قادیانی مقتول کی تعزیت کا غیرشرعی مسئلہ


\"usmanاٹک میں ایک احمدی ڈاکٹر کو قتل کر دیا گیا۔

عموماً جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے لیے تعزیت کی جاتی ہے مگر میں ایک پاکستانی مسلمان ہوں، ہم لوگ احمدیوں کے مرنے پر تعزیت اور مذمت نہیں کرتے۔

اب تعزیت اورمذمت کی روایت بھی نبھانا ہے اور پاکستانی مسلمان کا ظرف بھی قائم رکھنا ہے، اس کے لیے میں گھنٹوں تک سوچتارہاکہ کیا تیر چلاؤں ، ایک جملہ سمجھ میں آیا ہے۔

قادیانی کائنات کا غلیظ ترین کافر ہے اور اٹک میں اس کافر کو جہنم واصل کردیا گیا، سبحان اللہ۔

مگر کیا یہ تعزیت یا مذمت ہے یا قتل کا جواز؟ تعزیت اور مذمت کا مقصد تو مقتول کے لواحقین سے ہمدردی اور اس کےقتل کو ظلم قرار دینا ہوتا ہے۔

مجھے پاکستانی مسلمانوں کی بے چینی کا علم ہے، ہم اٹک میں قادیانی کے قتل کے بعد ایک مشکل میں اٹک گئے ہیں، اس سے پہلے کہ میں اس قومی مسئلے کے مزید حل پیش کروں، ایک واقعہ سناتا ہوں۔

صحافت کے ابتدائی دن تھے، رمضان کا مہینہ تھا، افطار کے لیے جگہ جگہ دعوت ملتی تو تعلقات استوار کرنے کے لیے جانا ہوتا تھا، ایسے ہی ایک فون کال آئی، جگہ قریب تھی، میں نے یہ تحقیق تک نہ کی کہ یہ کون لوگ ہیں اور ملنے پہنچ گیا، وہ احمدی لوگ تھے اور بہت سارے صحافیوں کو بلایا تھا۔

گفتگو شروع ہوئی تو وہ صحافی جو باریش اور سخت گیر مذہبی تھے، ایسے مسکرا مسکرا کر پکوڑوں پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے محبت بھری گفتگو کررہے تھے کہ میں حیران رہ گیا، مجھ سے گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ عقیدے کی بنیادوں پر میں تقسیم کا قائل نہیں، پاکستانی قانون کی رو سے آپ مسلمان نہیں ہیں اور بطور پاکستانی میں یہ مانتا ہوں۔

میں نے کہا کہ اسلام کی رو سے کیا معاملہ ہے، یہ میں جانتا نہیں اور نہ جاننے میں دلچسپی ہے مگر آپ کا عقیدہ جو بھی ہے، میں آپ سے نفرت نہیں کرتا۔

یہ سن کر ایک بابا اٹھے اور مجھے گلے لگایا اور کہنے لگے کہ بیٹا تم نے بہت صاف بات کی، اس میں منافقت نہیں ہے، انہوں نے مجھے جس جوش سے جھپی دی، مجھے ان کی محبت یاد رہے گی۔

بہرحال کچھ دنوں بعد مجھے کراچی پریس کلب میں اسی مجلس میں موجود ایک احمدی نظرآئے، وہ مجھے دیکھ کر چونکے، میں نے انہیں دیکھ کر پہلو بدلا، نگاہیں چار ہوئیں تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور مجھے کونے میں لے گئے، وہ صاحب ایک اخبار میں سب ایڈیٹر تھے۔

مجھ سے کہنے لگے کہ خدارا یہاں کسی کو نہیں بتایئے گا کہ میں قادیانی ہوں ، مجھے اور میرے بچوں کو کوئی مار کر تھانے چلا جائے گا اور اسے سزا بھی نہیں ہوگی۔

میں نے ان صاحب کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا مگر ان کے لہجے کی بیچارگی، خوف، عدم تحفظ کا احساس اور چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے مجھ سے بات کرنا میرے وجود کو کاٹ سا گیا، وہ عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھےاور ملتجیانہ لہجے میں مجھ سے ایسے مخاطب تھے جیسے وہ دوسرے درجے کے شہری ہوں اور میں کوئی بااختیار شخص جو ان کو جینے کا حق دے گا۔

اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ قادیانیوں کو کس قسم کے خوف کا سامنا ہوتا ہے، ان کی لڑکیوں کے ساتھ ریپ ہوجاتے ہیں تو یہ شکایت تک درج نہیں کرا سکتے، یہ عجیب گھٹن میں زندگی گزار رہے ہیں۔

لندن میں مقیم عالمی مبلغ ختم نبوت کے مولانا سہیل باوا سے میری اچھی دوستی ہے، مغربی ممالک میں احمدیوں کودعوت دینے کے حوالے سے ان کا کردار کافی اہم ہے، روشن خیال بھی ہیں، میں یہ سب باتیں انہیں بتاتا ہوں تو اچھی خاصی بحث بھی ہوجاتی ہے ۔

گزشتہ دنوں میں نے ان سے کچھ درخواستیں کیں، میں نے کہا کہ آپ لوگ قادیانیوں کو غیرمسلم کہتے ہیں اور مہم بھی چلاتے ہیں، آپ کا مقصد ان سب کو مسلمان کرنا ہے تو ان کا دل کیوں نہیں جیت لیتے، پاکستان میں ان پر جو معاشرتی جبر ہے، اس کے خلاف عالمی مجلس ختم نبوت مہم چلائے اور ان کے دلوں کو جیت لے، آپ عقیدے کے خلاف ہو کہ انسانیت کے؟

مولاناسہیل باوا ایک انتہائی معقول عالم دین ہیں، وہ میرے مؤقف کے بیشترنکات سے اتفاق بھی کرتے ہیں تاہم روایتوں کے بندھن کا بوجھ تو شاید ان پر بھی ہے!!

خیر ہم اٹک کے قادیانی ڈاکٹر کی تعزیت اورمذمت کے موضوع پر دوبارہ آتے ہیں۔

اگر آپ کا اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کی مغفرت کی دعا کریں تو ٹھیک ہے، ہم بیچ کا راستہ نکال لیتے ہیں، آپ معاشرتی ہمدردی کا اظہار توکرسکتے ہیں نا!

کیا ضروری ہے کہ ہمیشہ نفرت کے ساتھ ایک قادیانی کا ذکر کرنا، عقیدہ ہی تو مختلف ہے۔

اٹک میں قتل ہونے والے قادیانی کے بچے یتیم ہوئے ہیں، وہ ظلم کا شکارہوا ہے، کیا ہوا کہ وہ ایک قادیانی ہے، وہ آپ کی طرح ایک انسان بھی تو ہے۔

ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اس قتل کی مذمت کریں، ایک لمحے کے لیے عقیدے کو ایک جانب رکھ کر اس بات پر غور کریں کہ وہ جو لہو بہادیا گیا، اس کا رنگ بھی وہی ہے، جو ہماری رگوں میں شرارے بن کردوڑرہا ہے۔

میں اٹک میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حمید احمد کی قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور لواحقین سے اظہارہمدردی کرتا ہوں۔

کیا آپ بھی ایسا کرسکتے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “قادیانی مقتول کی تعزیت کا غیرشرعی مسئلہ

  • 05-06-2016 at 10:59 pm
    Permalink

    سعادت حسن منٹو ایک افسانہ کی شروعات یوں کرتے ہیں.
    ” یہ مت کہو کہ ایک لاکھ مسلمان مارے گئے. یہ مت کہو کہ ایک لاکھ ہندو مارے گئے بلکہ یوں کہو کہ دو لاکھ انسان مارے گئے.”
    اسلام میں فرد واحد کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے.

  • 05-06-2016 at 11:10 pm
    Permalink

    Main ap k sath hun. Ahmadi loog b usi tara achy or sachy muslims hain jitna her koi apny ap ko acha or sacha muslim manta hy. Ap ki tehreer waqaie he pasand i hy. Wesy b agar ham ny taraqi kerni hy to ham ko muslim or kafir ka lafz mitna ho ga. Her koi apni jaga acha or theak hy. Sb loog rab ki he ebadat kerny waly hain. Sach main pakistan main un k ley problms he problms hain or shaeed esi waja sy pakistan pori dunia k samny din ba din tabah he ho raha hy

  • 06-06-2016 at 8:42 am
    Permalink

    Agar Pakistan k arbaabi iktidaar ore zalim mullah apni harkatton say baaz nahi aatey hain toa wo waqt dhoor nahi ki Pakistan duniya k nakshey say mit jayega.Issliyea jitna jaldhi hosakay Pakistan ko sudharna hoga……

Comments are closed.