عورتوں پر ظلم ، ماضی اور حال


وجود زن سے ہے کائنات کا رنگ ؟کیا واقعی عورت : ایثار کا پیکر، وفا کی دیوی، کلیوں کا حسن، گلوں کی نگہت، پھولوں کی صبا حت، شبنم کی پا کیزگی، چاند کی نرم و سبک چاندنی، ستاروں کی چمک، حسین گلوں کی نزاکت، ان سب کو ملا کر عورت کا خمیر بنا اور پھر عورت زندگی کی بہار، ویرانوں کی رونق، کاشانوں کی زینت، اندھیرے دلوں کا اجالا، پریشان زیست کا سکون بنی، بڑی بڑی جا بر ہستیوں نے اس کا لوہا مانا، اس کو دل سے چاہا، اس کی عظمت و علمیت کا اعتراف کیا، اس کی زیرکی کو سراہا، اس کے تقدس کے آگے سرنگوں ہوئے، اس کو سر آنکھوں پر جگہہ دی۔ پھر عورت آرائش خانہ بنی، گھروں کا سنگھار کہلائی، شوہر نامدار کی جاں نثار، سر تا پامہر ومحبت، سلیقہ شر م و حیا کی دولت سے مالا مال عورت نے قرنوں تک اپنے فرائض منصبی کو ادا کرنا اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا، انہی مقاصد عا لیا کے وہ جیتی اور انہی کے لئے آسودہ خاک ہوئی۔

عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے بغیر عالم رنگ و بو کی رنگینیاں بے کیف، جس کی رفاقت کے بغیر مرد کبھی خو شگوار و پر سکون زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والی، ذخموں پر مرہم رکھنے والی، زیست کی الجھنوں کو سلجھانے والی جس کی تخلیق ہی محبت، وفا، جاں نثاری اور ہمدردی کیلئے ہوئی۔

عورت اور زرخیزی

پرانے دور میں عورت اور زمین کو زر خیزی سے تشبیہہ دی جاتی تھی۔ جو عورتیں اولاد کو پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ان کو بانجھ یعنی infertile کہا جاتا۔ ہمارے دور میں ایسے کلینک جہاں اولاد کی خواہش مند عورتیں علاج کیلئے جاتیں ان کو فر ٹیلٹی کلنک کہا جاتا ہے۔ ہندو دھرم میں عورت کو دیوی کا درجہ حاصل تھا اور دھرتی کو ماں کہا جاتا تھا۔ اسی لئے وطن کو انگلش میں مدر لینڈ کہا جاتا ہے۔ اورتواور کمپیوٹر میں پر نٹڈ سرکٹ بورڈ ، مدر بورڈmotherboardہوتا ہے جو اہم کمپو ننٹس کو آپس میں ملا تا جیسے سی پی یو، میموری ، ان پٹ اور آؤٹ پٹ ڈی وا سز۔عراق کے صدر صدام حسین نے 1992کی گلف وار کو مدر آف بیٹلز(ام المعارک ) کہا تھا۔ انسان کی مادری زبان کو مدر ٹنگ کہا جاتا ہے۔

عورت قدیم فلاسفروں کی نظر میں

اتنی ساری سنہری خوبیوں کے با وجود حقیقت یہ ہے کہ تاریخ عالم میں عورت پر ظلم کی داستاں سب سے زیادہ بھیانک اور درد ناک ہے۔ ابتدائے آفرینش سے لے کر اب سے چند سو سال قبل تک عورت کے ساتھ ہر قسم کا وحشیانہ سلوک روا رکھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ذلیل ترین برتاؤ کیا گیا ، مرد اس کی آغوش کو بے رحمی سے زخمی کر تا رہا جس میں وہ پرورش پا تا تھا۔ ابھی کچھ عرصے کی بات ہے کہ دنیا کے فلاسفر اور حکماء عورت کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ دنیا کی بد ترین لعنت ہے ۔ عورت گلشن کائنات میں ایسے کانٹے کی مانند ہے جس سے لوگوں کو اذیت پہنچتی ہے ۔ سقراط نے عورت کے متعلق کہا تھا کہ عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ میں نے جس مسئلہ پر غور و فکر کیا اس کو گہرائیوں تک آسانی سے پہنچ گیا لیکن آج تک میں عورت کی فطرت کو سمجھ نہیں سکا۔

پھر افلاطون نے کہا تھا کہ سانپ ڈسنے کا علاج توموجود ہے لیکن عورت کے شر کا علاج ممکن نہیں۔ اسلئے اگر ممکن ہو تو اس مجسمہ شر کو ذلت کے آخری غار میں دھکیل دیا جائے۔ چنانچہ یہ سقراط اور افلاطون کی تعلیم ہی کا نتیجہ تھا کہ قدیم یونان میں عورت کو بازاروں میں بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کیا جاتا تھا ۔ عورت کو سامان عیش سمجھا جاتا تھا یا پھر گھر کی ذلیل و کمترین خادمہ۔

یونان کے بعد روم کی سلطنت میں عورت کی حالت لونڈیوں سے بھی بر تر تھی کیونکہ اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ قصوروار عورت کو ہولناک سزا دی جاتی تھی ۔ سر بازار اس کی عصمت لٹنے کا تماشہ دیکھا جاتا تھا َ ۔ عورت کی حیثیت کا اندازہ اس بات بھی لگایا جا سکتا ہے کہ روسی مفکرین میں کئی سال تک یہ بحث چلتی رہی کہ عورت کیا انسان بھی ہے یا نہیں؟ چنانچہ ایک کانفرنس منعقد کی گئی اور طے پایا کہ عورت حیوان نجس ہے جو روح سے خالی ہے ۔ اس کیلئے ہنسنا اور بات کرنا جائز نہیں اس لئے اس کو چاہئے کہ وہ اپنا منہ ہمیشہ بند رکھے۔

مصر، یورپ کی تہذیب

روم کے بعد مصر کی تہذیب نے اپنی عظمت کا پر چم لہرایا لیکن یہاں بھی عورت کو غلام بنایا جاتا تھا۔ مصر کا فرعون طاقت کے نشے میں اپنی بہن سے بھی شادی کر لیتا تھا ۔ دیوتاؤں کو سکون پہچانے اور خوش کر نے کیلئے عورت کی قربانی دی جاتی تھی ۔ دریائے نیل کی خوشنودی پانے کیلئے ہر سال ایک کنواری دوشیزہ کو دریا میں غرق کر کے اس کو عروس نیل کا خطاب دیا جاتا تھا۔ جرمنی انگلستان اور فرانس میں بھی چودہ سو سال قبل عورت کو ایک ذلیل مخلوق سمجھا جاتا تھا ۔ کمزور اور بد صورت بیٹیوں کو موت کی آغوش میں دھکیل دیا جاتا تھا ۔ چھٹی صدی عیسوی میں برطانیہ میں عورت کو باقاعدہ منڈی میں خریدا جا تا تھا۔ عورت کو سوسا ئٹی کا بد نما داغ سمجھا جاتا تھا۔ برطانیہ کے مشہور فلاسفر ٹامس ہارڈنگ نے لکھا تھا کہ اگر ہم دس سال تک غور کر تے رہیں تب ہی وہ عیاریاں ہمارے ذہن میں آ سکتیں جو عورت ایک لمحہ میں سوچ سکتی ہے۔ عورت ایک شیطانی جادو ہے جس کے اثر سے محفوظ رہنا دشوار ہے۔ وہ ایک ایسی غذا ہے جس کا ذائقہ مزیدار لیکن اس کو ہضم کر نا مشکل۔ قدیم میکسیکو میں ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک کنواں دریافت ہؤا جس میں سورج دیوتا کے نام پر ہر سال ایک کنواری لڑکی کو دلہن بنا کر دھکیل دیا جاتا تھا۔

جرمن فلاسفر نیٹشے Nietsche نے لکھا ہے عورت کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ مرد کی قید میں رہے اور اس کی خدمت پر مامور رہے۔ نپولین نے عورت کے بارے میں کہا تھا عورت فطرت کی طرف سے مرد کیلئے ایک عطیہ ہے تا کہ بچوں کو جنم دے سکے۔ عورت ہماری جائیداد ہے ہم عورت کی جائیداد نہیں ہیں۔ ہٹلر نے کہا تھا ڈاکو آپ سے دو چیزوں میں سے ایک طلب کرتا ہے اپنا مال دے دو یا اپنی جان دے دو۔ مگر عورت جان بھی لیتی ہے اور دولت بھی۔ برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ اور جیمز اول کے دور حکومت میں دو ہزار عورتوں کو زندہ جلایا گیا تھا۔یورپ میں تین سو سال تک((1500-1800 کے عرصہ میں دو لاکھ عورتوں کو وچ ہنٹ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیازندہ جلایا یا پھر پھانسی لگا یا گیا۔ ایک قدیم روسی شاعر نے لکھا تھا کہ میں سانپ اور بچھو سے دوستی کر لوں گا لیکن عورت سے نہیں۔ چین میں بھی عورت کی حیثیت کچھ اس سے مختلف نہیں تھی ۔ چینی حکماء کا کہنا تھا عورت ایک ایسے پھل کی ما نند ہے جو دیکھنے میں اچھا لیکن ذائقے میں تلخ ہوتا ہے۔ چین میں مرد نے عورت کو کس قدر بے بس بنا دیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ لڑکی کو بچپن میں ہی لوہے یا لکڑی کے جوتے پہنائے جاتے تھے تا کہ اس کے قد کے ساتھ اس کے پاؤں بھی لمبے نہ ہوں۔ اس کے نتیجہ میں لڑکی جوان ہو جاتی تھی مگر اس کے پیر ننھے منھے سے رہ جاتے تھے۔

ایران، مصر میں عورت

آج سے دو ہزار سال قبل ایران تہذیب یافتہ ملک سمجھا جاتا تھا مگر عورت کی حیثیت ایک حقیر جانور کی سی تھی ۔ عورت متعدد بھائیوں کی بیوی بن سکتی تھی ۔ لڑکیوں کی پیدائش کو باعث ندامت سمجھا جاتا تھا۔ عورت تمام حقوق سے محروم تھی۔ باپ کی وفات کے بعد اولاد اپنی ماں کو ترکہ کے طور پر اپنے تصرف میں لے آتی تھی۔ اب آج دو ہزار سال بعد ایران میں ملائیت کا نظام جاری ہے اور عورت کو چادر اور برقعے کی قید میں رکھا جاتا ، ان پر طرح طرح کی پا بندیاں ہیں۔ عورتیں برقعے کے خلاف مظاہرے کرتی ہیں تو ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ یہ ملائیت فا شزم کا دوسرا نام ہے 1979 میں جب امام خمینی نے عنان حکومت سنبھالی تو پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ عورتوں کا رول گورنمنٹ اور سوسائٹی میں محدود کردیاجیسے: تمام عورتوں ججز کو معزول کر دیا گیا کیونکہ ان میں اتنی ذہنی استعداد نہیں کہ وہ شریعت کے مطابق عدالتی فیصلے کر سکیں۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ امام نے آٹھ سال کی لڑکی کو شادی کی اجازت دے دی کہ وہ ذہنی طور پر اس قابل ہے کہ اپنا فیصلہ خود کر سکے۔

مصر میں اگرچہ جمال عبدالناصرنے عورتوں کو ووٹ کا حق دے دیا تھا مگر گھر سے باہر جانے کیلئے عورت کو شوہر کی اجازت یا کورٹ آرڈر لینا ضروری ہوتا تھا۔ اگر کوئی بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر چلی جاتی تو وہ اس کاگھر سے مستقل اخراج کر دیتا تھا ۔ اس کا ذکر نجیب محفوظ نے ناول Palace Walk میں کیا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ گھناؤنا اور سیاہ قانون بیت الطاء(اطاعت کا گھر) تھا جس کے مطابق خاوند گھر سے نکالی عورت کو مجبور کر سکتا تھا کہ وہ واپس آئے تا وہ اس کے ساتھ سیکس کر سکے چاہے وہ شوہر سے حد درجہ نفرت کرتی ہو۔ بعض حالتوں میں ضرورت ہو تو پولیس کو بلایا جا سکتا تھا تا وہ عورت کو گھسیٹ کر کے واپس شوہر کے گھرلے جائیں۔ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے شوہروں کیلئے ضروری نہیں ہوتا تھا کہ وہ پہلی بیوی کو بتائیں ۔ بعض بیویوں کو شوہر کی وفات کے وقت پتہ چلتا تھا جب جائیداد اور اثاثوں کی تقسیم کا وقت آتا تھا۔
G. Brooks, Nine Parts of Desire, page 188, NY 1996
عورت امام الغزالی ؒ کی نظر میں

عربوں (با لخصوص شام اور فلسطین) میں عورت کو زندہ در گور کیا جاتا تھا۔ عہد وسطیٰ میں عورت کم ترین مخلوق سمجھی جاتی تھی۔ اسلام کے مایہ ناز عالم امام الغزالی ؒکے نقطہ نظر کے مطابق مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے۔یونانی فلسفی ارسطو اور ابو حمید الغزالی کی نگاہ میں عورت کا معاشرے میں سب اچھا کردار بچوں کی نگہداشت کرناہے، اور یہ کہ گھر کے کام کاج کیلئے عورت ہی زیادہ موزوں ہے۔ ارسطو نے اس لحاظ سے عورت کو مثبت رول دیا تھا جبکہ الغزالی کے نزدیک یہ رول منفی تھا۔ حجۃ الاسلام کے نزدیک عورت مرد کے ماتحت ہوتی ، ان کے نزدیک شادی کے بعد عورت مرد کی غلام ہو جاتی ہے۔ ارسطو کے نزدیک ایک اچھے خاندان کی بنیاد عورت ہوتی ہے۔ جبکہ غزالی کے خیال میں گھرانے میں صرف ایک ماسٹر ہو سکتا اورتابعدار بیوی۔ غزالی کے نزدیک عورت کیلئے تعلیم بے سود تھی اسلئے گھر سے باہر عورت کے مفروضہ کام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

غزالی اپنی تالیف نصیحۃ الملوک میں فرماتے ہیں:

جب تک کوئی عورت خدا کے احکامات پر عمل کرتی اور اپنے شوہر کی تابعدا ر ہوتی، وہ چرخے کو ہاتھ میں پکڑتی اور چلاتی، یہ ایسا ہے جیسے وہ اﷲ کے اسماء حسنیٰ کا ورد کررہی ہو، نماز میں شامل ہو رہی ہو اورغیر مسلموں کے خلاف جدال میں مصروف ہو۔ جب تک کوئی عورت چرخہ کاتتی رہتی گویا اس کے گناہ دھو دئے گئے۔ چرخہ کاتنا عورت کیلئے جائے پناہ اور محفوظ مقام ہے۔ تین قسم کی صدائیں اﷲ کے عرش تک پہنچتی ہیں ۔ (1) کافروں کے خلاف تیرکمان تیار کرنے کی صدا (2)عالم کے قلم کی صدا (3)نیک عورتوں کے چرخہ کاتنے کی صدا۔ Nasihatul Maluk, pp 158-173 Eng. Trans.

نصیحتہ الملوک کے آخری باب ہفتم’عورتوں کے اچھے اور برے پہلو ‘(فارسی: اندر صفت زنان و خیر و شر ایشان) میں غزالی تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا کی اکثریت عورتوں پر انحصار کرتی کیونکہ وہ اولاد جنم دیتی ہیں، نسل انسانی ان سے ہی چلتی ہے۔ لیکن یہ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رفیق حیات کے انتخاب اور بیٹیوں کو شادی میں دیتے وقت تحفظ کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھیں۔ بادشاہ کو نصائح کرتے ہوئے وہ عورتوں کی تشبیہ کے ذریعہ اخلاق اور کردار سازی کے معاملات کی وضاحت کرتے جیسے بخیلی، بددلی، غصے میں آجانا، اور عورتوں کی شہوت بازی۔ کتاب کے شروع میں وہ مردوں کو عورتوں سے متعلق تنبیہ کرتے اور ضرر ونقصان جوعورت کے ذریعہ پہنچ سکتا۔ منفی اوصاف کی مثالیں دیتے ہوئے وہ بادشاہ کو نصیحت کرتے کہ اگر وہ ان کمزوراوصاف کا حامل ہوگا تو اسکا رویہ عورتوں کی طرح ہوگا۔

فارسی: خداوند کتاب گوید کہ آبادانی جہان و نسل آدمی از زنان است۔ و آبادانی ھرگز بی رای و تدبیر راست نیاید، و گفتہ اندکہ شاوروھن و خالفوھن۔ و واجب است ہر مردم دانا و ھشیار کہ احتیاط کند درکار زن خواستن و دختر بہ شوھر دان، خاصہ کہ دختر رسیدہ گشت تا بہ عار و عیب و درد سر نیفتد۔
(نصیحتہ الملوک ، تہران1989، چاپ اول جامی ، صفحات219-222)
اسی کتاب کے صفحہ227 پریہ تحریر پڑکر دل کڑھتا اور شرم سے سر جھک جاتا : آپ لکھتے ہیں:
عورتوں میں دس جانوروں کے مزاج اور صفات ہوتے ہیں جیسے سؤر، سگ، چوہے، عقرب، فاختہ، بھیڑیا اور بھیڑ۔ (فارسی: چون خوک، چون کپی، چون سگ، چون مار، چون استر، چون کژدم، چون موش، چون کبوتر، چون روباہ، چون گو سفند) ۔
عربی میں تصنیف شدہ کتاب کسر الشہواتین میں صفحہ12پر لکھتے ہیں:
عورتیں شیطان کا پھندہ ہیں، اگر (مرد) میں یہ جنسی خواہش نہ ہوتی توعورتیں مردوں پر کبھی بھی حکمرانی نہ حاصل کر سکتیں۔
شیخ احمد سر ہندی کا ارشاد
ہندی صوفی عالم دین شیخ احمد سر ہندی (1624) نے خدا تعالیٰ کی طرف سے مردوں پر خصوصی عنایات کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے مردوں کو چار عورتوں سے شادی کرنے، حسب منشاء لونڈیاں رکھنے، اور طلاق کے ہتھکنڈے کو استعمال کرتے ہوئے بیویوں کو بدلنے کی اجازت دی۔ کیونکہ عورتیں کی ساری زینت باری تعالیٰ کی جناب سے محض مردوں کے لطف اندوز ہونے کی غرض سے عطا کی گئی ہے۔ ۔۔ چونکہ عورتوں کی فطرت اتنی مکار ہے اس لئے ہر حرام کاری (adultry)میں عورت ہی کو بڑا مجرم گرداننا چاہئے اور یہ کہ اس کی رضامندی کے بغیر یہ عمل نا ممکن ہوتا ہے۔ ( قرآن نے جرم کی مذمت کرتے ہوئے زانیہ کو سزاپہلے اور زانی کو بعد میں رکھا ہے24:2 )
شیخ احمد سر ہندی ، مکتوبات امام ربانی جلد اول، مکتوب نمبر192 ۔ نول کشور ایڈیشن، تاریخ اشاعت ندارد لکھنو اول، صفحات 190-91)
بادشاہ جہانگیر (1605-1627)
مغل بادشاہ جہانگیر سے منسوب اخلاقی مواعظ کا نسخہ درج ذیل ہدایات پر مبنی ہے: “بیٹیوں کی موت پر آزردہ مت ہو، عورتوں کی نصیحت پر عمل نہ کرو، ان کی دلجوئی نہ کرو، ان کے فریب، اور چالبازی سے کبھی غافل نہ ہو ” (پند نامہ جہانگیری، خواجہ نعمت اﷲ الحراوی کی کتاب کا ضمیمہ، ڈھاکہ1962، صفحہ703) اگرچہ اس طرح کے نصائح خود جہانگیر کی اپنی یاد داشتوں میں نہیں پا ئے جاتے۔
رامائن میں عورت
ہندی کے مشہور شاعر تلسی نے رامائن میں لکھا ہے: پشو، شودر اور ناری ، تینوں تاڑن کے ادھ کاری ۔ یعنی چوپائے ، شودر (بھنگی چمار) اور عورت تینوں کو ڈانٹ ڈپٹ ہی سیدھے راستے پر رکھ سکتی ہے۔ ہندوستان میں ماہواری کے لائق (دس سے پچاس سال کی نجس ناپاک) عورتوں کو کیرالہ میں واقع صابری مالا مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس مندر میں ہر سال پچاس ملین پجاری آتے ہیں۔ ستمبر2018میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے ماہواری والی عورتوں کو مندروں میں جا کر پوجا کرنے کی اجازت دے دی یہ کہہ کر کہ عورتوں کے خلاف کسی قسم کا امتیازی سلوک چاہے اس کی بنیاد ھرم ہو غیرآئینی ہے۔
اسلامی ممالک میں عورت سے سلوک
قدیم دور میں عورت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ جدید دور میں بھی تبدیل نہیں ہو سکا۔ نسل در نسل عورت کے متعلق رویے اتنے ہی بھیانک رہے ہیں۔ ماں کی تو بہت عزت کی جاتی مگر بیوی کو بعض مرد جوتی کی نوک پر بھی نہیں بٹھاتے اور بلا وجہ اپنی فرسٹریشن اور غصہ بیوی پر نکالتے ہیں۔
اسلام کے گہوارے میں عورت پر جو ظلم ڈھایا جاتا رہا ہے اور جس بے دردی اس کے انسانی حقوق کی پائمالی کی گئی ہے اس کا سن کر انسان پر لرزہ طاری ہوجا تا ہے۔ کسی عورت کوملک کے اندر یا با ہر جانے کیلئے اس کے شوہر، بیٹے یا پوتے کا تحریری اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ کسی بیوہ دادی یا نانی کا کوئی قریبی مرد رشتہ دار نہ ہو تو اس کو پوتے یا نواسے سے سفر کیلئے اجازت نامہ لینا پڑتا ۔ عورت کو ملازمت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔1986میں سعودی عرب میں ورک فورس میں چا ر فی صد عورتیں تھیں۔ عورتوں کو ملازمتوں کے مواقع حاصل نہیں تھے۔ اقوام متحدہ کی طرف 1975 میں میکسیکو سٹی میں انٹر نیشنل ویمن ائیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عورتوں کا وفد مردوں پر مشتمل تھا۔ عورتوں کو کار ڈرائیونگ کی اجازت نہ تھی۔ عورت کو گھر سے باہرجانے کیلئے اس کے ساتھ کسی مرد کا ہونا ضروری تھا۔ اگر کوئی سمجھ دار عقل مند زیرک عورت ملازمت کرنا چاہے تو اس کیلئے شرائط لگائی جاتی ہیں ۔ 1) شوہر کو بیوی کی ملازمت ختم کرنے کا حق ہے (2) اگر شو ہر خطرہ محسوس کرے کہ اس کی بیوی کو کسی طرح کا گزند پہنچے گا ، اس کی عزت لوٹی جاسکتی ہے یا اس کو جنسی طریق سے بہلا یا جا سکتا ہے۔ عورتیں سٹڈیم میں جا کرسپورٹس نہیں دیکھ سکتی تھیں ۔ عورت برقعہ پہنے بغیر گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی۔

سعودی عرب میں سب سے زیادہ استحصال اور ظلم و جبر کا شکار وہ عورتیں ہیں جو گھروں میں کام کیلئے انڈونیشیا، فلپائن، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے لائی جاتی ہیں۔ یہ محنت کش خواتین گھروں میں سالوں سال مقید رہتیں کیونکہ خواتین کے گھر سے نکلنے کے لئے ان کے ساتھ کسی محرم (باپ، بھائی) کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اس قید میں جسمانی کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات بھی معمول کی بات ہیں اور شرعی قوانین کے مطابق عورت کو اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی (ریپ) چار خواتین یا دو مرد گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان مظلوم عورتوں کو کبھی میسر نہیں آسکتے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی دہشت گردی اور وحشت ہے۔ سعودی عرب میں گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران 218,000 سے زائد بنگلہ دیشی خواتین(ڈومیسٹک ورکرز) سعودی عرب جا چکی ہیں جہاں ان کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ مالکان ان کو خوراک نہیں دیتے ان کا تنخواہوں کے معاملے استحصال کیا جاتا ہے۔ ان کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا بلکہ جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ اس سال67,000، عورتیں ملازمت کیلئے ملک سے باہر گئیں جن میں 59,000 سعودی عرب گئیں تھیں۔ جن میں سے پا نچ ہزار مخدوش حالت میں ملک واپس آ گئیں ہیں۔ سعودی عرب کے بوڑھے کھوسٹ کراچی اور ہندوستان (حیدر آباد) جاتے اور نوجوان لڑکیوں سے شادی کرکے کچھ دن بعد ان کو طلاق دے دیتے ہیں۔ یعنی رنڈی بازی کو حلال کردیا گیا ہے۔ بے غیرتوں کو شرم نہیں آتی ۔

ہندوستان میں ہر بائیس منٹ پر عورت کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فلسطین اور دیگر عرب ممالک میں غیر ت کے نام پربھائی جس طرح بہن کا بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں اس دکھ بھری طویل داستان کیلئے تو کتاب درکار ہوگی۔ آئے روز لڑکیوں کو یورپ اور امریکہ سے پا کستان ہندوستان واپس لے جاکر ان کی شادیاں زبردستی ان کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہیں۔ اگر لڑکی نہ مانے تو سانس روک کر اس کو لقمہ اجل بنا دیا جاتا ہے۔ اس سال اپریل 2018میں اٹلی میں رہنے والی صنا چیمہ کے غیر ت کے نام پر قتلمیں گجرات کے مکین اس کا باپ غلام مصطفی، بھائی اور چچا ملوث پا ئے گئے تھے۔ کارو کاری کی منحوس رسم کی وجہ سے کتنی معصوم لڑکیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔

پا کستان میں پچھلے سال سات سو سے زیادہ جنسی تشدد کے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اگر وجود زن سے کائنات میں رنگ ہے تو پھر اس ذات پر کیوں اتنا ظلم کیوں کیا جاتا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں