آنسو بہانا کیا شرمساری کی بات ہے؟


پچھلے دنوں میرے پاس ایک ایسے صاحب کی جانب سے خط آیا جو اپنی حساس طبیعت اور آنسو بہائے جانے کی عادت کے ہاتھوں پریشان بلکہ پشیمان تھے اور مشورہ چاہتے تھے، لکھتے ہیں:
”میں اصل زندگی ہو یا فلمی منظر کی جذباتی صورتحال، جلد ہی رو پڑتا ہوں۔ میری یہ عادت محفلوں میں تمسخر کا باعث بنتی ہے۔ کیا آپ مجھے اس کیفیت پر قابو پانے کا طریقہ بتاسکتی ہیں؟ ‘‘ میرے استفسار پر انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ ”میں بچپن سے اس طرح نہیں تھا، ہاں البتہ عمر کے ساتھ ساتھ رونا بے قابو ہوتا جا رہا ہے‘‘۔

ایک تھراپسٹ ہونے کے ناطے میں نے مسئلہ سے پہلو بچانے کے بجائے اشکوں کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کی۔ خود میرے ذہن میں رونے یا اشک کاری کے حوالے سے کئی سوالات تھے مثلاً
ان صاحب کو اپنا حساس ہونا اور آنسو بہانا اتنا زیادہ کیوں پریشان کررہا ہے۔ اگر وہ عورت ہوتے تو کیا اتنا ہی شرمسار ہوتے؟ رونا کمزوری کی علامت ہے یا اس کے کوئی فوائد بھی ہیں؟ تحقیق اس فطری عمل کی افادیت یا مُضر اثرات کے متعلق کیا کہتی ہے؟ اور سب سے بڑی بات کہ ان صاحب کو آخر کیا مشورہ دیا جاسکتا ہے؟

اس طرح ایک چار سطری خط نے ایک کنکر کی مانند میری فکری لہروں میں ارتعاش پیدا کردیا۔ خود میری اپنی کھوج کے بعد مجھے احساس ہوا کہ باوجود اس کے کہ انسانی جذبات اور احساسات کا اشکوں کی روانی سے براہ راست تعلق ہے، مگر اس موضوع پر خاطرخواہ تحقیقی کام نہیں ہوا ہے۔ تو آئیے ذرا تفصیل سے اس حساس موضوع کا جائزہ لیتے ہیں۔

آخر رونا کیا ہے؟ چارلس ڈارون کی تحقیق کے مطابق رونا جذباتی کیفیت کے عالم میں انسان کی ناک کے اطراف عضیلات کے کھنچاؤ کا نتیجہ ہے جو آنسوؤں کے غدود سے اشکوں کے اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی کے علاوہ اس میں موجود جراثیم کش کیمیائی اجزاء ہمارے اوپری تنفسی نظام کی حفاظت کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ رونے کا تعلق ہمارے عصبی نظام سے ہے اور جذباتی کیفیت میں اشکوں کی روانی کا عمل انسانی شعور کے ارتقاء کا مظہر بھی ہے۔

مشہور بائیو کیمسٹ ڈاکٹر ولیم فرے کے نظریہ کے مطابق رونا ہماری عمومی صحت کے لئے یوں اہم ہے کہ اس کے ذریعے جذباتی ناآسودگی کی صورت جمع ہونیوالے فاسد کیمیائی مادوں کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بہت سے دودھ پلانے والے ممالیہ جانور درد کی صورت میں آنکھ نم کر بیٹھتے ہیں مگر اس رطوبت کا مقصد آنکھوں کو جراثیموں سے دور کرنا اور گیلا رکھنا ہے۔

”دل کے گداز‘‘ ہونے کا عطیہ قدرت کی جانب سے بنی نوع آدم کا ہی امتیاز ٹھہرا ہے، جب ہی پیدائش کے بعد محض قلیل مدت میں انسانی نوزائیدہ بچہ جلد ہی رونے اور خوشی سے مسکراتے منہ بناسکتا ہے۔ اگر بچے میں آنسو بہانے کی صلاحیت نہ ہو تو اسے اپنے اطراف کے ماحول میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا مشکل ہوجائے۔ اس طرح اس کا رونا منظم انداز میں دوسروں سے ہم رشتگی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ فرد کی بڑھتی عمر کے ساتھ رونا سماج میں خوشی، غم، شرم، فخر، قوت جیسے جذبات کے باقاعدہ اظہار کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس طرح قہقہہ کی طرح رونا بھی بلاتفریق ہر سماج کا حصہ ہے۔

حقیقی اشک یا مگرمچھ کے آنسو:

کیا جذبات کی شدت سے بہتے آنسو کسی بیرونی گرد کے ذراّت، انفیکشن یا پیاز کے عرق کے باعث نکلنے والے پانی سے مختلف ہوتے ہیں؟

سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ غیرجذباتی آنسو جنہیں اکثر ”مگرمچھ کے آنسو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے اندرونی جذبات کے بجائے بیرونی کثافت کے ردعمل میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی کیمیائی اجزائے ترکیبی بھی ان اشکوں سے مختلف ہوتی ہے جو دل کے ساز پر ضرب کے نتیجے میں بہتے ہیں۔ ڈاکٹر پال فرے کی سائیکٹری ریسرچ لیبارٹری میں (جو سینٹ پال رمسے، مٹی سوٹا میں واقع میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں) ہونے والی تحقیق کے مطابق جذباتی اشکوں میں مندرجہ ذیل مادے ہیں جو اسٹریس کی صورت میں خارج ہوتے ہیں۔

1۔ لیوسن ان کیفلن (Leucin۔ enkaphalin) جو موڈ کو بہتر کرنے اور درد کم کرنے کا ہارمون ہے۔
2۔ اے سی ٹی ایج (Adrenocorticotropic harmone) جو اسٹرس کی نشاندہی کرتا ہے۔
3۔ پرولیکٹن: جو ممالیہ یا دودھ پلانے والے جانوروں میں دودھ کی نمو کا باعث بنتا ہے۔

اسکے علاوہ پوٹاشیم اور مینگز (جو موڈ میں کردار ادا کرتا ہے) خون کے مقابلہ میں 30 فیصد زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ جذباتی آنسوؤں میں پروٹین کی مقدار کا اخراج بھی غیرجذباتی آنسو کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں خارج کی صورت میں نکلنے والے اشکوں میں پانی کی مقدار 98 فیصد ہوتی ہے جو جذباتی آنسو کے مقابلے میں خاصی زیادہ۔

رونا اسٹریس کے اظہار کا بیرونی ذریعہ ہے جس میں جسم کے فاسد کیمیکل اسی طرح خارج ہوتے ہیں جیسے تنفس، پسینہ یا پیشاب کی صورت میں خارج ہوتے ہیں۔

ہم کیوں روتے ہیں؟

رونا دراصل ہمارا ایک دفاعی فطری عمل ہے۔ لوگ خوشی، غم، خوف، تشکر، شرمساری وغیرہ کی کیفیت میں روتے ہیں۔ آپ نے کسی میلے میں کھو جانے والے بچے کو شاید دیکھا ہو، جو ماں باپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب ایک دم انہیں پالیتا ہے تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے، یعنی ایک کیفیت سے نکلنے کے بعد دوسری کیفیت میں داخل ہونے پر یعنی جذبات کے ابھار اور اس کے بعد بحالی کا عمل، پہلی کیفیت میں بچہ مسئلہ کے حل کی تلاش میں مصروف ہوتا ہے تو دوسرے میں اس اسٹریس سے نکلنے کی بحالی ہے۔

خود میرے تھراپی کے تجربہ میں میرے منشیات استعمال کرنے والے کلائنٹ کی مثال ہے۔ 27 سالہ جوزف جب گروپ تھراپی میں ہوتا ہے تو ہنستا رہتا ہے، مذاق کرتا ہے لیکن جونہی وہ انفرادی سیشن میں میرے داخل ہوتا ہے اس کا ماضی کا اسٹریس اسے یاد آجاتا ہے۔ کمرے کی محفوظ فضا میں وہ اپنے پر کم عمری میں گزرے غموں کے پہاڑوں پر رونا چاہتا ہے، اس کے ماں باپ نے اسے تین سال کی عمر میں دوسروں کو دیدیا۔ چھ مختلف گھروں میں اس پر کیا کچھ بیتی وہ کسی کو بھی رُلانے کے لئے کافی ہے۔ اس کا منشیات کا استعمال اس کی غم سے نجات کی غیرفطری صورت تھی جبکہ اپنے غم کو قبول کرکے اس پر آنسو بہانا ایک فطری صحتمند عمل ہے جو اسے اس پوسٹ ٹرامیٹک حالت سے نکالنے کا طریقہ ہے، یہی وجہ ہے میں اسے رونے دیتی ہوں۔

اس طرح رونا جذباتی آسودگی، ذہنی جذباتی توازن اور کتھارس کا صحت مندانہ طریقہ ہے جس میں منفی جذبات سے نجات ملتی ہے۔ 85 فیصد خواتین اور 73 فیصد مرد رونے کے بعد اچھا محسوس کرتے ہیں۔ گداز دل اور ہمدردانہ جذبہ رکھنے والے افراد ان افراد کے مقابلے میں زیادہ روتے ہیں جو سخت دل اور حاکمانہ مزاج ہوتے ہیں۔ گو اس سلسلے میں شخصیت کی بناوٹ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

”بری بات لڑکے نہیں روتے‘‘

برسوں سے معاشرہ روتے ہوئے کم عمر لڑکوں کو ”ہش‘‘ کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ 12 سال تک کی عمر تک جنس کی تفریق کے بغیر رونا آتا ہے لیکن اس کے بعد بلوغت کے زمانے میں عورتوں میں ”پرولیکٹن‘‘ اور مردوں میں ”ٹسٹو اسٹیرون‘‘ ہارمون کی مقدار میں واضح فرق ہوجاتا ہے، مثلاً عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں پرولیکٹن کی مقدار 60 فیصد زیادہ ہوتی ہے جو مادہ میں دودھ کی افزائش کا سبب بنتی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سلورمین کے مطابق ”مرد سوگواری کے موقع پر ماضی سے ربط منقطع کرنا سیکھتا ہے‘‘۔ عورتیں ماہانہ اوسطاً 5.4 مرتبہ روتی ہیں جبکہ مرد 1.4 مرتبہ، اس فرق کی ایک وجہ شخصیت کی تفریق کے علاوہ عورتوں کے آنسو بنانے والے غدود میں خلیوں کی جسامت بھی ہوسکتی ہے جو مردوں کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے جبکہ دوسرا نظریہ مردوں میں زیادہ مقدار میں پسینہ آنے کی وجہ سے فاسد مادوں کا فطری اخراج ہے۔

حقیقت کچھ بھی ہو، مرد اگر روتے ہیں تو خاموشی سے، کم مدت تک، ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہوتا ہے اور وہ عموماً رونے کی وجہ بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ عورتیں ان کے مقابلے میں دیر تک روتی ہیں اور بلند آواز سے تاہم دونوں ہی سرشام اپنے گھر کی تنہائی میں یا کسی قریبی ساتھی کی موجودگی میں رونا پسند کرتے ہیں۔

تاریخ میں رونے کا عمل:

گو آج کل رونا ”نجی عمل‘‘ تصور کیا جاتا ہے مگر صنعتی انقلاب تک بھی مردوں کے رونے کا عمل بھی نارمل سمجھا جاتا تھا، مثلاً قدیم یونانی یا رومن اپنے مردوں کو دفنانے کی رسم میں ایک چھوٹی بوتل میں اپنے غمگساری رکے آنسو جمع کرکے مقفل کردیتے اور مرنے والے کے ساتھ خراج عقیدت کے طور پر دفن کردیتے۔

امریکہ میں گو اب اشکباری کچھ قبولیت کا درجہ پاچکی ہے لیکن کچھ دہائی قبل 1972ء میں امریکہ میں ہونیوالے الیکشن میں ایک امیدوار تقریر کے دوران رونے کی وجہ سے مقابلے سے باہر ہوگیا تھا۔ گو آج صدر اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کے آنسو قابل قبول بلکہ عوام میں مزید مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔

آئیے سماجی اور انفرادی سطح پر اشکباری کے فوائد دیکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں مشہور ادیب واشنگٹن اورنگ کا کہنا ہے کہ ”آنسوؤں میں تقدس ہے او روہ کسی کو کمزور کے بجائے طاقتور ثابت کرتے ہیں جو دس ہزار زبانوں سے زیادہ قادر الکلام ہوتے ہیں اور نہ اظہار کی جانے والی محبت کے پیامبر ہوتے ہیں‘‘۔

1۔ آنسو تعاون اور گرمجوشی کی علامت ہیں۔ یہ اعلان ہے کہ آپ لڑنا نہیں چاہتے۔ آنسو جارحانہ انداز اختیار کرنے والوں کی راہ میں حائل ہوجاتے ہیں اور امن اور یگانگت کی جانب مائل کرتے ہیں۔
2۔ آنسو اظہار کا طریقہ ہیں۔ ولیم فرے کی تحقیق کے مطابق 49 فیصد آنسو صدمہ، 21 فیصد خوشی، 10 فیصد غصہ، 9 فیصد خوف اور ہیجان اور 7فیصد ہمدردی کے اظہار کی صورت میں بہتے ہیں۔
3۔ آنسو علامت ہیں کہ آپ کو مدد اور توجہ کی ضرورت ہے۔ نیورو سائنس کہتی ہے کہ جب ایک شخص روتا ہے تو دوسرے شخص کے دماغ کے سرکٹ غیرشعوری طور پر بیدار ہوتے ہیں اور اس کو تکلیف میں دیکھ کر محبت اور ہمدردانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں جو انسانیت کی علامت ہے۔

4۔ نہ صرف آنسو ہمارے جذبات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ ہمیں دوسروں کے جذبات سے کھیلنے کا موقع بھی دیتے ہیں مثلاً اکثر خواتین مردوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے آنسو کا استعمال کرتی ہیں۔

قدیم یونان میں بادشاہ کے دربار میں بیویاں روتی ہوئی آتیں تاکہ اپنے شوہروں کے مقدمہ میں ان کے حق میں فیصلہ کرواسکیں۔ آج فلمی دنیا خواہ ہالی وڈ ہو یا بالی وڈ، فلم بنانے والے دل جیتنے کا یہ حربہ اپنی فلم، موسیقی اور شاعری کے ذریعے کرتے ہیں کیونکہ آنسو کا تعلق ہمارے دماغ کے سیدھے حصہ سے ہوتا ہے جو ہمارے سماجی اور ثقافتی روئیے سے متعلق ہے۔

کچھ ثقافتوں میں اشک باری کا عمل معمول سے تجاوز کرجاتا ہے۔ یہ رسوم مذہبی یا شادی کی تقاریب کا ضروری جزو بن گئی ہیں مثلاً اسلام کے شیعہ فرقہ میں ماہِ محرم میں ذاکرینِ کربلا حضرت امام حسینؓ کے گھرانے کی شہادت کا بیان کرکے غمگساروں کو اشکباری پر مائل کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان مجالس میں خواتین و حضرات کھل کر روتے ہیں۔ یہ اشکباری اکثر ان کے ذاتی غموں کی کتھارس کی صورت بھی اختیار کرلیتی ہے۔ اس کے برعکس شمال مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے ”توجیا‘‘ نامی گاؤں میں لوگوں میں رخصتی کے وقت دلہن نہ صرف زور زور سے خود روتی ہے بلکہ رلاتی بھی جاتی ہے۔

تاریخ میں اکثر بیوائیں ماتمی جلوس میں اپنے رومال میں پیاز رکھتی تھیں کہ اگر کسی وجہ سے آنسو نہ نکل سکیں تو پیاز کا عرق انہیں ”مگرمچھ کے آنسو‘‘ رلاسکے اور اس طرح انہیں شرمندہ ہونے سے بچائے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں