بےگناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا


ramish fatimaسماجی رابطے کی ہر ویب سائیٹ پہ کسی بھی قتل یا حملے کے بعد لوگ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں اور ان تاثرات اور الفاظ کے انتخاب سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ معاشرے کی عمومی سوچ کیا ہے۔ گزشتہ سال پیرس میں ہوئے حملوں کے بعد کچھ پاکستانیوں سے جرم سرزد ہو گیا کہ انہوں نے فلٹر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ڈی پی اس ملک کے جھنڈے میں رنگی اور یک جہتی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا اس سے خدا نے بھی پناہ مانگی ہو گی کہ یہ مخلوق ظلم کی مذمت کرتے ہوئے بھی مظلوم کے عقیدے کو نشانہ بناتی ہے۔

خرم ذکی کے نام سے سب واقف ہیں، ایک ایسا شخص جس میں اتنی ہمت تھی کہ وہ اپنے نام، اپنی شناخت کے ساتھ اپنا سچ لکھ رہا تھا جس پہ اسے یقین تھا، ان کے قتل پہ مذمت کی باری آئی تو ان کے عقائد کی نشاندہی ان کے قتل پہ افسوس سے زیادہ اہم سمجھی گئی۔ آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے، ہزاروں لوگوں کو اختلاف ہو گا اسی لئے وہ قتل ہوا لیکن اگر اس قتل کے وقت صرف مذمت کر دیتے اور اپنے اختلافات کی نشاندہی نہ کرتے، عقائد زیرِ بحث نہ لاتے تو یقیناً آپ کی شان میں کمی نہ آتی، شاید یہ اگر مگر لیکن والی مذمت ضروری تھی کہ کل کو آپ کو اس مذمت کی وضاحت دینی پڑے تو ایک اسکرین شاٹ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے تاکہ آپکی جان بخشی ہو سکے۔

وطنِ عزیز کی روایت ہے کہ یہاں آئے روز کسی احمدی کو قتل کر دیا جاتا ہے، جب آپ اس قتل کی مذمت کریں اور سوشل میڈیا پہ کچھ لکھیں تو عقیدوں کے غلام وہاں آ کے اپنا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں کہ افسوس اپنی جگہ پر یہ مسلمان نہیں، اور ساتھ ہی ان باکس میں آ کے ایک خدشہ نما سوال پوچھتے ہیں کہیں آپ احمدی تو نہیں؟ (شاید اس لیئے کہ پھر انفرینڈ، بلاک یا گالیاں بکنے کے بارے میں سوچا جائے)

مسیحیوں کی بستیوں پہ حملہ ہو , گھر جلانے ہوں، انسان جلانا ہوں یا جان سے مارنا ہو، اس کی مذمت کرتے ہوئے بھی لوگ یاد رکھیں گے کہ کوئی توہین یا گستاخی کا الزام لگا تھا، بس اتنا کہنے کی دیر ہے کہ الزام ہی تھا اس پہ مارنے کی کیا ضرورت یا پھر آپ زیادہ خردماغ واقع ہوئے ہیں تو یہ بول دیں کہ اس قانوں کی آڑ میں ذاتی پرخاش نکالی جا رہی ہے اور پھر اپنا حشر دیکھیں، ان کے عقائد کی اور آپ کے شجرۂ نسب کی ان الفاظ میں عزت افزائی ہو گی جو آپ نے سوچے تک نہ ہوں۔ کوئی زیادہ دل پہ لے گیا تو آپ کو اپنی جان سے جانا ہو گا اور پھر آپ کے قتل کی مذمت کے ساتھ لوگ لکھیں گے کیا ضرورت تھی ایسی بات کرنے کی۔

بس اتنا کہنا ہے کہ اگر آپ دل کے کسی گوشے میں مقتول سے ہمدردی رکھتے ہیں تو خدارا اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اپنے اگر، مگر اور لیکن جیسی لغویات سے پرہیز فرمائیں۔ یقین جانیں بہت سے قتل اسی سوچ کی وجہ سے ہوتے ہیں جو پہلے اگر مگر لیکن بن کے دلوں میں پلتی ہے اور پھر ایک روز آپ اس راہ کے مسافر ہو جاتے ہیں جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے۔

تیغ منصف ہو جہاں، دار و رسن ہوں شاہد

بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا


Comments

FB Login Required - comments