اہل صحافت معاف رکھیں


khurram mushtaqueصحافت سے میرا تعلق واجبی ھے۔ گریجویشن (جو میں نے بطور پرائیویٹ اسٹوڈنٹ کی) کے لئے جب مضامین کے انتخاب کا موقع آیا تو ایسے مضامین کی تلاش شروع ھوئی جنھیں پاس کرنے کے لئے  محنت شاقہ کی بجائے تکا شکا ھی کارگر ھو تو نگاہ انتخاب صحافت یا جرنلزم پہ ٹھہری۔ میاں اس سے آسان مضمون کیا ھوگا؟ صحافت خبر کی ترسیل اور اس سے متعلقہ جامع کارروائیوں کی نشرو اشاعت کا پیشہ اور علم ھے۔ اور اگر خبر کی ہی کوئی جامع اور متفقہ تعریف وضع نہ ھو سکی تو خبر دینے والوں کو یہ کیسے علم ھو کہ کونسا واقعہ “خبر” ھے؟ سو انتہائی سنجیدہ ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات سے لے کر انتہائی اناپ شناپ و فضولیات تک آپ کو ایک ھی اخبار اور خبر نامہ میں میسر ھوتے ھیں۔ بہرطور عموماً کسی بھی سبجیکٹ کی ابتدا میں اس کے آغاز ‘بانی، ماہرین اور ارتقائی مراحل کا ذکر ھوتا ھے۔ مگر میں اس وقت ورطہ حیرت میں غرق ھو گیا جب بعد از تلاش بھی بانی صحافت یا پہلا صحافی کون تھا ایسے سوالات کا جواب یا ذکر نہ ملا؟ ویسے تو دور حاضر میں بڑا مسئلہ تو اس بات کے تعین کا بھی ھے کہ آخر “صحافی” ھے کون؟ ؟ کون اس پیشے کے معیار پر پورا اترتا ھے اور کون “پیشہ ور” ھے؟ جب طبع بے چین کو قرار کی کوئی صورت میسر نہ ھوئی اور درسی کتب اور گوگل گُرو کو بھی ناکام پایا تو الہامی علوم سے راہنمائی کی ٹھانی۔ کہ آخرش جب بھی کوئی تحقیق یا ایجاد ھوتی ھے اور خبر ھمارے کان پڑتی ہے تو ھم کو نوید ملتی ہے کہ اس کی بارے میں تو پہلے ھی بتایا جا چکا تھا ۔ (برا ھو ان کفار کا جو ھمارے علوم پہ تحقیق کرکے ترقی کرگئے اور ھم دم درود اور تعویز وں کے فضائل و عواقب سے باہر نہ آ پائے ) تو مذہبی حوالوں سے علم ھوا کہ جب قابیل نے ھابیل کو قتل کیا تو دنیا کی پہلی “خبر” کاروبار دنیا کی اھم ترین شخصیت “ابلیس” نے حوا کو پہنچائی۔ اور دنیا کے پہلے صحافی ھونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اور یوں میں صحافت کی عظمت کا مزید قائل ھوگیا۔

دور حاضر میں صحافت اور صحافی کہاں کھڑے ھیں؟ سنسنی ‘ھیجان’ ریٹنگز’ اداروں کے مالکان کے مفادات’ میں پیشہ ورانہ دیانت قریبًا ختم ھوگئی ھے۔ واضح دھڑ ے بندیاں اور کھلی موافقتیں اور مخالفیتیں ھیں۔ عام آدمی واضح طور پر سیاسی دھڑوں کے نمائندہ صحافیوں کو پہچانتا ھے۔ کھلم کھلا سیاسی جماعتوں اور بعض مذہبی دھڑوں کا نہ صرف پرچار کیا جاتا ھے بلکہ موقع بے موقع ان کے اجتماعات سے خطاب بھی فرما دیا جاتا ھے۔ کچھ صاحبان تو نتیجتًا مشیر ‘وزیر ‘ ایم ڈی اور چئیرمین بھی بن بیٹھے۔ اور بعض اینکر حضرات کو سیاسی لیڈران endorse کرتے ھوئے نظر آتے ھیں۔ اور معدودے چند تو اپنے پسندیدہ لیڈران کی شان میں یوں رطب اللسان ھوتے ھیں گویا گمان ھوتا ھے خدا نخواستہ خلافت پر ھی فائز نہ فرما دیویں۔

صحافی رائے عامہ کی تشکیل کرتےھیں۔ اگر وہ غیر جانبدار نہیں ھے تو اس کے تجزیے اور تبصرے بے لاگ اور unbiased نھیں ھوتے اور ایسا شخص بدترین خائن اور علمی بددیانتی کا مرتکب ھوتا ھے۔

کیا آج کا صحافی کسی اخلاقی اقدار کا قائل نھیں رھا؟ “ِدکھتی ھے تو بِکتی ھے” کے مصداق تماشہ’ سرکس ‘ اور نو ٹنکی لگا کر محض کمرشل اہداف کا حصول ھی مقصود ھے؟ سنجیدہ اور با معنی صحافت کا جنازہ قریب قریب نکلا چاہتا ھے۔ نیوز چینلز پراسٹیج ڈراموں کے جگت بازوں کے پروگراموں کی ریٹنگز اور مقبولیت  سے پتہ چلتا ھے کہ صحافیوں کی ساکھ کیا رہ گئی ھے؟ نیوز چینلز کے مالکان اور مینجمنٹ ھر لحظہ اسی فکر میں ھلکان ھورھے ھوتے ھیں کہ کوئی تِیر بہ ہدف ُنسخِہ کیمیا ہاتھ آئے کہ ریٹنگز آسمان کو چھوئے اور ایسے میں نگاہ انتخاب امرت دھارا قسم کی شخصیت پر ھی ٹھہرے گی’ جو ِمیرا و مَاتھیرا کا انٹرویو پورے ” چَسکّے” لے دے کر کرے لیکن آپ کو مذہبی و معاشرتی اخلاقیات کا درس بھی دینا نہ بھولے۔ مذہبی عالم و سکالر بھی ھو سیاسی ماھر بھی’ غرض رمضان سے پکوان تک یدِ طولٰی رکھتا ھو۔ یا ایسا نابغِہ روزگار ھو کہ الہامی کیفیات بھی وارد ھوتی ھوں۔ جو قیامت کے آثار سے سپہ سالار کے ارادوں تک سب کا کشف رکھتا ھو۔ دسترس اتنی ھو کہ ون آن ون میٹنگ کی اندر کی بات اور گفتگو بھی بتادے لوگ چکرا جائیں کہ یہ باتیں یا تو سپہ سالار نے بتائیں یا وزیراعظم نے۔ ورنہ دم گفتگو تو کوئی اور موکل ھی ھو سکتا ھے۔ میرا تو دل ڈولتا اور خوف سے کلیجہ منہ کو آتا ھے کہ کہیں ایسی ارفع اعلی اور باخبر شخصیت کہیں را یا موساد کے ہتھے چڑھ گئی تو کیا ھوگا۔ ھماری سپہ سالار کے ارادے اور خیالات اور آنے والی چالیں دشمنوں تک پہنچ جائیں گی۔

یا پھر چڑیا ھو تو کام چل سکتا ھے۔ ( جبکہ ھونا فال والا طوطا چاھئیے۔) کہ کبوتروں کی پیغام رسانی کا زمانہ تو گیا ۔

ھر لمحہ بریکنگ نیوز ‘ ھر لحظہ ھیجان’ خدارا رحم ۔ half cooked عالم اور تجزیہ کار۔ عام آدمی ذہنی و نفسیاتی مریض ھو چکا۔ نا امیدی، سازش، بے یقینی، لاچاری، نرگسیت، لوٹ مار، غداری سرٹیفیکیٹ، الزام تراشیاں، ماورائے عدالت عدالتیں لگانا، رحم حضور رحم۔ لوگوں کو اصلی نقلی، کھڑا کھوٹا سچ،  اندر باہر کی باتیں بتانا بند کریں۔ سچ کو سچ کے روپ میں پیش کریں۔ فیصلے نہ سنائیں۔ آپ کا کام حقائق بتانا ھے بس۔ اس کے علاوہ سب انحراف ھے’ فقط انحراف اپنی اصلی ذمہ داری سے۔ ریاست کے بقیہ تینوں ستونوں نے اپنی اصلی ذمہ داریوں سے انحراف کیا اور اس کے نتائج اس قوم نے بھت بھگتے ھیں۔ اب آپ معافی دیں۔


Comments

FB Login Required - comments