مہران والے عمران سے بچ کر رہیں


گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر اس وقت تہلکہ مچ گیا جب چند لڑکیوں نے عمران خان کو بغیر پروٹوکول کے تن تنہا ایک سوزوکی مہران میں جاتے دیکھا۔ انہوں نے نعرے بلند کیے ”نیا پاکستان“ اور ”واؤ عمران خان“ اور اس واقعے کی مووی بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔ یہ دیکھ کر ایک صاحب عمران خان کی دلیری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے لکھ دیا ”نہ کوئی خوف نہ پروٹوکول، یہ ہے ہمارا وزیراعظم“۔

ایک صاحب نے فرمایا ”بہترین عمران خان اور سیلوٹ ہمیشہ سیلوٹ ہمیشہ۔ ۔ ۔ “۔
ایک آواز آئی ”پاکستان کے وزیراعظم عمران خان آج صبح مہران میں دفتر جاتے ہوئے“۔ کئی افراد نے عمران خان کے اس طرح دفتر جانے پر نہایت خوشی کا اظہار کیا۔
ایک بھائی بولے ”وزیراعظم پاکستان عمران خان مہران پر دفتر جاتے ہوئے، کوئی سیکیورٹی نہیں! ہمیں تم پر فخر ہے جناب مسٹر پرائم منسٹر“۔
ایک بھیا تو بہت متاثر تھے ”پی ایم عمران خان مہران پر دفتر جاتے ہوئے۔ ۔ ۔ تبدیلی“۔

ایک صاحب غالباً تحریک انصاف کو ناپسند کرتے تھے مگر اس کام پر حیرت میں پڑ گئے۔ بولے ”عمران خان مہران ڈرائیو کرتے ہوئے ویڈیو کی زد میں آ گئے؟ کیا یہ سچ مچ ہو رہا ہے؟ “

لیکن جہاں سو سجن ہوتے ہیں وہیں دوسروں کے دکھ درد بانٹنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک بھائی نے ہمدردی ظاہر کی ”پی ٹی آئی کے چند جذباتی بھائیوں نے جو صبح سے وزیراعظم کو مہران میں بٹھایا ہوا ہے اب پلیز انہیں باہر نکال لیں۔ ہمارے وزیراعظم کی ٹانگیں بھی مہران میں پوری نہیں آتی اس لیے اب وہ تھک گئے ہوں گے۔ بہت مہربانی ہوگی۔ “

ایک صحافی کو کراچی گالف کلب میں بھی ایک عدد عمران خان دکھائی دے گئے۔

بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب فیک عمران خان تھے۔ فوٹو شاپ والے فیک نہیں، بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر نائی سے پلاسٹک سرجری کروا کر عمران خان بننے والے فیک۔ لیکن ہر ایک کو جس طرح ان فیک عمران خانوں نے تبدیلی کا یقین دلا دیا تھا ویسے تو فوٹو شاپ سے بھی نہیں دلوایا جا سکا۔ لیکن اسی سے ہمارے دل میں چند خدشات ابھر آئے ہیں۔

ہم پہلے کئی مرتبہ دیکھ چکے ہیں کہ جمہوریت کے خلاف کام کرنے والی قوتیں، سپر پاورز، وغیرہ کسی قوم میں کوئِی مصنوعی لیڈر پیدا کر دیتی ہیں۔ پھر جب قوم اس کے پیچھے خوب دیوانی ہو جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو ایجنٹ نکلا۔ یہ عموماً نیا انقلاب آنے کے بعد ہی یہ پتہ چل پاتا ہے۔

اسی طرح کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ مشہور نیک نیت اور مخلص لیڈر کی فوٹو کاپیاں اور ڈمیز وغیرہ بنوا کر ان سے ایسے کام کروائے جاتے ہیں جن سے اصلی والا لیڈر بدنام ہو جاتا ہے۔ وہ لاکھ صفائیاں دے کہ یہ میں نہیں تھا مگر دشمن کا پروپیگنڈا ایسا ہوتا ہے کہ اس کی بات کوئی نہیں سنتا۔

اب ایسا نہ ہو کہ مارکیٹ میں ہمارے وزیراعظم کی ایسی ڈمیز پیش کر دی جائیں کہ ہم یہ جان ہی نہ سکیں کہ ڈمی وزیراعظم کون ہے اور اصلی کون۔ خاص طور پر پاکستان میں تو یہ جاننا ویسے بھی نہایت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یہ خدشہ اس سوزوکی والے وزیراعظم کو دیکھ کر ذہن میں آیا۔ ملک کے معتبر قومی اخبارات بھی جھانسے میں آ گئے اور اس ڈمی کو عمران خان سمجھ بیٹھے۔ کل کلاں اگر وہ ڈمی لمبے کش کھینچتے، مزار پر دھمال ڈالتے، سردائی پیتے، حال کھیلتے دکھائی دے گئی تو کیا ہو گا؟

یا پھر اگر اس نے کرکٹ بورڈ یا دیگر حساس اداروں میں جا کر اپنی مرضی کی ٹیم منتخب کروا دی تو پھر کیسی خوفناک صورت حال پیدا ہو جائے گی؟ اگر اس نے وزیراعلی پنجاب کو احکامات جاری کر دیے تو ہمیں یقین ہے کہ ان پر فوراً عمل بھی ہو جائے گا۔ اس لیے قوم سے اپیل ہے کہ ڈمی وزیراعظم سے ہوشیار رہیں اور سڑک پر کوئی وزیراعظم پھرتا دکھائی دے تو اس سے دور رہیں۔ خاص طور پر مہران والے عمران سے بچ کر رہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1008 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar