بالی کا بنگلہ کس کی ملکیت؟


Majid Laghariوزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ابائی شہر خیرپور ميرس میں گذشتہ ایک مہینے سے دلشاد منزل عرف بالی کا بنگلہ تنازعے کا شکار ہے، فریقین کا دعوی ہے کہ بنگلہ اُن کا ہے، جن میں میر علی نواز تالپر کے پوتے پرنس مہدی رضا تالپر، فنکشنل لیگ کے سابق ایم پی اے امتیاز پھلپوٹو، بالی اقبال بیگم کے بھتیجیاں روبینہ اور ثمینہ بٹ اور بالی کے کزن کے بیٹے حفیظ بٹ شامل ہیں۔

بالی کا اصل نام اقبال بیگم تھا، جسے بالی کے نام سے پکارا جاتا تھا، بالی لاھور کی ہیرا منڈی کی گلوکارہ تھی، جس کے حسن کے جلوے سن اور دیکھ کر خیرپور ریاست کے ولی عہد میر علی نواز تالپر ناز دل دے بیٹھے تھے، بالی اکثر رئیسوں اور مالدار لوگٍوں کی محفلوں میں اپنے حسن اور آواز کا جادو جگاتی تھی، میر علی نواز ٹالپر عاشق مزاج اور شاعری کا ذوق رکھنے والے انسان تھے جن کا تخلص ناز تھا۔

بالی سے شادی کی غرض سے میر علی نواز کو بہت سی ذہنی دباو اور پریشانی سے دو چار ہونا پڑا۔ میر نواز نے بڑی مشکل سے بالی کے بھائیوں ببن اور فیروز خان کو رضامند کیا، بالی سے میر علی نواز کی شادی 1923 میں قرار پائی۔ شادی کے موقع پر جب اقبال بیگم کو خیرپور ریاست کے ولی عہد نواز تالپر اپنے گھر لے کر آ رہے تہے، اس وقت علی نواز تالپر نے اپنے شاھی خزانے کی تجوریاں خالی کر دی تھی، بالی کے راستے جوکہ خیرپور ریاست میں پہنچے تو نواز تالپر نے راستے پر دیئے جلا کے رکھوائے اور بالی کا اپنی ریاست میں استقبال کروایا۔ ، دھلی، ممبئی، امرتسر اور حیدرآباد دکن سے معروف تحائف منگائے گئے، شاھی مہمان آتے اور جاتے رہے، بہت دنوں تک مختلف کھانوں سے لطف اندوز ہوتےرہے۔ مہمان محفل موسیقی سے لطف اٹھاتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت میر علی نواز تالپر کے مہمان خانے ایک مہینے تک بھرے رہے۔

Bali Iqbal Begumبالی سے میر علی نواز تالپر ناز کی محبت کی داستاں سے اب بھی خیرپور کا بچہ بچہ واقف ہے۔ میر علی نواز تالپرنے بالی کے لئے محل نما دلشاد منزل بنوائی، جسے بالی کے بنگلے کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ میر نواز کی بالی سے شادی کے بعد صرف 11 سال رفاقت رہی میر کا 1934 میں انتقال ہوگیا، جس کو کربلا مولا میں دفن کیا گیا، بالی سے علی نواز تالپر ناز کی اولاد نہیں تھی، جب کہ بالی بھی 1968 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ جسے میر نواز تالپر کے پہلو میں دفنا دیا گیا۔

بالی کا بنگلہ جسے خیرپور کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے، جو کہ میر نواز تالپر نے بالی کے لئے بنوایا تھا۔ شاہجہان نے ممتاز بیگم کے لئے آگرا میں تاج محل جیسا عجوبہ قائم کیا، اسی طرح میر علی نواز تالپر نے ملکہ اقبال بیگم کے لئے دلشاد منزل بنوائی۔

بالی کے بنگلے کا اصلی حقدار کون ہے یہ فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی۔

فنکشنل کے سابق ایم پی اے امتیاز پھلپوتو کا دعویٰ ہے کہ اس کو بنگلہ میر علی نواز تالپر کے صاحبزادے میر مراد علی خان تالپر نے گفٹ کے طور پر دیا، اس لیے وہ بنگلے میں 25 سال مقیم تھے۔ اب انھیں زبردستی نکال دیا گیا۔

کہا جاتا ہے امتیاز پھلپوتو کا خیرپور میں طاقتور قبیلہ مانا جاتا ہے، جس نے میر مراد تالپر کی زمیں پر کئے گئے قبضے واپس کروائے اس لئے میر مراد ٹالپر نے یہ بنگلہ گفٹ کیا۔

میر علی مراد ٹالپر 98 کی عمر میں اپنے گھر میں مقیم ہیں، اس کے بیٹے پرنس مہدی رضا تالپر کی درخواست پر امتیاز پھلپوتو سے قبضہ واپس کرایا گیا، اب بالی کے DILSHAD MANZIL URF BALI KA BANGLAWبنگلے کی چابیاں اے سیکشن تھانے کے منشی کے پاس ہیں۔ بنگلے پر تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب حفیظ بٹ سے امتیاز پھلپوتو نے ملکیت کے حصہ دار ہونے کے ناطے پر دستاویز پر دستخط کروائے۔ جب کہ امتیاز پھلپوتو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پرنس مہدی رضا تالپر نے بالی کا بنگلہ 80 کروڑ میں محکمہ ثقافت اور سیاحت کو دے رکھا ہے۔ مگر ثقافت محکمے کی اتھارٹی نے ابھی تک بنگلہ خرید کرنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ بالی کے بنگلے کے تنازعہ پر بالی کی بھتیجی روبینہ بٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بالی کے بنگلے کی اصل حقدار وہ اور اس کی بہن ثمینہ بٹ ہے۔ جس کا معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔ اس نے ہائی کورٹ کا حکم امتناعی دکھاتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے بنگلہ کسی کو بیچنے سے روک رکھا ہے۔ ابھی تک یہ کھل کے سامنے نہیں آ سکا کہ بالی کا بنگلہ کس کی ملکیت ہے۔

خیرپور کے رہنے والے اس کیس کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے کے منتظر ہیں کہ بنگلے کا اصلی حقدار کون ہے؟


Comments

FB Login Required - comments