مہمان خصوصی کیسے بنتا ہے؟


arif mustafa کوئی اگر ہم سے دریافت کرے کہ مہمان خصوصی کیا ہوتا ہے تو ہم جواب میں اس سے اپنا سوال درست کرنے کو کہیں گے کہ میاں یہ پوچھو کہ بھلا مہمان خصوصی کیوں ہوتا ہے ، اور کیسے ہوتا ہے ؟؟ ویسے اس بات کا ایکدم صحیح جواب تو مدعو کرنے والے ہی دے سکتے ہیں کہ مہمان خصوصی کیوں ہوتا ہے ، لیکن اس کا کسی نا کسی حد تک درست جواب کوئی ‘مہمان خصوصی’ بننے کا تجربہ رکھنے والا بھی دے ہی سکتا ہے ،،، جیسے کہ ہم ، کیونکہ مابدولت بھی ایک بار اس سحرانگیزمسند پہ بٹھائے جا چکے ہیں – زیادہ عرصہ پرانی بات نہیں ایک بار جب ایک انگلش میڈیئم اسکول والے کسی ایسی موٹی اسامی کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر بہت ہلکان اور نہایت لیٹ ہوگئے کہ جو انکی سالانہ تقریب تقسیم اعزازات کیلیئے اپنی جیبیں جھاڑ سکے اور لے دے کے انکی تقریب میں صرف 2 ہی دن باقی رہ گئے تو بالآخر ‘وہ اس مقولے کے قائل ہوہی گئے کہ ‘مقدر سے زیادہ نہیں اور نصیب سے کم نہیں ‘ یوں بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور انہیں بطور ‘مہمان خصوصی’ گذارا کرنے کیلیئے ہم ہی ہاتھ لگ گئے- گو ٹی وی کوئز پروگراموں میں سوالوں کے جواب بتاکر 2 بار کاریں جیتنے کی ہماری ‘ با افراط ‘ شہرت انکا ایک معاشی آنسو پونچھنے کے لیئے بھی کافی نہیں تھی لیکن ‘کچھ بھی نہ ہونے سے کچھ ہونا بہترہے’ کے اصول پہ ہم سے ہمارے ایک دوست کے حوالے سے رابطہ کیا گیا – مزاجاً ہم جدت پسند ہیں لہٰذا انکے مدعو کیئے جانے پہ ہم نے آغاز ہی روایت شکنی سے کیا ، اور وہ ایسے کہ زمانہء قدیم سے ہانکا لگا کر گھیرے گئے مہمان خصوصی کی جانب سے عاجزانہ انکار کرنے کی اک بوسیدہ سی روایت چلی آتی ہے یعنی تاریخی طور پہ فوری ہاں کہنے سے گریز کیا جاتا ہے اور آخری نتیجہ بہرحال انکسار سے کیا گیا اقرار ہی نکلتا ہے ،،، لیکن ہم نے وہ دیرینہ رویت توڑ دی پر اپنے دیرینہ دوست کا دل نہ توڑا اور کسی حد تک فوری ہاں کہ دی- ویسے ہم اس ہاں کہنے میں ہم اک ذرا وقفہء سکوت سا تو لےآئے تھے لیکن جب صاف نظر آیا کہ سندیسہ لانے والا وافر حد تک روکھا ہے اور اصرار کرنا تو درکنار ، اپنی نشست سے بے نیازانہ تین چوتھائی مقدار تک اٹھ بھی چکا ہے تو پھر شتابی سے سر بھی ہلایا اور جھٹ ،۔’منہ سے بھی ہاں کہ دی کہ مبادا کسی ایک قسم کے اقرار پہ اکتفا سے ہماری تسلیم و رضا کی تشریح اس تک صحیح طور پہ منتقل نہ ہوسکی ہو ،،،

مہمان خصوصی بننے کی یہ اؤلین دعوت قبول کرتے ہی ہمیں اپنے اندر یکایک کئی تبدیلیاں سی آتی محسوس ہوئیں اؤل تو یہ کہ سب رگ و پے میں ایک عجب سرشاری سی چھاگئی اور چال میں ایک نامعلوم سی تمکنت آپ ہی آپ در آئی دوئم یہ کہ اپنے ارد گرد کا ہر فرد بلکہ دور دور تک دکھائی دینے والی تمام ہی مخلوق بہت ‘عمومی عمومی ‘ سی دکھائی دینے لگی ، لیکن اس کے باوجود باقیماندہ دن ہم نے اپنے ہر ملنے والے کو بہت دلداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اس اعزاز کی خبر کا شریک کرلیا تاکہ بعد میں شاکی نہ ہو کہ ‘ ہمیں تو بتایا ہی نہیں ۔۔۔ یہ ہمارا بڑا پن تھا لیکن کئیوں کا ظرف بہت کم نکلا، مبارکباد دینا تو کجا ، کچھ تو باقاعدہ کھلکھلا کر ہنس دیئے اور چند حاسدوں نے ہمارے ہی منہ پہ ایسے چنگاریانہ تبصرے کرنے شروع کردیئے کہ ‘ ہمارے ملک میں واقعی تعلیم کا شعبہ بری طرح ابتری کا شکار ہے ۔۔۔ یا یہ کہ ‘ ہماری درسگاہوں کا معیار بہت رو بہ زوال ہے’ وغیرہ وغیرہ – حاسدین کا یہ جارحانہ رویہ ہمیں نڈھال ہی کرڈالتا جو اگر ہم کسی قدردرگزر اور وسیع القلبی سے کام نہ لیتے پھر بھی یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا ، اصل مسئلہ جو درحقیقت ابھر کر سامنے آیا وہ یہ تھا کہ تقریب تقسیم اعزازات و اسناد کی اس تقریب میں ہم کیا تقریر کرینگے ؟ اور آخر کس طرح وہاں موجود ہر جن و بشر کو اس تھوڑے سے وقت میں اپنی بے پایاں صلاحیت سے اس درجہ متاثر کرسکیں گے کہ وہ ہماری وہاں موجودگی پہ بے حساب نازاں ہوں اور بعد میں ہر تیرے میرے کو ہمارے تاریخی فرمودات سے آگاہ کرکے اسے بھی اپنے لازوال فخر کا حصہ بناسکیں ۔۔ !

بطور مہمان خصوصی اپنی کی جانے والی فاضلانہ تقریر کے لیئے ہم نے بسرعت تمام کئی پرانی بقراطی سی موٹی موٹی کتب گرد جھاڑ جھاڑ کر مطالعے کی میز پہ سجادیں، متعدد نامور ادیبوں کی اہم نگارشات کا انتخاب کرکے میز پہ جمایا8 چونکہ مشاہیر کے اقوال زریں ٹانکنا بھی اچھی تقریرکے سامان زیبائش میں داخل ہے چنانچہ اسکی بھی دو کتابیں سامنے رکھ لیں- ایکاایکی یاد آیا کہ تقریر کو موثر بنانے کیلیئے اشعار کا سہارا بھی تو لیا جاتا ہے ، سو بیت بازی کی چند مصالحے دار کتابیں بھی خوب کس کے پونچھی گئیں ، اب جبکہ یہ تمام ناگزیر رسد اکٹھی ہوئی تو پایا کہ میز پہ ایک چھوٹا سا پہاڑسا کھڑا ہوگیا ہے کہ جسے دیکھ کر ہمارا کلیجہ بیٹھ گیا ، تھوڑے سے بادام اور چار مغز پھانک کر قدرے تقویت ملی تو خود کو تسلی دیکر دل اور قلم تھام کر تقریر کا لخت لخت سامان جوڑنے بیٹھے پھر نجانے بہت دیر تک کیا کیا لکھا جاتا رہا ،، لیکن تھک تھکا کر جب پڑتال کی تو سب عبارت اوٹ پٹانگ سی محسوس ہوئی ، سب کچھ علمی بوچھار سے شرابور ہوکر خلط ملط ہوگیا تھا،،، منشی پریم چند نابکار ورڈزورتھ کے کندھوں پہ سوارہو گئے اقبال شیکسپیئر کے مکالمے بولنے لگے۔۔۔ نکلسن اور نطشے کے اقوال زریں عطاء اللہ شاہ بخاری اور سروجنی نائیڈو کے ساتھ گندھ گئے اور اور فیض و غالب مل کر بوسیدہ برٹینڈرسل کے سینے پہ چڑھ بیٹھے تھوڑی ہی دیر میں ہماری تقریر کے مسودے پہ عجب سی گھمسان کی جنگ نظر آنے لگی جس میں عطا ء اللہ شاہ بخاری نطشے کا گلا دبارہے تھے اور مسز نائیڈو کا چونڈا نکلسن کے ہاتھ میں تھا ،،، ہر طرف آغا حشر کی لائنوں نے حشر نشر کیا ہوا تھا اور سرسید و حالی ایک طرف کھڑے لاحول پڑھتے ہوئے ہانپ رہے تھے ۔۔۔

دلبرداشتہ ہوکرجب ہم اپنی چھٹی ہوئی تقریر کا چھٹا مسودہ پھاڑ کربہت مایوسانہ اسکا بڑا سا گولا بنارہے تھے تو اسی وقت ہمارے ذہن میں یہ خیال گونجا کہ “میاں پہلا پہلا موقع ہے ، آخر اتنی بے تحاشہ محنت کی کیا ضرورت ہے ،، پھر سامعین میں بالغوں کی تعداد بھی تو بہت کم ہی ہوگی ، سو اتنے جھنجھٹ میں کیوں پڑا جائے ، ابھی تو فی الحال کام چلانے والی ترکیبیں آزمائینگے یعنی اسکول اور اسکی انتظامیہ کی خوب خوب روایتی سی تعریفیں کرڈالیں گے ، داد کے کم ازکم درجن بھر ڈونگرے برسائینگے ، طلباء کی ذہانت کے بھی زبردست قصیدے سنادیں گے ، اور جس جس جملے پہ تالیاں بجیں اسے کم ازکم 2 ورنہ 3 بار تو لازمی دہرائینگےاور اپنی ایڑی پہ دائیں بائیں گھوم گھوم کے اور سامعین کو تاک تاک کے مزید داد دبوچیں گے اتنا کچھ کہنے اور کرنے کے بعد پھر بھی وقت بچ رہا تو چالؤانہ مہارت سے تعلیم کے مقاصد اور قومی نصب العین ٹائپ عنوانات پہ بھی کچھ نہ کچھ کہنے کی کوشش کردیکھیں گے ، اگر یہ کوشش کامیاب رہی تو آئندہ کہیں اور، ورنہ وہاں تو لازماً تقریر کے کئی مواقع اور مل جائیں گے پھر کیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے خاصے رواں ہوجائیں گے اور پھربعد میں سب عالمانہ و فاضلانہ کسر نکال ہی لیں گے “۔۔۔

ایک اور اہم پریشانی جو لاحق ہوئی وہ کپڑوں کے انتخاب کی تھی ۔۔۔ گرمی کا موسم نہ ہوتا تو کوئی مسئلہ ہی نہ تھا کوئی بھی مناسب سا سوٹ ڈاٹ لیتے کہ جس پہ دلکش سی ٹائی عجب بہار دیتی اور خواتین اسٹاف سے ستائش بھی یقینی ہوتی- مشکل یہ تھی کہ وہاں کرتا شلوار بھی نہیں چڑھایا جاسکتا تھا کہ اسے دائم اردو میڈیئم ملبوسات میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ تقریب ایک نہایت انگلش میڈیئم اسکول کی تھی ، نہایت کا سابقہ یوں لگایا کہ کسی نے بتایا تھا کہ وہاں‌ کے تمام اساتذہ اور اکثر بچے تو کھانستے بھی انگریزی میں ہیں – لے دے کے نگہ انتخاب اس سفاری سوٹ پہ ٹہری جو دو سال پہلے ہم نے اس وقت سے پہننا ترک کردیا تھا کہ جب ایک شادی کی تقریب میں عین اسی کپڑے اور اسی رنگ کا سفاری سوٹ ہم نے اپنے میکینک کو پہنے پایا تھا مستزاد یہ کہ نیا ہونے کے باعث یا میکنک کی خوش شکلی کے سبب ہمارے بزرگ سفاری سے زیادہ دمک رہا تھا ۔۔۔ بہرحال اسے ارجنٹ ڈرائی کلیننگ پہ بھیجا گیا تو اک ذرا سکون کی سانس آئی- اب سب تیاری مکمل تھی اور خدشات کا سبھی غبار چھٹ چکا تھا کیونکہ ہمیں گھر سے ڈھونے اور واپس انڈیلنے کی ذمہ داری اسی دوست کی لگائی گئی تھی بس اک ذرا تردد رفع کرنے کو ہم نے اسے اگلے روز 3 -4 بارفون کرکے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کہ آیا اسکی گاڑی کے جملہ پرزہ جات مستحکم ہیں اور وہ سواری کسی بھی طرح عین وقت پہ دھوکہ دینے کی ویسی تاریخٰ خصلت تو نہیں رکھتی جیسا کہ ہماری تمام گھریلو خبیث مشینریوں کا مقسوم ہے- چوتھی مرتبہ سب تیل پانی چیک کرنے کی ہدایت کے لیئے دوست کو آخرشب فون کیا تو نجانے کیا ہوا وہاں سے فون اٹھاتے ہی بند ہوگیا اور پھر مسلسل بند ہی ملا ،،، تمام شب عجب بے چینی سی رہی-

اگلا دن تقریب کا تھا اور اس روز شاید سورج معمول سے بہت ہی دیر سے طلوع ہوا پھر بھی صبحدم جب ہم بیرونی کھڑکی کے انتہائی بائیں جانب سے سڑک پہ نظریں گاڑے دوست کے منتظر تھے اسکی گاڑی انتہائی دائیں جانب سے آن پہنچی … جھٹ سوار ہوئے اور گاڑی چلدی ، لیکن جلد ہی تشویش ہوئی کہ دوست سے جوبات بھی پوچھتے ہیں آگے سے وہ صرف ‘ہوں ‘ کہتا ہے اور کوئی جواب نہیں دیتا ! پھر یکدم بات سمجھ میں آگئی ،،، گھبراہٹ ، غلطی و عجلت سے ہم کار کی پچھلی نشست پہ بیٹھ گئے تھے اور وہ دوست ہمارا ڈرائیور سا معلوم ہورہا تھا ، لہٰذا فٹا فٹ گاڑی رکوا کر معذرت کرکے اگلی نشست پہ آئے اس بیچارے نے گاڑی ہی میں اچھے بھلے ناشتے کا اہتمام کررکھا تھا کہ شاید اس سحر خیزی و عجلت میں ہم سے رہ گیا ہو- ناشتہ تو ہم علی الصبح ہی کرچکے تھے لہٰذا معذرت کی لیکن اسنے جب یہ کہا کہ اور کھا لیجیئے وہاں تقریر کیلیئے بہت توانائی درکار ہوگی اور آواز بھی ذرا مضبوطی سے نکلے گی، تو گویا حجاب کا پردہ دفعتاً ہٹ گیا اور سب سامان خوردونوش لمحوں میں سمٹ گیا – اسکے بعد آخر آخر اپنے سراپے پہ نظر ڈالنے کیلیئے دو تین بار اپنی سمت کا سائڈ والا شیشہ اپنی طرف موڑا، گو نک سک سے تو درست تھے مگر دوست کا کہنا تھا کہ چہرے پہ 8 بجے ہی 12 کا وقت براجمان تھا – ادھر تیزی سے دوڑتی گاڑی میں ذرا رستے کی ہوا لگی تو بالوں سے فارغ ہوتے سر پہ جو چند بال لٹے پٹے قافلے کی ٹوٹی طنابوں کی مانند سر پہ ادھر ادھر پڑے دکھتے ہیں انہیں یکبارگی سرور ملا اور انہوں نے اٹھ کربھنگڑا ڈال دیا اور پھر باہم بغلگیر ہوگئے انہیں واپس بٹھاتے بٹھاتے ہماری خوابناک منزل آن پہنچی ، جو کہ ایک کشادہ بینکوئیٹ ہال تھا ۔۔۔ آجکل بڑے اسکولوں کا بڑا پن شاید اسی طرح نمایاں ہوتا ہے ،، گاڑی سے یوں اترے بلکہ اتارے گئے کہ گویا دولہا ہیں اور عروسی مسند تک بہت ناز اور احتیاط سے پہنچانے کا فریضہ ان کارکنوں کو سونپا گیا ہے کہ جنہوں نے لپک کے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا- آن کی آن بینڈ بجاتی اسکاؤٹوں کی یونیفارم پہنے طلباء کی ایک ٹولی سامنے صف بستہ ہوگئی – دفعتاً ایک لڑکا جسکے تیور خطرناک اور ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوار تھی چیختا چلاتا ہوا کڑک کر ہماری سمت آگے بڑھا ،،، خدشہ ہوا کہ شاید اسکے مزاج کے خلاف ہمیں مہمان خصوصی بنایا گیا ہے اور ابھی چیر کے رکھ دے گا مصر کے انوارالسادات کا انجام یاد آیا ،،، لیکن اسنے فوراً ہی تلوار دوسرے ہاتھ میں تھام کر یکدم زور سے ایڑیاں بجاکر ہمیں سلیوٹ کیا تو گویا جان میں جان آئی

پھر وہاں ہال کے وسط میں بچھائے گئےسرخ قالین کی پٹی پہ ہم خراماں خراماں اس عالم میں چلائے بلکہ ٹہلائے گئے کہ وہ تلوار بردار آگے آگے تھا جسکے مزید آگے چاراسکاؤٹس مسلسل بینڈ بجائے جارہے تھے اور ہمارے ساتھ دائیں بائیں دو اسکاؤٹس اپنی بغل میں دبی چھڑی کے ایک سرے کو پکڑے ہوئے مستعدی سے چل رہے تھے ۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت ہم چل نہیں رہے تھے ہواؤں میں اڑ رہے تھے ، ہم نے اس طرح کے استقبالی مناظرٹی وی پہ کئی بار دیکھے ہیں اور ہربار مسحور ہوکر رہ گئے ہیں شاید اسی سبب یا کمال نشاط سے ایک بار تو یہ بھی جی چاہا کہ اس سے تلوار لیکر ہم خود ہی ٹھکا ٹھک آگے آگے چلیں لیکن یہ ممکن بھی نہ تھا اور پھر ماضی کی سبھی نقابیں الٹ جاتی ہیں ۔۔ لیکن ہمارا البیلا دل تھا کہ کبھی اس پزیرائی پہ متبسم ہوتا تھا تو کبھی اگلے مراحل سے وابستہ وسوسوں پہ رو رو اٹھتا تھا۔۔! اسی خرام کے دوران پتلون کی گرفت میں مفسدانہ کشادگی سی محسوس ہوئی ، آناً فاناً روشن ہوا کہ اس 2 سالہ وقفے میں ہماری دیرینہ وفادار پتلون خاصی ڈھیلی ہوچکی ہے اور ہم عجلت میں اسے بیلٹ کی لگام دینا بھول گئے ہیں اوراب پتلون پہ کشش ثقل پوری طرح اثرانداز ہے ! بس پھر کیا تھا پانچوں حواس پہلے تو غائب ہوئے اور پھر اسی بیلٹ پہ آکر لم لیٹ ہوگئے ۔۔۔ بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک بندہ ان کا شکار نہ ہوجائے انکی شدت اور گہرائی کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا،،، مجھے پورا یقین ہے کہ کسی عام سے بندے کے لیئے اسکی ڈھیلی پتلون میں بیلٹ نہ ہونے کا مسئلہ تیسری عالمی جنگ چھڑجانے کی خبر سے کہیں زیادہ بڑا ہے

وہ اسکاؤٹس ہمیں بلند کرسی والی مسند پہ چھوڑ کر جب چوکسی سے پلٹے تو ہماری تو دنیا ہی بدل چکی تھی ۔۔۔ بیلٹ کی عدم موجودگی نے جیسے یکایک ہمارے ذہن کی بتی ہی بجھادی تھی اور ہماری دنیا اندھیر ہوچکی تھی ،، ایک لمحے کو تو یکبارگی یہ لگا کہ ہم مفت میں مارے جانے والے ہیں اور دل یہ چاہا کہ انہی پلٹتے مستعدین کے ساتھ ہی اپنی پتلون دونوں طرف سے تھام کر شتابی سے واپس ہولیں ، اور بگولے کی مانند زناٹے سے باہر نکل جائیں اور پھر گاڑی میں بیٹھنے کا تردد بھی نہ کریں بس منہ اٹھا کر بگٹٹ بھاگ نکلیں اور فٹا فٹ قریب سے گزرتی کسی آتی جاتی سواری میں لد جائیں – لیکن مسند پہ موجود دو کرسیوں میں سے ایک پہ اسکول کے مالک براجمان تھے جنہوں نے اٹھ کر لپک کر اس طرح مصافحہ کیا اور نشست پہ بیٹھنے تک اس طرح ہمارا ہاتھ نہ چھوڑا کہ گویا ہمارے فرار کی سوچ ان پہ آشکار ہوچکی ہے ۔۔۔ وہ اس نوعیت کے عجب اور قطعی خاموش آدمی تھے کہ جنہیں خود بخود وقفے وقفے سے مسکراتے رہنے کی ایسی تجارتی مشق ہوچکی ہوتی ہے کہ باقی چہرے کو کانوں کان خبر نہیں ملتی – وہ ہرلحاظ سے ایک کامیاب آدمی تھے ایک بڑے اسکول کے مالک تھے لیکن ہمارے نز دیک انکی خوش قسمتی کی فوری اور بڑی علامت وہ بیلٹ تھی جسنے انکی پتلون کو انکی ٹھاٹھیں مارتی توند سے بخوبی پیوستہ کررکھا تھا، اور وہ بے خوف و خطر ، آسانی سے پیہم مسکراسکتے تھے

ہمارے بیٹھتے ہی تقریب شروع ہوگئی اور تھوڑی دیر بعد جبکہ ہمارا ذہن کسی سنگینی میں الجھا ہوا تھا اور نظر سامنے کسی رنگینی سے سلجھنے کیلیئے آمادہ نہ تھی ، وہاں بھنبھناتی چند مکھیوں نے ہماری ناک پہ بیٹھنے کی ضد کرلی ۔۔۔ بات یہ نہیں کہ ہم ناک پہ مکھی نہ بیٹھنے دینے کے خصوصی طور پہ قائل ہیں بلکہ ہم تو درحقیقت مکھیوں کو کہیں بھی بیٹھنے نا دینے کے لیئے ہمیشہ سے پرجوش رہے ہیں اور جھپٹ کر کسی چیز سے ان پہ حملہ آور ہوجاتے ہیں ، لیکن یہاں برسرعام اپنی ہی ناک پہ جھپٹنا نہایت دلدوز نظارے میں بدل سکتا تھا ۔۔۔ لہٰذا دو چار بار ، ہاتھ میں دبے بروشر کو انکی جانب جھلا تو وہ اڑ کر ہمارے صاف ہوتے ہوئے سر کے پلیٹ فارم پہ جابیٹھیں ، اور پھر خرابی یہ ہوئی کہ فدوی کی چندیا پہ انکی مستقل چاند ماری سے یکایک کھجلی کی شدید خواہش نے انگڑائی لی، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مہمان خصوصی وہ بدنصیب مہمان ہوتا ہے کہ جسے خصوصی طور پہ منع ہے کہ وہ ممنوعہ حصوں کے علاوہ بھی کہیں نہ کھجائے لیکن یہ بات مکھیوں کو کیسے معلوم ہوتی ہے یہ راز ابھی تک نہیں کھلا – آپنے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا کہ مہمان خصوصی عموماً وافر حد تک گنجے ہوتے ہیں اور ہاتھ میں ایک رومال دبائے رکھتے ہیں ۔۔۔ کچھ نا کھجا سکنے کی تلافی کے طور پہ وہ اپنے اس رومال سے کئی بار سر پہ بڑی بےنیازی مگر واضح عجلت کے ساتھ پونچھا سا مار لیتے ہیں ۔۔ اس پونچے کے لیئے وہ نمی کی فراہمی کیلیئے پسینے سے مدد لیتے ہیں اور اس عمل سے ہربارنہ صرف خارش کو آرام ملتا ہے بلکہ انکا پلیٹ فارم بھی یکبارگی جگمگا اٹھتا ہے جسکی وجہ سے تھوڑی سی رونق چہرے پہ بھی چکر لگاتی رہتی ہے لیکن ہمارے پاس گنج تو تسلی بخش حد تک میسر تھا تاہم اسے تسکین و تازگی بہم پہنچانے کیلیئے کوئی رومال نہ تھا لہٰذا ضبط کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور بلاشبہ تادیر جاری رہنے والی یہ مشق ضبط نفس کی تربیت کیلیئے مہارت تامہ تک پہنچانے والی مشقوں میں سے تھی اتنی دیر میں مائیکروفون پہ کس نے کیا کہا یہ انہی مکھیوں کے علم میں ہے کیونکہ ہماری توجہ بس انکی تخریبی سرگرمیوں تک ہی محدود ہوچکی تھی- اگر اسکول کے مالک جلد ہی یہ سب بھانپ کر ایک پنکھا وہاں نہ لگواتے تو اسی دل لگی میں محفل تمام ہونی تھی

ادھر ہم مکھیوں کے ساتھ مہا بھارت کرکے فارغ ہوئے ادھر مائیک پہ کسی مقدس بزرگ کی شان میں کوئی قصیدہ سا پڑھا جانے لگا – پڑھنے والے کے ہاتھ میں ایک بڑا سا فریم تھا اور وہ اسی میں سے جھانک جھانک کر پڑھ رہا تھا ، ہم نے چوکسی سے گمان کیا کہ یہ کسی روحانی شخصیت کا تذکرہ ہے اور اب اسکے عظیم الشان نورانی عرس کی دعوت عام دی جانے والی ہے لیکن یکلخت بیچ میں جب ہمارا نام لیا جانے لگا تو پہلے سخت حیرانی ہوئی اور پھر اس سے بھی شدید پشیمانی ہوئی کیونکہ اس خطاب میں ( کہ جسکے بارے میں بعد میں علم ہوا کہ وہ ہمارے اعزاز میں دیا گیا خطبہ استقبالیہ تھا،،) ہمارے ان اوصاف حمیدہ کو تلاش کرلیا گیا تھا کہ جن میں سے کوئی ایک بھی ہم میں موجود دیکھنے کی تمنا میں ہمارے والدین کبھی کے جنت مکانی ہوچکے تھے ،،، یہ ان خواہشوں اور تمناؤں سے لبریز ایک ایسا کیریکٹر سرٹیفیکیٹ تھا کے جسکے اہم اجزاء کی تکمیل کبھی ہمارے بس کی بات نہ تھی اور محض اس ایک خطبہء استقبالیہ کو دکھاکر مزید تازہ نکاح نہ بھی سہی زکواۃ کونسل کا چیئرمین بننے کی کامیاب کوشش ضرور کی جاسکتی تھی – اس خطبہء استقبالیہ کے بعد چند تعریفی تقریریں اسکول اور اسکی انتظامیہ کیلیئے نہایت یتیمانہ انداز میں کی گئیں ۔۔۔ جن سے واضح ہوتا تھا کہ بالآخر دنیا میں ایک ایسا فقید المثال اسکول قائم ہوچکا ہے کہ گو وہ ہے تو زمین پر لیکن اسکے سارے معاملات جنت سے چلائے جارہے ہیں اور اس کی استانیاں دراصل حوریں ہیں اور اس دور کے کسی بھی طالبعلم کے بدقسمت ثابت ہونے کیلیئے بس اتنا کہنا کافی ہے کہ وہ اس اسکول میں نہیں پڑھتا ہے

لیجیئے اتنے میں وہ گھڑی بھی آن پہنچی کہ جسکے لیئے ہمیں یہاں بلایا گیا تھا ، یعنی تقریب تقسیم اعزازات کے آغاز کا اعلان ہوا اور ہمارا دم جیسے حلق میں آکر اٹک گیا- کمپیئر نے متواتر دوسری بار جب ہمارا نام پکارا تو اٹھنے کی کوشش کی اور یوں لگا کہ جیسے مقتل کو بلائے جاتے ہیں ۔۔۔ خود کو تسلی دینے کی کوشش کی اور اس دوران اک عجب بات ہوئی، اسی لمحہ ہزار بار کا سنا ہوا یہ شعر ذہن میں گونج گیا “جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے ” ،،، اس شعر کی تاثیر ہی کچھ ایسی تھی کہ سینہ ممکنہ حد تک فخر سے پھول گیا اور ساتھ ہی پیٹ بھی کہ جس سے پتلون اور کمر کے درمیان تفاوت واضح طور پہ کم ہوا ۔کشش ثقل بھی خاصی ماند پڑی اور اس غیبی مدد سے بے حد اطمینان ہوا – یقین ہوگیا کہ مایوسی کفر ہے اور ہم پھولے پیٹ پہ دھری پتلون سنبھالے اک گونہ وقار کے ساتھ طلباء کو اعزازات دینے میں جت گئے اس دوران پیٹ سانسوں کی آمد ورفت کے ساتھ پھولتا پچکتا بھی رہا اور ہم کسی قدر چوکنی بے نیازی سے کبھی پیٹ پھلاتے رہے اور کبھی دوسرے ہاتھ سے پتلون کو سفاری کے دامن کی اوٹ میں ایڈجسٹ بھی کرتے رہے، لیکن چند کمبخت حاضرین ہم سے بےنیاز نہ رہ سکے اور جب بھی ہم پینٹ ایڈ جسٹ کرنے کیلیئے سفاری کی اوٹ میں ہاتھ ڈالتے وہ اپنی سیٹ پہ ذرا ترچھے ہوکر اپنی نگاہیں بھی اسی جانب گاڑ دیتے، ایسے میں خوداعتمادی سے بڑی دولت کوئی نہیں ۔۔۔ لیکن اعزازات و اسناد تھیں کہ ختم ہونے ہی میں نا آرہے تھے ،اب طلبا ہی نہیں اسٹاف کے لوگوں کو اور نجانے کن کن لوگوں کو بھی بلایا جارہا تھا اور لگتا تھا کہ آج اسکول کے آس پاس 2-3 کلومیٹر کے علاقوں کا کوئی رہائشی بچ کے نہ جائیگا

یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ اچانک کچھ اندرونی ‘آمد ‘ سی محسوس ہوئی ۔۔۔ اور طبیعت میں کچھ خلاء سا پیدا ہوا۔۔۔ ماحول کی سب دلکشی رخصت ہوئی اور بڑھتے بحران کا بگل دمبدم اندر ہی اندر بجنے لگا،،، لیکن کیا کیجیئے کہ ٹیکنالوجی کے اس تیزرفتار دور میں بھی جبکہ انسانی خیالات کی لہریں تک ریکارڈ کی جانے لگی ہیں ہمارے یہاں کے منتظمین انسانی ضرورت کے طوفان کی لہریں بھی نہیں بھانپ سکتے اور مجبوری کی یہ آفاقی و بین الاقوامی زبان تک نہیں سمجھتے کہ جب کوئی مہمان خصوصی ماحول سے اچانک لاتعلق سا ہوجائے اور بار بار خلاؤں میں گھورتا پایا جائے تو سمجھ لیں کہ ” خصوصی آمد” ہے اور اسے خصوصی مقام رخصت یعنی گوشہء راحت تک پہنچانا لازم ہے ورنہ حالات مہمان و میزبان دونوں کیلیئے نہایت سنگین ہوسکتے ہیں ،،، بالائے ستم یہ کہ اسی انقباضی کیفیت یا بھینچ بھانچ میں تقریر کی نوبت بھی آگئی، یہ وہ مرحلہ تھا کہ ضبط کے سبھی بندھن ٹوٹ رہے تھے اور نجانے کہاں کہاں سے پسینے چھوٹ رہے تھے ،،، میزبان نے روایتی تجارتی مسکراہٹ سے مائیک پہ جانے کا اشارہ کیا تو ہم جوابی مسکراہٹ برآمد کرنے کا رسک نہیں لے سکے کیونکہ ایسا کرنا ضبط و احتیاط کے تقاضوں اور ماحولیات کے لیئے مہلک ہوسکتا تھا۔۔۔ ہم بہت تھم تھم کر ڈائس تک پہنچے ،، حاضرین کیلیئے مہمان خصوصی کی یہ حد درجہ پروقار چال بہت متاثر کن تھی لیکن اسکی اصل وجہ اسکے سوا کوئی بھی نہ جانتا تھا ،،، مائیک منہ کے سامنے آیا تو اندر کی دنیا زیرو زبر ہورہی تھی،،، مسلسل ضبط کے باعث اب سانس پھولنے اور آواز بھرانے لگی تھی ،،، داخلی شدید ابال کے سبب جبڑے بھینچ کر سسکارتے ہوئے صرف اتنا ہی کہ سکے۔۔ “خواتین و حضرات بہت دیر ہوچکی ہے اس لئے میں اس وقت تقریر کرکے آپکا مزید وقت نہیں لینا چاہتا مجھے بھی جلدی ہے آپکو بھی گھر جاناہے لہٰذا خدا حافظ ” اور یہ کہ کر ہم نے دونوں ہاتھوں سے پتلون تھامی اور اسٹیج کے عقبی دروازے کی جانب لرز دار چھلانگ لگا دی


Comments

FB Login Required - comments