چاند کی رویت اور جدید سائنسی واسطوں کا استعمال …. !


haseeb ahmadہر سال رمضان اور عیدین کے مواقع پر ہونے والے چاند کے جھگڑے میں لوگ باگ یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ رویت کے معاملے میں گواہی کافی ہے اول تو گواہ کو پرکھنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا اور اگر کوئی سائنسی حسابات سے یہ بتلاۓ کہ جناب ابھی چاند پیدا ہوکر ہلال بنا ہی نہیں تو وہ نظر کیسے آ گیا تو لوگ پریشان ہوتے ہیں ……….

ایک بات جان لیجئے کہ اس عظیم الشان کائنات کا خالق الله رب العزت ہے یہ زمین و آسمان چاند و سورج سب اسکی مخلوق ہیں اور انھیں اس نے ایک اندازے پر تخلیق دیا ہے اور ان کا نظام ایک ترتیب پر چلتا ہے سائنس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کے علم میں لاتی ہے کہ خالق حقیقی نے کائنات کی تشکیل کس انداز میں کی ہے .

رَ‌بُّ المَشرِ‌قَينِ وَرَ‌بُّ المَغرِ‌بَينِ

﴿١٧﴾

فَبِأَىِّ ءالاءِ رَ‌بِّكُما تُكَذِّبانِ

 ﴿١٨﴾

 سورة الرحمٰن

’’ وه رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا

 (17)

تو (اے جنو اورانسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ ۔‘‘

﴿وَالشَّمسُ تَجر‌ى لِمُستَقَرٍّ‌ لَها.

 ﴿٣٨﴾

 سورة يٰس

’’ اور سورج کے لئے جو مقرره راه ہے وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔‘‘

وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ

” اوروہ اللہ ہی ہے جس نے رات اوردن بنائے اورسورج اورچاند کو پیداکیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں”

الانبیاء  ٢١ :٣٣

سورة یٰس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ ط وَکُلّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ

” نہ تو سورج سے ہو سکتاہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔سب اپنے اپنے مدار پر تیزی سے رواں دواں ہیں” ٣٦ :٤٠

اب غور کیجئے کہ اس کائناتی ترتیب کیخلاف کوئی بات کرے تو اس کی کیا حیثیت ہوگی .

ایسا ہی معاملہ چاند کا ہے جس میں بنیاد اصلی رویت بصری ہے

 لاتصوموا حتی تروالھلال ولاتفطرواحتی تروہ فان غم علیکم فاقدروالہ۔

ترجمہ: (رمضان کا)چاند دیکھے بغیر روزہ(رمضان)شروع نہ کرو اور(شوال کا) چاند دیکھے بغیر رمضان کاروزہ نہ چھوڑو،اگر مطلع ابرآلودہو(اورچاند نظر نہ آئے)توتیس کا مہینا پورا کرو‘‘۔

حدیث

صوموالرؤیتہ وافطروالرؤیتہ فان غم علیکم فاکملواعدۃ شعبان ثلاثین

ترجمہ: (رمضان کاچاند)دیکھ کرروزۂ(رمضان)شروع کرواور(شوال کا)چاند دیکھ کر اختتامِ رمضان کرو، اگر تم پرمطلع ابرآلود ہوجائے تو شعبان کے تیس دن پورے کرو‘‘۔

)مشکوٰۃ المصابیح باب رؤیۃ الہلال(

چاند اپنی ماہوار گردش کے بعد اپنی جدید پیدائش سے اگلے چوبیس گھنٹے یعنی ہلال بننے تک قابل رویت نہیں ہوتا اور یہ ایک کائناتی اصول ہے جسے خالق حقیقی نے قرآن کریم میں بھی بیان فرما دیا ہے اب اگر اس دوران کوئی شخص یا گروہ یہ دعویٰ کرے کہ اس نے چاند دیکھا ہے تو چونکہ وہ خلاف عقل بات کر رہا ہے اسلئے اسکی یہ گواہی مردود ہوگی .

خطیب بغدادی اپنی کتاب’’ الفقیہ والمتفقہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’جب کوئی ثقہ اور مامون راوی ایسی روایت بیان کرے جس کی سند بھی متصل ہو تو اس کو ان امور کے پیش نظر رد کر دیا جائے گا : ایک یہ کہ وہ تقاضاے عقل کے خلاف ہو ۔ اس سے اس کا باطل ہونا معلوم ہوگا، کیونکہ شریعت عقل کے تقاضوں کے مطابق وارد ہوتی ہے نہ کہ عقل کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب اللہ کی نص یا سنت متواترہ کے خلاف ہو۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں یا وہ منسوخ ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ اجماع کے خلاف ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ وہ منسوخ ہے یا اس کی کوئی اصل نہیں ، کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ صحیح اور غیر منسوخ ہو اور امت کا اس کے خلاف اجماع ہو جائے۔ چوتھے یہ کہ ایسے واقعہ کو صرف ایک راوی بیان کرے جس کا جاننا تمام لوگوں پر واجب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں ، کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس بات کی کوئی اصل ہو اور تمام لوگوں میں سے صرف ایک راوی اس کو نقل کرے۔ پانچویں یہ کہ ایسی بات کو صرف ایک آدمی نقل کرے جس کو عادتاً لوگ تواتر کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ یہ بھی قبول نہیں ہوگی ، کیونکہ جائز نہیں کہ ایسے واقعہ کو نقل کرنے والا صرف ایک آدمی ہو۔‘‘

’’کسی کہنے والے نے کتنی اچھی بات کہی ہے کہ جب تم دیکھو کہ ایک حدیث عقل کے خلاف ہے یا ثابت شدہ نص کے مناقض ہے یا کسی اصول سے ٹکراتی ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔‘‘

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقع پر خود الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے جو کہ حامل وحی تھے ایک ایسے ذریعے سے تیقن حاصل کی کہ جو عام طور پر اسلام میں ممنوع ہے ملاحظہ کیجئے

الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کو حضرت اسامہ بن زید ؓ  سے غیر معمولی محبت تھی جس کی وجہ سے قدرۃ کچھ منافق اسامہؓ کے حاسد بھی پیدا ہوگئے تھے یہ لوگ اسامہؓ کو ذلیل اورآنحضرت ﷺ کے کبیدہ خاطر کرنے کے لیے کہتے کہ اسامہؓ زیدؓ کے نطفہ سے نہیں ہیں، آنحضرت ﷺ کو اس سے تکلیف پہنچتی ؛لیکن ان کے خاموش کرنے کا کوئی طریقہ نہ تھا، عربوں میں قیافہ شناسی کا ملکہ بہت تھا ،قائف کی بات عام طورپر ہم پایہ وحی سمجھی جاتی تھی،اتفاق سے ایک دن مجرزمدبحی جس کو قیافہ شناسی میں خاص مہارت تھی،آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت زیدؓ اوراسامہؓ دونوں سر سے پیر تک ایک چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے،صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے پیدا ہیں، یہ سن کر آنحضرت ﷺ کو بہت مسرت ہوئی،آپ حضرت عائشہؓ کے پاس ہنستے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا تم کو کچھ معلوم ہے،مجرز نے ابھی اسامہؓ کے پاؤں دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے پیدا ہیں،

 (بخاری،جلد۲کتاب الفرائض باب القائف )

عجیب بات ہے کہ الله کے رسول صل الله علیہ وسلم تو اطمینان قلبی کیلئے ایک قیافہ شناس سے دلیل لےلیں اور ہمیں کائناتی حقائق قابل قبول نہ ہوں .

 


Comments

FB Login Required - comments