جنگ نہیں، تدبیر اور امن کو موقع دیا جائے


editکیا نعرہ تکبیر لگا کر جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ پھر تو ہمیں اللہ کا نام لے کر دشمنی کو پکا کرنا چاہئے۔ اگر نہیں تو سوچنا ہو گا کہ آگے بڑھنے کے لئے فوج کی ضرورت ہے یا عقل کی۔ اب اگر یہ اصول طے نہ ہو سکا تو اس خطے میں آباد لوگ مزید 68 برس گزرنے کے بعد بھی یہی نعرہ لگا کر آفتوں ، زوال اور مصائب کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ قومی بجٹ میں 860 ارب روپے دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ ملک میں شعبہ تعلیم کو دیئے گئے وسائل سے 11 گنا زیادہ ہیں۔ ابھی اس رقم میں وہ سارے اخراجات شامل نہیں ہیں جو کسی نہ کسی نام سے بجٹ کے دوسرے حصوں میں سے ادا ہوں گے۔ لیکن انہیں دفاعی اخراجات کا نام نہیں دیا گیا۔ ان میں 178 ارب کی رقم تو ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن اور مراعات پر صرف ہو گی۔ آپریشن ضرب عضب کے اخراجات بھی اس کے علاوہ ہیں۔ جوہری توانائی پروگرام پر بھی اخراجات کو دفاع میں ڈالنے سے گریز کیا گیا ہے۔ مختلف منصوبوں کےلئے ترقیاتی فنڈ سے 100 ارب روپے بھی فوج کو ملیں گے۔ ان کے علاوہ بھی کئی ایسی مدات ہوں گی جن میں اربوں روپے درحقیقت ملک کے دفاع پر صرف ہوں گے لیکن اسے دفاعی اخراجات کا نام نہیں دیا گیا۔ قومی بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 4394 ارب روپے ہے۔ اس طرح معلوم مدات کے مطابق ملک کے دفاع کیلئے ایک چوتھائی بجٹ صرف کر دیا جائے گا۔ ملک کے قومی بجٹ کا خسارہ 1276 ارب اور بیرونی قرضوں پر ادائیگی کےلئے 1360 ارب صرف کئے جائیں گے۔

ماہرین بتا رہے ہیں کہ پاکستان خطے کے ان ملکوں میں شامل ہے جو دفاع پر کم وسائل صرف کرتے ہیں۔ یہ تقابل دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ قومی پیداوار کی کتنی شرح یا قومی بجٹ کا کتنے فیصد دفاع پر صرف ہوتا ہے یا یہ کہ پاکستان کے بجٹ کا حجم دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کتنا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا بھارت یا خلیجی ممالک اور ایران سے مقابلہ بے سود ہو گا۔ بھارت بڑی آبادی ، زیادہ وسائل اور چین کے ساتھ مقابلے کے جنون میں مبتلا ایک ایسا ملک ہے جو مسلسل اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اب اس کے دفاعی اخراجات 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یعنی پاکستان کے قومی بجٹ میں دفاعی اخراجات میں 11 فیصد اضافہ کے بعد بھی جو رقم فراہم کی جا سکی ہے، وہ بھارت کے دفاعی بجٹ کا 15 سے 20 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کبھی بھی اپنے ایک ایسے ہمسایہ ملک کا مقابلہ نہیں کر سکے گا جس کے ساتھ ملک قائم ہوتے ہی رقابت ، مقابلے اور دشمنی کا رشتہ استوار ہو گیا تھا۔ اس منفی رشتہ کے سبب پاکستان ، بھارت سے تین جنگوں اور دو جھڑپوں میں شکست کھا چکا ہے۔ ملک کا نصف حصہ گنوا چکا ہے اور اسی دشمنی کا شاخسانہ ہے کہ یہ خطہ زمین جو برصغیر کے مسلمانوں اور اس علاقے میں آباد سب لوگوں کے لئے خوشحال زندگی ، ترقی کے سفر اور امن و سکون کا باعث بننے کی بجائے ، مسلسل اندیشے اور خطرے کا سبب بن چکا ہے۔ اس ملک کا شہری خواہ کسی بھی علاقے میں آباد ہو، یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ جب گھر سے باہر قدم رکھے گا تو اسے واپس آنا نصیب ہو گا یا نہیں۔ یوں تو کوئی گھر میں رہتے ہوئے بھی اس یقین کا اظہار نہیں کر سکتا کہ وہ محفوظ ہے۔

اس صورت حال میں ایک جواب تو وہی ہے جو مسلمان کے ایمان کا تقاضہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے اس بارے میں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن نعرہ نما عقیدے کے اظہار سے ہٹ کر سوچا جائے تو آسانی سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ جو ملک فلاح اور بہبود کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اسے غلط پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں ایک ایسی سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں انسان کی ضرورتیں ثانوی اور ہتھیاروں کی خریداری اور فوجیوں کی تربیت ترجیحی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ فوج کے چار جرنیلوں نے براہ راست آئینی حکومتوں پر شب خون مار کر پینتیس چھتیس برس حکومت کی ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے ہر سویلین حکومت کو اپنی مرضی کا غلام بنایا ہوا ہے۔

سوال تو وہی ہے جس سے اس مضمون کا آغاز کیا گیا تھا کہ اپنے قلیل وسائل ، کم آبادی اور گوناں گوں مسائل کے باوجود پاکستان کیوں اپنے سے پانچ چھ گنا بڑے ملک سے دشمنی کا رشتہ استوار کئے ہوئے ہے۔ اور جب اس دشمنی کو مصالحت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کیوں کر قومی غیرت کے علمبردار ڈنڈے اٹھائے گلیوں کوچوں میں نکل آتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مسلمان جذبہ ایمانی سے لڑتا ہے، ہتھیاروں سے نہیں۔ اگرچہ عام سوجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اللہ کو کارساز ماننے کے باوجود یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ تدبیر تو انسان کو اپنی فہم ، ضرورت اور وسائل کے مطابق ہی کرنا پڑتی ہے۔ یعنی تیاری پوری کی جائے اور نتیجہ کے لئے اللہ پر بھروسہ کیا جائے۔ اس صورت میں کیا ایک بھوکی ننگی قوم کے بمشکل جمع کئے ہوئے قومی وسائل کو دفاعی تیاریوں پر صرف کر دینا ہی واحد تدبیر ہے یا اس کے لئے کوئی دوسرا راستہ بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

بھارت سے دشمنی کا رشتہ کشمیر پر قبضے کے سوال سے شروع ہوا تھا۔ کشمیری اور بھارت دونوں اس مسئلہ کو پاکستان کے ”غیرت مند مجاہدین“ کے طریقہ سے حل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ لیکن اہل پاکستان کے مفادات کو بدستور ایک ایسے تنازعہ کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے جس کے حل کی امید لئے ایک نسل دنیا سے رخصت ہو چکی، دوسری نسل کے ختم ہونے کا وقت قریب ہے۔ تیسری اور چوتھی نسل کو بدستور آمادہ بہ جنگ کر کے پانچویں اور چھٹی نسل کا مستقبل تاریک کرنے کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ لیکن نہ ان پر بات کرنے کی اجازت ہے اور نہ یہ کہنے کی کہ خدارا ان سب حالات پر از سر نو غور کرنے کے بعد قومی فیصلوں کو تبدیل کیا جائے۔ یعنی جو یک طرفہ پالیسیاں اپنے نقائص اور کمزوریوں کی وجہ سے ہمارے پاؤں کی بیڑیاں بن چکی ہیں، انہیں بدلا جائے تا کہ غلامی کی ان بیڑیوں کو بھی توڑا جا سکے۔

قوم کو نعرہ تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ مسلمان ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی، لیکن سرحدوں پر کھڑے سپاہیوں کے ہاتھوں میں بندوق دینے کے لئے اس ملک کے مفلس اور نادار باسیوں کے جسم سے چیتھڑے بھی نوچ لئے جاتے ہیں۔ اگر یہ قوم ”اللہ کے سپاہیوں کی فوج“ ہے اور ان کے لئے جہاد ۔۔۔۔۔ بمعنی فساد ، جنگ اور شر پسندی ۔۔۔۔۔۔ ہی فرض ہے تو ان میں یہ اعتماد اور حوصلہ کیوں پیدا نہیں ہوتا کہ وہ بے وسیلہ دشمن کی توپوں کے سامنے جا کھڑے ہوں اور آسمان سے سفید کپڑوں میں ملبوس بزرگ یا فرشتے یا دونوں، زمین پر اتر کر بموں کو پھولوں سے بدلتے رہیں۔ یا اللہ کے ایک حکم سے آگ کے گولے نخلستان بن جائیں۔ شکست فتح میں تبدیل ہو جائے اور دشمن خود اپنی ہی طاقت اور وسائل سے شکست فاش کھا جائے۔ عقیدہ برحق لیکن یہ نعرے لگانے اور لگوانے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ توپ کے مقابلے میں توپ اور ٹینک کے مقابلے میں ٹینک لائیں گے تو مقابلہ ہو گا۔ تو کیا بہتر نہیں ہے کہ ایسی دشمنی ہی ختم کی جائے جسے نبھانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔

اس حوالے سے ایک یہ دھوکہ اس قوم کو دیا جاتا ہے کہ ہم نے ایٹم بم تیار کر لیا ہے جو سب سے موثر مزاحمتی ہتھیار یعنی DETERRENCE ہے۔ اس ہتھیار کے ہوتے دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ حالانکہ 1998 میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد سے پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کی بجائے مسلسل کمی ہوئی ہے۔ دشمن نے ہمیں بدستور میلی آنکھ سے ہی دیکھا ہے اور ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔ گو کہ اس کے اسباب ہم خود ہی فراہم کرتے رہے ہیں۔ یہ دشمن اب صرف بھارت ہی نہیں بلکہ چہار طرف ہے۔ ”جوش ایمان“ میں تو ہم امریکہ سے بھی ٹکرانے کے اعلانات کرتے ہیں لیکن ہزار ارب روپے سالانہ سے کھڑی ہونے والی فوج ایک امریکی ڈرون کو گرانے یا جارحیت پر اترے ہوئے دو امریکی ہیلی کاپٹروں کو روکنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ یوں تو ہمارے پاس ایٹم بم ہے لیکن اس سے دوسرے خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ ہم خود اتنے ڈرے رہتے ہیں کہ ہر دم دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کون سا دشمن اسے تباہ کرنے کا قصد کر لے۔ اسی خوف میں ہم اپنے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر اس ”بم“ کی حفاظت میں جتے ہوئے ہیں۔ تو یہ کیسا دفاعی ہتھیار ہے۔ پھر ہم اسے کیوں محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ کوئی ایٹم بم کسی قوم کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ البتہ یہ اسے تباہ کرنے کا سامان کر سکتا ہے۔ دنیا کے 200 سے زائد ملک ہیں لیکن ایٹمی ہتھیار سے لیس صرف 7 ملک ہیں جن میں سے دنیا صرف 5 کو ”ذمہ دار“ ایٹمی طاقتیں مانتی ہے۔ بھارت اور پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ اسی لئے ان کے جوہری اثاثوں کو دنیا کی سالمیت کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان سات ممالک کے علاوہ دو سو کے لگ بھگ ملک کیا غیر محفوظ اور سات ایٹمی طاقتوں کے زیر نگیں ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ جوہری صلاحیت کا جنگی مظاہرہ صرف مدمقابل کو ہی تباہ نہیں کرے گا بلکہ وہ دوست دشمن کی تخصیص کئے بغیر اپنی ہلاکت خیزی سے انسانوں کو متاثر کرے گا۔ ہلاک اور معذور کرے گا۔ اسی لئے دنیا ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کی بات کرتی ہے اور پاکستان کے ”ایٹم بم“ سے بھی ہراساں رہتی ہے کہ کہیں ”جہاد“ کے جذبہ سے سرشار کوئی ”اچھا طالبانی گروہ“ کسی صورت اس صلاحیت کو حاصل کر کے پوری دنیا کی تباہی کا سامان نہ بہم پہنچائے۔

اس تناظر میں یہ سوال بھی بجا طور سے سامنے آتا ہے کہ آخر یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ جنگ ہی ہر مسئلہ کا حل ہے اور امن کو ایک موقع دینے کی بات کیوں نہیں کی جاتی۔ دشمنوں کو مارنے کی بجائے ۔۔۔۔ اس میں مار دینے پر زیادہ اور دشمن پر کم زور دیا جاتا ہے کیونکہ اہل پاکستان ہوں یا کسی دوسرے خطے کے مسلمان وہ ہر وقت آمادہ بہ جنگ ہیں۔ مرنے مارنے پر تلے ہوئے ، غصے سے بھرے ہوئے اور دشمن نہ ہو تو نئے دشمن پیدا کرتے ہوئے تا کہ انہیں نیست و نابود کیا جا سکے ۔۔۔۔ ان کے ساتھ مل جل کر زندہ کیوں نہیں رہا جا سکتا! اب وقت آ گیا ہے کہ دشمن بنانے اور جنگ کرنے کے سبق کی بجائے ایک دوسری کی زندگی کا احترام کرنے کا چلن سیکھا جائے۔

وگرنہ دشمنوں کی تلاش میں وارفتہ قوم کو خبر ہو کہ وہ اپنا سب کچھ جنگ میں جھونک کر بھی زندگی کی روشنی نہیں پا سکیں گے۔ اس کے لئے زندگی کا احترام کرنا اور اسے برتنے کا سلیقہ سیکھنا ضروری ہے۔ تب ہی ملک کے بجٹ کا ایک چوتھائی تعلیم اور صحت پر اور اس کا دس فیصد دفاع پر صرف ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali