اعلیٰ عدلیہ – دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ


\"Obaidullahابھی حال ہی میں عدل کے اعلیٰ ایوان سے یہ فرمان جاری ہوا تھا کہ پاکستان اپنے قیام کے مقاصد اور اس کے بانیان کے خوابوں کی تعبیر محض اس لئے نہیں بن سکا کہ ہمیں مخلص اور دیانت دار سیاستدان نہ ملے۔ گو کہ اس فرمان میں کچھ زیادہ غلطی بھی نہیں مگر جس ایوان سے یہ بیان جاری ہوا وہاں سے یہ جاری ہونا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس بات سے دماغ کچھ اس ضرب المثل کی طرف چلا گیا جسے اگر اردو میں یاد کیا جائے تو چھاننی کا حوالہ آتا ہے اور انگریزی میں کیتلی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ کیا حضور والا اس بارے میں کچھ فرمانا پسند کریں گے سیاستدانوں نے تو جو کیا سو کیا لیکن کیا انہوں نے انصاف دینے سے آپ کے ہاتھ بھی باندھ دیے تھے؟ حضور آپ کا کام اس ریاست کو انصاف دینا ہے۔ اگر آپ نے اپنا کام کر لیا ہے تو پھر بھی آپ کا منصب نہیں کہ آپ سیاست کے امور میں بیانات داغنے شروع کردیں۔ سیاست سیاستدانوں کے لئے ہی رہنے دیں۔ لیکن اگر آپ نے اپنے فرائض منصبی میں رکاوٹ سیاستدانوں کو سمجھ لیا ہے تو اس سے تو لگتا ہے کہ گویا آپ انصاف کرنے کے لائق تب ٹھہریں گے جب دیگر تمام ملک ٹھیک چل رہا ہوگا۔ لوگ اخلاق کے اعلیٰ معیارات پر قائم ہوچکے ہوں گے۔ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اگر یہی انصاف قائم کرنے کےلوازم ہیں تو بیٹھے رہیے تصور جاناں کئے ہوئے۔ اور یونہی نہیں بلکہ ریاست کے تکیے پر سر رکھ کر میٹھی نیند سو جائیے۔ انہیں عوام کے ٹیکسوں سے اپنی تنخواہیں لیتے رہیے جن کو انصاف دینا آپ کا فرض ہے۔ کیونکہ نہ نو من تیل ہوگا نہ۔۔۔
چرچل، جو ایک نہائیت قابل اور دانا سیاستدان تھا، سے ایک قول منسوب کیا جاتا ہے کہ جب اسے بتایا گیا کہ جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کی صورتحال نازک تھی تو اس نے کہا اگر تو ان کے ملک کی عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں تو اسے کوئی خطرہ نہیں۔ قطع نظر اس تنازعے کے کہ یہ قول چرچل کا ہے یا غلط طور پر اس سے منسوب کردیا گیا ہے، یہ قول درحقیقت آفاقی سچائی پر مبنی ہے۔ انصاف ہی ایک ایسا ستون ہے جو کسی بھی معاشرے کو متوازن رکھنےمیں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب ایک فرد کسی ریاست کا حصہ بنتا ہے تو سب سے پہلے اسے انصاف ہی درکار ہوتا ہے۔ انصاف کی ضد ظلم ہے۔ اور جیسا کہ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ معاشرے کفر پر تو چل سکتے ہیں ظلم پر نہیں۔ جب کوئی معاشرہ انصاف کے پیمانے سے ہٹتا ہے تو پھر نہ تو اس میں توازن برقرار رہتا ہے اور نہ ہی اس میں زندگی کی روح باقی رہتی ہے۔ پھر قوم سے ہجوم کی طرف کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ اور پھر ہجوم میں جو طاقتور ہوتا ہے وہ نہ صرف اپنا حصہ وصول کرتا ہے بلکہ کمزور کا حصہ بھی اپنی جیب میں ڈالتا ہے۔ ریاست کی طاقت جسے عرف عام میں رٹ بھی کہا جاتا ہے وہ بھی انصاف سے ہی جڑی ہے۔ جب انصاف پر زد پڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہی ریاست کمزور ہوتی ہے۔ اور جب انصاف ختم تو ریاست کی طاقت بھی ختم۔ گویا یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی نظریہ جب انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنے گا تو وہ تعمیری نظریہ نہیں بلکہ تخریبی نظریہ کہلائے گا۔ اور دراصل وہ کسی بھی ملک کو کمزور کرنے کی بجائے دراصل اسکے بگاڑ کی بنیاد بنے گا۔
یہ درست ہے کہ بعض معاملات میں انصاف کی فراہمی ریاست کی بعض بنیادی کمزوریوں سے جڑے ہیں۔ اور یہ بھی درست کہ جیسا کہ مارٹن لوتھر کنگ کا شہرہ آفاق اور عالمگیر سچائی پر مبنی قول کہ:

Injustice anywhere is a threat to justice everywhere

یعنی اگر آپ کسی ایک جگہ ناانصافی کرتے ہیں تو پھر ہر جگہ ناانصافی ہوگی اور ان وجوہات کی بنا پرگو کہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ کی ذمہ داری ریاست اور اس کے تمام اداروں پر عائد ہوسکتی ہے۔ مگر کیا سب سے بڑھ کر بنیادی ذمہ داری اس ادارے کی نہیں جس کا کام سیاست کرنا نہیں، جس کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا بھی نہیں، جس کا کام عوام کو شعور اور تعلیم دینا بھی نہیں اور جس کا کام قانون سازی کرنا بھی نہیں بلکہ اس کا صرف ایک بنیادی کام ہے جو ریاست نے اس کے ذمے لگایا ہے اور وہ ہے انصاف کی فراہمی۔ تو کیا اسے نہیں چاہئے کہ انصاف کی فراہمی میں اگر ریاست کا کوئی ادارہ یا خود ریاست بھی رکاوٹ ہو، خواہ دوسری طرف ایک کمزور فرد ہی ہو تو اسے انصاف دینے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ٹھوکر مار کر انصاف کا راستہ صاف کرے۔ معاملہ ایک فریق کے طاقتور یا ایک فریق کے کمزور ہونے کا نہیں بلکہ اصل معاملہ انصاف دینے سے بڑھ کر انصاف قائم کرنے کا ہے۔ اور یہاں یہ حال ہے کہ ہمارے اعلیٰ درجے کے منصف جن کے کہے الفاظ میڈیا کی زینت بننے کا درجہ رکھتے ہیں، اکثر انصاف کی فراہمی میں اپنے ادارے کی ناکامیوں کا ملبہ کبھی سیاستدانوں کی ناکامیوں پر ڈالتے نظر آتے ہیں، کبھی اس کا قصور وار عوام کو قرار دیتے ہیں کہ وہ چونکہ سچ نہیں بولتے اس لئے انصاف کا حصول ممکن نہیں۔ کبھی افسر شاہی یا دیگر ریاستی اداروں کی ناکامیوں کا رونا رو دیا جاتا ہے۔ اور گڈ گورننس والا چورن تو ہر جگہ بکتا ہے سو یہاں بھی ہے۔
سیاستدانوں کو الزام دینے کا سوال تو بعد میں آئے گا مگر جب آپ یہ بات کریں گے تو ہمیں سب سے پہلے تو نظریہ ضرورت یاد آتا ہے۔ اس نظریہ کی باز گشت افسوس ہے کہ سیاست کے ایوانوں سے نہیں آئی تھی۔ پھر بھٹو صاحب کی پھانسی پر جب بات آئے گی تو وہ بھی معاملہ سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈالنا ظلم معلوم ہوتا ہے۔ اس پھانسی کا فیصلہ شاید آپ کے ہی ادارے نے کیا تھا۔ پھر یہی نہیں یہ تو ایک سیاستدان کی زندگی موت کا فیصلہ تھا اس کے علاوہ جب ریاست نےاپنے شہریوں کے مذہب کے معاملات میں بے جا مداخلت کا ظلم عظیم کمانا شروع کیا تھا تو درست ہے کہ شروعات سیاستدانوں نے ہی کی تھی اور اس زہریلے پودے کی آبیاری بھی باوردی آمروں نے کی مگر کیا آپ نے اس وقت انصاف کی طرف توجہ دی؟ نہیں جناب آپ نے اس ریاست کو زہر آلود کرنے میں اپنا برابر کا حصہ ڈالا اور ظہیرالدین والا مقدمہ اس کی جیتی جاگتی وہ مثال ہے جو ریاست کے کنویں میں ایک مردار کی حیثیت سے آج تک گری ہوئی ہے۔ اور اسے نکالنے کی اس وقت کسی میں ہمت نہیں ہے۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس کی رو سے آپ نے مذہب کو ایک جنس اور انسانی ہنر کی پیداوار بنا دیا تھا جس کا مالک و مختار خدا کی جگہ اکثریتی طبقے کو ٹھہرا دیا گیا تھا۔ اور اب صورتحال اس نہج پر آگئی ہے اگر کہیں مذہب کا معاملہ آجائے تو انصاف کی امید ہی چھوڑ دو۔ ایک اعلیٰ سطح کے منصف صاحب کا یہ قول تو ابھی یادوں سے محو بھی نہیں ہوا کہ جہاں مذہب سامنے آجائے وہاں قانون پیچھے چلا جاتا ہے۔ ماشاء اللہ کیاخوب کہا۔ انصاف کا تو خون کیا ہی کیا مذہب کو بھی عبث بدنام کیا۔ وہ مذہب جس کی تعلیمات کا بنیادی جزو انصاف کا قیام ہے اس کا حوالہ دے کر کہا جارہا ہے کہ جہاں مذہب کا معاملہ آئے گا وہاں قانون کا سوال نہیں رہتا۔ اور یہ قول بھی کوئی ضلعی یا مقامی سطح کے منصف صاحب کا نہیں بلکہ ملکی سطح کے منصف صاحب کا ہے۔
انصاف قائم کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے بھی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی طبقہ یا گروہ اسلام کا نام لے کر اپنے لئے وہ طلب کرتا ہے جو دوسروں کو دینے کو وہ خود تیار نہیں تو نہ صرف انصاف سے روگردانی کرتا بلکہ اسلام کی اس تعلیم کا بھی مخالف ہے کہ انصاف قائم کرو اور جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو۔ لہٰذا وہ خود بظاہر چاہے جتنا بھی باشرع کیوں نہ ہو اور اسلام کا نام لیوا کیوں نہ ہو جب دنیا داری، ریاستی امور اور انسانی حقوق کے معاملات میں اپنے لئے کسی ترجیحی سلوک کا طلبگار ہو اور دوسروں کو مذہب یا عقیدے کی بناء پر اس سے محروم رکھنا چاہتا ہو تو وہ اسلام نہیں بلکہ اسلام کے نام کا استحصال کر کے اپنے مفادات کی آبیاری کرنے والا ہی ہوگا۔
اور آخرپر ایک اور ضمنی بات کہ کیا فوجی عدالتوں کا قیام بحیثیت ادارہ آپ کی ناکامی نہیں؟
جب آپ کو انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی سونپ دی جائے تو آپ کا فرض ہے کہ معاشرے اور ریاست میں انصاف کے مد مقابل کوئی بھی قوت کھڑی ہوتی ہے تو اسے پاؤں تلے روند دیا جائے۔ بصورت دیگر آپ کو ریاست کی مسند انصاف پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایسے میں اپنی ذمہ داریوں اور تاریخ کو بھول کر یہ کہنا کہ اگر عوام الناس کو انصاف نہیں مل رہا تو قصور ان سیاستدانوں کا ہے جو ملک ٹھیک سے چلا نہیں رہے یا اس افسر شاہی کا جس سے گڈ گورننس نہیں ہو رہی یا پھر ان عوام الناس کا جو جھوٹے مقدمے کرتے ہیں۔ اس پر اب اگر دیگرراں نصیحت۔۔۔ کا حوالہ دیا جائے تو شاید کچھ شان میں گستاخی کا مرتکب قرار پاؤں لہٰذا اتنا کہنا ہی شاید کافی ہو کہ آپ خود ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں۔۔۔