محمد علی، ابرار اور حمید ۔۔۔ میرے حصے کے غم۔۔۔


zeeshan hashimسنئے کل سارا دن آپ مصروف تھے۔ عظیم محمد علی کا غم مناتے رہے۔ یقینا وہ ہیرو تھا، آپ کا بھی اور سارا مغربی میڈیا بھی کل سے اس کے غم میں نڈھال ہے۔ مغربی لبرلز بھی بہت پرجوش ہیں کہ دیکھیں وہ انٹی وار تھا، انسان دوست تھا، اس نے ریاست کی آمریت کے سامنے کھل کر اپنی شخصی آزادی کا تحفظ کیا اس نے کہا میں ریاست کا غلام نہیں بلکہ ایک آزاد شہری ہوں۔ اخبار دی ڈیلی بیسٹ نے لکھا “Muhammad Ali: America’s First Muslim Hero” محمد علی امریکہ کا پہلا مسلم ہیرو ….ایک دوسرے اخبار نے لکھا ” محمد علی اسلام کا خوبصورت چہرہ Muhammad Ali: The beautiful face of Islam

یقینا محمد علی اس قابل تھا کہ اس کا غم منانا چاہئے۔ مگر کچھ اور سانحات بھی ہیں جن سے متعلق آپ کی توجہ دلانا خاکسار ضروری سمجھتا ہے-

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے۔

13349040_1368911319793023_590612965_nآپ یہ تصویردیکھ رہے ہیں؟ اس تصویر میں محمد علی کے ساتھ جو فرد ہے اس کا نام ابرار حسین ہے۔ یہ بھی پاکستان کا محمد علی تھا۔ یہ بھی باکسر تھا۔ اس نے پاکستان کی تین اولمپک کھیلوں میں نمائندگی کی، 1985 میں سائوتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل لیا اور 1990 میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل لیا۔ محمد علی کو تو قوم نے تسلیم کیا۔ نسلی تعصب کو شکست اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ جب اس نے وفات پائی تو وائٹ ہاؤس میں ایک بلیک صدر بیٹھا تھا جو امریکیوں کے لئے بہترین صدر ثابت ہو رہا ہے۔ مگر ہمارے محمد علی یعنی ابرار حسین کو فرقہ وارانہ اختلاف کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا۔ اور اس کے ہم مسلک لوگ آج بھی پاکستان میں قتل ہو رہے ہیں۔ قتل ہیں کہ رک ہی نہیں رہے اور ایسی بے حسی اور سناٹا ہے کہ کچھ سنائی نہیں دے رہا۔

یہ دوسری تصویر جس فرد کی ہے وہ مذہب کے اعتبار سے ایک احمدی تھا، نام اس کا حمید احمد تھا اور یہ ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھا- جب آپ محمد علی کے غم میں ڈوبے ہوئے تھے تو اس وقت اٹک میں حمید احمد کے اہل خانہ اس کے غم میں نڈھال تھے۔ حمید احمد کو فائرنگ سے قتل کر دیا گیا، یہ کسی احمدی کا پہلا قتل نہیں تھا، حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک احمدی اور شیعہ نسل کشی میں بدترین ملک بن چکا ہے۔

13401170_1368911316459690_879053802_nآپ احمدیوں کو ریاست کے فتویٰ سے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج کروا چکے ہو، اور کیا چاہتے ہو ؟ محمد علی جب مذہبی بنیادوں پر ریاست سے ٹکرا گیا تھا تو اس وقت امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم تھی۔ میرے دوستو، ان مظلوموں کا کیا ہو گا جو پاکستان میں فرقہ واریت کے سبب دن رات قتل ہو رہے ہیں۔ ہر دو تین ماہ بعد ایک ایسی لاش ہم اٹھا رہے ہیں جو کسی انسانی حقوق کے کارکن کی ہوتی ہے۔ اسی ہزار سے زائد لاشیں ہم مذہب کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگ میں اٹھا چکے ہیں۔

کب تک آخر ہم اپنے ہیروز کو پوجتے رہیں گے مگر رواداری اور انسان دوستی کی حمایت سے کوسوں دور رہیں گے؟ ہمیں اپنا اور اپنے سماج کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ آخر کتنے محمد علی یہاں فرقہ وارانہ فسادات میں زندگی کے بنیادی حق سے محروم کر دیئے گئے؟ ذرا سوچئے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 98 posts and counting.See all posts by zeeshan