وادی سندھ کا عظیم ثقافتی ورثہ اور ہماری غفلت


wahid qureshiوادی سندھ کی تہذیب کا شمار دنیا کی ترقی یافتہ تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب نہ صرف اپنے دور کی عظیم شاہکار تھی بلکہ یہ آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کے توجہ کا مرکز ہے۔ نکاسی آب کا بہترین نظام ہو یا منظم شہری طرز حکومت، فنون لطیفہ کی بات ہو یا زرعی پیداوار ہر شعبہ ہائے زندگی میں انکی ترقی، آج کے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈالنے کا سامان کرتی ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق تو اس تہذیب کا زوال 2500 قبل مسیح سے ہی شروع ہو چکا تھا مگر اس نے آنے والے آرین اور مورین جیسے تہذیبوں کے قیام کو بنیاد فراہم کیا۔ آرین اور مورین کے دور سلطنت کے دوران ہی رگ وید کی تدوین ہوئی جس نے بعد میں ہندو مذہب کی عقائد یا ہندو تہذیب کے اقدار کو منظم شکل دی۔ ہندو مذہب کے علاوہ بدھ مذہب کی ترویج بھی اسی دور سلطنت میں نیپال کی سر زمین پر ہوئی۔

اس تہذیب کے آثار پہلی مرتبہ اس وقت منظرعام پر آئے جب سر جان مارشل نے 1938 میں موئنجو دڑو کو دریافت کیا۔ بعد میں ہڑپہ کی دریافت نے اس تہذیب کی عظمت کودنیا کے سامنے مزید آشکار کیا۔ ماہرین کے مطابق ہڑپہ ہی سے کسی زمانے میں خطے پر حکمرانی کی جاتی تھی۔ دونوں شہروں کے درمیان دریافت ہونی والی بستیوں نے اس خیال کو تقویت پہنچائی کہ یہ دریائے سندھ کے کنارے آباد ایک سلطنت تھی، جو کئی بستیوں اور شہروں پر محیط تھی۔

اس تہذیب کے باشندے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ بہترین سفارت کاری کے بھی ماہر تھے۔ جسکا واضح ثبوت میسو پوٹیمیا تہذیب کے خطے میں ملنے والے ہندوستانی زبان کے خطوط ہیں۔ سومیرین تہذیب سے ان کے تجارتی تعلقات سارجن اول کے زمانے میں اپنے عروج کو پہنچے۔ اور انہی سے سٹی سٹیٹ کا تصور وادی

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

سندھ پہنچا۔

وادی سندھ کی تہذیب پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس سے کافی حیران کن اکشافات منظر عام پر آرہے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں بھارت میں کی جانے والے ایک تحقیق میں بذریعہ کاربن ڈیٹنگ تکنیک یہ انکشاف کیا گیا، کہ وادی سندھ کی تہذیب پانچ نہیں بلکہ نو ہزار سال پرانی ہے۔ اس تحقیق کے بعد وادی سندھ کی تہذیب کا مرتبہ اپنے دوسرے ہم عصر تہذیبوں (مصر اور میسوپوٹیمیئن تہذیب) سے بلند تر ہو گیا ہے۔

ماضی میں یہ سمجھا جاتا رہا کہ مون سون بارشوں کے سسٹم میں تبدیلی آنے سے اس تہذیب نے قحط کا سامنا کیا اور اپنا عروج کھو بیٹھے، لیکن سائنسی جریدے، نیچر میں شائع ہونے ایک اور تحقیق نے اس خیال کو رد کیا۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ اس تہذیب کے باشندوں نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے گندم اور جو جیسی فصلوں پر انحصار کم کر دیا جو زیادہ بارشوں کی مرہونِ منت ہوتی ہیں اور ان کی بجائے چھوٹے دانوں والی فصلیں مثلاً باجرہ اور چاول زیادہ اگانے شروع کر دیں جو خشک سالی کا نسبتاً بہتر مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اس طرح خشک سالی کے دور میں بھی انہوں سینکڑوں سال تک اپنےعروج کو برقرار رکھا۔ (بی۔بی۔سی)

اب تک کی جانے والے تحقیق کے نتیجے میں اس تہذیب کے چھ بڑے شہری مراکز دریافت کئے گئے ہیں۔ جن میں روپڑ، لوتھل اور راکھی گڑھی موجودہ بھارت میں واقع ہیں۔ جبکہ موہنجودڑو، ہڑپہ اور گنیر والا پاکستان کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔

moenjoماہرین آثار قدیمہ تو اب تک اس تہذیب کے جعرافیائی حدود کے اندازے لگا رہے ہیں، لیکن پاکستان میں واقع شہروں کا اس تہذیب کے مراکز ہونے پر سب کا یقین ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں پائے جانے والے آثار قدیمہ نسبتا زیادہ بہتر حالت میں دریافت ہوئے، جو کہ انڈِن آرکیالوجیکل سروے نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حوالے کئے۔

یہاں جو بات قابل تشویش ہے وہ یہ کہ پاکستان میں آثار قدیمہ پر تحقیق کا دائرہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث محدود رہا ہے۔ پاکستان نے آزادی کے بعد وادی سندھ تہذیب کے حوالے سے پاکستان نے جو بڑھی کامیابی حاصل کی ہے، وہ صرف مہر گڑھ کی دریافت ہے۔ مہرگڑھ کی دریافت سے ہی اس تہذیب کے پتھر کے دور کی نشادہی کی گئی۔ اس کے مقابلے میں اگر بھارت کا جائزہ لیں تو انہوں نے صرف 2000 سے 2005 کے درمیان 16 مختلف ریاستوں میں کھدائی کی۔ انڈین آرکیالوجیکل سروے کی مطابق صرف اندھرا پردیش میں پانچ پتھر کے دور کے مقامات دریافت کئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے کشمیر، مدھیہ پردیش، کیرالہ، اور اتر پردیش میں لوہے کی دور کے آثار دریافت کئے۔

آثار قدیمہ کے تحفظ کے حوالے سے بھی پاکستان میں سخت کوتاہیاں برتی گئیں ہیں۔ عجائب گھروں میں کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے کئی بار اہنی نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔ ابھی پچھلے سال ہی ایک انگریزی روزنامے نے خبر چھاپی کہ لاہور کے عجائب گھر میں معمولی صفائی کو دوران بدھا کے مجسمے کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ مافیاز کا کاروبار بھی عروج پر ہے، جو اپنےایجنٹوں کے ذریعے نوادرات چرا کر باہر سمگل کر رہے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت تب ملا جب 2016 میں امریکی Mohenjo-daro2سفیر نے امریکہ میں پاکستان سفارت خانے کو بدھا کا ایک مجسمہ پیش کیا، جو ان کے مطابق پاکستان سے چرا کر امریکہ میں بیچا گیا۔

عجائب گھروں میں ہونی والی کرپشن کو چھپانے کیلئے طرح طرح کے جگاڑ لگائے جا رہے ہیں۔ جس میں اصلی نودرات کی ہوبہو نقل عجائب گھر میں رکھ دی جاتی ہے، جبکہ اصل کا کچھ اتا پتا نہیں چلتا۔ یہ واقعات نہ صرف عالمی طور پر ہماری جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ عجائب گھروں میں پائی جانے والے نوادرات کی ساکھ بھی مشکوک ہو رہی ہے۔

موہنجودڑو شہر جسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، ہر برسات کے موسم میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ ایسے میں یہاں ثقافتی فیسٹول بھی منعقد کئے جا
تے ہیں۔ جو کہ یقینا کسی حد تک دیواروں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔

حکومتوں کو چاہیئے کہ ترجیحی بنیادوں پر شفاف طریقے سے، تمام عجائب گھروں میں ماہر کنزرویشنسٹس کی خدمات لیں۔ اور کرپشن کی مکمل تحقیقات کرکے، قوم کو ماضی سے محروم کرنے والوں کو انصاف کے کٹھرے میں لائیں۔

ہائیر ایجوکشن کمیشن مختلف جامعات کے طلبہ کو تحقیق میں مدد فراہم کرے۔ ملکی جامعات کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹسمیں میں ماہر فیکلٹی سٹاف اور تحقیق کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

 نیزوادی سندھ کے تہذیب کے حوالے سے خصوصا پاکستان اور بھارت کے ماہرین اور طلبہ کو رابطے بڑھانے چاہئے اور عمومی طور پر بین الااقوامی سطح کے سٹڈی ٹرپس کومزید فروغ دیا جانا چاہئے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “وادی سندھ کا عظیم ثقافتی ورثہ اور ہماری غفلت

  • 06-06-2016 at 11:28 am
    Permalink

    پاكستان میں وادی ﺳﻨﺪﮪ كے نو هزار سال اور اس سے بهی پرانے آثار هیں.كیونكه یه تهذیب پاكستان سے شروع هوءی جب كه بهارت میں اتنے پرانے آثار نهیں. بهارت میں وادی ﺳﻨﺪﮪ كی قدامت كے حوالے سے جو تحقیقات پچهلے برسوں میں كتابوں یامضامین میں سامنے آءی هیں ان په زیاده انحصار درست نهیں. بهارت اس كوشش میں هے كه وه كسی طرح اپنے علاقے كو وادی ﺳﻨﺪﮪ كی تهذیب كا مركز ثابت كرے.اس سے پهلے وه گوتم بدﮪ كے نیپال كی بجاءے بهارت میں پیدا هونے كا دعوی بهی كر چكے.جس پر نیپال میں بهارت كے خلاف شدید احتجاج هوا. نر سنگها )جن كی یاد میں هولی مناءی جاتی هے( پاكستان میں پیدا هوءے. چند بهارتی اب اس سے بهی انكاری هیں.آریا قوم كے بهارت سے تعلق هونے كا دعوی بهی چند بهارتی تاریخ دان كر رهے هیں.اب بهارت كے اخبار یه دعوی كر رهے هیں كه هریانه میں مهر گڑه سے قدیم آثار ملے هیں.جهاں سے وادی ﺳﻨﺪﮪ كی تهذیب شروع هوءی )نیٹ په وادی ﺳﻨﺪﮪ كی تهذیب په بهارتی اخبارات كی تازه خبریں دیكهیں( هریانه میں وادی ﺳﻨﺪﮪ كی تهذیب كے قدیم ترین آثار ملنے كی باتیں حقیقت سے دور هیں. بدقسمتی سے همارے وطن میں وادی ﺳﻨﺪﮪ كی تهذیب په كام بهت كم هوا هے.پاكستان میں ایك سرے سے دوسرے سرے تك وادی ﺳﻨﺪﮪ تهذیب كے آثار بكهرے هوءے هیں.ان آثار پر توجه دینے كی ضرورت هے.

    • 09-06-2016 at 12:50 pm
      Permalink

      بہت اہم ایشو کی طرف توجہ دلائی۔ یقینا پاکستان کے پاس سندھ کی تہذیب کی حقیقت منظر عام پر لانے کیلئے بہت کچھ ہے۔ بس توجہ کی کمی ہے۔

Comments are closed.