کراچی پر ایک اچھوتے زاویے سے کیمرہ۔۔۔ ماہ میر


Rizwan Saleemiسرمد صہبائی کی تحریر اور انجم شہزاد کی ہدایتکاری میں بنی فلم ماہ میر دیکھنے کا اتفاق ہوا، ایک انگریزی اخبار میں تجزیہ پڑھ چکا تھا اس لئے کچھ زیادہ امید لے کر سنیما نہیں گیا تھا، لیکن جوں جوں فلم آگے بڑھتی گئی، وہ تجزیہ بھی ذہن سے نکلتا گیا۔

فلم کے بارے میں بہت سی باتیں بہت ہی صحیح ہیں، اچھی فلم کا کمال دیکھیں کہ مجھ جیسا انسان جسے شاعری کی الف ب بھی پتہ نہیں، اس کو بھی ڈھائی گھنٹہ ایسی فلم نے نہ صرف بٹھاۓ رکھا جو کہ شاعری اور میر کے بارے میں ہے بلکہ بور بھی نہیں ہونے دیا۔ لیکن فلم صرف میر کے بارے میں نہیں ہے، میر تو جنون، وحشت اور کئی جذبات اور احساسات کو ایکسپلور کرنے کا وسیلہ بنا فلم میں۔

کہانی بہت ہی سادہ، اور بہت ہی عمدہ ہے، پلاٹ اور کرداروں کے لحاظ سے فلم سمجھنی مشکل نہیں لیکن کچھ ڈائیلاگ ہم عام عوام کی فہم سے کافی اوپر کے ہیں، انگریزی سب ٹائیٹل نہ ہوتے تو کئی ڈائیلاگ نا سمجھ پاتا میں۔ سرمد صہبائی صاحب اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ جب پروڈیوسرز ان کے پاس یہ گزارش لے کر آئے کہ وہ یہ فلم لکھیں تو انہوں نے پروڈیوسرز کو منع کیا کہ یہ فلم کبھی نہ بنانا، یہ کبھی نہیں چلے گی، لیکن سرمد صہبائی کے مطابق بہت منع کرنے کے باوجود بھی فلم ساز باز نہ آئے اور کہنے لگے کہ نہیں چلے گی تو نہ سہی، ہم گھر بیٹھ کر ٹی وی پر دیکھ لیں گے۔

بات تو سرمد صہبائی کی ٹھیک تھی لیکن صرف یہ سوچنا کہ ماہ میر جیسی فلم بنانی ہے اور پھر یہ فلم بنا ڈالنا ہی پروڈیوسرز اور ساری ٹیم کو داد دینے کے لئے کافی ہے۔

mahسب سے زیادہ متاثر کرنے والا جزو ڈی او پی کا کام ہے، کراچی کو اس نظر سے آج تک کسی کیمرے نے نہیں دیکھا، کراچی میں پروڈیوس ہونے والے ڈراموں کے کیمرے تو اتنے شرمیلے ہیں کہ وہ مڈل کلاس اور ایلیٹ گھروں کے ٹی وی لاؤنجز میں ہونے والی ساس بہو کی تکرار کو ہی قید کرتے رہتے ہیں۔

اکیسویں صدی کے میر کو جس طرح شہر کراچی کی رونق میں اجاگر کیا ہے، اس کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ ستّر کی دہائی کے بعد کافی ادبی جگہیں کراچی کے صدر جیسے علاقے میں گمنام ہوگئیں اور ساتھ ہی ساتھ کئی جمال بھی دفن ہوگئے تھے۔ ان علاقوں کی کسمپرسی اور ہلچل کو اس خوبصورتی سے کیمرا مین نے فلم بینوں کو دکھایا ہے کے آپ داد دئے بنا نہیں رہ سکتے۔

کراچی کے ہجوم اور اس کی بے ترتیبی کو آرٹ کی نظر سے شاید پہلی دفعہ کسی نے دیکھا اور فلمایا ہے ورنہ کراچی کو یا تو بس فیک بھائی لوگوں کا شہر دکھایا جاتا ہے یا دہشتگردوں کا مسکن۔ سمندر کے سقوط سے لے کر اس کی لہروں کی حرکت کا کہانی سے بہت ہی خوبصورت انداز سے ربط پیدا کیا گیا۔ چاند کو بھی بہت ہی عمدہ طریقے سے بیانیہ کا حصہ بنایا گیا۔ کبھی یہ کیمرہ ہمیں امیروں کے محلوں کی سیر کراتا ہے اور کبھی جمال کے بوسیدہ حال فلیٹ کی، کبھی شہر کی بل کھاتی اور ایک دوسرے سے الجھتی سڑکیں اس کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں اور کبھی تنگ گلیوں میں کھیلتے بچے۔ کھڑکیوں اور کچے مکان کی چھتوں پر ملتی محبتیں اب سنیما میں عنقا ہوگئی ہیں لیکن انجم شہزاد نے ماضی اور مستقبل کو ایسے پرویا ہے کہ جیسے دیکھنے والے کی کہانی سے پرانی جان پہچان ہو۔

mah2

کہانی اتنی ہی سادہ ہے جتنی گہری اور پیچیدہ، جمال کے پاگل پن اور بے پرواہی کا میر کی خود اعتمادی یا نیم غرور سے بہت عمدہ تقابل کیا گیا ہے۔ جمال اور میر اپنے اپنے دور کی ٹائم لائین پر کہانی کو بہترین طریقے سے آگے بڑھاتے ہیں۔ نینا کنول کا کردار اپنے دور کے کئی لکھاریوں کا عکاس ہے۔ منظر صہبائی صاحب کا کردار بھی بہت جامع ہے، اس کردار کو شاعری کی کئی باریکیوں پر عبور حاصل ہے لیکن شاید زندگی اور اس سے جڑے رشتے ان کے لئے بھی اتنے ہی گھمبیر ہیں۔ فہد مصطفیٰ سے مجھے اتنے عمدہ کام کی امید نہیں تھی، فہد کا کام بہت ہی اچھا ہے، ایمان علی نے اپنے کردار سے پورا انصاف کیا، لیکن رقص میں وہ بات نہ تھی جس کی امید تھی۔ صنم سعید کا کردار آج کے کئی مصنفوں کا ترجمان ہے، جن کی ادب کی خدمت محض اپنے مقبول ڈراموں اورڈائجسٹ ناولوں کے ذریعے کئی لوگوں کو دیے گئے روزگار کے سوا کچھ نہیں، صنم سعید نے بھی کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ رانا کامران جو کہ فلم کے ڈی او پی ہیں انہوں نے فلم کو چار چاند لگا دئے، کراچی کے ہر رخ اور کلاس کو بہت ہی عمدگی سے فلمایا گیا ہے۔

آپ کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والا مزاحیہ ڈرامہ فیملی فرنٹ تو یاد ہو گا، اس میں بوبی کا کردار جس اداکار نے نبھایا وہ صاحب انجم شہزاد ہیں، جو کہ ماہِ میر کے ہدایتکار ہیں، ایسی فلم بنانے کا ارادہ کرنے اور پھر اس بنانے پر انجم شہزاد کو جتنی داد دی جاۓ کم ہے۔

مڈل کلاس کے بچے بچیاں موبائیل پر شعر وشاعری بھیجتے ہیں، یہ نئے دور کا معاشرتی عمل ہے، لیکن اس بظاہر سطحی سے عمل میں میر کی شاعری کے ذریعے رومانوی عنصر کو تقویت دینا اس فلم کا کارنامہ ہے۔

mah-e-meer-bts-3فلم کی موسیقی بہت عمدہ ہے، کلاسیکل میوزک کا استعمال فطری تھا، لیکن بلا وجہ کوئی بھی گانا کہانی اور پلاٹ پر تھوپا نہیں گیا۔ موسیقی شاہی حسن نے دی ہے جو کہ وائٹل سائینز کے سابقہ رکن ہیں، شاہی حسن نے جاگ مسافر کی موسیقی کو بہت ہی عمدہ ترتیب دیا ہے، صوفی اور رومانوی جذبات کو اس قوالی میں بہت ہی عمدگی سے پرویا گیا ہے۔

فلم کی تنقید میں کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم بہت لمبی ہے، اور اکثر سینز کو ضرورت سے زیادہ طول دیا گیا ہے، اس بات میں کچھ حقیقت ضرور ہے، جیسا کہ نین کنول اور جمال کا سمندر کنارے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہونے والا مکالمہ کچھ مختصر کیا جا سکتا تھا، لیکن اکثر سینز میں مکالمے کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے فلم کا دورانیہ زیادہ ہو گیا۔

فلم کو دیکھنے کی وجوہات کئی ہیں لیکن نہ دیکھنے کی بہت کم، اگر آپ کو ادب یا فنون لطیفہ سے ذرا سی بھی دلچسپی ہے تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔ لیکن اگر آپ کوئی

فارمولا کمرشل فلم دیکھنے کی نیت رکھتے ہیں تو یہ فلم آپ کے کئے بالکل نہیں ہے۔

آنے والا زمانہ اور تاریخ اس فلم کے ساتھ بہت نرمی سے پیش آئیں گے، آج سے 50 سال بعد بھی کوئی یہ فلم دیکھے گا تو اسے رد نہ کر سکے گا۔ اس عمل کو نصیرالدین شاہ صاحب standing the test of time  کہتے ہیں۔

امید ہے کہ اور بھی پاکستانی فلم ساز ایسی فلمیں بنانے کی ہمت کرتے رہیں گے۔

 


Comments

FB Login Required - comments