وہ بیماری جو امیر ترین افراد کو بھی دو ٹکے کا چور بنا دیتی ہے


کچھ دنوں پہلے کویت کا ایک وفد پاکستان آیا تھا۔ اس وفد کی پاکستانی حکومت کے ساتھ اقتصادی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس ختم ہوا تو کویتی وفد کے ایک سرکاری افسر نے شور مچا دیا کہ اس کا بٹوا گم ہو گیا ہے یا کسی نے اس کا بٹوا چرا لیا ہے۔ کویتی وفد کے سرکاری افسر کا شور مچانا ہی تھا کہ اسی وقت اعلان کیا گیا کہ کسی نے مہمان کا بٹوا دیکھا ہے۔ ہر طرف خاموشی چھائی تھی۔ کوئی بھی شخص یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ اس نے بٹوا چوری کیا ہے۔ پوچھ گچھ کی گئی، کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ جس ہال میں مذاکرات ہوئے تھے وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تو اس میں دیکھا گیا کہ ایک شخص خالی ہال میں میز سے بٹوا اٹھا کر جیب میں ڈال رہا ہے۔ بٹوا جیب میں رکھنے والا انسان وزارت صنعت و پیداوار کا جوائنٹ سیکریٹری تھا جس کا نام ضرار حیدر خان تھا۔ جب ضرار حیدر سے پوچھا گیا کہ میاں یہ جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں بندہ دکھائی دے رہا ہے، یہ کون ہے؟ موصوف نے فرمایا یہ کوئی اور نہیں، یہ تو میں ہوں۔

عمرانی فلسفے کی بنیاد پر جنم لینے والی حکومت کے ساتھ ساتھ بیچارے ضرار حیدر کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد سرکاری ملازم کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی اور اسے ملازمت سے معطل کردیا گیا۔ ضرار حیدر صاحب بیسویں گریڈ کے افسر ہیں جن کی تنخواہ لاکھوں میں ہے، ایسا ہے تو پھر ضرار حیدر کو بٹوا چوری کرنے کی ضرورت کیا تھی؟

اس کہانی کو یہی پر ختم کرتے ہیں اور اب آتے ہیں اپنے اصل ایشو کی جانب۔ ایک بیماری ہے جس کا نام ہے Kleptomania کلیپٹو مینیا، یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ اس بیماری میں مبتلا فرد کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ چھوٹی موٹی چیزیں چرا لیتا ہے چاہے اسے ان چیزوں کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ یہ چوری وہ منصوبہ بندی سے نہیں کرتا بلکہ بیماری کی وجہ سے کرتا ہے۔ ایسا شخص جنرل اسٹور میں جائے گا تو کوئی چھوٹی موٹی چیز چوری کرلے گا۔ بک شاپ پر کتاب چوری کر لے گا۔ کسی کے گھر میں جائے تو وہاں کوئی چھوٹی موٹی چیز اٹھا لے گا۔ ایسا کرنا اس کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ وہ نفسیاتی مرض کیلپٹومینیا کا شکار ہوتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال صرف امریکہ اور کینیڈا میں 30 بلین ڈالرز کی شاپ لفٹنگ کی جاتی ہے۔ کبھی کبھار ملزم پکڑے جاتے ہیں تو ان پر مقدمے چلتے ہیں۔ معاملات عدالت میں جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے چور چھوٹ جاتے ہیں کیونکہ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو کلیپٹومینیا جیسے نفسیاتی مرض کا شکار تھے۔

اب بتائیں کہ معروف اداکارہ لنڈسے لوہان کو تین ہزار ڈالر کا ہار چرانے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے حالانکہ وہ تو کھرب پتی ہے؟ اسے کیا تسکین ملتی ہے؟ لنڈسے اس سے پہلے بھی کئی چیزیں چرا چکی ہے؟ معروف گلوکارہ برٹی سپئیر بھی اسی طرح کی کئی چوریاں کرچکی ہیں۔ جنیفر کپریاٹی بھی کسی سے کم نہیں وہ بھی اس طرح کی چھوٹی موٹی چیزیں چراتی رہتی ہے۔ موجودہ ملکہ برطانیہ کی دادی اور جارج پنجم کی ملکہ میری بھی چیزیں چرایا کرتی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ یا تو وہ کسی دعوت میں قیمتی چیزیں چرا لیتی تھی یا پھر تحفے میں مانگ لیتی تھی۔ بالی وڈ فلم انڈسٹری نے ایک فلم بنائی ہے جس کا نام ہے سمرن، اس فلم میں کنگنا رناوت نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ وہ اس فلم میں کلیپٹومینیا مرض کا شکار ہیں۔ یہ ساری کہانی بینا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جس پاکستانی سرکاری افسر نے بٹوا چرایا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بھی اس مرض کا شکار ہو؟ اگر ایسا ہے تو پھر ضرارحیدر خان کے کیس کی نوعیت اور بنتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جو تفتیشی ٹیم ضرار حیدر کے خلاف تفتیش کررہی ہے وہ اس پہلو کو بھی مد نظر رکھے اور اپنے ساتھ ایک نفسیاتی ماہر کو بھی شامل کرے، ایسا نفسیاتی ماہر جو کلیپٹو مینیا مرض کو سمجھتا ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں