وفاقی بجٹ پر ایک نظر


zeeshan hashimوفاقی بجٹ مالی سال دو ہزار سولہ سترہ پیش کر دیا گیا ہے، بجٹ کی کسی بھی ملک کی معیشت کو سمجھنے میں بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس سے گورنمنٹ کی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ آئیے بجٹ میں پیش کئے گئے حقائق کو مختصر مگر جامع انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

– بجٹ میں کل آمدن 4,905.5 ارب روپے ظاہر کی گئی ہے جس میں 3,621 روپے FBR نے وصول کئے ہیں جبکہ باقی کی رقم دوسرے ذرائع سے حکومت نے وصول کی ہے۔ ٹیکسز کی مد میں تیرہ عشاریہ پانچ فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی طرح بجٹ میں کل اخراجات 4,394.8 ارب روپے ظاہر کئے گئے جس میں سات عشاریہ تین فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ان اخراجات میں 1,360 ارب قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کئے جائیں گے جبکہ 860.2 ارب روپے دفاع پر، 800 ارب ترقیاتی منصوبوں پر جبکہ باقی رقم جاری حکومتی و انتظامی سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔

کل بجٹ خسارہ 1,276.20 ارب روپے بتایا گیا ہے جسے عالمی و مقامی بنکوں سے قرض لے کر پورا کیا جائے گا جس کی ادائیگی آنے والے وقت میں زندہ شہری ادا کرتے رہیں گے۔

-بجٹ تقریر نوے منٹ جاری رہی، اس دوران معزز ارکان پارلیمان کی انتہائی کم تعداد موجود تھی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدان بجٹ کو کتنا سنجیدہ لیتے ہیں۔

ترقیاتی اشارے :

بجٹ کا تنقیدی جائزہ لینے سے پہلے آئیے کچھ ترقیاتی اعدادوشمار دیکھ لیں تاکہ اچھا آغاز رہے۔

-غربت میں کمی کی نوید سنائی گئی ہے جس میں ورلڈ بنک کے تحقیق کردہ اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں کہ غربت جو مالی سال دو ہزار ایک اور دو میں 64.2 فیصد تھی کم ہو کر دو ہزار تیرہ چودہ میں 29.5 فیصد رہ گئی ہے۔ یاد رہے کہ اعدادوشمار بھی ورلڈ بنک کے ہیں اور پیش بھی مالی سال دو ہزار تیرہ چودہ کے کئے گئے ہیں- چاہئے تو یہ تھا کہ اعدادو شمار 2015ء سے 2016 کے پیش کئے جاتے۔ اس سے ہمارے “پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس” کی کارکردگی کا بھی پتا چلتا ہے جو بنیادی اشاروں کے شماریاتی مطالعہ میں ہنوز ناکام ہے۔

غربت میں اضافہ کی نوید یقینا خوش گوار ہے مگر خاکسار گزشتہ دس سال  سے پاکستان کے بجٹ اعدادوشمار کو تفصیل سے دیکھ رہا ہے اور آج تک نہیں سمجھ سکا کہ آخر غربت میں یہ کمی حکومت (موجودہ یا سابقہ ) کے کن انقلابی اقدامات کے سبب ہے؟ یہ کمی میری رائے میں مارکیٹ میں بہتری کی وجہ سے ہے جس میں ہنوز حکومتی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مارکیٹ میں خصوصا ہمارا خدمات کا شعبہ اور روایتی مگر نان ڈاکومنٹڈ شعبے میں بہتری آئی ہے۔ اسی طرح اگر خوراک میں کیلوریز intake کو بنیاد بنایا جائے تو پاکستان میں بھوک کی غربت 2001ء میں 34.6 فیصد سے کم ہو کر 9.3 فیصد رہ گئی ہے۔

– فی کس آمدنی بڑھ کر 1,561 ڈالر سالانہ ہو گئی ہے جس پر بغلیں بجانے کے بجائے مزید سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ہنوز دنیا میں فی کس آمدنی کے اعتبار سے آخری درجے کے ممالک میں آتے ہیں۔

– اس وقت مہنگائی کی شرح 2.8 فیصد ہے جو گزشتہ دس سال میں ریکارڈ شرح ہے۔ اس کمی کی وجہ بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور مقامی مارکیٹ کا supply effect (سپلائی میں خودکار اضافہ ) ہے۔ گورنمنٹ کے پاس ایک بھی جواز نہیں جس سے وہ بتا سکے کہ یہ اس کی فلاں منصوبہ بندی سے ممکن ہو پایا ہے۔ ہاں، ایک جواز ہے وہ یہ کہ گزشتہ دو سال میں کم نوٹ چھاپ کر اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر اس کم نوٹ چھاپنے کی وجہ بھی آئی ایم ایف سے آسان قرضہ اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے سبب بچپنے والے پیسوں سے اخراجات پورے کرنے کی کوشش ہے۔

-عسکری اخراجات

فوج کو براہ راست آٹھ سو ساٹھ ارب روپے اس بجٹ میں دیئے گئے۔دفاعی بجٹ میں گزشتہ پانچ سالوں میں کل 10.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان آٹھ سو ساٹھ ارب روپے کے علاوہ باقی ذیلی امور میں بھی عسکری ادارے کو نوازا گیا ہے۔ جیسے

ترقیاتی بجٹ کے آٹھ سو ارب روپے میں سے بھی ایک سو ارب روپے سیکورٹی ڈویلپمنٹ فنڈ کی مد میں سیکورٹی پر خرچ ہوں گے۔

ملٹری پنشنز جو سالانہ 178 ارب روپے بنتی ہیں وہ بھی سول اکاؤنٹس سے ادا کی جائے گی۔

اسی طرح نیوکلئیر پروگرام اور فاٹا میں آپریشن کی مد میں کل اخراجات علیحدہ سے فوج کو دیئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ فاٹا میں جاری آپریشن کے کل اخراجات فوج کو حاصل بجٹ کے بجائے دوسرے اخراجات کی مد میں ادا کئے جا رہے ہیں۔

اسی طرح فوج میں وہ ملازمین جس کا سٹیٹس سویلین کا ہے جیسا فوج کا اکاؤنٹ اینڈ آڈٹ ڈیپارٹمنٹ ان کی تنخواہیں بھی سویلین اکاونٹس سے دی جاتی ہیں۔

حالیہ بجٹ میں سرحدوں پر تعینات فوج کے “اسپیشل ایریا کمپنسیٹری الاؤنسز” کی مد میں 50 سے تین سو کا اضافہ کیا گیا ہے جو سویلین اکاونٹس سے ادا کئے جائیں گے۔

اسی طرح “آوٹ فٹ الاؤنسز فار آرمی آفیسرز” میں آٹھ سو سے پچیس سو کا اضافہ کیا گیا ہے یہ رقم بھی سویلین اکاونٹس سے ادا کی جائے گی۔

یاد رہے کہ یہ سب وہ اخراجات ہیں جو بجٹ ڈاکومنٹس میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ سیکرٹ فنڈ سے پیسے دینا ہم پاکستانیوں کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔عموما یہ ادائیگیاں ڈویلپمنٹ فنڈ سے کی جاتی ہیں-

تعلیم و صحت :

تعلیم پر کل 79.5 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے اور صحت پر 22.4 ارب۔ یہاں یہ یاد رہے کہ گزشتہ آئینی ترمیم کے زریعے ابتدائی تعلیم و صحت کی سہولیات پہنچانا صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ مگر اعلیٰ تعلیم یعنی یونیورسٹیز کی تعلیم یا وہ ادارے جو براہ راست ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت آتے ہیں وہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری میں آتے ہیں۔ ان اعدادوشمار سے ایک بات تو آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں کیا مقام رکھتی ہے ؟ کچھ بھی نہیں۔

صوبوں کی بجٹ کے اعدادوشمار آنے کے بعد ہم صحیح طرح سے جان سکیں گے کہ ریاست دراصل تعلیم و صحت پر کل کتنا خرچ کرتی ہے مگر صحت کے بارے میں کچھ اور اعداد و شمار بھی دیکھنا ضروری ہے جو کہ فیڈرل بجٹ کا حصہ ہیں۔

ایک یہ کہ حکومت نے ادویات کی برآمد پر ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے جس کا اثر یہ ہے کہ ایک طرف مقامی دوا ساز کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے دوسری طرف وہ ادویات جو مقامی مارکیٹ میں پیدا ہی نہیں ہوتیں جب انہیں باہر سے امپورٹ کیا جاتا ہے تو اس کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہو جاتا ہے یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ دوسری طرف یہ کہ بعض ادویات پر حکومت کی طرف سے قیمتیں منجمد ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ایک طرف ادویات ساز انڈسٹری نہ پھیل رہی ہے اور نہ اس میں کوئی نئی سائنسی تحقیق و دریافت کا عمل پایا جاتا ہے

دوسرا جب ادویات ساز کمپنیوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ کوالٹی کو گرا کر مطلوبہ اخراجات پورے کرنے اور نفع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجے میں صارف کا انتہائی نقصان ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے حکومتیں اس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہیں۔بجٹ میں ان امور پر کوئی دیہان نہیں دیا گیا۔

– اب ذرا پریذیڈنٹ ہاؤس اور پرائم منسٹر ہاؤس کی طرف آتے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کے لئے کی گئی مختص رقم 842 ملین روپے ہے جبکہ پریذیڈنٹ ہاؤس کے لئے مختص رقم 863 ملین روپے ہے۔ یقینا وزیراعظم اور صدر کا ایک لمبا چوڑا سیکٹریٹ ہوتا ہے، اس کے لئے تنخواہیں اور دوسری ضروری مراعات بھی ان کا حق ہے مگر یہ رقم کیسے خرچ ہو گی ان کے بارے میں مکمل تفصیل پیش نہیں کی گئی۔

-ہمارے ہاں دو شعبے ایسے ہیں جن سے حکومتوں کو خاص رغبت رہی ہے۔ ایک زراعت، دوسرا ٹیکسٹائل۔ یہ درست ہے کہ زراعت سب سے زیادہ روزگار (44 فیصد) مہیا کر رہی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ قومی پیداوار میں سب سے کم حصہ زراعت کا ہے (21 فیصد)۔ خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ قومی پیداوار دیتا ہے اس پر ایک سرسری سی نظر بھی وزیر خزانہ نے نہیں ماری۔ مینوفکچرنگ میں ساری ترجیحات ٹیکسٹائل کے شعبہ پر ہیں جو ایک طویل عرصہ سے حکومتی توجہ اور مدد حاصل کرتا آ رہا ہے۔ اس بار بھی ٹیکسٹائل کو ٹیکسز اور امپورٹ ڈیوٹی میں چھوٹ سے نوازا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ شعبہ مقابلہ کے میدان میں خود کو منواتا اور گورنمنٹ کا رویہ تمام انڈسٹریز کے لئے مساوی ہوتا۔ زراعت میں بھی جتنے مراعات کا اعلان کیا گیا ہے اس کی اکثریت سے بڑے بڑے جاگیردار فیض یاب ہوں گے۔ زراعت ایک طرف سے ٹیکس فری ہے، قومی خزانہ میں اس کا حصہ تقریبا صفر ہے، مگر اس شعبہ کے لئے 341 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

جائز اور اصولی بات یہ ہے کہ اگر زراعت ٹیکس فری ہے تو اسے مراعات دینا پاکستانی ٹیکس ادا کرنے والوں سے کھلم کھلا زیادتی ہے۔ ایک طرف ٹیکس ادا کرنے والے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر کردہ زرعی اجناس کو بھاری قیمتوں پر خریدیں (گندم مارکیٹ سے پیدا کردہ قیمت پر نہیں بلکہ گورنمنٹ کی مقرر کردہ بھاری قیمتوں پر دستیات ہوتی ہے جو عموما مارکیٹ کی قیمتوں کی دو گنا سے بھی زائد ہوتی ہے ) دوسری طرف عام آدمی اپنے ٹیکسز سے اتنی بھاری رقم زراعت کے لئے دے رہا ہے، اس سوال کو اٹھانا ضروری ہے کہ جن کے ٹیکسز سے زرعی شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر لیا جاتا ہے انہیں اس سلسلے میں کیا فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

جو جتنا قومی پیداور اور ٹیکسز میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اتنا ہی اس کا حق ہے کہ وصول کرے۔ پچیس ایکڑ زمین سے اوپر کی پیداوار پر ٹیکس لازم ہے ورنہ ساری مارکیٹ کو زرعی شعبے جتنی مراعات اور ٹیکس چھوٹ ملنی چاہئے۔

حکومت کی طرف سے عدم مساوات کا منظر دیکھیں کہ زرعی استعمال کے لئے ٹیوب ویل پر بجلی کی قیمت میں 8.85 فی یونٹ سے کمی کر کے اسے 5.35 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف غیر زرعی انڈسٹری (بشمول خدمات و صنعتیں) میں بجلی کے کل خرچ پر “ودہولڈنگ” ٹیکس دس سے بارہ فیصد کر دیا گیا ہے۔ ٹیکسز بھی دو اور ظلم بھی سہو۔

-پراپرٹی اگر آپ خریدیں گے اور اسے پانچ سال کے اندر پھر بیچ دیں گے تو اس پر آپ کو “ودہولڈنگ ٹیکس” دینا ہو گا۔ اسی طرح یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر آپ فنانشل سیکیوریٹیز خرید کر تین سال کے اندر اندر اسے فروخت کر دیں گے تو “کیپٹل گین ٹیکس ” دینا ہو گا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ ٹیکسز سے بھاگتے ہیں کیونکہ حکومت ٹیکسز کی شکل میں شہریوں کو ڈراتی اور ان کا استحصال کرتی ہے۔ میری پراپرٹی میری ہے، میری مرضی میں جب چاہے اپنی کسی ضرورت کے سبب اسے فروخت کروں۔ گوورنمنٹ میرے اس حق کو تسلیم کرنے کے بجائے الٹا میرے حق جائیداد پر ٹیکسز کی شکل میں جرمانہ عائد کر رہی ہے-

– توانائی کے شعبہ پر 360 ارب خرچ ہوں گے۔ تین سو ارب کے لگ بھگ ہر سال خرچ ہو رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ خاکسار کی تجویز ہے کہ PEPCO اور واپڈا کے بوسیدہ ڈھانچہ اور مزید پیداواری انفراسٹرکچر پر اتنا زیادہ خرچ کرنے کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر کو مارکیٹ میں انوسٹمنٹ کرنے دی جائے اور انہیں ترغیبات دی جائیں تو خاطر خواہ بہتر نتائج کم خرچ پر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں دنیا کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

– کل ترقیاتی بجٹ 1675 ارب روپے ہے جس میں وفاق کا خرچ آٹھ سو ارب روپے اور صوبوں کا خرچ 875 ارب روپے ہے۔

-پاکستان کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ ان پانچ بڑی انڈسٹریز سے ہے۔ ٹیکسٹائل، چمرے کی اشیاء و ملبوسات، قالین بانی، کھیلوں کی مصنوعات، اور سرجری کے آلات۔ ان سب کو ٹیکس فری قرار دیا گیا ہے۔ خاکسار کے خیال میں چند مخصوص انڈسٹریز کو ٹیکس فری قرار دینے سے بہتر ہے کہ پوری معیشت کو ایک مساوی ٹیکس ریٹ پر لایا جائے۔ اس طرح معاشی مراعات کے لئے کھینچا تانی بھی نہیں ہو گی، گورنمنٹ کا ٹیکس ریوینو بھی بڑھے گا، اور مقابلہ کی فضا بھی ہموار ہو گی۔

-موبائل فونز کی امپورٹ پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ اچھے والے موبائل پر 500-1000 کے جاری ریٹ کو بڑھا کر فی موبائل 1000-1500 روپے کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ہر غریب موبائل پر پانچ سو حکومتی خزانہ میں جائیں گے۔

کچھ دیگر اہم سیکٹر پر اخراجات:

ٹرانسپورٹ اور مواصلات : 260 ارب روپے

پاک چین اقتصادی راہداری : 125 ارب روپے

ریلوے : 114 ارب روپے

پورٹ اینڈ شپنگ : 12.80 ارب روپے

قصہ مختصر کہ خاکسار کو اس پورے ٹیکس میں کچھ بھی دلچسپ اور حوصلہ افزا نہیں لگا۔ سب زبانی کلامی جمع و تفریق اور ضرب و تقسیم کا کھیل تھا۔ اوپر سے دعوی کیا گیا کہ 2018-19 کے لئے جی ڈی پی میں سات فیصد تک کا اضافہ کیا جایا جائے گا۔ خاکسار حیران اور پریشان ہے کہ اس بجٹ میں کون سی ایسی جادوئی طاقت ہے جو معاشی کارکردگی کو موجودہ شرح سے تقریبا دوگنا کر دے گی۔ معیشت کی سائنس بہت مغرور اور ضدی ہے، محض خواہشات اور بلند آہنگ دعوے اس کی حرکیات کو نہیں بدل سکتے۔ ہمیں دنیا سے سیکھنا چاہئے کہ ترقی و خوشحالی کے لئے کون کون سے اقدامات ضروری ہیں۔ ہمیں معیشت کی سائنس کو سمجھنا اور اس کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan