افسانہ کیسے سمجھا جائے؟


naeem virkافسانہ نئے نقشے نرالی صورتیں ایجاد کرنے کا فن ہے۔یہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی ایک صورت ہے۔ ’نہیں‘ کو ’ہے‘ میں بدلنے کی ایک مثال ہے۔ ہماری روز مرہ عقلِ عامہ کی جکڑ بندیوں سے نکلنے کاایک ذریعہ ہے۔ اس کی تفہیم میں ایک مدت سے ہم سرگرم ہیں۔ بس اتنا ہوا کہ اپنے اپنے نظریے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے ہم نے اس کی حقیقت کے کاغذ کو ایک مدت تک نم رکھا ہے۔

افسانہ عموماََ اردو میں کسی خاص نظریے کی روشنی میں سمجھا گیا ہے۔ ابتدائی تنقید نے اسے زندگی کے اختصار یا کسی خاص گوشے کو منور کرنے کا ذریعہ جانا۔ عسکری جیسے عبقریوں نے اسے چند بنیادی انسانی سوالات سے دو چار ہوتے دیکھا۔ اردو تنقید نے افسانے کی تفہیم میں موضوع اور ہیئت کی دوئی کے تصور کو اپنایا ۔ نقادوں نے افسانوں کے تجزیوں میں موضوع پر دو چار جملے سیدھے کیے، ہیئت پر تین حرف بھیجے اور مقالہ کسی ادبی جریدے کو ارسال کر دیا۔ فنِ افسانہ کی بحث چلی تو درسی نقادوں نے فن کاروں کو فنی اسباق پڑھانے کی خود ساختہ ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں اور مضبوط ادارہ جاتی ہاتھوں میں لے لی۔

بات چلی توافسانے کے حصے بخرے کیے، اور انھیں کردار، پلاٹ اور زبان و بیان کے نام دھرے۔ پھر ارسطوئی منطق سے ان سب کی ایک مخصوص تعریف متعین کرنے کی ٹھانی۔ اپج کی بو بھی ہوتی تو پھر تنقید کی وادیِ تقلید میں قدم کیوں رکھتے، کچھ افسانے بطور نمونہ پیش کرتے، بس کسی فاسٹر یا پرسی لبک کے ہاتھ پر بیعت کی اور فن کاروں کے کان امیٹھنے بیٹھ گئے۔ فلاں کے افسانے کا پلاٹ ڈھیلا ہے، گویا افسانہ نہ ہوا، کنوارے کی چارپائی ہو گئی۔ ڈھمکانے کے کردار سپاٹ ہیں، یعنی غریب کا سینہ ہو گیا، یا اس کی زبان فصیح نہیں، بس زبان تو ان کے گھر کی لونڈی ہوئی، کسی غیر کے مکان میں کیسے بس جائے۔

اس تنقید نے استاد ہی کا سہی، افسانے سے ایک ناتا قائم رکھا۔ کہیں خود کو اعلیٰ اخلاقی مسند پر براجمان کیا اور فن کار کی بدیوں کا کھاتہ بناتے رہے۔ کچھ شفیق اساتذہ نے فن کار کو تیوری چڑھا کر دیکھنے پر اکتفا کیا، اور کچھ نا فرمانی پر ہلکے تشدد کو روا سمجھتے رہے۔ اس تنقید نے افسانے میں کیا سے سروکار رکھا۔ اس کیا کی دریافت بھی اپنی عقیدہ جاتی عینکوں سے ہوتی رہی۔ ناخوش امام کی طرح کبھی فحاشی اور کبھی جدت پسندی کے طعنے مہنے دیتے رہے۔

افسانے پر ایسا وقت بھی آیا جب حمایت کے نام سے اس کی دل کھول کر مخالفت کی گئی اور اسے ناول سے کمتر اور شاعری کے مقابلے میں کم ترین کہا گیا۔ اصناف کی یہ اشراف سازی بھی صالحین کا کارنامہ ہے کہ جو جزوجس جا بلا ضرورت موجود نہیں ، وہی خامی ہے۔ ارے صاحب اگر بچہ ہماری طرح جھوٹ بولنے سے قاصر ہے، تو اسے کم عقل ثابت کرنے کی کیا ضروت۔ ہاں جہاں اپنا قد دوسروں کی کوتاہی سے بلند ہوتا ہو، وہاں یہی استدلال بکتا ہے۔

نقادوں کی بھد اڑانے کے بعد کچھ باتیں معاصر افسانہ فہمی کی۔ ایک بات تو بہت سادہ سی کہ شاعری کی طرح افسانہ بھی لفظوں سے بنتا ہے۔ دوسرا مدرس نقادوں نے ہم پر اتنا تو احسان کیا کہ افسانے کی فطرت میں’ کفایت‘ کی نشاندہی کی۔ بھلے وہ اپنے تجزیوں میں اس سے اعتنا نہ کرتے رہے ہوں اور تاریخی، سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور’ عذراتی ‘ تناظرات کی بھول بھلیوں میں ہمیں لیے پھرتے رہے ہوں۔ سو افسانے کی قرات میں اس کی لفظی تعمیر پر توجہ دینا ضروری ہے۔ معنوی روح، لفظی بدن کے بغیر اظہار سے قاصر ہے۔ اور افسانے میں ہمارا اول اول سابقہ لفظوں سے ہی پڑتا ہے۔ پھر یہاں اتنا عرض کرتا چلوں کہ لفظ ہی معنی ہے۔ ان کی ترکیب، آمیزش اور ادغام سے ہی معنی صورت پاتا ہے۔ افسانے کے طرز تعمیر میں اس کے معنی کی تشکیل ہوتی ہے۔ یوں اس طرزِ تعمیر پر نظر کرنا اہم ٹھیرا۔

افسانے کی تعمیر کرتے ہوئے فنکار الفاظ، صفات، مکالمات اور واقعات کا ایک انتخاب کرتا ہے۔ اسی انتخاب سے موضوع کی تشکیل ہوتی ہے۔ افسانہ گھڑنے سے پیش تر بھلے فنکار کا تخیل کسی خاص پہلو پر مرکوز ہو، افسانے کی تعمیر کے دوران ایک داخلی منطقی نظام اس کی حدود اور دائرہ کا کا تعین کرتے ہےں۔یہاں کن اور فیکون میں راست رشتہ نہیں ہوتا۔ لفظوں کی ایک اپنی شخصیت بھی راہ میں حائل ہوتی ہے، جس سے معاملہ کیے بنا، افسانے کی دنیا بنائے نہیں بنتی۔ افسانہ نگار لفظوں کے انتخاب سے ہی سرخرو یا رسوا ہوتا ہے۔اگر وہ ہے کی بجائے تھا کو چنتاہے، تو ایسے امدادی افعال کا افسانے میں انتخاب بے سبب نہیں ہوتا۔ اسے فنکار کا شعوری انتخاب تسلیم کیے بنا، اُس کے فن اور معنوی نزاکتوں تک رسائی کا امکان کم کم ہی ہے۔ جو تعبیر اس شعور سے اعتنا نہ کرے، وہ اپنے من چاہے معنی فنکار کے نام پر بیچنے کے مجاہدانہ غلغلے میں مبتلا ہوتی ہے۔

انتخاب کے بعد افسانے میں پیش کی گئی تفصیل ہماری توجہ کی متقاضی ہے۔ کردار بنانا ہو، یا واقعہ گھڑنا ہو، دونوں کے لیے کتنے مسالے کی ضرورت ہے، اس کا فیصلہ فنکارانہ شعور کا امتحان ہے، اور اس کا تجزیہ تنقید کا اہم سروکار۔ایک چھوٹا سا لطیفہ سناتا چلوں تا کہ تفصیل کی وضاحت ہو سکے۔ ایک طالب علم اپنا افسانہ استاد کو دکھانے لایا۔ استاد نے پڑھا اور کہا کہ باقی افسانہ تو اچھا ہے، یہ بتائیں شروع میں جو دو صفحے کا منظر ہے، اس کا افسانے سے کیا تعلق ہے۔ طالب علم نے جواب دیا سر یہ تو مجھے نہیں پتہ، میں نے توفن افسانہ نگاری نامی کتاب میں پڑھا تھا کہ منظر نگاری، افسانے کا جزوِ لازم ہے۔ اردو میں تفصیل کو عموماََ منظر نگاری کے حوالے سے دیکھا گیا ہے، حالاں کہ کردار کی شخصیت کا معمولی سے معمولی پہلو بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی پیشکش میں مناسب تفصیل کا خیال رکھا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظریاتی فنکار اور پیشہ ور نقاد ہر دو کے پر جلتے ہیں۔ ذرا سی تفصیل کس طرح ایک پورے کردار کو ہم پہ آشکار کر دیتی ہے، اسے سمجھنے کے لیے منٹو یا بیدی کا کوئی افسانہ دیکھ لیجیے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں صرف زمیندار اخبار کا نام کیسے ایک پورے طرزِ فکر اور ایک بڑے سیاسی گروہ کو ظاہر کرتا ہے، یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ بھولا میں مکھن کو دھونے جیسا عام سا عمل ایک صدیوں پرانے فطری تعلق کی گہرائی کو سامنے لانے کا عمل بن جاتا ہے۔ اسی طرح یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ ممد بھائی میں مونچھوں کا تاو¾ کیوں بیان میں آیا اور نیا قانون میں حاملہ بیوی کی پیٹ پر ہاتھ رکھنا کیسے استاد منگو کی پوری شخصیت سامنے لانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہاں میں نے دانستہ کوئی فطری منظر نہیں چنا۔ کیوں کہ میں دکھانا چاہتا ہوں کہ منظر تفصیل کا ایک جزوِ محض ہے۔ پورا افسانہ احتیاط سے چنی تفصیل سے بنتا ہے۔ کفایت کا تقاضا ہے کہ تفصیل کی پیشکش میں اجمال ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ یہ وہ پل ہے جو بال سے باریک ہے اور تلوار سے تیز دھار کا حامل ۔ ذرا قدم چوکا، یا تبلیغ کا وزن ڈالا اور افسانہ ٹکڑے ٹکڑے ۔

راوی افسانے کو بیان کرنے کا ایک ٹول ہے۔ شروع شروع میں تو ہم اسے مصنف کا مثنیٰ سمجھتے رہے۔ حقیقت پسند افسانہ غائب راوی کو استعمال میں لاتا رہا اور جدید افسانے نے متکلم راوی کو اپنے بیان کے حسبِ حال جانا۔ ایک تیسرا راوی حاضر بھی ہے، جس کی ایک مثال اردو میں ژولیاں کا ناول میرا جی ہے، جو میرا جی کی دوہری شخصیت کی فکشنی تشکیل ہے۔ جیمز وڈ نے کیا اچھی بات کہی ہے: ہر راوی اپنے آپ کو پڑھنے کا سلیقہ خود سکھاتا ہے۔ غائب راوی عام طور پر غیر جانبدار اور کردار سے زیادہ جاننے والا ہوتا ہے۔ متکلم راوی جذبے کی شدت اور حقیقت کی موضوعی تشکیل کو سامنے لانے کے کام آتا ہے۔ اردو میں پریم چند کا راوی کبھی کبھی غیر جانبدار ہو جاتا ہے اور راشد الخیری کا راوی کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہتا۔ منٹو کا راوی تو سفاکی کی حد تک غیر جانبدار ہے، اور بیدی کا راوی اپنی درد مندی کو کردار کی شخصیت اور اس کی صورتِ حال میں یوں گوندھ دیتا ہے کہ گوشت کو ناخن سے جدا کرنا ممکن نہیں رہتا۔افسانے میںراوی کو دین و دل عزیز رکھنے والے محرروں نے اپنے عقائد کا مبلغ بنانے کی کوشش میں خوب بے اختیار کیے رکھا۔ ایک ایسا بجلی سے چلنے والا کھلونا جس کے سیل نکال دیے گئے ہوں۔ ان کے ہاں راوی کی حیثیت ایک ماوتھ پیس کی رہ گئی تھی۔

افسانے کی تشکیل میں مصنف کا ثقافتی تصورِ کائنات بھی حصہ لیتا ہے۔ جہاں نگاہوں سے تقدیریں بدل جانے کا یقین موجود ہو، وہاں کرداروں کی قسمتیں بھی مصنف کی ایک جنبشِ قلم سے تلپٹ ہو جاتی ہیں۔اور بے چارہ فارسٹر کا مقلد واقعات میں منطق ڈھونڈتا رہ جاتا ہے۔ راوی ہو یا واقعات کی ترتیب ان کو جو شے جوڑتی ہے وہ مصنف کا ثقافتی پروردہ شعور ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا کہ مصنف نے کیا لکھا ہے، افسانے کی تفہیم کی طرف سفر کا آغاز ہے، اس کا اختتام اس بات پر ہو گا کہ مصنف نے جو کچھ لکھا، اس کی تعبیر کیسے کی ؟ وہ کون سا تصورِ کائنات ہے، جو انھیں منسلک کیے ہے اور ان کو بامعنی بنا رہا ہے۔مثال کے طور پر ایک تصور یہ ہے کہ تمام مخلوقات اپنا جوہر لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اب اگر کسی کردار کے اعمال کو پیش کرنا ہے تو مصنف اس کے جوہر کی روشنی میںکرے گا۔اسٹیریو ٹائپ خیر کا پیکر ہیرو اور شر کا بھیانک نمائندہ ولن اسی جوہریت پسندی کا نتیجہ تھے، کہ سب اپنا پنا مقدر لیے جنمے تھے۔ منٹو کی عظمت اسی میں ہے کہ اس نے اس بنے بنائے تصورِ کائنات پر سوال اٹھایا اور سماج کے دیے ہوئے رول سے اس کے کردار اسی لیے بغاوت کر پاتے ہیں۔منٹو کے تصورِ کائنات میں فرد کی کسی واحد شناخت یعنی کسی پہلے سے متعین کیے گئے جوہر کی موجودگی کا نشان نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ سماج کے مردود اور ٹھکرائے کردار اس کے ہاں انسانی عظمت کی داستان کے ہیرو بن جاتے ہیں.

یہ چند باتیں تھیں افسانے کی پرانی اور نئی تفہیم کے سلسے میں۔ میں دکھانا چاہتا تھا کہ بنی ہوئی شے پر توجہ اگر پرانی تنقید کا وتیرہ تھا، تو بننے کا عمل معاصر تجزیے کا موضوع ہے۔ یہاں منزل سے زیادہ راستہ اہم ہے۔ اگر منزل اہم ہوتی تو آدم دنیا میں نہ آتے اور نہ خدا اس دھرتی پر پیغمبر بھیجتا۔


Comments

FB Login Required - comments