان کی صدر باراک اوباما سے خصوصی ملاقات ہو گی اور وہ امریکی کانگریس کی دعوت پر ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ اس قسم کا موقع خاص اور اہم غیر ملکی مہمانوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کےلئے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہو گا۔ وہ اس موقع کو پاکستان کےخلاف بھارت کا مقدمہ مضبوط بنانے اور پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام دہرانے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ وہی باتیں ہیں جو امریکی کانگریس کے بیشتر ارکان سننا چاہتے ہیں۔ وہ خود بھی اسی قسم کے الزامات عائد کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاک فوج دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس طرح افغان طالبان بدستور پاکستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 21 مئی کو نوشکی ڈرون حملہ کے بعد ۔۔۔۔ جس میں طالبان لیڈر ملا اختر منصور مارا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ افغانستان میں اپنے مفادات کے خلاف کام کرنے والے عناصر کا یوں ہی پیچھا کرے گا اور جب بھی موقع ملا انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

پاکستان کی طرف سے اس بات کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ ملا اختر منصور پاکستان میں کیوں موجود تھا اور اس کے پاس پاکستانی کاغذات کیوں موجود تھے۔ اس کی بجائے ڈرون حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ موقف وزیراعظم سے لے کر پاک فوج کے سربراہ تک ، سب نے اختیار کیا ہے۔ لیکن جنرل راحیل شریف پاکستان کے باقاعدہ علاقے میں امریکی حملہ پر زیادہ برافروختہ ہیں۔ انہوں نے خود امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات کے دوران اس حملہ پر احتجاج کیا۔ دو روز قبل پارلیمنٹ کے چوتھے سیشن کے آغاز پر صدر ممنون حسین کے خطاب کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے ایک بار پھر اس ڈرون حملہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس قسم کے حملوں سے پاک امریکہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس امریکی جارحیت کو مسترد کرنے کیلئے ’’مذمت‘‘ چھوٹا لفظ ہے۔ پاک فوج کا یہ سخت رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس حملہ کو بھول کر آگے بڑھنے کی بجائے اس معاملہ کو بنیاد بنا کر امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے واضح اعلان اور اس اصرار کے بعد کہ امریکہ دشمن عناصر جہاں بھی ہوں گے، انہیں نشانہ بنایا جائے گا ۔۔۔ پاکستان کے پاس امریکہ کے موقف کا کیا جواب ہے۔ امریکہ سے موصول ہونے والے بیانات اور اشاروں سے یہ محسوس کرنا مشکل نہیں ہے کہ امریکہ ، پاکستان کو زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور اس کے ساتھ طویل تعلقات اب امریکی مفادات کے تحفظ میں کردار ادا نہیں کر رہے۔ اسی لئے نہ امریکی حکومت اور نہ کانگریس کے رہنما پاکستانی موقف اور شکایات کو خاطر میں لاتے ہیں۔

اسی صورتحال کا شاخسانہ ہے کہ امریکہ نے پاکستانی بلوچستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملہ پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کا حلیف ہونے کے طور پر بھارت سے بات کرنے یا اس کی سرزنش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جبکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف شکایات کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ ہر موقع پر ’’لشکر طیبہ اور جیش محمد‘‘ کا حوالہ دے کر پاکستان کی دلیل کو رد کرتے ہوئے اسے لاجواب کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد افغانستان میں ہونے والی جنگ میں پاکستان کا کردار رہا ہے۔ پندرہ سالہ جنگ کے خاتمہ کےلئے امریکہ طالبان سے معاہدہ کے ذریعے کابل حکومت کو مستحکم کرنا کا خواہشمند ہے تا کہ وہ اپنی تمام افواج کو وہاں سے نکال سکے۔ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ اپنے روابط کا اعتراف کرتا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا جا چکا ہے کہ طالبان کے اہل خانہ پاکستانی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اس طرح امریکہ کو مطلوب طالبان لیڈر پاکستان کے تعاون اور مدد سے سرحد پار کر کے آسانی سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور یہاں قیام بھی کرتے ہیں۔ ملا اختر منصور کو ہلاک کر کے امریکہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسے خبر ہے کہ کون طالبان رہنما کس وقت پاکستان کے کون سے علاقے میں موجود ہوتا ہے۔ امریکہ طالبان کے ساتھ پاکستان کے ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا تھا۔ پاکستان یہ کام کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ گزشتہ برس براہ راست مذاکرات کا ایک راؤنڈ مری میں ہوا تھا لیکن اس دوران ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد طالبان نے مزید بات چیت سے انکار کر دیا۔ ایک برس سے امریکہ ، چین ، پاکستان اور افغانستان کے نمائندوں پر مشتمل ایک گروہ مذاکرات بحال کروانے کیلئے کام کرتا رہا ہے۔ تاہم امریکہ اور افغانستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر طالبان سے بات چیت کا آغاز نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ یہ گروپ اب بھی کام کر رہا ہے لیکن واشنگٹن سے موصول ہونے والے اشاروں سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی حکام اس گروپ کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی پالیسی سازوں کیلئے پاکستان کی اہمیت بھی کم ہو رہی ہے۔ لیکن اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس تبدیلی کو محسوس کرنے اور نئی صورتحال کے مطابق حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔

کیپیٹل ہل پر پاکستانی امریکن کانگریس کے زیر اہتمام سیمینار میں امریکی وزارت خارجہ کے نمائندے ڈیوڈ رانز DAVID RANZ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ سے سالانہ ایک ارب ڈالر دئیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں بھی پاکستان کو قابل ذکر مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بدستور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے لیکن حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جیسے گروہوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ کانگریس پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کو ان گروہوں کے خلاف کارروائی سے مشروط کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی قید اہم مسئلہ ہے۔ امریکہ کو پاکستان کے جوہری پروگرام پر بھی شدید تشویش ہے۔ امریکی حکومت کے نمائندے پاکستان کے خلاف شکایات کا ذکر کرتے ہوئے یا اس کے جوہری پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے بھارت کا ذکر نہیں کرتے۔ بلکہ 2005 میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ سویلین جوہری تعاون کا معاہدہ کر کے اسے باالواسطہ طور سے جوہری طاقت تسلیم کر لیا ہے۔ اب امریکہ کی خواہش اور کوشش ہے کہ بھارت نیو کلیئر سپلائرز گروپ NSG کا رکن بن جائے۔ اس گروپ کے 48 رکن ہیں اور یہ گروپ 1972 میں بھارت کے ایٹمی دھماکہ کے بعد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے قائم کیا گیا تھا۔ بھارت جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے لیکن اس گروپ میں شمولیت کےلئے اسے پھر بھی امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی 2014 سے پہلے گجرات کے مسلم کش فسادات میں اپنے کردار کی وجہ سے کئی برس تک امریکہ کا ویزا حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اب وہ امریکی صدر باراک اوباما کے قریب ترین دوستوں میں سے ہیں اور بھارت کے متعلق اوباما حکومت کی پالیسی کو ان کے دور صدارت کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ چند روز بعد مودی جب واشنگٹن پہنچیں گے تو دو برس کے مختصر عرصہ میں یہ صدر اوباما سے ان کی ساتویں ملاقات ہو گی۔ امریکہ اب بھارت کو پاکستان کے مدمقابل کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ وہ اسے تجارتی اور عسکری لحاظ سے چین کے مقابلے کیلئے تیار کر رہا ہے۔ دونوں ملک بتدریج قریب آ رہے ہیں اور بھارت غیر جانبدار ملک سے امریکہ کا حلیف بننے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ امریکی حکومت اور سیاستدان بھی بھارتی منڈیوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں ملک اب مل کر ہتھیار بنانے کے کارخانے لگانے کا منصوبہ بھی بنا رہے ہیں۔

پاکستان بدستور خود کو اس خطے میں بھارت کے مقابل رکھ کر دیکھتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دنیا اسے بھی بھارت جتنی ہی اہمیت دے۔ لیکن یہ صورتحال گزشتہ چند برس میں تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ امریکی ماہرین اور حکومت بھارت کا مقابلہ چین اور پاکستان کا افغانستان سے کرتے ہیں۔ واشنگٹن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے محقق اور ماہر اسٹیو کوہن STEVE COHEN نے واضح کہا کہ پاکستان کو امریکہ یا بھارت کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دینے کی حکمت عملی ترک کر کے اپنے مسئلے خود حل کرنے چاہئیں۔ اسے دیکھنا ہو گا کہ اس نے ایسی کون سی غلطیاں کی ہیں جن کی وجہ سے اسے بلوچستان میں بغاوت کا سامنا ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ واشنگٹن کے اسکالر مارون وائن بام MARVIN WEINBAUM نے اس موقع پر امریکی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ طالبان کے مذاکرات اور مصالحت کو بھول جائے۔ اب اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصالحت کےلئے کوشش کرنا چاہئے تا کہ اس علاقے میں امن کی امید پیدا ہو سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس سیمینار میں پاکستان کے حوالے سے یہ باتیں سامنے آ رہی تھیں کہ اسے انتہا پسندوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہئے وہاں پاکستانی سفارتخانے کے نمائندے نے یہ کہنا ضروری خیال کیا کہ افغانستان میں مذاکرات کے لئے قائم چہار ملکی گروپ کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ 21 مئی کو ڈرون حملہ میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کا طالبان کے ساتھ امن مذاکرات پر کیا اثر مرتب ہوا ہے۔

ان حالات میں اسلام آباد کے پالیسی سازوں اور راولپنڈی کے پاور سینٹر کو خوابوں کی دنیا سے نکل کر بدلتے ہوئے حالات اور صورتحال کا سامنا کرنے کےلئے غور کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali