دیانت داری کا ڈبل شاہ اور اہلیت کا شوق (انصاری)


\"wajahat\"سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ان دنوں گردش میں ہے۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن لندن کے ایک ریستوران سے رات گئے باہر آتے ہیں تو فٹ پاتھ پر کھڑا ایک نوجوان انہیں مغلظات کی باڑھ پر رکھ دیتا ہے۔ اس نوجوان نے بوجوہ اپنا چہرہ ظاہر نہیں کیا۔ نام پتہ بتانے سے بھی گریزاں ہے۔ یہ البتہ واضح ہے کہ وہ ایک دیانت دار پاکستانی ہے جسے برطانوی پاسپورٹ مل جانے پر بہت فخر ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ شرجیل میمن نے پاکستان سے لوٹے ہوئے پیسوں سے لندن کے ریستوران میں کھانا کھایا ہے۔ یہ ویڈیو ہمارے کچھ اجتماعی رجحانات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 2006 میں نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ وہ لندن کی ایک سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ ایک ہٹے کٹے باریش شخص نے ان کے ساتھ دراز دستی کی کوشش کی۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا لاہور میں ایک مشتعل ہجوم نے پرویز مشرف کے سابق وفاقی وزیر شیر افگن کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اب شیر افگن اس دنیا میں نہیں رہے اور یہ کہ پرویز مشرف دو برس سے زیادہ مدت پاکستان میں گزارنے کے بعد بیروں ملک جا چکے ہیں۔ شیر افگن کو اشتعال کا نشانہ بنانے والا ہجوم پرویز مشرف کے ضمن میں کہیں نظر نہیں آیا، اگرچہ راولپنڈی کے کچھ وکیلوں کا تجربہ چشم کشا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایم کیو ایم کے جلسے میں قائد تحریک الطاف حسین کی انگیخت پر مشتعل ہجوم نے رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں کی عزت افزائی کی تھی۔ گزشتہ دنوں علمائے حق کا ایک گروہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں جا پہنچا تھا، پارسائی کے ان پتلوں کی خوش بیانی کے چرچے دور دور تک پہنچے۔ سیاست میں رائے عامہ، عوامی دباؤ اور ہجوم کے اشتعال کی حدیں بہت واضح ہیں۔ جاننا چاہئے کہ کہاں رائے عامہ سیاسی عمل کو ایک خاص سمت دکھاتی ہے۔ کہاں سیاسی قیادت کو عوامی دباؤ کے نتیجے میں اپنا موقف تبدیل کرنا پڑتا ہے اور کہاں مشتعل ہجوم کی ستیزہ کاری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

قیام پاکستان سے پہلے پنڈت نہرو قبائلی علاقوں کے دورے پر گئے تھے۔ مشتعل قبائلیوں نے تشدد کا مظاہرہ کیا۔ اس تشدد کے پس پردہ کرداروں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں البتہ ایوب خان نے اپنی خود نوشت میں اسکندر مرزا کی انتظامی صلاحیت کا کچھ ذکر کیا ہے۔ علیگڑھ کے ریلوے اسٹیشن پر مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ طالب علموں کی گستاخی کا ذکر مختار مسعود نے اپنی کتاب میں کر رکھا ہے۔ 1950 میں لیاقت علی خان لاہور کے جلسہ عام سے خطاب کرنے آئے تو اسٹیج کے عین سامنے شائستگی کا مظاہرہ کرنے والوں کا ذکر نواب صدیق علی خان نے اپنی کتاب \’بے تیغ سپاہی\’ میں کیا۔ گوجرانوالہ کے ریلوے اسٹیشن پر حسین شہید سہروردی کے ساتھ ناشائستہ سلوک کرنے والوں کے نام ضیا کھوکھر سے پوچھئے گا۔ پیپلزپارٹی ہی کے کسی کارکن سے پوچھئے گا کہ میاں محمود قصوری نے پیپلزپارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کب کیا تھا۔ جماعت اسلامی کو اقتدار کی بساط پر ستر کی دہائی کے آخر میں عروج ملا، جماعت کے کارکنوں کی وضع داری کا احوال پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طالب علموں سے دریافت کر لیجئے۔ ان دنوں مسلم لیگ نواز کے رہنما اور کارکن شیخ رشید کی شعلہ بیانی سے چنداں خورسند نہیں ہیں۔ میاں نواز شریف کی موجودگی میں شیخ رشید کی شائستہ بیانی زیادہ پرانی بات نہیں۔ 2007 کے موسم گرما کی باز آفرینی شاید عمران خان اور سراج الحق کے لئے زیادہ خوشگوار نہ ہو جب پنجاب یونیورسٹی کے احاطے میں عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی۔ 2014 کے دھرنے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس پر تشدد کی بازگشت تو پچھلے ہفتے پھر سنائی دی تھی۔ اور اب عمران خان پاناما لیکس کے سوال پر اپنی حلیف سیاسی قیادت کو عوامی رد عمل کی چتاو¿نی دیتے ہیں۔ کیوں صاحب، سات دہائیوں پر پھیلی اشتعال کی اس مسلسل حکایت کے نتیجے میں کوئی ایسا مرحلہ بھی تھا جہاں ہم ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اک جیسا انجام تھا اپنا ہر طغیانی میں۔ یہ پرچہ البتہ دم بدم لگتا رہا کہ اب ہم بیدار ہوگئے ہیں۔ اور یہ کہ اب ہم نے اپنے رہنمائی کے لئے کچھ فرشتے چن لئے ہیں۔ ایسے فرشتے ہر فصل میں ہزاروں ساتھیوں سمیت گردوں سے اترتے ہیں۔ نامزد قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پروانے، جیالے اور متوالے ٹھہرتے ہیں اور پھر منظر ختم ہوتے ہوتے دیوار کی اوٹ لے کر کسی اور طرف نکل جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے سیاسی مکالمے میں امید جوار بھاٹے کی طرح چڑھتی اترتی ہے اور ہم ہر دفعہ مایوسی کے گرداب میں ہاتھ پاو¿ں مارتے نظر آتے ہیں۔ ہم نے کچھ مفروضے قائم کر رکھے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے کچھ خوش فہمیاں پال رکھی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں۔ ہمارا سیاست دان ہو یا صحافی، مقبولیت کا نسخہ یہ ہے کہ ان مفروضوں اور خوش فہمیوں کو ہوا دی جائے۔ ہمیں مجمع لگانے والا معجون فروش پسند آتا ہے، ہم صحافی کی بجائے ایک سیاپا فروش مانگتے ہیں جو ہمارے مخالفوں کو جی بھر کر گالیاں دے۔ دشنام نگاری کو ہم بے باک صحافت کہتے ہیں۔

ہمارے مفروضے کیا ہیں، ہم سیاست کو فی سبیل اللہ نیکی سمجھتے ہیں۔ مفاد کو بہت برا جانتے ہیں۔ دنیا میں سیاست مفادات کے اس توازن کا نام ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں قائم کیا جاتا ہے۔ مفاد گالی نہیں ہے، جائز استحقاق ہے۔ ہماری لغت میں ابہام کا الزام سیاسی عمل کو نہیں دینا چاہئے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ ملک کو لوٹا گیا ہے اور عوام کو کچھ نہیں مل رہا۔ ملک کو یقیناً لوٹا گیا ہے لیکن لوٹ مار کے حقیقی اعداد و شمار سے ہم آگاہ نہیںاور نہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ اصل لوٹ مار کس نے کی ہے۔ عوام کو فائدہ پہنچنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ الف سے چھین کر ب میں بانٹ دیا جائے۔ یہ ایک غیر اقتصادی مفروضہ ہے، اس کے نتیجے میں خوشحالی پیدا نہیں ہوتی، ہمہ جہت غربت تقسیم ہوتی ہے۔ خوشحالی کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ دولت پیدا کی جائے اور اس دولت کو معیشت میں جذب کر کے معیار زندگی میں بہتری کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ یہ نسخہ پیچیدہ اور صبر آزما ہے لیکن دنیا میں ترقی کا یہی راستہ رہا ہے۔ ہمیں البتہ یہ شوق ہے کہ ہمارے نوٹ ڈبل ہوتے رہیں، ہماری زمین کا رقبہ اور قیمت ڈبل ہوتی رہے، ہمیں ریاست وظیفہ جاری کرے نیز حکمرانوں نے جس تجوری پر تالا لگا رکھا ہے اسے کھولا جائے۔ اب بجٹ آچکا ہے۔ حکومتی ارکان کے مدحیہ پیغامات اور اپوزیشن کی مذمت سے نظر ہٹا کر چند اعداد و شمار ضرور دیکھ لیں۔ کل وسائل کیا ہیں، کتنے محصولات وصول ہونا ہیں۔ برآمدات کا حجم کیا ہے، کیا درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔ ترقی کی شرح کیا ہے اور آبادی کے بڑھنے کی شرح کیا ہے۔ نیز یہ کہ آئندہ مہینوں میں سوئس بینکوں سے لوٹے ہوئے اربوں ڈالر جب واپس آئیں گے تو مجھے بھی خبر کیجئے گا۔ ہم نے غریب کے نام پر غریب فروشی کا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ ہم دیانت کے نام پر الزام تراشی کی سیاست کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ اس ملک میں جتنے دیانت دار، خدا ترس، قانون پسند اور لائق فائق شہری تھے وہ سب کسی حادثے کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں ہم سب بد دیانت ہیں، قطار بنانے کی ثقافت نہیں جانتے، رشوت خور اور سفارشی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ پاکستان میں صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حکومت ہونی چاہیے جیسا کہ ہم معین قریشی، شوکت عزیز اور چودھری سرور کے ضمن میں خوشگوار نتائج دیکھ چکے ہیں۔ ارے یاد آیا، پاکستان میں اکا دکا دیانت دار اور اہل افراد بھی موجود ہیں جنہیں سفارش اور اقربا پروری کی فضا میں آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل رہا جیسے فیصل آباد میں بر صغیر پاک و ہند کے ممتاز شاعر استاد شوق انصاری ہیں۔ استاد نے ایک نظم میں ابنائے وطن کی قدر ناشناسی کا گلہ کیا ہے۔ استاد کا کلام بلاغت نظام ملاحظہ فرمائیے۔ کاش ابن انشا زندہ ہوتے، انہوں نے \”استاد مرحوم\” کا حصہ دوم لکھ دیا ہوتا۔

یہ چنوتی جعلسازوں کی خطا لگتی ہے
ورنہ جاہل کو کہاں ایسی ہَوا لگتی ہے
راز جو آپس کا ہے، آپس میں ضم رہتا ہے
جیسے ماں تک ایک بیٹی کا بھرم رہتا ہے
جو خوشامد کے نمونے اپنے ہاں ملتے ہیں
ایسے بے غیرت زمانے میں کہاں ملتے ہیں


Comments

FB Login Required - comments