اوپن ہارٹ سرجری- کیا، کیوں، کیسے؟


khurram niazi دل کے متعلق عوام الناس کو گمراہ کرنے میں ہمارے اردو شعرا کا بڑا ہاتھ رہا ہے جو گھوم پھر کر ہر برائی کا الزام دل پر اور ہر کامیابی کا سہرا بھی دل ہی کے ‘سر’ باندھتے رہے ہیں۔ آپ خواہ کلاسیکی اردو شاعری سے متاثر ہوں یا جدید شاعری کے گرویدہ ہوں بلا اختیار یہ تصور آپ کے ذہن میں راسخ ہو جائے گا کہ دل ایک ایسی شے ہے جس کا مول لگایا جا سکتا ہے نیز تولا، خریدا اور بیچا جاسکتا ہے۔ چپکے سے چرایا، دھوکے سے ہتھیایا اور حتیٰ کہ لوٹا بھی جاسکتا ہے۔ خصوصاً اگر رہزن درکار اسلحے سے لیس ہو جیسے سرو قامت، بوٹا قد، رخسار کا مسا، نظروں میں غصہ، سانپ جیسی زلفیں، سرخ نشیلی آنکھیں،زہر خند مسکراہٹ، طنزیہ لہجہ، باریک نظر سے اجھل ہونٹ، موٹے موٹے رس سے بوجھل لب، گول مٹول، مخروطی یا کتابیں چہرہ!! دل کو کاغذ کی طرح پرزے بنایا جاسکتا ہے اور کانچ کی طرح کرچی کرچی بھی۔ اس کو روندا، مسلا، کچلا اور جلایا بھی جاسکتا ہے۔ بہادر اصل میں دلاور، ڈرپوک بزدل، ہمدرد رحمدل اور بے رحم سنگ دل ہوتا ہے۔ بچوں سے آپ کہتے ہیں کہ دل لگا کر پڑھو اور اگر وہ بات نہ مانیں تو سمجھ جائیں کہ ان کا دل پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا ہے۔

قلب یا دل سے منسلک ان تمام محاورانہ ترکیبات اور شاعرانہ کیفیات کا اصل سبب قرون وسطیٰ میں جسم انسانی سے متعلق نامکمل معلومات اور ایک پسماندہ طب تھی جس کا انحصار تجربات کی جگہ مفروضات اور عقائد پر تھا۔ یونانی فلسفی ارسطو نے چوتھی صدی قبل مسیح میں دل کو جسم کا سب سے اہم عضو قرار دیا جو طبعاََ گرم اور خشک ہے اور اس کی رائے میں اردگرد کے اعضاء مثلا دماغ اور پھیپھڑوں کا کام صرف اس کو ٹھنڈا رکھنا ہے۔ مٹی کے اس مجسمے میں مرکز حیات دل ہے اور یہیں سے انسانی فہم و فراست، حرکت و احساس کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ کوئی دو سو سال بعد عظیم طبیب حکیم جالینوس نے ایک جانب تو اس بات کی تصدیق کی کہ جسمانی حرارت کا منبع دل کی ذات شعلہ آفات ہے اور نفس (نیوما) سے بھی اس کا گہرا واسطہ ہے۔ لیکن اس نے دل کے بجائے جگر کو انسانی مزاجوں کی آماجگاہ کا درجہ دے کر اسے دل پر فوقیت دی۔ یہ حکیم جالینوس ہی کے طبی نظریات تھے جو کوئی سترھویں صدی تک پوری دنیا میں چھائے رہے۔ ان ہی پر مبنی ابن سینا کی القانون فی الطب کے مطابق ‘دراصل دل ہی تمام انسانی صلاحیتوں کی جڑ بنیاد ہے۔ یہیں سے غذا، زندگی، سمجھ بوجھ اور حرکات جنم لے کر دوسرے اعضاء میں پھیل جاتی ہیں’ ان کے خیال میں سانس کی تخلیق دل ہی کا فعل ہے۔

جدید طب کا آغاز آج سے دو ڈھائی سو سال قبل صنعتی انقلاب کے ہمراہ ہونے والی دریافتوں اور سائنسی ایجادات کے جلو میں ہوا۔ نئے آلات سے آراستہ تجربہ گاہوں اور علم الابدان کی بہتر معلومات سے بہت سے پرانے نظریات کو شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ طے پا گیا کہ کم از کم پانچ اعضائے رئیسہ ہیں یعنی دل، پھیپھڑے، دماغ، جگر اور گردے جن میں سے کسی ایک کے افعال کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ دل ایک پمپ ہے جو جسم میں موجود کوئی پانچ لیٹر خون کو ہر منٹ پھیپھڑوں سے گزار دیتا ہےجہاں سے فضاء میں موجود آکسیجن جذب کرلی جاتی ہے اور جسمانی کارکردگی سے پیدا ہونے والی زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی ہوجاتا ہے۔ پھیپھڑوں سے دل میں واپس آنے والا یہ خون ایک دفعہ پھر جسم میں پمپ کردیا جاتا ہے۔ خون کی وہ نالیاں جو آکسیجن سے لبریز خون کو دل سے دور لے جاتی ہیں شریانیں کہلاتی ہیں۔ یہ بہت لچک دار ہوتی ہیں لیکن عمر کے ساتھ ساتھ یہ سخت اور بے لوچ ہوتی جاتی ہیں۔ باقاعدگی سے ورزش، متوازن غذا کے استعمال، سگریٹ نوشی سے پرہیز، شراب نوشی میں اعتدال، مثبت طرز فکر اور غیر ضروری ٹینشن اور جذباتی پن سے بچ کر شریانوں کی قبل از وقت اینٹھن سے بچا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر تنگ اور بے لوچ شریانیں بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) کا سبب بن جاتی ہیں۔ جو شریانیں خود دل کو سیراب کرتی ہیں انہیں کورونری شریانیں کہتے ہیں۔ یہ اگر تنگ ہو جائیں تو یا تو دل کا درد یعنی انجائنا اٹھتا ہے یا سیدھے سیدھے دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ دل کا متعلقہ حصہ آکسیجن میں کمی آنے سے اب لاغر و ناکارہ ہورہا ہے۔ فوری طبی امداد نہ ملے تو انتقال پرملال ہوسکتا ہے۔

آپ اگر دل کے عارضوں میں مبتلا امیر و کبیر تاجروں، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور مشہور و معروف شخصیات کی فہرست میں اپنا نام دیکھنا چاہتے ہیں تو آج ہی سے ہر قسم کی جسمانی کسرت و مشقت سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ مقدور ہو تو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے خود زحمت کرنے کے بجائے نوکروں کی فوج متعین کرلیں ورنہ اہل خانہ کی مدد پر ہی اکتفا کر لیں۔ بالفرض اگر آپ کی اوقات اتنی نہیں کہ کسی مالی بدعنوانی، اخلاقی اسکینڈلز یا شعبہ جاتی انکوائری کی زد میں آکر اپنی کورونری شریانوں کو سکیڑ سکیں تو کم از کم چوبیس گھنٹے دستیاب ہیجان آمیز اور اشتعال انگیز ٹی وی پروگرامز سے زندگی میں کچھ تناؤ پیدا کریں، گھر والوں سے وجہ بے وجہ الجھیں، پڑوسیوں سے گالم گلوچ کریں، سڑک پر جنونی ڈرائیونگ کریں اور نصیحت کرنے والوں کے گریبان پھاڑ دیں، سگریٹ سے سگریٹ جلائیں نہیں تو حقہ ہی گڑگڑائیں۔ ہاں غذا کا خاص خیال رکھنا ہے۔ صبح ناشتے میں دیسی انڈوں کا خاگینہ، حلوہ پوری، ہریسہ، گھی میں ترتراتے پراٹھے، بھینس کے دودھ کی بالائی مع شکر۔ دوپہر کو سری پائے، قیمہ نان، ریشمی کباب، پیڑے والی لسی۔ سہ پہر دودھ پتی چائے پینے سے قبل سموسے، بٹیرے، قلفی فالودہ اور دودھ جلیبی۔ رات کے کھانے میں مٹن کڑاہی، مغز اور نلی نہاری، ٹکا ٹک، شیرمال اور جملہ حلویات۔ چلتے پھرتے مسلسل پشاوری نمکین پستے، کوئٹہ کے چلغوزے اور ایرانی باداموں کی مٹھیاں بھر بھر کر ٹھونگتے رہیں۔ یاد رہے کہ تمام پکوانوں کو ویجیٹبل آئل سے محفوظ رکھنا ہے اور صرف خالص گھی سے بگھارنا اور دیسی مکھن سے سنوارنا ہے۔ آئے دن گھر سے باہر جاکر پیزا، چرغہ اور برگر کی بین الاقوامی برانڈز کی سرپرستی کرنی ہے۔ زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ آپ کو بلڈ پریشر، شوگر اور ہائی کولیسٹرول جیسے اونچی ذات کے عوارض لاحق ہوجائیں گے۔ امید ہے جلد ہی آپ کی وسعت پاتی شخصیت کا احاطہ پتلون کے حصار میں کرنا مشکل ہوجائے گا۔ بس یہی وقت ہوگا مغربی لباس کو الوداع کہنے اور قومی لباس میں رہنے بسنے کا۔

جب اٹھتے بیٹھتے دم ایسے پھولنے لگے جیسے دس میل دوڑ لگا کر آئے ہوں اور ساتھ ساتھ کبھی کبھی سینے میں بائیں جانب ایسا لطیف درد اٹھے کہ آپ پسینہ میں شرابور ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو انجائنا ہو رہا ہے۔ اب یا تو آپ دل کا دورہ پڑنے کا انتظار فرمائیں ورنہ کسی ماہر قلب سے مشورہ لے لیں۔ زیادہ امکان ہے کہ وہ ایک ای سی جی، ایکسرے اور خون کے کچھ ٹیسٹ کے بعد آپ کو انجیوگرافی کے لئے بھیج دیں اور بعد ازاں خوشخبری سنائیں کہ آیا صرف انجیوپلاسٹی سے کام چل جائے گا جس میں آپ کو بیہوش کئے بغیر آپ کی گردن کی رگ سے ایک پتلی سی ٹیوب دل تک پہنچا کر بلاک شدہ کورونری میں ایک کشادہ ٹیوب یعنی سٹنٹ ڈال لینے سے آپ کی جان فی الوقت بچ جائے گی یا پھر آپ کا بائی پاس کرنا پڑے گا جسے عرف عام میں اوپن ہارٹ سرجری کہتے ہیں۔ مریض کو مکمل بیہوشی دینا اس عمل میں لازمی ہے جس کا اصل نام کورونری شریان کی پیوند کاری ہے۔ اس میں جسم کے کسی اور حصے سے شریان نکال کر کورونری کی جگہ لگا دی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ سب ایک دھڑکتے دل کے ساتھ کرنا ممکن نہیں اس لئے ادویات کی مدد سے عارضی طور پر دھڑکنیں روک دی جاتی ہیں۔ لیکن آکسیجن نہ ملے تو سب سے پہلے چند منٹوں میں دماغ اور پھر رفتہ رفتہ دیگر اعضاء کی موت واقع ہوجاتی ہے اس لئے دل اور پھیپھڑوں کے افعال کی جگہ لینے کے لئے 1953ء میں پہلی ہارٹ لنگ مشین ایجاد ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بہت بہتر ہوگئی ہیں۔ دلچسپ اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ ارسطو، جالینوس اور ابن سینا سمیت کسی بھی عظیم شخصیت کو آکسیجن پر زندگی کا دارومدار ہونے کا پتہ نہ چل سکا اور اس راز پر سے پردہ اٹھارویں صدی میں اٹھا چنانچہ قدیم اطباء کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ اعضاء کی پیوند کاری اور دل کے والو کی تبدیلی جیسے بڑے بڑے آپریشن کرسکیں۔ خون کی سرکولیشن کا علم بھی سترھویں صدی میں ہوا جبکہ آپریشن کے دوران خون کے جم کرلوتھڑے بننے سے بچانے والی دوا ہیپرن جو ایک عرصہ تک سور ہی سے حاصل ہوتی تھی کی دریافت بھی 1911ء میں ہوئی۔

آخر میں کچھ اعداد و شمار۔ عارضہء قلب دنیا میں سب سے زیادہ انسانوں کی اموات کا سبب بنتا ہے۔ یہ ہر سال کوئی پچھتر لاکھ لوگوں کی جان لے لیتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر فالج کا دورہ ہے جس کے اسباب بعینہ وہی ہوتے ہیں، ساٹھ لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔ صرف تین ممالک کا موازنہ کر لیتے ہیں۔ ہر ایک لاکھ میں کورونری دل کے مرض سے مرنے والوں کی تعداد برطانیہ میں 60، بنگلہ دیش میں 53 اور وطن عزیز میں 110 ہے۔ بلند فشار خون سے برطانیہ میں 4، بنگلہ دیش میں 17 اور پاکستان میں 22 افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جبکہ ذیابیطس سے برطانیہ میں ہر ایک لاکھ میں سے 4، بنگلہ دیش میں 28 اور پاکستان میں 39 افراد فوت ہوجاتے ہیں۔ یاد رہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ان امراض کے متاثرین عموماََ عمر رسیدہ ہوتے ہیں جبکہ پاکستان سمیت تیسری دنیا میں ان کے شکار جوان اور ادھیڑ عمر نفوس ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کا مقابلہ صرف ریاستی سنجیدگی ہی سے کیا جاسکتا ہے جس کا اندازہ ہر بڑے شہرمیں لگے اور اخبارات میں چھپتے ان اشتہارات سے لگایا جاسکتا ہے جن میں امراض قلب میں مبتلا افراد کو بائی پاس کروانے سے پہلے ایک دفعہ عجوہ کھجور کا پیسٹ آزمانے کا مشورہ دیا گیا ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “اوپن ہارٹ سرجری- کیا، کیوں، کیسے؟

  • 05-06-2016 at 9:50 am
    Permalink

    ماشا اللہ…..سواے شروع میں کچھ لسی کے باقی تمام مضمون نہایت اچھے اورآسان طریقے سے لکھا گیا ہے اور پڑھ کر بہت معلومات ملی ملی ہیں……

Comments are closed.