کیا احتساب عدالت کا فیصلہ جلدی میں لکھا گیا تھا؟


اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں دیے گئے فیصلے سےبظاہر ایسا لگتا ہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو شریف فیملی کو سنائی گئی سزا کا فیصلہ جلدی میں لکھا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ایک طرف احتساب عدالت نے ملزم کو کرپشن کے الزامات سے بری قرار دیا جبکہ دوسری طرف انہیں آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر انہی کرپشن کے الزامات پر سزا سنا دی گئی۔

احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں ایک ایسی پرسرار دستاویز پر انحصار کیا جس کا مصنف نامعلوم تھا اور دستاویز کو قبول کرنے کی وجہ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ فیصلے میں بیان کی جائے گی، تاہم احتساب عدالت کے جج اسی دستاویز کے قابل قبول ہونے کی وجوہات لکھنا بھول گئے جو اس کیس کی سب سے اہم دستاویز ہے اور جس پر سارے فیصلے کا انحصار ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے نے اس تمام تر پہلو کو بہترین طریقے اور دلچسپی سے بیان کیا ہے۔ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ 6 جولائی کو سنایا تھا، یعنی 25 جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات سے تقریبا 19دن قبل۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں پیراگراف نمبر 23 اس بنیادی حقیقت کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ شریف فیملی کا کرپشن الزامات پر سیکشن 9(a)(iv)کے تحت ٹرائل کیا گیا، احتساب عدالت نے انہیں ان الزامات سے بری کردیا اور نیب نے بھی بریت چیلنج کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب سیکشن 9(a)(v)کے تحت جیسا کے سپریم کورٹ کے غنی الرحمن کیس کے پیراگراف نمبر 8 میں بیان کیا گیا، آمدن سے زائد اثاثے کے الزامات پر سزا دلانے کی خاطرچار بنیادی اجزا پورے کرنے میں ناکام رہا۔ تفصیلی فیصلے کے پیراگراف نمبر 24 اور 25 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت عظمی کی جانب سے غنی الرحمن کیس میں بیان کیے گئے اصول کے تحت نیب کے لئے ضروری تھا کہ وہ اثاثوں کے حصول کی خاطر خرچ کی گئی رقم، نواز شریف کے ذرائع آمدن جو کہ 90 کے اوائل میں مبینہ خریداری کے وقت تھے، بتائے، تاہم نیب ایسا نہ کرسکا۔ اس پیراگراف کے مطابق نہ ہی خریداری کے وقت فلیٹس کی قیمت بتائی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی دستاویز فراہم کی گئی۔

اسی پیراگراف میں احتساب عدالت اور نیب کی بے بسی کے بارے میں مزید بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ فیصلے میں نواز شریف کے اثاثے اور واجبات سے متعلق محض ایک دستاویز کا حوالہ دیا گیا جو حیرت انگیز طور پر نہ ہی نیب نے تیار کی اور نہ ہی پانامہ جے آئی ٹی نے۔ اسی پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ دستاویز کو نیب کے تحقیقاتی افسر عمران مسعود کی جانب سے ثبوت کے طور پر جمع کرایا گیا جو گواہ PW۔ 18کے طور پر پیش ہوئے۔ اس پر اعتراض کا اس وقت فیصلہ نہ کیا گیا اور اسی کو فیصلے کے صفحہ نمبر 59 پر ذیل میں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں