’دی گریٹسٹ‘ چل بسا


ma3تین بار عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن رہنے والے محمد علی 74 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ اس طرح دنیائے کھیل ایک عظیم کھلاڑی سے محروم ہوگئی ہے۔ امریکہ اور دنیا بھر کے عوام انہیں ایک شاندار باکسر اور عظیم کھلاڑی کے علاوہ ایک بہترین انسان اور انسانی حقوق کے لئے بہادری سے آواز بلند کرنے والے شخص کے طور پر بھی یاد رکھیں گے۔ ان کا انتقال سانس کی تکلیف بڑھ جانے کی وجہ سے ہؤا۔ دو روز قبل انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ آج رات انتقال کرگئے۔ انہیں کین ٹیکی میں ان کے آبائی شہر لوئس ول میں دفن کیا جائے گا۔’دی گریٹسٹ‘ کے نام سے شہرت پانے والے محمد علی اب اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

74  سالہ ہیوی ویٹ چیمپئن نے بھرپور اور شاندار زندگی بسر کی۔ تاہم 1986 میں پارکنسنز Parkinson’s کی بیماری کا شکار ہونے کے بعد انہوں نے ذیادہ تر گوشہ نشینی کی زندگی گذاری۔ البتہ انہوں نے 1996 میں اٹلانٹا اولمپکس کے موقع پر رعشہ زدہ ہاتھوں سے اولمپکس آگ روشن کرکے لوگوں کو حیران کردیا۔ وہ 2012 میں لندن اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں بھی شریک ہوئے لیکن وہ انتہائی لاغر نظر آرہے تھے اور وہیل چئیر پر تقریب میں آئے تھے۔ وہ آخری مرتبہ اپریل میں آریزونا میں ’سیلیبریٹی فائٹ نائٹ‘ کے موقع پر دیکھے گئے تھے۔ یہ اہتمام محمد علی پارکنسنز سنٹر کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ یہ سنٹر مرحوم باکسر نے پارکنسنز کے مریضوں کے علاج اور اس بیماری کی تحقیق کے لئے قائم کیا تھا۔

محمد علی کو پہلی بار 1960 میں روم اولپمکس میں لائٹ ویٹ چیمپئن بننے اور گولڈ میڈل جیتنے پر عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ تاہم انہوں نے 1964 میں سونی لسٹن کو ناک آؤٹ کرکے باکسنگ کے شائقین کو ششدر کردیا تھا۔ اس جیت کے اگلے ہی روز انہوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور اپنا نام کیسئس کلے سے محمد علی رکھ لیا۔ شروع میں انہیں محمد علی کلے کے نام سے پکارا جاتا تھا لیکن ان کا اصرار تھا کہ انہیں محمد علی کہا جائے۔ اس کے بعد وہ 1974 اور 1978 میں بھی عالمی چیپمئن بنے۔ تاہم 1981 میں محمد علی نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ وہ باکسنگ رنگ میں اپنی پھرتی اور طاقور گھونسوں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ انہیں سپورٹس السٹرڈ نے ’سپورٹس مین آف دی سنچری‘ کا خطاب دیا جبکہ بی بی سی نے انہیں ’سپورٹس پرسنالٹی آف دی سنچری‘ قرار دیا۔ ماہرین اور تبصرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ محمد علی بیسویں صدی کی ناقابل فراموش اور یادگار شخصیت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

محمد علی امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے مارٹن لوتھر کنگ سے متاثر تھے اور ان کے مشن کے لئے متحرک رہے۔ انہوں نے 1967 میں ویتنام جنگ میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا عقیدہ اور مذہب انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ اس انکار پر انہیں پانچ سال قید اور دس ہزار ڈالر جرمانہ کی سزا دیتے ہوئے ہیوی ویٹ چیمپئن کے اعزاز سے محروم کردیا گیا تھا ۔ تاہم اپیل کرنے پر وہ جیل کی سزا سے بچ گئے تھے اور 1971 میں انہوں نے دوبارہ باکسنگ کیرئیر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کبھی سیاہ فام امریکی باشندوں اور دنیا کے محروم لوگوں کے حق کے لئے آواز بلند کرنے میں مصلحت سے کام نہیں لیا۔ وہ اپنے تند و تیز اور ذومعنی مزاحیہ فقروں کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے تھے۔

دنیا نے کھیل کے لئے محمد علی کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں عظیم باکسر تسلیم کیا۔ وہ ’دی گریٹسٹ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ایک بار محمد علی سے پوچھا گیا کہ وہ تاریخ میں کس طرح یاد رکھے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ’ میں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھا جانا چاہوں گا جس نے اپنے لوگوں کا سودا نہیں کیا‘ لیکن اس کے ساتھ ہی مزاحیہ انداز میں فقرہ مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ کچھ زیادہ ہے تو میں ایک اچھے باکسر کے طور پر یاد رہنا پسند کروں گا‘۔ بات مکمل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ اور یہ کہ اگر آپ میری خوبصورتی کا ذکر نہ بھی کریں تو بھی کوئی بات نہیں ہے‘۔

دنیا اس الوالعزم عظیم باکسر اور انسانی حقوق کے لئے بہادری سے بات کرنے والے ایک عظیم انسان سے محروم ہو گئی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali