چھچھورا بیٹا وڈیرے کا۔۔۔


ibarhim kunbharاس ھاری کی بیٹی کے لئے جوانی اس دن سے زہر بن گئی جس دن زمیں دار کے بیٹے نے اس پر بری نظر ڈالی،وہ اس کو مسلسل تنگ کرتا رہا،وہ لڑکی ایک عذاب میں مبتلا تھی، باپ کو اس لئے نہیں بتا سکتی تھی کہ زمین پاؤں سے کھسکنے کا ڈر تھا، اسے یقین تھا کہ بابا کو بتاؤں گی تو بات بہت دور تک جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ہمیں زمینیں چھوڑنا پڑجائیں۔

اسے یہ تو معلوم تھا کہ پرائی زمینوں پر کام کرنے والے اس کا باپ کتنا کمزور کتنا مجبور ہے۔ وہ تو اپنے باپ سے بھی کمزور تھی اورتنگ کرنے والا زمین دار کا بیٹا بااثر اور ڈھاڈھا مڑس ہے ۔ اس لئے بات بتاؤں تو کس کو بتاؤں؟ وہ اسی خوف میں جیتی رہی اور تاک میں بیٹھے خونی بھیڑیوں سے بچنے کے لئے وہ زمین پر اکیلے بھی نہیں جاتی تھی وہ جس دن قتل ہوئی اس دن بھی اپنے بھائی اور ماں کے ساتھ تھی۔

یہ کپھرو کی گڈی بھیل ( گڑیا) تھی جس کو اسی زمین کے مالک کے بیٹے نے بندوق سے فائر کر کے مار دیا۔ قاتل نے اسے پیٹھ پر فائر کر کے مارا، بندوق کا پورا کارتوس اس معصوم کی گردن کو پھاڑتا اور جبڑے کو چیرتے ہوئے آگے کو نکل گیا، ایک بندوق سے چار کارتوس نکلے اور پولیس کو اس قاتل نے یہ بیان دیا کہ وہ پرندوں کو شکار کرنے آیا تھا یہ قتل کیسے ہوا، اسے کوئی خبر نہیں۔

کپھرو سندھ کی بھارت سے ملنے والی سرحد کے کچھ فاصلے پر ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر شھر ہے۔ اس شھر کی ایک طرف میرپورخاص اور دوسری طرف سانگھڑ ہے،اچھڑو تھر کا ویران اور وسیع بیابان پار کرکے بھارت کی سرحد دیکھی جا سکتی ہے۔

اسی شھر کی ولی عہد کالونی کے نزدیک پولیس اہلکار کے بیٹے نے اپنے مزارعہ خاندان کی جوان سال بیٹی کو قتل کیا اور پھر وہاں سے بھاگ گیا ِ ِ اور دیر سے جاکر پولیس کے ہتھے چڑہا۔ اس قتل کا مقدمہ تو مقتول لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیاہے لیکن سندھ پولیس کارکردگی، پراسکیوشن کی آنیاں جانیاں اور پھر چھوٹے سیاسی زمین داروں کی بڑے زمین داروں تک رسائی او ان کا تگڑا نیٹ ورک دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے اس مقدمہ کا حال بھی وہ ہی ہوگا جو قتل کے عام مقدمات کا ہوتا ہے۔ سندھ تو کیا پاکستان میں قتل کا ہروہ مقدمہ کمزور پڑ کر ختم ہو جاتا ہے جس میں مقتول یق کمزور اور بے پھنچ ہوں ، اس کے برعکس قاتل کے پیچھے کسی نا کسی بااثر کا ہاتھ یا حمایت ہو ، پھر یقین جانو کہ کوئی بھی مقدمہ ماہ دو ماہ میں فارغ۔

hariیہ وہی کھپرو ہے جہاں 2010ء میں زینت بھیو سے زیادتی کا بھیانک واقعہ پیش آیا، اس واقعہ کی گونج پارلیمنٹ میں بھی سنی گئی، چار لفنگوں نے اس لڑکی سے زیادتی کر کے اس کی عریان وڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی، جس کے بعد مقدمہ بنا ،چاروں ملزم گرفتار بھی ہوئے، لیکن انجام وہی جس کا ذکر ابھی کر بیٹھے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اب کی چئرپرسن ماروی میمن نے اس متاثرہ لڑکی سے ملاقات کی اور تب کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے آگے ان کا مقدمہ بھی رکھا اور پھر وزیراعظم نے اس لڑکی سے فون پر بات بھی کی لیکن ہو ا کیا؟ مقامی صحافی ڈیونداس کا کہنا ہے کہ اس وقت چاروں ملزم ضمانت پر رہا ہیں اور دندناتے گھوم پھر رہے ہیں۔

یہ سب کچھ سرداروں کے اس غیر قانونی جرگے کا نتیجا ہے، زینت بھیو کا مقدمہ تو سیشن عدالت میں اب بھی زیر التوا ہے اس کی ہر پیشی دوسری تاریخ کے لئے ملتوی کر دی جاتی ہے،لیکن اس مقدمے کا سانس تو بھیو برادری کے سردارنے جرگہ بلا کر نکال ہی دیا تھا۔ کھپرو میں ہوئے اس کربناک واقع کا جرگا شکارپورمیں ہوا تھا اب زمین داروں اور سرداروں کے نیٹ ورک کا اندازہ خود ہی لگا سکتے ہیں۔

اس جرگے میں بھیو برداری کے سردار نے زینت بھیو کے خاندان کو بلا کر کچھ پیسوں کی لین دین کے عیوض معاملہ کو رفع دفع کرد یا۔ سندھ میں کئی زینتیں اس قسم کے جرگوں سے بار بار ماری گئیں اور جرگوں کا یہ غیر قانونی سلسلہ بڑی عدالتوں کے احکامات کے باوجود جاری و ساری ہے۔ ان جرگوں کے بدلے آزاد ہونے والے مجرم پھر کسی نئی واردات کے لئے کمرکس لیتے ہیں ،جب تک سردار ہیں تب تک جرگے ہیں جب تک جرگے ہیں تب تک مجرموں کے آزادی کے پروانے جاری ہوتے رہیں گے۔

کھپرو میں گڈی بھیل کے قتل کے اس دردناک واقعے کے پیچھے بھی ایک چھوٹے زمین دار کا بیٹا ہی نکلا ہے نا۔ جب تک اس قسم کے مجرم اپنے کئے کی سزا نہیں پاتے تب تک موت ان گڈیوں کا مقدر بنتی رہے گی۔ ان وڈیروں کے نافرمان بیٹوں نے سندھ میں زمین دار اور کاشتکار ،کسانوں کے بیچ اعتماد کا رشتہ ہی ختم نہیں کردیا ہے لیکن زمینوں کو بنجر بنانے میں بھی کسر نہیں چھوڑی۔

سندھ تو سندھ اب تو پورا ملک ان مثالی زمین داروں کو ترستا ہے جو زمینوں کی سنبھال کے ساتھ اس پر رھنے والوں کا چوکیدارہ بھی کرتے تھے ، وہ زمین دار تو تھے ہی لیکن زمینوں پر بسنے والوں کی جان مال اور عزتوں کے امین بھی ہوا کرتے تھے۔

اب تو وہ زمین دار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ہیں جو ا یک ہی وقت اپنے گاؤں کے مکھیہ ،طبیب، مداوا،دھنی اور سب کچھ تھے۔ اپنے گاؤں کو اپنی عزت سمجھنے اور ایک راکھے کے طرح رکھوالی کرنے والے وہ زمین دار گاؤں والوں کے ساتھ ہی ہولیاں اور دیوالیاں مناتے تھے، ایسے زمین دار اپنی لوگوں کے لئے جتنے رحمدل ہوا کرتے تھے اتنے بی رحم چور چکوں اور مجرموں کے لئے ہوا کرتے تھے اس لئے تو چور چکے ان کے گوٹھوں کے نزدیک بھی نہیں بھٹکتے تھے۔ اس زمین دار کی شرافت اور کسان کی محنت کی وجہ سے ہی زمین سونا اگلتی تھی اوران دونوں کے بیچ جو ھم آھنگی اور نہ ٹوٹنے والے احترام کا رشتہ تھا وہ اچانک ٹوٹا تو زمین بنجر بن گئی ، زمین دار بھی دیوار سے جا کر لگا اور کسان بھی دربدرخاک بسر ہو گیا۔

ایک طرف شرافت کی جاگتی مورت بنے ان زمین داروں کی نافرمان اولاد نے کسانوں کے گھروں میں جھانکنے جیسے حرکات کر کے پر نکالنے شروع تو دوسری طرف کئے اس کے ردعمل میں کسانوں کے نام نہاد کامریڈ عزیزوں نے کچھ این جی اوز اور سرخی کے ساتھ خبر لگنے کے چکر میں آکر بیگار کیمپ کی راگنی گانا شروع کرکے ہاریوں کو کیمپوں میں پناھگیر بنا دیا، حیدرآباد میں اب بھی اپنی دھرتی پر سیکڑوں بے گھر پناھگزین کسان کیمپوں میں سڑتے نظر آئیں گے۔ سندھ کا زمین دار اب بھی بااثر ہے لیکن ان زمینوں پر بسنے والے کسانوں اور ہاریوں میں بے اعتمادی کے تسلسل نے زمینوں سے اگتی فصلیں اجاڑدی ہیں۔ دونوں کے بیچ ایک سماجی معاھدہ ریزہ ریزہ ہو کر رہ گیا ہے۔ کھپرو میں گڈی کے قتل کا کوئی ایک واقع نہیں ،سندھ میں اس طرح کے واقعات آئے روز رپورٹ ہوتے ہیں اور ان واقعات کے پیچھے اکثر ایسے ہی کردار ہوتے ہیں جن کے لئے ہمارے شاعر دوست زاھد شیخ ”ھی ٹرڑو پٹ وڈیرے جو“ نظم لکھا جس کا حاصل مطلب کہ۔

گلیوں کا جو غنڈہ ہے ، بچوں کو ہراساں کرتا ہے،

ہاری کو ڈراتا پھرتا ہے،وہ کھینچے بال زنانیوں کے۔

یہ چھچھورا بیٹا وڈیرے کا۔ ۔


Comments

FB Login Required - comments

ابراہیم کنبھر

Ibrahim Kumbhar a working journalist, belong and working for sindhi tv channel KTN NEWS as special Reporter and also bureau chief Daily koshish.. Article writer for Daily kawish ,leading sindhi news paper published from Karachi, Hyderabad and Sukkur.

abrahim-kimbhar has 18 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar