لال بیگ، دہشت گرد اور گٹر صفائی


muhammad Shahzadہمارے گھرکے کچن اور باتھ رومز میں لال بیگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم صفائی پسند نہیں ۔ روزانہ صفائی ہوتی ہے۔ کیڑے مار ادوایات کا چھڑکاﺅ بھی باقاعدگی سے کیا جاتا ہے اور نتائج بھی اتنے اعلیٰ حاصل ہوتے ہیں کہ ہم ہر روز ایک اخباری بیان بھی جاری کرتے ہیں کہ آج علی ا لاصبح ہم نے ’آپریشن ضربِ لال بیگ ‘ میں لال بیگوں کی کمر توڑ دی۔ پچاس لال بیگ جہنم واصل کیئے۔ ریٹنگ کے بھوکے پرائیویٹ ٹی وی چینل فی الالفور ہمارے بیان کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلاتے ہیں۔ ہر چینل اسےexclusive report کا نام بھی دیتا ہے۔ اسکے بعد اینکر اور اینکرنیاں مع مبصرین کے ہمارے کامیاب آپریشن پر تبصرے کرتے ہیں۔ لیکن لال بیگ پھر بھی نہیں مرتے۔ ابھی بارہ گھنٹے بھی نہیں گذرتے ہمارے بیان کو جس میں ہم فخر سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے لال بیگوں کی کمر توڑ دی ہے کہ دوبارہ سے ان کا ایک جمِ غفیر پھر سے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیتا ہے۔ ہم پھر سے جوتا، چپل، سپرے غرضیکہ جو بھی ہتھیار ہمارے ہاتھ لگتاہے اس سے لیس ہو کر لال بیگوں کیخلاف ’جہاد‘ شروع دیتے ہیں اور اسی پرانے اخباری بیان کو نئی تاریخ اور اعداد و شمارکے ساتھ پھر سے جاری کر دیتے ہے جو کہ اسی شان و شوکت سے چینلز کی زینت بنتا ہے۔ تبصرے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہماری تصاویر اس سرخی کیساتھ اپ لوڈ ہوتی ہیں۔’ تھینک یو میجرصاحب‘۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہم فوج والے میجر نہیں ہیں۔ ہم بالغ ہیں minorنہیں ہیں۔ عمر اٹھارہ سے زیادہ ہے اس لئے major ہیں۔

لیکن ہمارے آپریشن کی حالت پنجابی کے محاورے مشہور محاورے ’جتھے دی کھوتی اتھے آن کھلوتی‘ کے مصداق ہی رہتی ہے۔ چونکہ ہم لال بیگ کا قلع قمع کرنے میں سنجیدہ تھے۔ اور اپنے آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل دینا چاہتے تھے لہذا ہم نے مشاورت کیلئے APC پہ APC بلانی شروع کر دی۔ طے یہ ہوا کہ اس آپریشن کا دائرہ کار صرف کچن اور باتھ رومز تک نہ رکھا جائے بلکہ گھر کے ہر کونے کھدرے تک پھیلا دیا جائے۔ میڈیا نے بھی اس رائے کی بھرپور تائید کی۔ ہم نے اپنے تئیں سارے گھر میں سپرے کیا اور اسے لال بیگ پروف بنا دیا۔ مگر کیا ہوا؟ وہی جو اوپر بیان کئے محاورے میں ہوا! کھوتی جہاں تھی وہیں بندھی رہی۔

مایوس ہو کر ہم نے APCبلانا چھوڑ دی۔ میڈیا کو بھی بیان جاری کرنے بند کر دئے۔ اور کیوں نہ کرتے۔ انٹرنیشنل میڈیا نے ہمارے آپریشن کا مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا۔ لال بیگ ہماری چھیڑ بن چکی تھی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم سنجیدگی سے غور و فکر کریں گے اور اس مسئلے کا حل انشا اللہ مل جائے گا۔ اور ایک دن ہمیں حل مل ہی گیا۔ ہوا یوں کہ ایک دن بہت زور شور سے بارش ہوئی۔ گھر کی چاروں بیرونی گیلریوں میں پانی اکھٹا ہونا شروع ہو گیا۔ بارش کا پانی تیزی سے آ رھا تھا لیکن نکاس کی رفتار سست تھی۔ ہم نے سارے گٹروں کے ڈھکنے کھول دئے۔ جیسے ہی ڈھکنے کھولے ہمیں حل بھی مل گیا۔ اصل میں لال بیگ ان گٹروں میں پرورش پایا کرتے تھے۔ ساری گندگی اور غلاضت ان گٹروں میں تھی۔ ہم نے صرف بیرونی صفائی پر دھیان دیا۔ اندرونی صفائی کا کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ ہم نے سارے گٹر کھلے پانی سے دھو ڈالے۔ ان میں کاسٹک سوڈا ڈالا۔ گٹر چمک اٹھے۔ لال بیگوں کے تمام انڈے لاروے وغیرہ تباہ کر دیے۔ اسکے بعد سپرے بھی کیا۔ اور بعد میں اپنے نوکر کو یہ سمجھا دیا کہ میاں ہر روز گٹر میں کھلا پانی ڈالا کرو۔ وہ دن اور آج کا دن۔ لال بیگ کا نام ونشان بھی ہمارے گھر میں نہیں پایا جاتا۔

ہمارا یہ یقین ہے کہ جس طریقے سے ہم نے لال بیگ کا خاتمہ کیا ایسے ہی دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ گیارہ دہشت گرد اِدھر مار دیے۔ یہ پندرہ شدت پسند ادھر مار دئے اس سے دہشت گردی نہیں ختم ہونے والی۔ بدقسمتی سے ان دہشت گردوں کی افزائش نسل ہوتی ہے مدرسوں میں، مسجدوں میں، ہمارے نفرت پر مبنی نصابِ تعلیم سے۔ ہمیں اپنے مدرسوں، مسجدوں اور درسی کتابوں کو دھشت گردی، جنونیت، شدت پسندی، انتہا پسندی ٹائپ کے وائرس سے پاک کرنا ہے۔ تب ہی معاشرے میں سکون پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو ہزار برس بھی برپا کرتے رہیے ضربِ عضب۔ کچھ نہیں ہونے والا۔ ’لال بیگوں‘ کے جتھے آپ پر حملہ آور ہوتے رہے گے۔ مرتے رہیں گے۔ مگر کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ لال بیگوں نے تو فارمولہ سمجھ لیا ہے۔ وہ اس جگہ حملہ کرتے ہیں جہاں سے علم بہتا ہے۔ علم دہشت گردوں کے لئے زہر ہے۔ علم مارتا ہے دہشت گرد کو۔ دہشت گرد تباہ کر رہا ہے علم کے مراکز کو۔ ایک دن دہشت گرد کا ہی راج ہو گا۔ کیونکہ کوئی صاحبِ علم بچا ہی نہیں ہو گا۔ مگر ہم نے دہشت گردوں کے مراکز کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ ہمارے پاس مارنے کے لئے اتنے ہاتھ نہیں جتنے دہشت گرد یہ مراکز روزانہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک دن ہاتھ ختم ہو جانے ہیں اور رہ جائے گا صرف دہشت گرد۔

شمالی وزیرستان یا فاٹا جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دہشت گرد پیدا کرنے والی سوچ تو پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ جو جاہل مسجد میں بیٹھ کر بچوں کو یہ باور کرائے کہ انہوں نے توہینِ رسالت کی ہے اور اب وہ کفارے کے طور پر اپنا ہی ہاتھ خود کاٹیں اور پھر اس ٹنڈے کو عاشقِ رسول کا درجہ دیا جائے۔ اس سے پڑھ کر نبی کی توہین کیا ہو گی۔ ہم خود اپنا مذاق اڑواتے ہیں دنیا میں اپنی حماقت کے سبب۔

دو ٹکے کا مولوی اسلام آباد میں ISIکے ہیڈ کوارٹر کی بغل میں بیٹھا ریاست کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں ریاست کو نہیں مانتا۔ جس نے جو بگاڑنا ہے بگاڑ لے۔ ریاست دم دبا کر بھاگ جاتی ہے۔ اور اگلے دن یہ بیان آتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں پچاس دہشت گرد مار دئے اور اب دہشت گردوں کی کمر دوڑ دی گئی ہے۔ اسے سوائے بھانڈ پن کے اور کیا نام دیا جائے!


Comments

FB Login Required - comments