پروفیسر خالد سعید  سے ایک ملاقات


\"FB_IMG_1464187524217\"پروفیسر خالد سعید نے گذشتہ پانچ دہائیوں میں ملتان کی چار نسلوں کو تعلیم دی ہے۔ رسمی طور پر نفسیات کے استاد ہیں مگر ان کے حلقہ  تدریس میں فلسفہ، نفسیات، سوشیالوجی، ادب، تعلیم اور بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے مضامین شامل ہیں. انہوں نے طالب علموں کی کثیر تعداد کو پڑھایا ہی نہیں بلکہ ان کی تہذیب کی ہے۔ ِخالد سعید آج کے دور میں استاد کے کلاسیک کردار کی ایک زندہ مثال ہیں. ان کی تصانیف میں ادب، نفسیات، فلسفہ،  مایتھالوجی، شاعری، افسانہ اور کئی تراجم شامل ہیں۔ ان تصانیف کو پڑھ کر انکے مطالعے کے تنوع اور غوروفکر کے میدان کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے. خالد سعید کے خیالات ہمیشہ غیر روایتی رہے ہیں لیکن کوبی یہ ہے کہ ان سے اختلاف کیا جائے یا اتفاق، پر دو صورتوں میں خیال اور احساس کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ علی نقوی نے پروفیسر خالد سعید سے ایک نشست کی روداد لکھی ہے ،

سوال:     ہمارے معاشرے کی اجتماعی ذہنی صحت پر آپ کی کیا راےُ ہے ؟

جواب:    ایک بڑی سادہ سی بات ہے اس کا تعلق بنیادی انسانی فطرت سے ہے اور ہر تہذیب میں کچھ وقفے کے بعد ایسا وقت آتا ہے جب لوگ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور کوئی چیز ان کو یکجا کرنے کے لیے نہیں ملتی اور اس وقت معاشرے میں ایک تشدد ایک قسم کا فتنہ فساد اٹھتا ہے پھر کچھ دیر تک یہ سلسلہ چلتا ہے اور یہ شاید بڑی جنگوں پر منتبق ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد کچھ دیر کے لیے روشن خیالی کا اور امن کا دور آتا ہے۔ تو یہ انسان کی فطرت سے جڑا سوال ہے۔ آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے اس میں ایک نیا عہد تار جو ہے وہ مسلط ہوا ہے۔ یہ عہد تار یا جسے آپdarkage کہیے ظاہر ہے اسکا ہماری اپنی نفسیات سے بڑا گہرا تعلق ہے اور کوئی چیز یہاں پر ایسی نہیں ہے جو لوگوں کوجوڑے ۔ لہٰذا لوگ تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں یہ پوری دنیا کا اجتماعی ہے اور اس میں یہ مت سمجھیں کہ یہ تشدد یہ فرقہ واریت صرف پاکستان تک محدود ہے تقریباً پوری دنیا کا یہ حال ہے اور اس وقت جو غالب بیانیہ ہے وہ تقسیم در تقسیم کا بیانیہ ہے ا۔یہ ہمارے نئے اقتصادی نظام سے جڑا ہوا سوال ہے لیکن اس کے باوجود مایوسی کی کوئی بات نہیں اگر آپ ذرا تفصیل \"FB_IMG_1464187607641\"سے ان darkagesکو جو بارہویں صدی سے سولہویں عیسوی تک رہی اسکو اگر دیکھیں تو پتہ چلے گاکہ انہوں نے کہاں سے جنم لیا؟ یونان ،بابل اورنینو ا کے اس سنہری دور سے جن میں بہت برداشت تھی۔ قانون اور آئین کی پابندی تھی آرٹ اور لٹریچر کی ترقی تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ سنہری دور ختم ہوا اور ایک ایسا عہد تار چھایہ جس میں فرقے ،اور مذہب کے نام پر بے شمار جنگیں ہوئیں ۔ زیادہ دور نہ جائیں آپ صلیبی جنگوں کا حوالہ دیکھیں تو یہ صلیبی جنگیں ایک سطح پہ تو عہد تار کی علامت بنتی ہیں لیکن اسی عہد تار میں روشنی کی ایک کرن نظر آتی ہے کہ اگر یہ جنگیں نہ ہوتیں تو ظاہر ہے کہ بہت سے یونانی اہل فکر و فن کا براہ راست یورپ والوں سے مکالمہ نہ ہوتا اور غالباً یورپ میں جو عہد استقلال شروع ہوا وہ اسی وجہ سے ہوا جو کہ سولہویں صدی سے لے کے انیسویں عیسوی صدی تک رہا۔ آج ہم دوبارہ اسی صورتحال میں ہیں اور یہ ایک نیا عہد تار ہے جس کے اندر ہمیں مایوس ہونے کی اس لیے ضرورت نہیں ہے کہ اسی عہد تار میں سے کوئی نہ کوئی چیز ہمیں متحد کرنے کے لیے نمودار ہو گی۔ لیکن اس وقت ایک سطح پہ آپ دیکھیں کہ پوری دنیا کا ایک بیانیہ ہے۔ یہ بیانیہ بے پناہ متشدد ہے۔ اس کا تعلق ہماری تاریخ سے ہے اس کا تعلق ہمارے ثقافت سے بھی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یونان میں جو 500 قبل مسیح کے قریب کا زمانہ جو سنہرا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ وہی زمانہ بھی ہندوستان میں بھی سنہری زمانہ ہے برداشت کا ، ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو برداشت کرنے کا جہاں پہ بدھ مت ، جین مت اور ہندوازم یہ سارے بظاہر جہاں پہ ایک دوسرے کے مخالف تھے لیکن ایک کھلا مکالمہ ہو رہا تھا۔ یہی یونان میں ہو رہا تھا اور اسی طرح کا مکالمہ بابل اور نینوا میں ہوتا رہا لیکن اسی میں سے پھر متشدد تحریکیں پیدا ہوئیں جو یورپ میں عہد تار کی شکل میں وارد ہوئیں ۔ جس میں مذہب کی تعبیر لوگوں کو خارج کرنے پر منحصر ہے۔ تو یہ تقسیم در تقسیم ہے۔ یہ آپ کو فرقوں کی بنیاد پر نسل کی بنیاد پر قتل کرنے کا جواز مہیا کرتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا اور بالآخر میرا خیال ہے کہ اسی عہد تار میں سے روشنی کی کرن نمودار ہو گی۔

سوال:     آپ کیا دیکھتے ہیں کہ کیا جو یہ عدم برداشت کا رویہ پیدا ہوا ہے یہ کسی mindsetکی پیداوار ہے یا یہ ہماری معاشرتی اور سیاسی صورتحال کی پیداوار ہے یا ہماری معاشرتی اورسیاسی صورتحال اس mindsetکی پیداوار ہے؟

جواب:    سیاسی صورتحال تو بعد کی بات ہوتی ہے بنیادی طور پر تو اس کا تعلق اس بیانیہ سے ہے جو ایک بار ہمارے ہاں رائج پا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بیانیہ کوپروان چڑھانے والی قوتیں استعداد میں زیادہ تھیں اور دوسری بات یہ ہے کہ پوری دنیا کا بھی بیانیہ ہی ہے۔

سوال:     یورپ اور امریکہ کا بھی؟

جواب:    جی بالکل ! ان کا بھی ہے۔ ایک سادہ سی آپ کو بات کروں گا کہ اکیسویں صدی کا جو بڑا بحران ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا ایک جس کو آپ code of conduct کہیں کہ جو معاشرے کے ہر طبقے اور ہر طرح کے ملک پر یکساں لاگو ہو شاید ممکن نہیں ہے۔ موجودہ بیانیہ میں چند نئے اس طرح کے اصول پیدا کرنا ممکن نہیں ہے جو کہ برابری کی بنیاد پر ہوں۔ ایسا code of conductشاید UNO کی سطح پر کبھی بنایا جا سکے جو ایک بڑے ملک پر بھی اسی طرح لاگو ہو جیسے چھوٹے ملک پر بھی ۔ شاید کبھی کوئی ایسا ضابطہ اخلاق لایا جا سکے جو معاشرے کے بالادست طبقات کے لیے بھی اتنا ہی موثر ہو جتنا زیر دست طبقات کے لیے لیکن فی الحال ہم صرف امید ہی کر سکتے ہیں۔ اب بنیادی طورپر اس برصغیر کا اپنا ایک المیہ ہے کہ یہاں لوگ خوبصورت تو رہے لیکن نزاکت نہیں آئی اور اپنے حسین ہونے کی سزا بھی بھگتنی پڑی ظاہر ہے بیرونی حملہ آور آئے ہیں تو وہ اپنی سفاکی بھی ساتھ لے کر آئے ہیں بار بار مار پڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک شدید تناﺅ اور غم آتا ہے اور اس غم کے نتیجے میں جو ایک طرح کی اقتصادی بیچارگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے رد عمل میں تشدد پیدا ہوتا ہے۔ 60\’s میں ہمارے ایک بڑے ماہر نفسیات تھے لاکان تب تو ہم ان کا بہت مذاق اڑاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں دو ادارے ایسے ہیں جو موت کو glamoriseکرتے ہیں اور اگر ہم نے ان کا مناسب تحلیل نفسی نہ کیا اور ان کی نفسیاتی بنت کو نہ سمجھا تو ہم اس کے تباہ کن کردار سے بچ نہیں پائیں گے وہ ادارے جن کا ذکر کیا وہ تھے ”مذہب اور فوج“ ۔ یہ منظم ادارے ہیں طاقت ور لیکن یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ شاید سوچنے سمجھنے والے لوگ ان اداروں کا اس طرح سے تجزیہ کر کے ان کو معاشرے کے لیے مفید نہیں بنا سکے کہ غالباً جس کی طرف لا کان نے اشارہ کیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ جو طاقت اور موت کے نمائندے ہیں وہ طاقت ور ہیں اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ طاقت کے اس کھیل میں اس قدر طاقت ور ہو جائیں گے کہ بالآخر ان کی طاقت بے طاقتی میں تبدیل ہو جائے گی۔ یہی ہماری ایک واحد امید ہے۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جنسی بےچارگی مذہب کا غلط استعمال اور جہالت بھی معاشرے کر بگاڑ کے ذمہ دار ہیں؟

جواب:    میرا ذاتی خیال ہے کہ جہالت کوئی اہم عنصر نہیں ہے ہمارا تعلیمی نظام بے حد متشدد ہے ۔ نام نہاد انگریزی سکولوں سے لے کر مدرسوں تک آپ کو وہی ذہینیت نظر آئےگی جس میں تخلیقت کی گنجائش نہیں ہے اب آپ دیکھیں آپ کو بالکل غیر پڑھے لکھوں میں اس طرح کی عدم برداشت نہیں ملے گی جس طرح بظاہر پڑھے لکھے لوگوں میں ہے۔ تو تعلیم کے نام پہ ایک ایسا ایک ایسا mindset ہے جو اپنے وقتی مفادات کے لیے ہر اخلاقی اور غیر اخلاقی کام کرتا ہے ۔اور بعد میں اپنے آپ کو کسی مخصوص مذہنی یا انگریزی اصطلاح کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو تعلیم ہم دے رہے ہیں وہ چاہے oxfordکی ہو یا harvard میں ہو یا پاکستان کے کسی ادارے میں ہو سب کا معیار ایک جیسا ہی ہے۔ یہ انسان کو مہذب نہیں بناتے یہ انسان کو tolerance نہیں دیتے یہ دوسرے کے لیے محبت نہیں سکھاتے یہ دوسرے کے لیے نفرت اور فساد کرنا سکھاتے ہیں۔

\"FB_IMG_1464187678684\"سوال:     مرد میں موجود برتری کا احساس اور اس کا عملی مظاہرہ بھی معاشرے کی بگاڑ کی وجہ ہے؟

جواب:    Grey کی ایک باریک سی کتاب ہے \”Mens are from Mars women are from venus\” یہ دو الگ سیاروں کی مخلوق ہیں ۔ ان biological constructionہی الگ نہیں ہے یہ psychologicallyبھی مختلف ہیں لیکن اس کے باوجود اس میں ایک جو social constructionہے اس کا بڑا گہرا ہاتھ ہے تو Grey سے جزوی طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہم کہنے میں تو کہہ دیتے ہیں کہ مشرق میں زیادہ ہے لیکن مشرق اور مغرب میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس میں ایشیا کے بعض بہت ہی ترقی یافتہ ممالک ہیں جیسے جاپان وہاں بھی عورت کا وہی حال ہے جو یہاںہے امریکہ اور یورپ میں آپ جائیں تو وہاں بھی بنیادی کاموں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس میں جو چیز امید کی صورت ہے وہ یہی ہے کہ عورت اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھائے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔

سوال:     آزادی کے مطالبے کی سمت کا تعین کون کرے گا؟ وہ کون سی آزادی ہے جو عورت کو خود مختار بنا سکتی ہے جنسی آزادی مانگے تب وہ اپنے آپ کو بہتر طریقے سے پیش کر سکے گی؟ وہ کام کرنے کی آزادی مانگے، جائیداد میں حصے کی آزادی مانگے، مرد کے خلاف آواز اٹھانے کی آزادی مانگے اس آزادی کی سمت کیا ہونی چاہیے؟

جواب:    بنیادی طور پہ آزادی کا سوال بہت گہرے طور پر بندھا ہے ذمہ داری کے ساتھ۔ آزادی محض آزادی نہیں ہوتی وہ ذمہ داری لاتی ہے۔ یہ مرد اور عورت دونوں پر متعلق ہے کہ جب آپ آزادی کی چھتری میں آتے ہیں تو آپ کو ذمہ داری کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ آزادی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ لیکن آزادی کی قیمت بہت زیادہ ہے اور لوگ اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ مرد بھی عورت بھی لیکن جو لوگ اس کی قیمت ادا کرتے ہیں وہ اپنی زندگانی کو کس حد تک بہتر بنانے میں کامیاب ہوئے یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے۔ کچھ چیزیں عام طور پر جیسے یورپ میں بہت جنسی آزادی ہے۔ میں نے تو نہیں دیکھی اور یہاں پر ذرا کم ہے تو آپ کہیں تو یہ آپ کی راے ہے ۔ مجھے اپنے معاشرے میں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

سوال:     آپ اس کی وضا حت کس طرح کرتے ہیں؟

\"FB_IMG_1464187808772\"جواب:    میں ایک یورپ کا comparisonکرتا ہوں۔ تھوڑا سا حقائق میں چلے جائیں یورپ کے اندر لوگ بغیر شادی کیی اور شادی کر کے دونوں صورتوں میں ساتھ رہتے ہیں ۔ ہر دو صورتوں وہ ایک دوسرے پر ایک خود مختارانہ پابندی لگاتے ہیں جس میں عموماً بے وفائی نہیں ہوتی۔ بے وفائی ایک طرح کی  breaking news ہوتی ہے۔ لیکن برصغیر کے معاشرے میں بے راہ روی زیادہ ہے۔ بانسبت یورپ اور امریکہ کے یہ میرا اپنا تجربہ کہہ لیں یا observation کہہ لیں۔ اور ہمارے literatureمیں بھی اس کا بڑا ذکر ہے جیسے ”اے میرے روشن دان کے بلے گھر کا مالک آگیا ہے تو ادھر ادھر ہو جا“ یا ملکہ پکھراج کا دو بھری کا گیت ہے بڑا جو طاہرہ کے ساتھ مل کر گایا ہے اس کا مفہوم بھی ایسا ہی ہے جس میں خاتون بلا رہی ہے کہ آ جاﺅ میری ساس جاگ رہی ہے اب میاں جاگ رہا ہے ابھی چلے جاﺅ۔ اچھا خاوند آ رہا ہے تو میں جا رہا ہوں پھر آﺅں گا ۔یہ ہماری دو طرح کی اخلاقیات ہیں۔ اس دنیا کے بہت سارے معاشرے دہری اخلاقیات کے حامل ہیں۔ ہم بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔ ہماری surface moralityاور ہے underline moralityاور ہے۔ مثلاً ہم بظاہر پابندیوں کے بہت حق میں ہیں لیکن صرف زبان سے لیکن عمل میں ہم مادر پدرآزاد ہیں۔ اور ہم اس بات کو قبول بھی کرتے ہیں ۔ ہم اس بات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ بس قبول کرتے ہیں۔ بعض معاشروں میں بھی ایسا ہی ہے یہ کوئی ہمارے معاشرے سے مخصوص نہیں ہے۔ جیسے ہماری surface moralityہے کہ سچ بولو لیکن عملی طور پر ہم میں سے کوئی سچ نہیں بولتا ۔ (سچ بولنے کی جرات کرنی بھی نہیں چاہیے) چلیں یوں کہہ لیں لیکن یہ جو ایک surfaceاور undeline moralityکے درمیان valuesکے تضاد ہیں اس کی وجہ بے پناہ پیچیدگیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اچھا پھر یہ ہے کہ رد عمل میں بڑے عجیب و غریب مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو professionalسے discussکرنی چاہیے۔ وہ آپ کو اپنے محبوب یا میاں سے discussنہیں کرنی چاہیے۔ مثلاً  piles کا مسئلہ ہے یہ آپ کو  professional سے discussکرنا چاہیے اس کو public issueبنانے کی ضرور ت نہیں ہے ۔ وہ خواب جو آپ دیکھتے ہیں ان میں سے بیشتر خواب ایسے ہوتے ہیں کہ جو آپ تک محدود رہنے چاہیے کیونکہ اگر آپ اسکو publicکریں گے یہ سوچ کر کہ سب کو ایسے خواب آتے ہیں تو پھر ایسے معاشرہ چل نہیں سکتا۔ میں نے عرض کیا نا ہم عام طور جس بات کو issue بنا دیتے ہیں یہ کہہ کر جب یہ حقائق ہیں تو ان کو بیان کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ لیکن بعض حقائق ایسے ہیں جو بندے تک محدود رہنے چاہیے۔ مثلاًایک بہت نجی سا خواب ہے جو مروجہ اخلاقیات سے متصادم ہے اور سچ ہے کہ یہ سارے ہی لوگ دیکھتے ہیں اس میں کسی کی تخصیص نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ یہ خواب کسی سے shareکریں گے ؟ کیا آپ اس خواب کو T.V کی Screen پر دکھانا پسند کریں گے؟ تو میرا خیال ہے کہ وہ مناسب نہیں ہے۔ ایک societyکی communication کو ایک خاص حد تک محدود رہنا چاہیے۔ اس کو یوں کر لیں ایک بندے کو بیماری ہے وہ اس بیماری کو ہر ایک سے discuss کرتا ہے اس کو public issueبنا دیتا ہے تو دوست بھی بھاگ جائیں گے۔ اگر کوئی محبوب ہے تو وہ بھی بھاگ جائے گا اور اگر کوئی میاں ہے تو وہ بھی بھاگ جائے گا۔ تو میں سمجھتا ہوں کچھ چیزوں کو public کرنا مناسب نہیں ہے۔ وہاں یہ کریں جہاں پہ اس کی ضرورت ہے ہم ان چیزوں میں تمیز نہیں کر پاتے۔ کہ کس کو publicکرنا ہے ا ور کس کو نہیں ۔ ماں کے پیٹ میں بھی بچے کی privacy قائم نہیں ہے ہم ایسے عہد میں ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک زندگی کا private Sphere  ہونا چاہیے میں سمجھتا ہوں کہ ٹھیک ہے عورت کی    construction  ہے۔ لیکن conscious لیول پر ایک چیز ہوتی ہے spiritual dimension جس کا بظاہر مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ضروری ہوتی ہے تاکہ آپ کائنات کی ہر چیز سے خود کو متعلق محسوس کر سکیں وہ اس طرح کی spirituality آپ کو قدرت سے مکالمہ کر کے ہی مل سکتی ہے جو انسانوں سے مکالمے میں ممکن نہیں ہے۔ ہم سے وہ لوگ جو پودوں یا جانوروں سے مکالمہ کرنے کے اہل ہیں پہاڑوں سے دریاﺅں سے وہ شاید انسانی species کا بہتر نمونہ ہیں۔ اور شاید آنے والے وقتوں میں انہی میں سے کوئی ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  بریانی کی پلیٹ کے عوض بِکنے والے

سوال:     نصاب میں کس طرح کی تبدیلیوں کی آپ نشاندہی کرتے ہیں جو ابتدائی سطح پر ہونی چاہیے۔

\"FB_IMG_1464188047346\"جواب:    بات یہ ہے نصاب کے بارے میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ Oxfordہو Harvardہو Bostonہو یا پاکستان کا کوئی تعلیمی ادارہ وہ Lumsہو گورنمنٹ ایمرسن کالج ہو ان میں آپ جو مرضی نصاب بنا لیں۔ یہ ایک ایسا سسٹم ہے جس میں creativityکی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ان میں سے منحرف ہو جائیں اور ہم میں سے بہتر نکل آئیں۔ D.H Lawranceنے کہا تھا آج وہ بات بڑی مذاق لگے گی کہ دنیا کے تما م تعلیمی ادارے بند کر دئیے جائیں اس کی جگہ یہ صرف ایک کالج ہو جو لوگوں کی Administrationکے جتنی ضروریات کو پورا کرے وہ کہتا تھا کہ ایک کالج بس کافی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ بنیادی طورپر کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ ان اداروں کے اندر structure موجود نہیں ہے کہ creativityیا آزاد ذہن spiritualityکو پیدا کر سکیں۔ ہم usefulلوگ تو پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ادارے spirituality developedلوگ پیدا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اس کے نتیجہ میں روزگار کمانے والے اپنے personal agenda کو بہترطورپر پیش کرنے والے لوگ تو بلاشبہ پیدا ہو سکتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ مجھے یہ بات کرنی چاہیے کہ نہیں لیکن میرا اپنا ادارہ جس پر مجھے فخر ہے کہ میں گورنمنٹ کا لج لاہور کا طالب علم ہوں میں تو میاں نواز شریف صاحب ہمارے old ravianہیں۔ ایک old ravian کی حیثیت سے میرے دل میں ان کے لیے ہمدردی بھی ہے اور وہ اس وقت شاید ان قوتوں کا نشانہ ہیں جن کا زیادہ زور ہوتا ہے ۔ زیادہ بات نہیں کرتا لیکن ا پوزیشن میں عمران خان جو ہیں وہ Oxfordکے پڑھے ہوئے ہیں تو میرا نہیں خیال کہ احد و احباب میں کوئی زیادہ فرق ہے۔ میں یہ صرف بتا رہا ہوں کہ اگر تعلیمی ادارے spiritually developedلوگ پیدا کرتے تو دو مثالیں آپ کے سامنے نہ ہوتیں۔ ان دونوں کی میں spiritualityکے لیو ل کی بات کر رہا ہوں۔ اس لیول پران دونوں لوگوں میں ذرا برابر فرق نہیں ہے ویسے مجھے دونوں سے ہمدردی ہے۔ یہ لوگ جسے آپ کہیں سچی روحانیت اس کے قابل بھی نہیں ہیں۔ یہ اسی طرح کی exampleہیں جس طرح کا ہمارے تعلیمی ادارے ہمیں دے سکتے ہیں۔ اس میں آپ کے skillسے لے کر سب چیزیں شامل کرلیں یہ ایک ایسی صورت ہے اس میں آپ اگر نصاب میں تبدیلی کر بھی دیں تو پڑھانے والے تو وہی رہیں گے۔ ان کا personal agendaوہی رہے گا۔ اگر آپ نصاب میں تبدیلی کر بھی دیں گے تو اس سے کیا نتیجہ برآمد ہوگا؟ یہ بات کہی جاتی ہے کہ نصاب بہت ہی یک طرفہ ہے۔ لیکن بہت سے معاشروں میں یک طرفہ ہی نصاب ہے۔ ایک خاص طرح کی cultural heritageہے ایک ہی طرح کے heroہیں ظاہری بات ہے دوسری جگہ کے heroہیں وہ ہمارے villainہیں۔ اس طرح کی صورت تقریباً ہر جگہ پر ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر تعلیمی نظام میں کوئی اس طرح کی گنجائش ہو جہاں spiritualityکا بہتر بندوبست ہو یا جس کو صحیح معنوں میں تہذیب کہیں وہ انہی لوگوں میں ہوتی ہے جہاں شاید لوگ جانوروں میں رہتے ہیں یا جہاں لوگوں کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سوال:     ایک ایسا معاشرہ جہاں جنسی آزادی ہو اورایک معاشرہ جہاں جنسی آزادی نہ ہو کیا ان میں کوئی فرق ہوتا ہے ؟

\"khalidجواب:    جنس ظاہر ہے کہ فطری عمل ہے لیکن ہر معاشرے میں کچھ نہ کچھ پابندی ضرور ہے۔ اب میں ایک biological  بات کرتا ہوں جانوروں کے اندر جنس کا عمل اپنے mating seasonکا مرہون منت ہے اس کے علاوہ وہ matingنہیں کرتے انسان میں بھی وہ mating seasonہے۔ لیکن انسان اس کو observeنہیں کرتا۔ تو جس چیز کی زیاتی ہوتی ہے تو وہ بربادی کرتی ہے لیکن میرا اپنا ایک نقطہ عمل یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو کہا جاتا ہے کہ یہاں جنسی گھٹن بہت ہے۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا میرے خیال میں پتہ نہیں اسے منفی کہنا چاہیے یا مثبت جتنی جنسی آزادی یہاں ہے دنیا کے بہت کم معاشروں میں ہیں۔ لیکن معاشرے کے دوسرے معاملات کی طرح ان کاموں میں بھی ہم بد صورت ہیں

سوال:     ویسے لوگ جاننا چاہیں گے کہ جو آزادی عام آدمی کی سمجھ سے بالکل باہرہے آپ اس کی وضاحت کس طرح کرتے ہیں ۔ جنسی آزادی سے کیا مطلب لیتے ہیں ۔ کیونکہ آپ کی اس بات سے کثیر لوگ اختلاف رکھتے ہیں۔

جواب:    بالکل اختلاف کرنے کا حق ہے انہیں میں سمجھتا ہوں کہ جو جنس کا نارمل تصور ہے اس سطح پر تو پاکستان اور ہندوستان میں تو بہت آزادی ہے۔ لیکن یہ کہ جہاں پر دو بالغ افراد اپنی روحانی اور جسمانی بڑھوتری کے لیے اکٹھے ہوں وہ ایک مشکل سطح ہے اوروہ پوری دنیا میں ایک مشکل سطح ہے۔ تو اس سطح پر شاید آپ کی بات درست ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو ہمارے دوہری اخلاقیات ہیں۔ بظاہر تو ہم پر بہت پابندیاں ہیں لیکن ہیں نہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ سچ بولیں لیکن بولتاکوئی نہیں۔ یہ پروپیگنڈا بہت کیا جاتا ہے کہ بہت گھٹن ہے فلاں ہے اس سے یہ ہوتا ہے اس سے وہ ہوتا ہے یہ گھٹن ہر جگہ پر ہے اپنی جگہ پر۔

سوال:     کیاعموما دنیا میں عورتیں محروم ہیں؟

جواب:    جی بالکل! ایک سطح پہ جس کو آپ معاشی سطح کہیں ۔ یہ UNOکے اعداد و شمار ہیں (ذرا پرانے دے رہا ہوں)کہ جتنی بھی private propertyہے صرف 1%عورتوں کے نام ہے۔ باقی 99%مردوں کے نام ہے تو یہ economic systemکے حالات ہیں۔ یہ پھر ہمارے cultureکا مسئلہ بھی ہے۔ جیسے آپ دیکھیں کہ ہمارے ہاں تین طرح کے قوانین ہیں۔ ایک وہ قانون ہے وہ جو custom کی صورت میں موجود ہے۔ اور وہ طاقتور ہے۔ ایک وہ قانون ہے جو ہمارے مذہب نے دیا ہے جو شریعہ نے دیا ہے وہ اپنی جگہ پر بہت طاقتور ہے لیکن جہاں اس کا تصادم customسے ہوتا ہے تو customزیادہ طاقتورہوجاتا ہے۔ اور تیسرا جو ہے وہ British نے دیا جو basically common lawہے۔ Britishبے چاروں کا کیا ہے وہ رومن لاء ہے۔ بنیادی طور پر اور رومن mesopotamiansکے بعد وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے lawمیں contributeکیا۔ اب یہ دیکھیں کہ عورت کے حصے میں جائیداد کی بات کرتا ہوں معمولی سی بات ہے لیکن اگر رومن لاء کی بات کریں تو دونوں کو یکساں حصہ ملنا چاہیے اگر اسلامک law کی بات کریں۔ تو بیٹی کو نصف ملے گا۔ لیکن آپ دیہاتوں کو تو چھوڑ دیں شہروں میں بھی خود لڑکیاں اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں یہ customہے۔ بھائی کے حق میں ۔ میں اپنے بھائی سے کیوں لوں۔ یہ custom کی طاقت ہے۔ جو بھی law بنایا جائے اس میں customکو مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ اس میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ وہ قوانین پیچھے رہ جاتے ہیں جو customکے ساتھ مطابقت نہ رکھیں یہ چھوٹا سا مسئلہ لے لیں۔ حکومت کی طرف سے one dish پر ہے۔ یہ اکثر violate ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ ہمارے cultureسے متصادم ہے۔ ہماری شادی بیاہ، ماتم اس کا زیادہ تعلق customسے ہے۔ یہ مذہب کو بھی over lapکرتے ہیں۔دنیا میں عزاداری 50طرح سے ہوتی ہے لیکن عزاداری کی جو صورتحال برصغیر میں ہے اس کا بڑا تعلق ہے رام لیلہ کی روایت سے ہے اور وہ اسی لیے مقبول بھی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جس سے ایک طرح کی جڑت بنی اور مسلمانوں نے society میں adjust کیا ان میں سے جو بریلوی اور ااثنا ؑعشری مسلک سے تھے وہ برصغیر کے روایت کے مطابق ڈھل گئے جیسے رام لیلہ بالآخر عزاداری بن گئی اس کا احترام اپنی جگہ ہے لیکن میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ inclusionہے۔ شمولیت ہے ۔لیکن اس کے بعد یہاں پہ اسلام کا وہ version زیادہ مقبول ہوا جو لوگوں کو exclude کرتا ہے جو متشدد ہے۔ جو خارج کرتا ہے۔ ہم خود اس کی پیداوار ہیں اس خارج کی کیونکہ ہمارا بیانیہ بدلا جا چکا ہے۔ اس بیانیہ کے مطابق حق حکمرانی اسی کو ملنا چاہیے جو طاقتورہے ۔ مجھ سے پوچھیں تو ملک کی تقسیم فقہی بنیادوں پر کر دینی چاہئے ۔ جس علاقے میں جو فرقہ تعداد میں زیادہ ہو وہاں کے آمور کا ذمہ دار ہو۔

اسی بارے میں: ۔  سعودی عرب نے لبرل ہونے کا عزم کر لیا

سوال:     کیاہم ایک فاشسٹ معاشرے میں رہتے ہیں؟

\"FB_IMG_1464187796402\"جواب:    جی ہاں بالکل! ہمارا مکالمہ ہی یہ ہے ۔ ہمارا بیانیہ ہی یہ ہے ۔ اس لحاظ سے صرف ہم ہی نہیں یہ ٹرم اٹلی سے آئی ہے وہ بھی فاشسٹ ہیں کہ آپ کسی کی different opinion کو برداشت نہیں کرتے۔ اس میں یورپ اور ہماری کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ چاہے ہم ہوں یا ہندوستانی ہوں۔ حکومتیں چاہے جو مرضی ہوں لیکن ہماری بنیاد فسطائیت پہ ہے germanقوم کا analysis کریں وہ بھی ایسی ہے،  Spanish بھی ایسے ہی ہیں ایسے ہی تو Francisco Franco اتنی دیر حکومت نہیں کرتا رہا تو جب تک یہ بنیاد میں نہ ہو جب تک لوگوں میں Fascism موجود نہ ہو تو کیسے حکومت میں یہ reflect کر سکتی ہے۔ اور یہ سب پاپولر ووٹ سے آنے والے ہی ہیں۔ Hittlerجو ہے وہ پاپولر ووٹ ہے۔ بہر حال وہ چاہے فوج کے ذریعے قبضہ کریں یا electہو کر آئیں وہ ذہن یہ ہوتا ہے کہ کسی different opinionکو برداشت نہیں کرنا جمہوریت جتنی بھی بری ہے اس کا بنیادی مسلک یہ ہے کہ ہر ایک بندے کی رائے ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بحیثیت مجموعی ہم ایک فسطائی معاشرہ ہیں۔

سوال:     آپ نےErich frommپہ بہت کام کیا۔ اس کے بارے میں بہت پڑھااس کے بارے میں لکھا۔ پاکستانی معاشرے کو نظر میں رکھتے ہوئے آپ کو لگتا ہے کہ Erichfrommآج بھی relevantہے؟

جواب:    دیکھیں Erich fromm نے جس زمانے میں لکھا تو بنیادی طور پر مسائل تو وہی ہیں تو اس کا خیال تھا کہ جو انسانی معاشرے کی تباہی ہے اس کو دور کرنے کے لیے ہمیں ایک sane society بنانی پڑے گی جس کے لیے اس نے ایکconcept جو آپ یوں سمجھ لیں Budhismاور Socialism کا ملغوبہ تھا۔ اب جن فسطائی رجحانات کا   مطالعہ  Erich frommنے کیا تھا وہ تو بہت پرانی بات ہو گئی ہے اور وہ تو شاید اتنے فسطائی تھے بھی نہیں۔ یقین مانیے ہٹلر، مسولینی، ہلاکو اور چنگیز یہ واقعی بڑے رحمدل لوگ لگتے ہیں۔ ان میں تمام تر خرابیان ہوں گی لیکن فسطائیت کی جو سطح آج ہے وہ ان کے پاس بھی نہیں تھی آج جس طرح ہم دوسرے کو eliminateکرتے ہیں چھوٹی چھوٹی بات پر۔ اب آپ یہی دیکھ لیجئے کہ اگر مریض مر گیا ہے تو ڈاکٹر کی پٹائی ہو رہی ہے۔ ہر level پر ایک فسطائیت ہے اپنی طاقت کا اظہار ہے اور قائدے قانون کو نہ ماننے کی جوسطح آج ہے تو وہ لوگ بڑے با رحم لوگ لگتے ہیں ۔ مرزا ابن حنیف فرماتے تھے بہت بڑا انسان تھا چنگیز خان اس سے زیادہ رحم دل بندہ ہی کوئی نہیں تھا۔ تب تو ہمیں مذاق لگتا تھا لیکن آج لگتا ہے کہ آج کے کسی بھی پاکستانی کو دیکھ لیں تو واقعی چنگیز خان تو بہت رحم دل ہے جو حالات ہمارے ہیں چھوٹی چھوٹی بات پہ لوگ دوسرے پر تشدد کرتے ہیں اور اس سے بظاہر ان کا کوئی مقصد بھی نہیں ہوتا ۔ انسان تو انسان ہم جانوروں سے بھی نبرد آزما ہیں ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں یونیورسٹی سے آ رہا تھا تو دو بچے تھے وہ بمشکل آٹھ سال کے ہوں گے ایک کتے کو درخت سے باندھ کر اس کو سنگسار کر رہے تھے۔ میں 8 سال کے بچوں کو کیا کہہ سکتا تھا۔ میں نے صرف کتے کو کھول دیا اور کہا بیٹا اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو ہنس کر کہنے لگے کے یہ کیا بات ہوئی؟ وہ نہیں سمجھ سکے کہ ان کو تکلیف بھی ہوسکتی ہے اس احساس کا حتم ہو جانا انسان کو مزید کمتر بنائے گا۔

 سوال:    فاشزم کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟

جواب:    ان میں سے کچھ وجوہات بین الاقوامی بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہمارا فیصلہ کہ ہم کو یہ ہی بننا ہے ہمارے مقتدر حلقوں کا شروع سے ہی یہ فیصلہ ہے ۔ جو آپ کے آئین میں objective resolution کی صورت میں موجود ہے۔ میں غلط یا صحیح کے چکر میں نہیں پڑتا اگر یہ فیصلہ ہے تو پھر یہی ہو گا۔ اس کے نتیجے میں 8 سال کا بچہ کتے کو باندھ کے مارے گا اورکل وہ کسی کو قتل بھی کرے گا۔ اس کی وجہ ہے ہم لوگوں کو مار دھاڑ کے لیے آسانی سے پرجوش کیا جا سکتا ہے ۔ جنگ وجدل کے شاہکار ہمیں ویسے ہی بہت اچھے لگتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے وہ ہی ہمارے نجات دہندہ ہیں (پہلے مسلم حملہ آور سے لے کر موجودہ سپہ سالار تک)۔ لیکن آپ لوگوں کو کیسے پرجوش کریں گے کہ درخت لگائیں۔ یہ کہ جانور بھی زندہ ہوتے ہیں ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے ان کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ اس کے لیے لوگوں کو پر جوش کرنا بڑا مشکل ہے۔ جو ہوں گے پھر وہ انسانیت کا بہتر نمونہ ہوں گے۔ تو جو ایک فیصلہ کیا اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور نتیجہ برآمد ہو نہیں سکتا تھا۔آپ کا اس کے نتیجے میں ہی نصاب بنا اس کے نتیجے میں ہی فرقہ واریت بنی۔ اس کے نتیجے میں ہی کچھ ادارے آپ کے مضبوط ہوئے اور اس کے نتیجے میں ہی کہ ہم بازور دنیا کو فتح کریں گے اور جو ہمارا فیصلہ تھا آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا

سوال:     تو اگر اب ہم چاہیں کہ اس سب کو reverse کریں تو کیا یہ ممکن ہے؟

جواب:    یہ بہت مشکل ہے اس بیانیہ کو reverseکرنا۔ اس کو reverseکرنے کا فیصلہ ہو بھی جائے۔ فرض کریں ویسے مجھے کوئی indicationنہیں لگتی کہ مقتدر حلقوں میں کوئی اسے reverseکرنا چاہتا ہو۔ لیکن فرض کریں کہ کوئی ایسا معجزہ ہو جائے تو جو کام ہم نے 70سال میں محنت سے بنایا ہے اس کو reverseکرنے میں 140 سال لگنے چاہیے ۔ میں مایوس نہیں ہوں لیکن اتنا وقت تو لگے گا۔

سوال:     آپ نے پاکستانی سیاست میں بھٹو کو ہمیشہ بڑا پسند کیا ہے۔ کیاآپ واقعی سمجھتے ہیں کہ بھٹو صاحب کسی انقلاب کے رہنما تھے؟

جواب:    نہیں! بھٹو صاحب ایک باصلاحیت انسان تھے۔ جیسے خوبصورت چیزیں attractکرتی ہیں ویسے ہی ہم بھی attractہوئے ان سے۔ لیکن وہ کوئی change agentبن سکتے تھے میرا نہیں خیال۔ میں ذاتی طور پر ان سے زیادہ ان کی بیٹی کو پسند کرتا ہوں لیکن تبدیلی وہ بھی نہیں لا سکی۔ اور اس نے بھی وہی بیانیہ اپنایا جو طاقت کے ایوانوں نے اسے سیکھایا۔

سوال:     کیا ان سے کوئی متضاد بیانیہ بھی ہے؟

جواب:    نہیں counternarirtiveنہیں ہے۔

سوال:     کیوں نہیں ہے؟

جواب:    counter  narrative ہے ہی نہیں اگر ہے بھی تو وہ اتنا کمزور narrativeہے کہ اس کے پاس spaceنہیں ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنی آزادی کو کہاں پر enjoyکر سکتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست شاعر ہوتے تھے وہ کہتے تھے کہ بند کمروں میں ہے آزادی۔  counter narrative پاکستان میں پنپ نہیں سکا۔ اس کی وجہ بے شک ان لوگوں کی نااہلی کہہ لیں یا قدرت کا جبر ۔کہیں اگر ہے تو اس کا کوئی impactنہیں ہے۔ جگہ جگہ پر شیعہ کافر لکھا نظر نہیں آنا logical outcomeہے کیونکہ خارج کا بیانیہ ایسا ہی ہوتا ہے۔

سوال:     تو کیا کوئی ایسا حل تجویز کر سکتے ہیں آپ کہ جو اقلیتوں کو اکٹھا کر دے؟ شاید نیا بیانیہ بنانے میں مدد مل سکے؟

جواب:    ایک بیانیہ کو بنانے میں ہم 70سال سے لگے ہوئے ہیں اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے جو پرانی ہے۔ اگر آپ اس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر بھی لیں تو آپ کو 140سال چاہیے اس کو تبدیل کرنے میں تو مجھے تو کہیں سے کوئی insdicationدکھائی نہیں دیتی جس میں بیانیہ تبدیل ہونے والا ہے۔ آپ بتا دیجئے کہ کوئی indicationہو۔

سوال:     اس وقت پاکستانی فوج جس operationمیں مصروف ہے اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ کیونکہ قوم بہت پر امید ہے۔مثال کے طور پر لوگ کہتے ہیں کہ دھماکے کم ہوئے ہیں اور دہشتگردی میں کمی آئی ہے۔ جس میں دو چار باتیں اور بھی ہیں کہ investmentآ رہی ہیں۔ economicصورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ GDP بہتر ہو رہی ہے۔ اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب:    دہشت گردی کی اپنی ایک economy ہوتی ہے۔ اور اس سے economyشاید بہتر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے دہشتگردی ختم ہو جائے ۔ جنگ ختم ہو جائے تو جو لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ نقصان میں چلے جاتے ہیں۔ وہ اصل طاقتور لوگ ہیں انہوں نے یہ بیانیہ بنایا ہے یہ بدلنا مشکل ہے۔

سوال:     مقتدر حلقے چاہے تب بھی نہیں؟

جواب:    کوئی indication مجھے تو دکھائی نہیں دے رہی۔

سوال:     عسکری پیش قدمی کو آپ indicationنہیں کہتے؟

جواب:    جو میں نے پہلے کہا نایہ cosmeticہے۔ under lying آپ کا بیانیہ تو تبدیل ہی نہیں ہوا۔ اور اس کے chances   بھی کوئی نہیں ہیں کیونکہ ان دونوں لڑنے والوں کا بیانیہ تو ایک ہی ہے۔ تو یہ مل کر حکومت کریں تو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ ایک محدود cosmetic سا کام ہے ۔ جس میں پتا نہیں کون لوگ مارے جائیں گے۔ مجھے نہیں اندازہ کہ کن لوگوں کو مارا جائے گا۔ دیکھیں ایک بڑی سادہ سی بات ہے کیا American چاہیں گے کہ دہشتگردی ختم ہو جائے؟ جنگیں ختم ہو جائیں اسلحہ نہ بکے تو ظاہر ہے کہ ان کی economy collapseہو جائے گی۔ ان کی national identity خطرے میں پڑ جائے گی۔ اگر ان کے دشمن نہیں رہیں گے تو ان کی identityکدھر جائے گی۔ تو ہمارا بھی یہی المیہ ہے ۔ ہماری establishment کا عذاب یہ ہے کہ ان کو مارنے کے لیے دشمن بنانا پڑتا ہے۔ ورنہ دشمن ان کا بھی کوئی نہیں ہے۔اب یہ ایسی باتیں ہیں جن کو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ بعض لوگ بہت پر امید ہیں کہ یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا لیکن مجھے تو ایسی کوئی indication نہیں نظر آ رہی۔ کیا جو ہمارا خواب ہے ساری دنیا کو فتح کرنے کا تبدیل ہو گیا ہے سوال ہی نہیں ہوتا؟ یہ جو ہماری گھٹی میں ڈالا گیا ہے اس کو آپ کیسے changeکر سکتے ہیں۔ لہٰذا میں اس کوٹھیک کہتا ہوں۔ ایسے ہی چلنے دیں ہمیں آپ کو اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

سوال:     نہیں یہ اس طرح سے کتنی دیر چل سکے گا؟

جواب:    یہ اپنی طاقت کی انتہا پر جا کر ختم ہو گا۔

سوال: اگر آج فرایڈ زندہ ہوں اور پاکستان کے معاشرے میں ہوں تو پاکستانی معاشرے کے بارے میں ین کی کیا رائے ہو؟

جواب:    بہت اچھی رائے رکھتے کہ جو میں نے prediction کی تھی سب سچ ثابت ہوئی۔ آج تو دنیا لگتا ہے کہ Freudکے analysisکے لیے بنی تھی تو وہ بہت خوش ہوتا ۔ اپنے زمانے میں تو اس کی بڑی مخالفت تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علی نقوی کی دیگر تحریریں
علی نقوی کی دیگر تحریریں

One thought on “پروفیسر خالد سعید  سے ایک ملاقات

  • 06-06-2016 at 11:38 pm
    Permalink

    Khalid Saeed is mentor for the last 3 generations . He has always inspired a host of students and we gave been lucky enough to have him for a longer period of time . The interview was a real treat . Well done ALI

Comments are closed.