انڈیا: اتر پردیش کا ایک مسلم خاندان جس کے مرد تو ہندو بن گئے لیکن کچھ عورتوں نے انکار کر دیا


اختر علی

                                             سوال یہ ہے کہ کیا 64 سال تک مسلمان رہنے والے اختر علی کیا باقی کی زندگی دھرم سنگھ بن کر جی لیں گے؟

آپ کا نام کیا ہے؟ ’میرا نام اختر علی ہے۔‘ 64 سالہ اختر علی شاید بھول گئے تھے کہ باغ پت کے بدرکھا نامی گاؤں میں وہ دو اکتوبر کو ہندو مذہب اختیار کر چکے ہیں۔ اچانک انھیں یاد آیا اور انھوں نے کہا، ’نہیں میرا نام اب دھرم سنگھ ہے۔‘

تین اکتوبر کی شام کو پانچ بجے کا وقت ہے ان کے گھر کے پیچھے ایک چھوٹی سی مسجد ہے مسجد سے آذان کی آواز آتی ہے، دھرم سنگھ درمیان میں ہی بات چیت بند کر دیتے ہیں اور آذان ختم ہونے تک خاموش رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا 64 سال تک مسلمان رہنے والے اختر علی اپنی باقی کی زندگی دھرم سنگھ بن کر جی لیں گے۔ وہ کہتے ہیں ’مجبوری ہے جی، نہ وہاں سُکھ تھا نہ یہاں چین ہے۔ یووا ہندو واہنی نے یوگی مودی سرکار سے انصاف دلوانے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر یہاں بھی انصاف نہیں ملا تو؟ وہ کہتے ہیں، ’وہی ہوگا، نہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔‘ کیا اچھا نہیں ہوتا کہ ’انصاف‘ کے لیے آپ کو ہندو نہیں بننا پڑتا؟ اس سوال پر دھرم سنگھ خود کو سنبھالتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

اختر علی

                                                     دلشاد کا کہنا ہے کہ اب وہ دلیر سنگھ بن گئے ہیں

اتر پردیش میں باغ پت شہر سے 35 کلومیٹر دور بدرکھا گاؤں میں دو اکتوبر کو اختر علی اور ان کے تین بیٹوں کے ساتھ ایک بہو اور دیگر آٹھ افراد کے ہندو بننے کی خبر آئی۔ دلشاد کا کہنا ہے کہ اب وہ دلیر سنگھ بن گئے ہیں۔ ارشاد کہتے ہیں کہ انھیں اب کوی کہا جائے اور نوشاد کو اب نریندر سنگھ نام اچھا لگ رہا ہے۔

دلشاد کی بیوی منسو کا بھی کہنا ہے کہ وہ اب منجو ہیں۔ نوشاد یعنی اب نریندر کی بیوی رقیہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنے ہی مذہب میں رہنا ہے اور ان کے شوہر جھوٹ بول رہے ہیں کہ وہ ہندو بن گئی ہے۔

رقیہ جب یہ بات مجھے بتا رہی تھیں تو نریندر نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ رقیہ نے اپنے شوہر سے کہا کہ ’آپ کو جو بننا ہے بنو، مجھے اپنے ہی مذہب میں رہنا ہے۔‘

رقیہ کی گود میں چار سال کا ان کا بیٹا ناہید ہے۔ نریندر کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ناہید بھی ہندو بن گیا ہے۔ اس پر رقیہ شدید اعتراض کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’تم بنو جو بننا ہے۔ یہ مسلمان ہی رہے گا۔‘

نریندر اپنی بیوی کو کوئی جواب نہیں دے پاتے۔ اسی دوران ناہید اناج کی بوری پر رکھے اس کیسری کپڑے کو اپنے کندھے پر ڈال لیتا ہے جسے اوڈھ کر نوشاد نریندر بنے تھے۔ رقیہ ناہید کو ڈانٹتی ہیں اور اس کپڑے کو وہیں رکھ دیتی ہیں۔

اختر علی

                                                       یووا ہندو واہنی کے سوکیندر کھوکھر اور یوگیندر تومر نے اس خاندان کو بدرکھا گاؤں کے ایک مندر میں مسلمان سے ہندو بنایا

بدرکھا گاؤں میں اس خاندان کا کوئی گھر نہیں۔ یہ گاؤں کے ہی جسبیر سنگھ چودھری کے گھر میں پچھلے دو ماہ سے رہ رہے ہیں۔ یہ بڑا سا گھر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یووا ہندو واہنی بھارت نام کی تنظیم نے اسے یہ گھر دلایا ہے۔

یووا ہندو واہنی بھارت، کے اتر پردیش کے سربراہ سوکیندر کھوکھر اسی گاؤں کے ہیں اور انھوں نے ہی یہ گھر دلوایا ہے۔ کیا یہ تنظیم ہندو یووا واہنی سے مختلف ہے؟ سوکیندر کہتے ہیں کہ ’ہندو یووا واہنی کو یوگی جی نے وزیر اعلی بننے کے بعد بند کر دیا تھا۔ یہ تو الگ ہے جی۔ ہمارے قومی سربراہ شووراج سنگھ چوہان (مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نہیں) ہیں، اور رابطہ کار امر سنگھ۔

یووا ہندو واہنی کے سوکیندر کھوکھر اور یوگیندر تومر نے اس خاندان کو بدرکھا گاؤں کے ایک مندر میں مسلمان سے ہندو بنایا۔ سوکیندر کا کہنا ہے کہ یہ اسلام سے آجز آ گئے تھے اور اپنی مرضی سے ہندو مذہب کو اپنایا ہے۔

یووا ہندو واہنی کس حق سے لوگوں کا مذہب تبدیل کراتی ہے؟ سوکندر کہتے ہیں کہ ’کچھ نہیں جی، بس کوئی مسلمان سے ہندو بنتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ میں نے ان سے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ ہاں، گھر ضرور دلوایا ہے، لیکن یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ انھیں یہ گھر بھی چھوڑنا ہوگا۔‘

رقیہ

                                                                 نوشاد کی بیوی رقیہ نے ہندو بننے سے انکار کیا

دوسری طرف نوشاد کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ 29 ستمبر کو سوکیندر کھوکھر سے ملنے گئے تھے۔ انھوں نے کہا وہ میرے بھائی گلشن کی موت میں پولیس اور سرکار سے مدد کرائیں گے۔ انھوں نے ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور کئی طرح کی مدد کی۔ مذہب بدلنے کی بات بھی وہیں ہوئی۔ وہیں ہم نے طے کیا کہ ہندو بننا ہے۔‘

دلشاد جو کہ اب دلیر سنگھ بننے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے ہماری بہت مدد کی جی۔ بس بھائی کے قتل میں انصاف مل جائے۔‘ جب دلیر سنگھ سے پوچھا کہ اس گھر میں آپ کو کب تک رہنے دیا جائے گا تو ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ’پتہ نہیں جی کہاں جاؤں گا۔ اگر یہاں آنے کے بعد بھی کچھ فائدہ نہیں ہوا تو پچھتاوا ہی ہوگا۔ ہم کہیں کے نہیں رہ جائیں گے جی۔‘

دلشاد کی بیوی منسو بھی خود کو ہندو بتا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ منجو ہیں۔ منسو کو منجو بننا کتنا اچھا لگ رہا ہے؟ مٹی کے چولہے پر گوبر کے اپلے سے کھانا پکا رہی منجو اس سوال پر چپ ہو جاتی ہیں۔ پھر کہتی ہیں کہ ’ابھی تک تو گاؤں کے ہندؤوں نے کافی مدد کی ہے جی۔ آگے کا نہیں پتا۔‘

رقیہ

                                                              خاندان کی ان دونوں بہوؤں نے مذہب تبدیل نہیں کیا

مذہب تبدیل کرنے پر خاندان میں اختلاف

ارشاد کی بیوی آشما اپنے شوہر کے ہندو بننے سے ناراض تھیں اور وہ گھر چھوڑ کر میکے چلی گئیں۔ شبارا بھی اسی خاندان کی ایک بہو ہیں۔ انھیں بھی گھر کے مردوں نے ہندو بننے کے لیے کہا تھا، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ شبارا کہتی ہیں کہ ’میں جو ہوں، وہی رہوں گی۔ ان کو لگتا ہے کہ ہندو بننے سے بیٹے کی موت میں انصاف مل جائے گا تو اچھا ہی ہے۔ میں بھی اس کی دعا کرتی ہوں۔‘

آنگن میں بیٹھی برتن دھو رہی شبارا بڑی مایوسی سے کہتی ہیں کہ ہندو مسلم کے پھیر میں خاندان بکھر گیا۔ جب یہ خواتین یہ باتیں کر رہی تھیں تو گاؤں کے کئی لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ وہ اس خاندان کو کئی بار سمجھاتے نظر آئے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔

ان کے سکھانے کے بعد اس خاندان کا بیان فوراً بدل جاتا ہے۔ حالانکہ اس گھر میں رقیہ ایک ایسی خاتون ہیں جو سب کے سامنے کہتی ہیں کہ ان کے والد نے جلد بازی میں بہک کر فیصلہ کیا تھا۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 20 افراد والے اس خاندان کے 12 لوگوں نے ہندو مذہب اپنا لیا ہے۔ اگر اس خاندان سے بات کریں تو کُل چھ لوگ کھل کر کہتے ہیں کہ وہ ہندو بن گئے ہیں۔ پورے گاؤں میں اس وجہ سے ہلچل ہے۔

رات کے آٹھ بج گئے ہیں۔ راجکمار اسی گاؤں کے ہیں اور یہاں کے پردھان ہیں۔ ان کے گھر پر کئی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ گریجویشن میں پڑھنے والے کچھ نوجوان بھی ہیں جو آپس میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میڈیا والے تو پاگل ہو گئے ہیں، انھیں نہیں پتا کہ جب تک فائدہ ہے تب تک ہی یہ ہندو رہیں گے، پھر وہ مسلمان ہی بنیں گے۔

گاؤں میں پولیس والے بھی آئے ہیں۔ ان میں سے ایک اہلکار نے بات چیت کے دوران کہا کہ جو نہ کھائے سورا (سؤر) ہندو نہ ہووے پورا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو تو ہو گیا ہے، لیئکن اسے سؤر کھلا کر دکھا دو۔ گاؤں کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک دو دنوں میں آٹھ لوگ اور ہندو بن سکتے ہیں۔ حالانکہ یووا ہندو واہنی تنظیم اس سے انکار کر رہی ہے۔

منجو

                                                  دلشاد کی بیوی منسو بھی ہندو بنے کا دعویٰ کر رہی ہیں

کیوں ہندو بننے کا دعویٰ کر رہا ہے یہ خاندان؟ مذہب بدلنے کے بعد بطور ہندو ان کو کونسی جاتی ملے گی؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5712 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp