دو ملاقاتیں، پوروں سے کہی باتیں


zeffer05اچھا لکھنے کے لیے، کیا پڑھنا چاہیے، کالم لکھنے کے لیے کن امور کا خیال رکھا جاے؟ میں اسی طرح کے سوال کر رہا تھا۔ آنے جانے والوں نے جم کر بات نہ کرنے دی۔ وجاہت مسعود میرے سامنے بیٹھے تھے، مقام بیچ لگژری ہوٹل، اور موقع تھا، کراچی لٹریری فیسٹیول 2016ء کا۔

عدنان خان کاکڑ کی توسط سے، میں ان سے متعارف ہوا تھا۔ یہ بھی کہ ‘ہم سب’ میں لکھنے سے پہلے، میں وجاہت مسعود کو نہیں جانتا تھا۔ وہاں بیچ لگژری ہوٹل کے کمرے میں میں ان سے کچھ نہ اگلوا سکا، جیسا کہ بیان کیا، ہمارے بیچ میں ان کے ملاقاتی حائل رہے۔ بس ایک تاثر لے کر وداع کیا، وہ یہ کہ یہ کوئی ملنگ ہے، سو بنجارے کو پسند آیا۔

اس کے بعد، ایک آدھ بار فون پر بات ہوئی، فیس بک میسنجر کے ذریعے چیت رہی۔ ہم دونوں ہی نائٹ برڈ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کام یابی لمحہ موجود میں جینے کا نام ہے۔ اکثر پھولوں پہ پودوں پہ توجہ دینے کا مشورہ دیتے رہے۔ بہار کے تذکرے کرتے رہے۔ ایک کالی سیاہ رات ہمارے بیچ میں جو مکالمہ ہوا، وہ ‘کاہن، استاذی، اور سفر معراج’ کے عنوان سے تحریر کیا۔ مجھے پہلے دن سے آج تک ان سے تعلق میں اجنبیت یا تکلف کی دیوار نہ دکھائی دی، لیکن ایک اینٹ۔۔۔ ایک بار کوئی مضمون بھیجا، تو انھوں نے گلہ کیا، ‘ظفر بھائی، کیا ہم آپ کو نام نہاد لبرل دکھائی دیتے ہیں؟’

لاہور آیا تو انھیں اطلاع دی۔ کہنے لگے میں آ جاتا ہوں۔ میں عدنان خان کاکڑ کے ہم راہ ان کے گھر جا پہنچا۔ جونھی زینہ طے کیا، حسد سے جل بھن گیا۔ کتابوں سے لدی الماریاں۔۔۔ میں نے مدت سے گھر میں ایک ایسے ہی گوشے کا خواب دیکھ رکھا ہے۔ آہ! خانہ بہ دوش کیا، اور اس کی حسرتیں کیا کیا۔ جب تک وہ منزل نہ کرے، اسے اپنے خوابوں کے خیمے اٹھاے گھومنا ہوتا ہے۔

کرتے میں ملبوس میزبان نہایت تپاک سے ملے۔ عدنان نے کہا، ‘وجاہت صاحب تمھیں مولوی سمجھتے ہیں۔’ انھوں نے میرے چہرے پہ نظریں گاڑ دیں، شاید میرا فوری ردعمل دیکھنا چاہتے ہوں۔ ادھر میں ہکا بکا ایسا کہ خودکش جیکٹ کا بٹن دبانا بھول گیا۔

دوسری ملاقات میں، میں نے اپنے سوال دہراے، کہ تحریر کو کیسے بہ تر کیا جاے۔ بڑے آدمی کی یہ نشانی ہے، کہ وہ اپنے سے چھوٹوں کی تعریف کرتا ہے۔ یوں ٹہلا دیا گیا۔ ان سے خوب باتیں ہوئیں، سبھی سنبھال لیں۔ رات تھی، کہ ٹھیر کے نہ دے رہی تھی۔ انھوں نے رک جانے کو کہا، میری مجبوری کہ مجھے جانا تھا۔

انھی باتوں کے دوران یہ جانا، کہ وہ کم سن بچوں کی موجودی میں خوش رہتے ہیں۔ دو ملاقاتیں، پوروں سے کہی چند باتیں، کسی کو جاننے کے لیے ناکافی ہیں۔ مگر میں جو پہچانا وہ یہ کہ انھیں پودوں، اور بچوں سے پیار ہے۔ وہ انھی نونہالوں کی آب یاری کر کے دھرتی کو گل ستاں کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran