افغانستان، سعودی اور ایران۔۔۔ ہر طرف سے خسارہ


sibte hasan geelaniرواں ماہ کے آسمان نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ ایران۔ افغانستان۔ اور بھارت ایک دوسرے سے بغلگیر ہو کر بیٹھے تھے۔ چہار بہار کی بندر گاہ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب تھی۔ بھارتی چیخ چیخ کر اور خوشی کے آنسو پونچھ پونچھ کر دنیا کو بتا رہے تھے کہ اب افغانستان اپنی زمینی تجارت کے سلسلے میں پاکستان کا محتاج نہیں رہا۔ ایرانی صدر نے کہا یہ معاہدہ دو عظیم ممالک کے درمیان ایک شاندار اور مثالی معاہدہ ہے۔ یہ صرف اقتصادی ہی نہیں سیاسی و سماجی اثرات کا حامل بھی ہو گا۔ بھارت اس منصوبے پر پچاس کروڑ ڈالر خرچ کرے گا۔ اس معاہدے کی لکھائی ابھی خشک بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ خبر آئی طالبان امیر ملا اختر منصور پاکستانی علاقے میں ڈرون حملے کا شکار ہوئے۔ موصوف دو ماہ ایران میں سستا کر اور افغانستان سے گزر کر پاکستان میں پہنچے ہی تھے کہ امریکی ڈرون نے آ لیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ڈرون نے ایران میں تو گرنا نہیں تھا۔ کیونکہ ایران ہماری طرح ماسی کا ویہڑہ تو ہے نہیں۔ افغانستان میں اس لیے نہیں گرا کیونکہ دنیا کو ہمارے بارے جو پیغام دینا مقصود تھا وہ نہ پہنچ پاتا۔ کہ ہم دہشت گردوں کی مستقل پناہ گاہ ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کوئٹہ شوریٰ کی ڈھنڈ مچی تو ہم انکاری تھے۔ بعد میں یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچی۔ جو خریدے گئے قلم اس کو بے بنیاد پروپیگنڈہ لکھ رہے تھے۔ آج لکھ رہے ہیں کہ نئے امیر ملا ہیبت اللہ کوئٹہ شوریٰ کے روح رواں تھے۔ پھر اسامہ بن لادن جب چند سال کی تھکن اُتارنے کے بعد اپنے دشمن اورہمارے برادر یوسف نما دوست کے ہاتھ لگے تو ہم نے یہی موقف اپنایا کہ ہم بے خبر تھے۔ پھر ایک اور اہم کمانڈر ملا برادر کراچی سے پکڑے گئے۔ پھر حقانیوں کا محل بارہ کہو میں ساری دنیا نے دیکھا۔ جب ان کا ایک بیٹا وہاں مارا گیا۔ اس کے بعد ملا عمر نے اپنی آخری سانسیں یہیں لیں۔ اب ملا اختر منصور کی اپنے رب سے ملاقات بھی یہاں ہی ہوئی۔ ہر شخص انگشت بدنداں ہو کر ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے۔ یہ ہو کیا رہا ہے؟

ملا منصور کی موت بنیادی طور پر پاکستان کی افغانستان کے معاملے میں طویل عرصے سے جاری رکھی جانے والی پالیسی کی موت ہے۔ مگر ہم ہیں کہ اسے مان کر نہیں دے رہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ طالبان کو ایک موثر قوت ہم نے بنایا۔ سعودی سرمائے اور امریکی عسکری و مالی بھر پور امداد کے ساتھ۔ یہ پالیسی بنیادی طور پر امریکی مفادات کے تحفظ کی پالیسی تھی۔ جس کے چار تھنوں میں سے ایک تھن ہمارے حصے میں آیا۔ پھر ایک دن امریکہ کے جڑواں میناروں کو نشانہ بنا کراس کے منھ پر بھرپور تھپڑ مارا گیا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے کسی گاوں کا کوئی کمی کمین اٹھ کر بھرے چوراہے میں گاوں کے چوہدری کے منھ پر تھپڑ دے مارے۔ اب چوہدری اور اس کی برادری کو غصے میں پاگل تو ہونا ہی تھا۔ اب تھپڑ مارنے والے کو حوالے کرنے یا گھر سے نکالنے کا مطالبہ ہوا۔ ہم اس کے منشی اور منھ لگے کامے تھے۔ یہ پیغام ہمارے سپرد ہوا۔ ہم اس وقت حیران ہوئے جب چوہدری سے بھی بڑھ کر رعونت اور حقارت سے ہمیں اور ہمارے پیغام کو ٹُھکرا دیا گیا۔ مگر ہمیں اپنی بے عزتی کا اس وقت بھی پوری طرح احساس نہیں ہوا۔ دوسرے دن ہی ہمارے سامنے لکیر کھینچ دی گئی۔ تم ہمارے ساتھ ہو یا نہیں۔ اگر نہیں تو تم بھی پتھر کے دﺅر میں پہنچا دیے جاو گے۔ ہماری کیا مجال تھی جو بغاوت کرتے۔ چناچہ سر تسلیم خم کیا گیا۔ اب طالبان چونکہ دشمن اور دہشت گرد تھے۔ ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات عالمی برادری کے قانون میں جرم قرار دیے گئے۔ ہمارے سر جھکانے اور اس نئی جنگ میں بھی ساتھ دینے پر ہمارے سابقہ گناہ معاف کر دیے گئے الٹا ہمارے خالی کلہوٹے پھر سے بھرنے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ لیکن ساتھ ساتھ امریکی اور اس کے مغربی حواریوں کے خفیہ ہاتھوں نے افغانستان کے اندر پاکستان مخالف قوتوں سے ساز باز کا ڈول ڈالا۔ اب یہاں چاہیے تو یہ تھا کہ اپنی مرکزی حیثیت کے بل بوتے پر اس ڈبل گیم کو سفارتی سطح پر ناکام بناتے۔ جو کہ چنداں مشکل نہیں تھا۔ لیکن ہم نے اس سیدھے سادے راستے کو چھوڑ کر وہی طریقہ اختیار کیا جو ہم سے روا رکھا جا رہا تھا۔ اس وقت ہم یہ حقیقت بھول گئے کہ جب کمزور کسی طاقتور کو اسی زبان میں جواب دیتا ہے تو نقصان بے شک دونوں کا ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ نقصان کمزور کے حصے میں آتا ہے۔ طاقتور اس نقصان کو برداشت کر جاتا ہے لیکن ماڑا پھر اٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔ ہمارے ساتھ اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ اس ڈبل گیم کا نتیجہ ہمارے حق میں بھیانک برامد ہوا۔ صرف تحریک طالبان کی صورت میں ہی جو نقصان ہمیں اٹھانا پڑا اور ابھی تک اٹھا رہے ہیں۔ یہی ہماری کمر توڑ رہا ہے۔ باقی کے کھاتوں کا حساب تو ابھی رہنے ہی دیں۔ دوسری طرف جن دو برادر اسلامی ممالک کی سیاسی و تاریخی جنگ مذہب کے نام پر ہم نے لڑی۔ ان کی طرف بھی ایک نظر ڈال لیں۔ دونوں بھارت کی محبت کی دوڑ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ دینے کی کوشش میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ ایک سب سے بڑا قومی اعزاز مودی کے گلے میں ڈال کر اس کے گال چوم رہا ہے تو دوسرا اس سے بغلگیر ہو کرماتھا چوم چوم کر صدقہ اُتار رہا ہے۔ ہم سے زیادہ تو طالبان ہوشیار نکلے جنہوں نے چھپ چھپاتے اندر اندر ایران سے چین تک یارانے گانٹھ لیے۔ وال سڑیٹ جنرل نے بھید کھولا ہے کہ ایران اپنے فرقہ وارانہ مخالف طالبان کمانڈروں کو بصورت ڈالر ماہانہ وظائف سے نواز رہا ہے۔ ہمارا حال اس ناکام عاشق جیسا ہے جس کی محبوبہ سامنے والے چوبارے پر اپنے نئے عاشق کے ساتھ بس جاے۔ یہ سب کچھ بدل بھی سکتا ہے بشر طیکہ ہم خود کو بدلنے پر تیار ہو جائیں۔


Comments

FB Login Required - comments