الحمرا کے افسانے


mehmudul hasanممتازادیب غلام عباس نے 1930ءمیں امریکی لکھاری واشنگٹن ارونگ کی کتاب “Tales of the Alhambra”کا آزاد ترجمہ ”الحمرا کے افسانے “کے عنوان سے کیا،تواسے بے حد پذیرائی ملی، اوریہ کتاب اس عہد کی مقبول کتاب بن گئی۔

اسے پڑھنے والوں نے جس طرح یاد رکھا، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ کتاب کے قارئین میں ایسے بھی تھے، جنھوں نے آگے چل کرادب میں اونچا رتبہ پایا اور یہ ان کے ناسٹلجیا کا حصہ ٹھہری۔ان ناموروں کے اس کتاب کے بارے میں تاثرات ،سامنے لانے کا خیال ہی زیرنظرمضمون کا باعث ہے۔

ادیبوں کی رائے کی طرف ہم بعد میں جائیں گے، پہلے مترجم غلام عباس کا بیان پڑھ لیں،جومعروف نقاد وفکشن نگارآصف فرخی کے ان سے انٹرویوکے ذریعے سامنے آیا” ایک عجیب بات بتاوں،میں نے دارالاشاعت میں ملازمت 1928ءمیں کی تھی۔

اس زمانے میں ایک آدھ سال بعد میں نے واشنگٹن ارونگ کے افسانوں کونئے سرے سے اردومیں ڈھالنے کا تجربہ کیا۔ میں اردو کے کلاسیکی ادب سے بچپن ہی میں خوب متاثرہوگیا تھا چنانچہ الحمرا کے افسانوں میں، میں نے اصل سے بے نیاز ہو کر قصہ گوئی کا مشرقی انداز اپنایا اوراس کوبڑے مرصع اندازمگرسادہ نثر میں لکھا۔ محمد حسن عسکری جن کا اس وقت بچپن ہوگا،انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے اسے پندرہ پندرہ اوربیس بیس مرتبہ پڑھا۔ ویسی نثراگرمیں اب لکھنا چاہوں تواب نہیں لکھ سکتا۔“

01غلام عباس کے کہے کوپڑھ لیا تواب معروف ڈراما نویس اوراس کتاب کے ناشرامتیازعلی تاج کے دیباچے سے یہ اقتباس ملاحظہ کرلیں۔ ”آج سے ایک صدی قبل جب امریکا کا نامور انشا پرداز واشنگٹن ارونگ قصر الحمرا میں پہنچا تو اسلامی شوکت وتجمل کے اس باوقار کھنڈر کو دیکھ کراسے طلسم وافسوں کے پراسرار افسانے سوجھے، جنھیں نہایت خوش اسلوبی سے لکھ کراس نے ان کے مجموعے کا نام الحمرا رکھا۔

ان افسانوں میں سے میرے دوست غلام عباس صاحب نے پانچ بہترین افسانے منتخب کر کے مناسب تغیروتبدل کے بعد شستگی مذاق اوررنگینی بیان کے ساتھ سلیس اور رواں اردومیں ایسے مرغوب ومحبوب انداز سے تحریر فرمائے ہیں کہ مجھے یقین ہے ان کا مطالعہ ہرعمراور ہرذوق کے شخص کے لیے بے حد دل چسپی اورلطف اندوزی کا موجب ہوگا۔“

غلام عباس اورامتیازعلی تاج کی آرا بیان ہوگئیں تو اب ہم ان ادیبوں کی رائے کی طرف مڑتے ہیں، جنھیں اس کتاب نے مسحورکیا۔ اردوکے جید نقاد محمد حسن عسکری نے جب یہ کتاب پڑھی تواس وقت ،ان کو کیا معلوم تھا کہ آگے چل کرغلام عباس سے ان کی دوستی ہوجائے گی۔ وہ ان کے افسانوں پرمضمون لکھیں گے۔ اور خاکہ بھی۔جس میں بتایا”ذرااوربڑے ہوئے تو ان کی کتاب ”الحمرا کے افسانے“پڑھنے کوملی۔اس عمرمیں اس بات کی کیا خبرتھی کہ اچھی نثرکیسی ہوتی ہے اوربری نثرکیسی،لیکن اس کتاب کی عبارت میں ایسی مٹھاس تھی کہ جادوساکرتی تھی۔ ہمارے خاندان میں یہ مقبول ترین کتاب تھی۔ میرا کوئی بھائی ایسا نہیں، جس نے اسے دس مرتبہ نہ پڑھا ہو۔میرا ایک بھائی صولت تومہینوں اسی کتاب کوپڑھتا رہا۔ اسے لے کر لیٹتا تو کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہتا۔ خود میرایہ حال رہا کہ انٹرمیڈیٹ میں پہنچ گیا مگراسے بچوں کے سے اشتیاق کے ساتھ پڑھتا رہا۔“

02معروف نقاد ڈاکٹر آفتاب احمد کا غلام عباس سے قریبی تعلق تھا،جس کا اندازہ اس خاکے سے بہ آسانی ہوجاتا ہے، جو ان کی کتاب ”بیادصحبت نازک خیالاں “میں شامل ہے،اوراسی سے یہ اقتباس پڑھنے والوں کی نذرہے” واقعہ یہ ہے کہ میرے بچپن کے زمانے میں ہراردو پڑھنے والے بچے کی سب سے پہلے جس لکھنے والے سے غائبانہ ملاقات ہوتی تھی، وہ غلام عباس تھے۔ اس لیے کہ وہ ”پھول“ اخبار کے ایڈیٹر تھے اور ”پھول“ ہر گھر میں ہفتہ وارسوغات کی طرح آتا تھا۔ میری بھی غلام عباس سے غائبانہ ملاقات اسی زمانے میں شروع ہوئی۔ غلام عباس کوبچوں اورنوجوان پڑھنے والوں کے دلوں میں گھرکرنے کا فن آتا تھا۔ ”پھول “کا دورگزرجانے کے بعد میری بہنوں نے اورمیں نے ”الحمرا کے افسانے“کس ذوق وشوق سے پڑھے تھے، گھر میں چھینا جھپٹی کا عالم رہتا تھا۔ ابا بھی ہمارے ساتھ اس میں شریک رہتے تھے،اس لیے کہ ان کو غلام عباس کی نثربہت پسند تھی۔“

صاحب طرز قلم کار محمد خالد اختراور صاحب اسلوب ادیب شفیق الرحمن کی بچپن سے یاری تھی۔ دونوں کتابیں پڑھنے کے رسیا۔ خالد اخترنے برسوں پہلے ”نقوش“ شخصیات نمبر کے لیے شفیق الرحمن کاخاکہ لکھا، جس سے دونوں کے شوق مطالعہ کی بابت اندازہ ہوجاتا ہے۔ان کے بقول”ہم گھر والوں سے چوری چھپے دارالاشاعت پنجاب سے کتابیں منگواتے۔ان کی وی پی چھڑانے کے لیے ہم اپنے جوڑے ہوئے پیسوں سے پول کرتے۔ کیا ہم بادشاہوں کی طرح خوش نہ ہوتے تھے،جب کتابوں کا بنڈل ہمارے قبضے میں ہوتا تھا؟ اور کس دھڑکن اوراضطراب سے ہم اس بنڈل کوکھولتے تھے؟ اور کیسی خوبصورت کتابیں وہ ہوتی تھیں۔ ”قصر صحرا، عمر عیار، جنوبی سمندرکی کہانی، الحمراکی کہانیاں“میں نے ایسی کتابیں پھر نہیں پڑھیں اورنہ کبھی پڑھوں گا۔وہ لڑکے خوش قسمت ہیں جنھوں نے اپنے لڑکپن میں انھیں پڑھا ہے۔شفیق اکثرکہتاہے کہ وہ جوکچھ ہے انہی کتابوں کی بدولت ہے۔انھوں نے ہمیں اصل ادب کے حسن اورلطافت سے روشناس کیااورہمارے تخیل کو جلادی۔ ہم دونوں میں سے ایک بھی ابھی تک ان کتابوں کے سحرسے نہیں نکل سکا…شفیق کو جوکتاب سب سے اچھی 03لگی وہ غلام عباس کی الحمرا کی کہانیاں تھیں۔ان کہانیوں کے اسرار، جادو اور رومان نے اسے بالکل مسخر کر لیا اور پھراس کتاب میں رنگین تصویریں بھی تھیں۔ ان دنوں میں بھدی سے بھدی تصویریں بھی کس قدرحقیقی اور جاندار لگتی تھیں۔ ہم دونوں کے دل پرابھی تک وہ عجیب تصویریں نقش ہیں جوان کتابوں کے متن کوالسٹریٹ کرتی تھیں۔ویسے آرٹسٹ آج کل کیوں نہیں ہوتے۔“

آٹھویں جماعت پاس کرکے شفیق الرحمن بہاول پورسے بہاولنگرچلے گئے۔چھٹیوں میں ایک باروہ بہاول پورآئے توخالد اخترنے دوست کوایک کتاب دی۔ وہ لکھتے ہیں”میرے والد صاحب کی کتابوں میں واشنگٹن ارونگ کی انگریزی کتاب ”الحمراکی داستانیں“کی ایک جلد نکل آئی۔ اسے میں نے شفیق کو دے دیا اور وہ چھٹیوں کے بعد اسے اپنے ساتھ بہاول نگر لے گیا۔ اس نے اس میں سے دو تین کہانیوں کے آزاد ترجمے کئے۔ میرا خیال ہے وہ”عصمت“میں چھپے۔ وہ بڑے خوبصورت ترجمے تھے۔شوخ اورشگفتہ اور بے تکلف۔“

آگے چل کربتایا ”الحمرا کی کہانیاں “ نے جنھیں اس نے اسکول کے زمانے میں پڑھا تھا،اسے بے حد متاثرکیا ہے اوروہ ابھی تک اس کے جادوکے اثر سے (خوش قسمتی سے) نہیں نکل پایا۔ مجھے یقین ہے کہ اگرکوئی اچھی خواہشیں پوری کرنے والی پری اسے اس کے لڑکپن کے زمانے کی چند گھڑیاں واپس دینے پر تیار ہو جائے توان گھڑیوں کوچنے گا جن میں وہ الحمراکے رومانوں کی پراسراردنیا میں کھویاہوتا تھا۔ایک لکھنے والے پراس کے بچپن اورلڑکپن کی پڑھی ہوئی کتابوں کے اثرکا اندازہ کرنا بڑا مشکل ہے،مگراس میں کوئی کلام نہیں کہ ان کا اثرگہرا اوردیرپا ہوتا ہے۔شفیق کی سنجیدہ کہانیوں میں رومانیت اورحسن ”الحمرا“کی دین ہے۔“

04شفیق الرحمن اوراس کتاب کے تعلق کی کہانی یہیںختم نہیں ہوتی۔ ان کی بے مثال تحریر ”برساتی“میںبھی ”الحمرا“کا ذکر ہے ” ایک دھند سی چھاگئی،چشمے کا شوردھیما ہوگیا،دھوپ پھیکی پڑ گئی،وہ سب نقوش ذہن میں ابھرنے لگے۔میں اورمیرا دوست رودباد انگلستان عبورکررہے تھے۔ہم ہسپانیہ جائیں گے۔ میں اب وہ شرارتی اوربے چین لڑکا تھاجس نے اسکول سے بھاگ کر ایک باغ میں واشنگٹن ارونگ کی کتاب”الحمراکی کہانیاں“ پڑھی تھی،جسے اندلس نے مسحورکردیاجس کے خوابوں میں وہ سہانی فضائیں بس گئیں۔“

شفیق الرحمٰن، نامورادیب مستنصرحسین تارڑ کے محبوب مصنف ہیں، ”برساتی“ انھیں اس قدرپسند ہے کہ کہتے ہیں، وہ اس میں سے نکلے ہیں۔یعنی اس تخلیق نے ہی انھیں سفرنامہ نگاربننے کی طرف مائل کیا۔ پہلی بارانھوں نے واشنگٹن ارونگ کی کتاب کے بارے میں ”برساتی“ ہی میں پڑھا،اور جب برسوں بعد اندلس کا سفرنامہ لکھنے کا مرحلہ آیا تو پھراس کی تلاش شروع ہوئی۔

ان کے بقول””اندلس میں اجنبی“کے لیے تحقیقی مواد جمع کرنے کے دوران مجھے پنجاب پبلک لائبریری کے تہہ خانے میں ارونگ کی اس کتاب کا ایک قدیم نسخہ دستیاب ہوا جس کے ورق اتنے خستہ تھے کہ ذرا سی غفلت سے بھرنے لگتے تھے۔۔۔ میں محترم شفیق الرحمن کو ہمیشہ نہ صرف اپنے ذاتی بلکہ تخلیقی کاموں میں شریک کر لیا کرتا تھا توانھوں نے مجھے ”الحمرا کی کہانیاں“ کا ایک نایاب مصورنسخہ تحفے میں بھیج دیاجومیری لائبریری میں کہیں نہ کہیں محفوظ ہوگا۔“

05مستنصرحسین تارڑ وہ خوش نصیب ہیں جنھوں نے واشنگٹن ارونگ کا گھربھی دیکھ رکھا ہے۔اس کی خبر ہم کو ان کے سفرنامے ”نیویارک کے سو رنگ“سے ملتی ہے۔”میں ٹیری ٹاون کے خوش نظرخاموش سے قصبے میں دریائے ہڈسن کے کنارے امریکا کے پہلے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے مصنف ”ٹیلزآف الحمرا“کے خالق واشنگٹن ارونگ کے قدیم گھر سنی سائڈ کے برآمدے میں ایک آرام کرسی پر براجمان، میامی والا براؤن ہیٹ پہنے، ایک نیکرمیں ملبوس سامنے پھیلے وسیع ہڈسن کے پانیوں میں نظریں جمائے ایک عجیب سی طمانیت اورہیجان سے دوچارتھا کہ میں نے کبھی تصورنہیں کیا تھاکہ یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ میں ایک ڈھلتی دوپہرمیں کبھی ”الحمرا کی کہانیاں“ لکھنے والے کے گھرمیں اسی کرسی پربیٹھ کردریائے ہڈسن کا نظارہ کروں گاجس کرسی پر وہ براجمان ہوکرآخری عمرمیں پہروں پانیوں کو تکتا رہتا تھا۔“

ہم نے اوپرمحمد خالد اخترکے قلم سے شفیق الرحمن کے جس خاکے کا ذکر کیا ہے، جب وہ چھپا تو لکھنو ¿میں مقیم مایہ نازافسانہ نگار نیرمسعود کی نظروں سے بھی گزرا۔ برسوں بعد محمد خالد اخترکے نام خط میں انھوں نے لکھا ”بہت پہلے ”نقوش“ کے شخصیات نمبر میں شفیق الرحمن پرآپ کے مضمون میں یہ پڑھ کربڑی خوشی ہوئی تھی کہ آپ دونوں دارالاشاعت والی الحمرا کے عاشقوں میں ہیں۔ میں توبڑے اطمینان سے کہہ سکتاہوں کہ بچپن سے لے کرآج تک جوکچھ بھی پڑھا ہے، اس میں اس الحمرا سے زیادہ کسی کتاب نے مجھ کومسحورنہیں کیا۔“

دارالاشاعت پنجاب کی کتابوں کا برصغیربھرمیں چرچا رہا۔ نیرمسعود ان کتب کے سحرسے کبھی نہ نکل سکے، بچپن میں ان کتابوں تک پہنچ کا ذریعہ معروف افسانہ نگارالطاف فاطمہ کا گھر تھا، جس کے ساتھ ان کی دیوارسے دیوارملی تھی۔ تقسیم کے بعد وہ اس خزینہ سے جن حالات میں محروم ہوئے،اس بابت محمد خالد اخترکو نیر مسعود نے خط میں لکھا ” بچوں کی کتابیں مجھے پڑوس میں بہن الطاف فاطمہ صاحبہ کے یہاں پڑھنے کوملتی تھیں۔ شیشے لگی ہوئی ایک چھوٹی سی الماری میں 06دارالاشاعت پنجاب کی کتابیں اوربچوں کی دوسری کتابیں سلیقے سے سجی رہتی تھیں اورکبھی کبھی میرا پورا دن ان کتابوں کی سیرمیں نکل جاتا تھا۔ تقسیم کے بعد یہ خاندان پاکستان چلا گیا،جس کے کچھ دن بعد اس گھرکا سامان نیلام ہوا۔ نیلام کی صبح یہ سامان باہرنکال کررکھا گیا توکیا دیکھتاہوں کہ میزوں،کرسیوں اورپلنگوں کے ساتھ کتابوں کے خزانے سے بھری ہوئی یہ محبوب الماری بھی رکھی ہوئی ہے۔

دوڑا ہوا والدہ کے پاس پہنچا کہ اس کی بولی میرے نام چھڑوائی جائے۔ مشکل یہ تھی والد صاحب(پرانا سامان خریدنے کا شوق رکھنے کے باوجود) ایسا سامان کبھی نہیں خریدتے تھے، جو ان کے کسی عزیزیا واقف کارکومجبوراً فروخت کرنا پڑ جاتا ہو۔ میری خود ان سے کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ والدہ کو وکیل بنایا۔ انھوں نے وکالت کا حق ادا کر دیا لیکن مقدمہ نہ جیت سکیں۔ ایک دیوار پر بیٹھ کرمیں نے نیلامی کا منظر دیکھا۔ الماری کی باری آئی اور بالاآخر چار روپے ایک، چار روپے دو، چار روپے تین، بلکہ، چار روپے (کھٹ) تین کی آوازسنتے ہی میں نے خود کودیوارسے نیچے گرادیا (یہ گویا خودکشی فرمائی تھی) “

نیرمسعود کوعمارتوں کے محراب سے خاص دل چسپی ہے، جس کے بارے میں بتاتے ہیں ”محراب سے گویا مجھ کوکچھ ذاتی طورپرعجیب سی کیفیت ہے کہ مجھ کوبڑی خیال انگیزمعلوم ہوتی ہے۔ علامت میں اس کو نہیں کہوں گا کیونکہ علامت ولامت نہیں ہے وہ کسی چیزکی، لیکن اس میں ایک بڑی کیفیت ہے۔ہرمحراب میں کئی داستانیں پوشیدہ ہیں۔ کچھ اس کا سبب غالباً یہ بھی ہے کہ واشنگٹن ارونگ کے الحمرا والے افسانے مجھ کوبہت پسند تھے اوراس میں محراب کا ذکر بار بار آتا ہے۔ یوں بھی محراب کی یہ صفت بھی ہے کہ پوری عمارت مٹ جائے گی، محراب اپنی ساخت کی وجہ سے باقی رہ جاتی ہے۔“

07الطاف فاطمہ نے بھی بچپن میں دارالاشاعت پنجاب کی کتابوں کوخوب پڑھا۔ان سے ایک ملاقات میں ہم نے ”الحمرا کے افسانے“کا ذکرکیا تو بتایا کہ یہ کتاب انھوں نے غلام عباس کے ترجمے کی صورت میں نہیں بلکہ براہ راست انگریزی میں پڑھی۔ وجہ اس کی یہ بنی کہ ان کے ماموں زاد بھائی اور معروف افسانہ نگار رفیق حسین کے بیٹے شاہد حامد جو پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر رہے، تقسیم سے قبل سینڈھرسٹ پڑھنے گئے تو واپسی پر الطاف فاطمہ کے لیے واشنگٹن ارونگ کی کتاب لائے۔ یہ ان کتابوں میں سے ہے،جس کی یاد ہمیشہ ذہن میں جاگزیں رہی۔ سرزمین اندلس سے محبت عمربھران کے ساتھ رہی۔ مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ ”اندلس میں اجنبی“ پڑھنے کے بعد ان کوخط میں لکھا ”مستنصرمیں نے بچپن میں ارونگ کی”Tales of the Alhambra”پڑھیں اورپھرلڑکپن میں قاضی ولی محمد کا سفرنامہ اندلس پڑھا۔اس وقت سے بہت پہلے میری والدہ نے مسدس حالی کے اشعارکوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے والے تمام بند زبانی یاد کرائے تھے۔ اس سب کا یہ اثرتھا کہ میں اپنے بچپن میں بہت بارخواب دیکھتی تھی کہ غرناطہ اورقرطبہ کے کھنڈروں میں بھٹکتی پھرتی ہوں۔۔۔ کچھ اتنا واضح نظر بھی نہیں آتا تھا۔ مگر جیسے روح بھٹک بھٹک کرادھرہی کوجاتی تھی۔ پھر میں نے طالب علم کی حیثیت مسجد قرطبہ پڑھی۔ استاد کی حیثیت سے پڑھاتی رہی۔ اوربے تابی بڑھی۔ میری روح اب بھی اکثر وادی الکبیراورغرناطہ کے اطراف میں سرگرداں ہو جاتی ہے۔ “

شاعراورنقادجیلانی کامران کو غلام عباس کی نثراس قدر اچھی لگی کہ وہ یہ رائے قائم کرنے پرمجبورہوئے ”الحمرا کے افسانے جس زبان میں لکھے گئے ہیں،وہ بہت حد تک منفرد ہے اور واشنگٹن ارونگ کی زبان سے کئی گنا بہتر ہیں۔“ جید ادیب شمس الرحمن فاروقی نے بھی اس کتاب کوبچپن میں پڑھا اور پسند کیا۔ گذشتہ برس شائع ہونے والے اپنے ناولٹ ”قبض زماں “کے پیش لفظ میں ارونگ کا حوالہ آیا تو انھوں نے بتایا کہ ”واشنگٹن ارونگ کا نام میری عمرکے اردو خوانوں کو اس کی کتاب Tales of the Alhambraکی وجہ سے یاد ہو گا۔غلام عباس نے اس کا ترجمہ”الحمرا کے افسانے“کے نام سے کیا تھا۔“

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن بھی اس کتاب کے بچپن میں قاری رہے ،انھوں نے اب دوبارہ یہ کتاب پڑھ کر اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے۔

08”الحمرا کے افسانے“نامی کتاب میں نے غالباً 1940ء  یا 1941ء میں پڑھی تھی۔اردومیں اس طرح کے قصے کہانیاں کہاں پڑھنے کوملتے تھے۔ میں حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ ایسا لگاجیسے الف لیلہ کی کہانیوں کوکسی نے نئے اندازمیں لکھ دیا ہے۔ بوڑھے نجومی اورابن ہابوس کا قصہ مدتوں یاد رہا۔ لیکن سب سے زیادہ ترس سحرزدہ سپاہی پرآیا جسے ہرسوسال بعد تین دن کے لیے رہائی ملتی تھی اور جو انتظارکرتا تھا کہ کوئی اسے طلسمی قید سے چھٹکارا دلائے۔ اتنا ہی زیادہ غصہ اس پادری پرآیاجس کے ندیدے پن کی وجہ سے سحرزدہ سپاہی آزاد ہوتے ہوتے رہ گیا۔

اس وقت مجھے لگتا تھا کہ دنیا کا سب سے اچھا مصنف یہی ہے جس نے ”الحمرا کے افسانے“لکھے ہیں۔اب 75برس بعد اس کتاب کو دوبارہ دیکھنے کا موقع ملا تومایوسی نہیں ہوئی۔ان افسانوں کی کشش آج بھی قائم ہے۔ “  اورآخرمیں چلتے چلتے یہ بتادیں کہ “Tales of the Alhambra” کا ترجمہ معروف نقاد وقارعظیم نے بھی کیاجو ”قصص الحمرا“ کے نام سے چھپا۔عمدہ ترجمہ ہے۔ نیرمسعود نے ایک خط میں اس کتاب کے سردارعلی علوی کے قلم سے ہونے والے ترجمے کی بھی تعریف کی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments