میں کامیاب ہو گیا!


1-yasir-pirzadaزندگی میں میری حسرت ہی رہی کہ میں کوئی بین الاقوامی سازش بے نقاب کروں ، جب بھی میں اپنے ارد گرد لوگوں کو دیکھتا جو مسلم امہ اور خاص طور سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ایسے پردہ چاک کرتے جیسے قصائی مرغی کا سینہ چاک کرتا ہے  تو دل ہی دل میں ان کی فہم و فراست پر رشک کرتا کہ کیسا کیسا گوہر نایاب اس ملک میں ’’رُل ‘ ‘ رہا ہے  اور ہمیں ان کی قدر ہی نہیں  ۔کئی دفعہ میں نے بھی مختلف معاملات میں  سازش تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا کیونکہ بہرحال خدا نے مجھے وہ دیدہ بینا عطا نہیں کی جو اِن با کمال لوگوں کو ودیعت کی گئی ہے اور جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ ’’کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد ‘ ‘ ۔بستیوں سے یہاں شاعر کی مراد غالبا ً ہاؤسنگ سکیمیں ہیں!لیکن خدا کا شکر ہے آج کے بعد مورخ میرا شمار بھی اُن لوگو ں میں کرے گا  جنہوں نے پاکستان  کے خلاف ہونے والی ایک عظیم سازش کا سراغ لگایااور اپنے ملک کے شہریوں کے وقت سے پہلے ہی بتا دیا کہ دنیا کی مختلف لابیاں کس طرح ہمیں بدنام کرنے کے لئے یکسو ئی سے کام کرتی ہیں اور اپنی مرضی کے اعداد و شمار گھڑ کے دنیا میں ہمارا قد گھٹانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ مورخ سے میری بات ہو چکی ہے اُس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ اگر میں نے اسے تاندلیانوالہ کا نمایندہ خصوصی مقرر کروا دیا تو میرا نام اُس کی آئندہ کتاب ’’فروری کے مہینے میں پیدا ہونے والے:علامہ اقبال ٹاؤن کے دس عظیم لوگ ‘ ‘ میں شامل ہو گا ۔

        اب آتے ہیں اُس سازش  کی طرف جس  کا علم مجھے  چند روز پہلے ہوا جب ایک اخباری خبر نے مجھے چونکا دیا ۔خبر کچھ یوں تھی کہ ناروے ، سویٹزرلینڈ ، ڈنمارک ،نیوزی لینڈ ، سویڈن، کینیڈا ، آسٹریلیا، ہالینڈ، فن لینڈ ،آئر لینڈ ، امریکہ ، آئس لینڈ ، لگسمبرگ ، جرمنی اور برطانیہ دنیا کے وہ ٹاپ پندرہ ممالک ہیں جنہیں  آسودہ ، امیر ، صحت مند اور محفوظ کہا جا سکتا ہے ۔ ناروے اس فہرست میں گزشتہ سات برسوں سے مسلسل پہلے نمبر پر ہے اور اِس ملک نے ہر اشاریے میں ٹاپ کیاہے ، اس کے بعد سویٹزرلینڈ کا نمبر آتا ہے جسےمعیشت اور  طرز حکمرانی میں بہترین گردانا گیا ہے ، تیسرے نمبر پر ڈنمارک ہے جہاں سرمایہ کار ی اور زندگی میں آگے بڑھنے کے بہترین مواقع میسر ہیں اور پھر اسی ترتیب میں دیگر ممالک ہیں جنہیں مختلف اشاریوں کے مطابق جانچ کر درجہ بندی کی گئی ہے ۔ یہ فہرست لندن میں قائم کسی تھنک ٹینک نے جاری کی ہے اور اسے ’’خوشحالی انڈیکس ‘ ‘ کا نام دیا ہے ۔ مجھے ان میں سے بیشر ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے اور میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ایک سازش کے تحت یہ فہرست فقط مسلمان ممالک کو نیچا دکھانے کے لئے بنائی گئی ہے ۔سیدھی سی بات ہے کہ پہلے پندرہ ممالک میں کوئی مسلمان ملک شامل نہیں ، ہم جو بیس کروڑ کی آبادی کا ملک ہیں ،ہمارا نمبر 130واں ، کیا ہر سال چالیس لاکھ بچے پیدا کرنا کوئی معمولی کام ہے ؟ایک سوال یہ بھی  پیدا ہوتا ہے کہ آخر ناروے کس بنیاد پر سات برس سے  یہ تمغہ جیت رہا ہے ، افغانستان جہاں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے، جہاں عورتیں سونا اچھالتی گذر جاتی تھیں اور انہیں کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا ، جہاں سستا اور فوری انصاف ہر کسی کو میسر تھا اور جہاں قرون اولی کی طرز پر حکمرانی کی داغ بیل ڈالی گئی تھی ، اُس عظیم ملک کا نام اس فہرست میں کیوں نہیں !دراصل یہ تمام سفید چمڑی والوں کی ملی بھگت ہے ،ایک انگریزی محاورے You scratch my back and I will scratch yoursکے مصداق انہوں نے یہ حکمت عملی اپنائی ہے کہ ایک دوسرے کے ملک کو سہولتیں دو اور مسلمانوں کو پیچھے رکھو ، اسی لئے جرمنی، سویڈن ، یوکے اور امریکہ  کے شہریوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ دنیا کےتقریبا ً پونے دو سو ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کر سکتے ہیں جبکہ ہم پاکستانیوں کو صرف اُنتیس ممالک نے یہ اجازت دے رکھی ہے اور برادر ملک افغانستان کو صرف پچیس ملکوں نے یہ سہولت دی ہے کہ وہ بغیر ویزے کے اُن کے ملک میں آسکتے ہیں ۔یعنی حد ہے نا انصافی کی کہ افغانستان جیسا امن پسند ملک جس نے عالمی امن کے قیام کے لئے بے شمار انمول رتن ہمارے ملک میں ایکسپورٹ کئے، اس کے ساتھ مغرب کا یہ امتیازی سلوک نفرت انگیز اور قابل مذمت ہے ۔

        جب سے میں نے یہ عالمی سازش بے نقاب کی ہے ، مجھے ملک کے طول و عرض سے مبارک باد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں ، لوگ جوق در جوق مجھ سے  ملنے کے لئے آ رہے ہیں ،میرے گوالے نے کل مجھے بتایا  کہ نوم چومسکی مجھ سے ملاقات کا شدید متمنی ہے  اور چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے میں اُس کی یہ خواہش پوری کردوں ، مائیکل مور اس موضوع پر ایک دستاویزی فلم بنانا چاہتا ہے اور نورمن فنکسٹائن پاکستان آکر میرے ہاتھ چومنا چاہتا ہے ۔ فی الحال میں نے ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اِن سے معذرت کر لی  ہے کہ میری گوناگوں مصروفیات اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ میں ان احباب کے لئے وقت نکال سکوں !آل پاکستان نورا کشتی کلب کے عہدے داران کل مجھ سے ملنے آئے تھے اور تقریباً تین گھنٹے وہ میرے پاس بیٹھ کر منتیں کرتے رہے کہ میں انہیں وقت دو ں مگر میں نے اُن سے بھی یہی کہا کہ خاکسار نے وطن عزیز کے لئے ابھی ایسے کئی کام کرنے ہیں، اگر میں اِس تعریف و توصیف کے چکر میں پڑ گیا تو ملک کا کیا بنے گا! زار و قطار روتے ہوئے وہ رخصت ہوئے ۔

        اُن کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ بے شک سازش بے نقاب کرنا ایک تاریخی کارنامہ ہے مگر اِس قوم کو ابھی مزید  رہنمائی کی ضرورت ہے ، اس لئے میں نے فیصلہ کیا  ہے کہ ان نام نہاد مغربی اداروں کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ضروری ہے کہ ایک ٹینک بنایا جائے ، معافی کیجئے گا ، تھنک ٹینک بنایا جائے ، جو ایسے اشاریے مرتب کرے جن کے نتیجے میں صرف مسلم ممالک ہی درجہ بندی میں اوپر آ سکیں ، مثلاً، سب سے زیادہ بچے پیدا کرنے والا ملک ، سب سے زیادہ بارڈر فری ملک ، غیر ملکیوں کو سہولت کے ساتھ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے والا  ملک اور ایسا ملک جس کے خلاف سب سے زیادہ عالمی سازشیں ہوئی ہوں ۔۔۔۔۔ان تمام اشاریوں کو ملا کر جب ہم دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست مرتب کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ ہمیں کوئی نہیں ہرا سکے گا ۔ میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ اس تھنک ٹینک کی ساکھ بنانے کے لئے ضرور ی ہے کہ اسے کسی مغربی ملک میں رجسٹر کروایا جائے  تاکہ کل کو کوئی اس کے اعداد و شمار پر انگلی نہ اٹھا سکے ۔ اس مقصد کے لئے میں بہت جلد یور پ یا امریکہ کا ویزہ اپلائی کرو ں گا ، مجھے امید ہے کہ یہ ممالک اپنی آزادی اظہار کی پالیسی کا خیال کرتے ہوئے مجھے ترجیحی بنیادوں پر ویزا جاری کریں  گے ۔ برادران ملت میں سے اگر کسی کے پاس  جلد ویزا لگوانے کا نسخہ ہو تو مجھے بتا کر ثواب دارین حاصل کریں !

نوٹ: گزشتہ کالم ’’ہمارا ’دو ٹوک ‘ نصاب ‘ ‘پر کچھ دوستوں نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ جن قاعدوں کی میں نے کالم میں مثال دی اُن کا ذکر انہوں نے کبھی سنا نہ پڑھا ۔ اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ مثالیں شاہد صدیقی صاحب کے ایک مضمون Education, Inequalities, and Freedomسے لی گئی تھیں جو انہوں کے حوالہ جات کے ساتھ لکھا تھا ۔

 


Comments

FB Login Required - comments