آؤ شہرزاد سے الف لیلہ سنیں


حالات بےیقینی کا شکار ہو جائیں، خوب، ناخوب ٹھہرے اور تکبر انسانی عظمت کی معراج قرار پائے، تو پریشاں ذہن انسان داستانوں، ادب پاروں اور شعری نغموں میں پناہ لیتا ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے پچھلے دنوں طلعتؔ فاروق کے دو شعری مجموعے موصول ہوئے۔

ایک ’تتلی کے رنگ ہزار‘ اور دوسرا ’شہر زاد‘۔ میں اُنہیں پڑھنے بیٹھ گیا، تو حیرتوں میں ڈوبتا گیا۔ اُن کی شاعری میں جرأتِ اظہار، شدتِ احساس، رفعتِ خیال اور ندرتِ بیان کی فراوانی ہے اور وہ بالکل ہی ایک منفرد آواز محسوس ہوئی۔ شہرزاد میں اُن کی ایک غزل کے چند اشعار نظر سے گزرے ؎

نوحہ گر کو اور بھی تو کام ہیں

دم نکلتا ہی نہیں اب کیا کریں

آگ لگتی ہی نہیں خاشاک میں

باغ جلتا ہی نہیں اب کیا کریں

سامنے منزل ہے اور چلتا قدم

تھک کے رُکتا ہی نہیں اب کیا کریں

نیند سے جاگا تو ہے پر طفلِ نفس

آنکھ مَلتا ہی نہیں اب کیا کریں

پھر الف لیلہ سناؤ شہرزاد!

وقت ٹلتا ہی نہیں اب کیا کریں

اِس غزل سے دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی اور گرد و پیش میں بکھرے قصے اور افسانے لَو دینے لگے۔ تب میں نے تتلی کے رنگ ہزار میں شاعرہ کا پیش لفظ پڑھا اور مجھے اپنے اندر توانائی کے اضافے کا احساس ہوا کہ ہمارے ہاں کیسے کیسے اولوالعزم لوگ موجود ہیں جو ذات کے گنبد سے نکل کر کائنات کی وسعتیں اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ طلعت فاروق لکھتی ہیں:

’’آج میری اُڑان کا محرک نہ تو غمِ ماضی ہے اور نہ ہی غمِ روزگار۔ اِس اُڑان کی محرک ہے خواہشِ تکمیل ذات اور تکمیل ذات کے مراحل طے کرنے میں میری معاون ومددگار ہیں وہ دعائیں جو اُن ٹوٹے ہوئے دلوں سے نکلتی ہیں جنہیں معاشرے نے فالتو سمجھ کر نظرانداز کر رکھا ہے۔

یہ اِسی دردِدل کی کرامت ہے کہ ٹیس دوسروں کے دل میں اُٹھتی ہے اور چھن کی آواز میرے سینے سے آتی ہے۔ اِس مقام تک آتے آتے میں نے جھوٹی روایات، منافقت اور مصلحت کا صاف شفاف دوپٹہ سر سے اُتار پھینکا ہے۔ اب کسی زاہد کا وعظ، کسی محتسب کا احتساب، کسی مُلا کا فتویٰ، کسی پرہیزگار کی ملامت مجھ تک نہیں پہنچ سکتی۔ تتلی کی اُڑان اِن سب سے بالاتر ہے۔‘‘

اِس پیش لفظ میں شاعرہ نے اپنا مافی الضمیر بڑی جرأت اور شاعرانہ لطافت کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور اپنے شعروں میں صدیوں پر محیط اِس جستجو کا جواب بھی فراہم کر دیا ہے کہ میں کیا ہوں۔؎

کس کی تخلیق میں نہاں ہوں میں؟

کس مصنف کی داستاں ہوں میں؟

میری ہستی ترا جلال و جمال

ہجر ہوں، وصلِ دوستاں ہوں میں

حسن کا نقطۂ عروج ہے تو

عشق کا اوّلیں نشاں ہوں میں

شاعرہ اعتمادِ ذات کی اعلیٰ جذبوں سے سرشار ہے اور فنا کی منزلوں کو حیاتِ جاوداں تک طے کرنے کا عزم رکھتی ہے۔؎

کبھی ذرہ کبھی موجِ رواں ہے

حقیقت ہے نہاں گرچہ عیاں ہے

جہاں تخلیق و خالق ہم زباں ہیں

وہاں ہر جنبشِ لب کن فکاں ہے

منازل در منازل ہیں سفر میں

سفر منزل ہے، منزل کارواں ہے

میں ہست و بود کے بس میں نہیں ہوں

مرے بس میں حیاتِ جاوداں ہے

طلعت کی شاعری کے موضوعات میں بڑا خیال افروز تنوع، حیرت انگیز وسعت اور غیرمعمولی انفرادیت پائی جاتی ہے۔ بلا کی روانی اور نغمگی کے ساتھ ساتھ گہری معنویت اور یقین کی صداقت کا پرتو جابجا محسوس ہوتا ہے۔ شاعرہ کے سیاسی اور تاریخی شعور نے پاکستان اور عالمی سطح پر پیش آنے والے بلاخیز واقعات کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔

American Forces Enter Karbalaسے لے کر کارگل کے شہید، لبنان کے آنسو، Bush Comes to Pakistan، وکلاء تحریک، PCOاور حلف، Global War on Terror، Courage Under Fireجیسے موضوعات شاعری کی زباں میں عجب لطف دیتے اور ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔جب امریکی فوجیں کربلا میں داخل ہوئیں، تو طلعت نے مژدہ سنایا؎

پیاس کوثر سے بجھا کرتی ہے

تشنگی پانی کی محتاج نہیں

اور کچھ دیر سہی کرب و بلا

اور کچھ روز یہ ویرانہ سہی

وصل کی صبح معین، طلعتؔ

ہجر کی شام غریبانہ سہی

قافلہ پھر بھی اُسی دھج سے رواں

راہروِ شوق کفن باندھ چلا

اور مجھے جس نظم نے سب سے زیادہ متاثر کیا اور جسے میں حیاتِ نو کا پیغام سمجھتا ہوں، وہ طلعت صاحبہ نے اپنے بیٹے سعد کی چودھویں سالگرہ پر کہی تھی۔ اِس طویل نظم کے دو بند اس اعلیٰ نصب العین کی وضاحت کرتے ہیں جو شاعرہ کو جان سے زیادہ عزیز ہے ؎

شاہی دربار کے مردانِ ہنر

سامری جیسے کئی جادوگر

یہاں جائز نہیں تسلیم و رضا

لے کے ہاتھوں میں کلیمی کی عصا

بےنیازانہ گزر جایا کر!

تجھ سے پوچھیں جو کبھی تیرا نشاں

ان پہ یوں تیری حقیقت ہو عیاں

’میں ہوں اِس بارِ امانت کا امیں

جس کی تفسیر بجز عشق ہو؟

ممکن ہی نہیں

وہ امانت جو پہاڑوں سے اٹھائی نہ گئی

جس کی تفصیل بتائی نہ گئی

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں