عقل اور عقیدہ۔۔۔ سوچنا تو پڑے گا


farhan khalid(1)آج کل چار کتابیں پڑھ کر علمیت جھاڑنے کی بات ہو رہی ہے۔ دوسری طرف شکایت ہے کہ چار کتابیں بھی کون پڑھتا ہے۔ یار لوگ ایک ہی کتاب کو سمجھنے یا نہ سمجھنے میں عمر گزار دیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں مکالمہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فریقین کی سوچ میں اتنی خلیج پیدا ہو گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سننے کو بھی تیار نہیں۔ صرف کیچڑ اچھالنے، لیبل چسپاں کرنے اور سوچ کو ازموں میں بانٹنے کا کام ہو رہا ہے۔ یہ معاشرے کی فکری صحت کے لئے خوش آئند بات نہیں۔

عقل اور عقیدے کے درمیان توازن کی ضرورت ہے۔ ہم یہ کام اپنے دماغ سے لے سکتے ہیں، جو سائنسی اور مذہبی دونوں انداز میں سوچ سکتا ہے۔ دماغ کو دو خانوں میں بانٹ لیا جائے، ایک میں عقل اور دوسرے میں عقیدے کو رکھ لیا جائے۔ دونوں کو گڈ مڈ کئے بغیر دنیا کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے۔ عقل کو دنگ کیا جائے، عقیدے کو عجز دیا جائے۔ انسانی حدوں کو عقل سے ناپا جائے، اس سے ماورا جو خلا ہے اسے عقیدے سے بھرا جائے۔ پھر جو عظیم جنگ لڑنی ہے ذہن میں لڑی جائے، جو جہاد کرنا ہے نفس سے کیا جائے۔ ایک ایسے متوازن اور مکمل دماغ کا حامل انسان دوسرے کے مقابلے میں انتہا پسند نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ دوسری انتہا بھی خود اسی میں سمائی ہوئی ہوگی۔ یوں معاشرے میں ایک دوسرے کو سمجھنے کا عمل تیز ہوگا اور شمولیت پسندی کا رویہ فروغ پاۓ گا۔

ہر وہ شے جو آپ کو ایک انتہا کی طرف لے جائے جہالت ہے، گمراہی ہے۔ ہر وہ کاوش جو انتہاؤں میں توازن رکھے دانش ہے، اعتدال ہے۔ پھر کوئی یہ نہ کہے کہ میری سائنس یا میرے مطالعے کے مطابق خدا نہیں ہے؛ یا یہ نہ کہے کہ میرے عقیدے کی رو سے خدا صرف ایک ہے، اس لئے باقی ایک یا سارے خدا جھوٹے ہیں۔ بلکہ وہ یہ کہے کہ میری سائنس کے مطابق تحقیق کا دروازہ کھلا ہے، میری خواہشات آفاقی اصولوں کو متاثر نہیں کر سکتیں؛ اور یہ کہے کہ اگر خدا ایک ہے تو پھر سب کا خدا وہی ہے؛ اس کے نہ ہونے کے نعرے کی توجیہ بھی اس طرح ہو سکتی ہے کہ ہم اسے انسانی پیمانے سے ناپ ہی نہیں سکتے، اگر دیوتا انسانی خطوط پر بنائے جائیں تو غلطیاں بھی انسانوں والی ہی کریں گے۔

farhan1سوال یہ ہے کہ ایسا دماغ کیسے تشکیل دیا جائے۔ انسان پیدائشی طور پر متجسس واقع ہوا ہے۔ تجسس سوال پیدا کرتا ہے۔ سوال تحقیق پر اکساتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج نئے سوال پیدا کرتے ہیں، نئی تحقیق ہوتی ہے۔ ایک طرف فکر سے فکر نکلتی ہے دوسری طرف سچائی پالش ہو کر مزید نکھرتی ہے۔ مگر انسان صرف تجزیے پر زندہ نہیں رہ سکتا، اسے تزکیہ بھی چاہیے۔ جہاں دماغ کا عقلی حصہ کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہیں تخلیقی حصہ نئی دنیائیں تعمیر کرنے میں لگ جاتا ہے۔ یوں حقیقتوں کو ڈھونڈنے اور انھیں مفہوم دینے کا عمل جاری رہتا ہے۔

ایسے دماغ کو بننے سے روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی ایک انتہا میں الجھا دیا جائے۔ اسے بتا دیا جائے کہ سچائی طے ہے، اس سے ہٹ کر کچھ نہیں۔ سوال اٹھنے سے پہلے منہ میں جواب ٹھونس دیا جائے۔ مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے حل سامنے رکھ دیا جائے۔ ایک انتہا کو دوسرے کا غلام بنا دیا جائے۔ اگر کوئی حد سے بڑھے تو روایت کو خطرے کا الارم بجا دیا جائے۔ پروپگنڈے سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کیا جائے۔ سچائی کو یوں قید کرنے کا رویہ اسے منجمد بنا دیتا ہے ۔ سچائی تو گھٹن سے مر جاتی ہے مگر اس کے نام پر کاروبار پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ فکری آزادی کو سلب کر لیا جاتا ہے۔ بہترین دماغ اس جبر، خوف اور تشدد کی فضا کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔ پسماندگان سازشی نظریات بنتے رهتے ہیں اور کاروباری خوب نفع کماتے ہیں۔

farhan2لوگوں کو سوچنے کی آزادی دی جائے۔ جواب پہلے ہی میسر ہوں تو سوال کہاں سے ہوگا۔ سوال نہیں ہوگا تو سوچنے کا عمل کیسے پیدا ہوگا۔ سچ کیا ہے لوگوں کو ڈھونڈنے دیا جائے۔ سچ کی برف کو پگھلنے دیا جائے۔ وہ پانی میں بدل جائے یا بھاپ میں، وہ موجود رہے گا۔ اسے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ دل سے نکلے یا دماغ سے، کعبے سے ملے یا کلیسا سے، آسمان میں ہو یا زمین میں، مغرب میں پایا جائے یا مشرق میں ۔۔۔ سچ کو بطور سچ قبول کیا جائے۔ ایک تیار شدہ سچ کی فیکٹری نہ کھولی جائے۔ اتنا شک رکھا جائے کہ سچ کے سراب ہونے سے بچا جا سکے۔ سچ تک پہنچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ شک سے تمام جھوٹوں کا صفایا کیا جائے۔ کیونکہ سچ سے دور رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جو ہے اسے ہی سچ مان لیا جائے۔ بیج کو فنا ہونا پڑے گا تبھی درخت جنم لے سکے گا۔

ہمیں اب اس مکمل دماغ کی ضرورت ہے جو عقل اور عقیدے کی انتہاؤں کو خود میں سموئے، ان کے درمیان توازن پیدا کرے اور پھر مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کرے۔ صرف ایک انتہا کی طرف ڈھلک کر دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں توانائی صرف نہ کرے۔ مگر فیصلے ہمیں جلد کرنے ہوں گے: ہمیں مذھب کے نام پر ہم آہنگی اور اصلاح چاہیے یا نفرت اور بربریت ۔ ہمیں ترقی پسندی کے نام پر انصاف اور میرٹ چاہیے یا استحصال اور طبقاتی جنگ۔ ہم گلے لگانے والے بنیں یا گلے کاٹنے والے۔ ہم اپنے دماغ سے سوچنا شروع کر دیں یا دوسروں کی امداد ہی پر تکیہ کریں۔ ہم چھوٹے اختلافات کا حل مذاکرات کی میز پر نکال لیں یا انہیں بڑی دہشت میں تبدیل ہونے دیں۔ ہم کثیر مذہبی ماحول میں رہنا سیکھیں یا ایک ہی عقیدہ میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے محفوظ نہ ہوں۔۔۔ فیصلے کا اختیار ہمارے پاس ہے۔

ہمیں سوچنا پڑے گا ۔عقل اور عقیدے کو مل کر سوچنا پڑے گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments