آخری بیسی


mubashirمجھے گناہ ثواب جنت جہنم جیسی باتوں سے کم ہی دلچسپی ہے۔

صاف صاف بتادوں کہ بہت عرصے سے نماز نہیں پڑھی تھی۔

ہاں، آج بڑے دنوں بعد پڑھی ہے۔

ذرا دم لیں، ابھی بتاتا ہوں کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔

میں دو سال پہلے سعودی عرب گیا تھا۔ میری بیوی عمرہ کرنا چاہتی تھی اور میں مکہ اور مدینہ دیکھنا چاہتا تھا۔ عمرے کے ثواب سے زیادہ مجھے خانہ کعبہ کو چھونے اور روضہ نبی کی جالی میں جھانکنے کی خواہش تھی۔

وہ خواہش پوری ہوئی، اب سعودی عرب جانے کا کیا کام؟

لیکن سال ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے، دفتر کے ایک ساتھی نے کہا، ’’مبشر بھائی، بیسی ڈالیں گے؟‘‘

بیسی یعنی بیس قسطوں میں ادا کی جانے والی رقم جو کسی ایک مہینے کسی ایک شخص کو پوری مل جاتی ہے۔

’’کاظم بھائی، میری تنخواہ سے پیسے نہیں بچتے، میں بیسیاں نہیں ڈالتا۔‘‘ میں نے انکار کردیا۔

 ’’مبشر بھائی، کچھ پیسے بچالیں کریں، کام آجاتے ہیں۔ اور بیسی کریڈٹ کارڈ اور بینک لون سے بہتر ہوتی ہے۔ اس میں سود نہیں دینا پڑتا۔‘‘

کاظم کی بات دل کو لگی۔ میں نے ہامی بھرلی۔ ہر ماہ کسی نہ کسی طرح پیسے بچاکر انھیں دینے لگا۔ لیکن یہ پوچھنا بھول گیا کہ بیسی کب ملے گی۔

’’کاظم بھائی، میری لاٹری کب کھلے گی؟‘‘ ایک دن میں نے ان سے پوچھا۔

’’مبشر بھائی، آپ نے بتایا نہیں تھا کہ آپ کو کب چاہیے اس لیے آپ کا نمبر سب سے آخری ہے۔‘‘ کاظم نے کہا اور میری مایوسی کی انتہا نہ رہی۔ آخری بیسی؟ دھت تیرے کی۔ آئندہ کبھی نہیں ڈالوں گا۔

بہت سے مہینے گزرگئے۔ اس سال فروری میں میری بیوی نے ایک ٹور آپریٹر کو فون کیا جس کا دفتر پرانی نمائش پر محفل شاہ خراسان کے پاس ہے۔ اس نے میرا نام حج کے خواہش مندوں کی فہرست میں لکھوادیا۔

گزشتہ سال میں نے اسی فہرست میں بیوی کا نام لکھوایا تھا۔ وہ حج کرآئی۔ لیکن اسے تو عمرہ اور حج کرنے کا شوق تھا۔ اسے گناہ ثواب کا حساب کتاب کرنا بھی آتا ہے۔ میں تو اس معاملے میں کورا ہوں۔

خیر، مجھے چند دن پہلے ایک ساتھ دو کالز آئیں۔ پہلی کال ٹور آپریٹر کی تھی کہ مجھے پانچ جون تک رقم جمع کرانی ہے۔ حساب کتاب میں کورے شخص نے پریشان ہوکر اپنا بینک کھاتا کھنگالا تو وہ بھی کورا نکلا۔ چند منٹ بعد کاظم کی کال آئی اور اس نے مطلع کیا کہ آخری بیسی چوں کہ میری تھی اور وہ آخری مہینہ یہی ہے اس لیے وہ شام کو مجھے چیک دے گا۔

میں آج صبح سے بار بار اس چیک کی فوٹوکاپی اور الحرمین ٹور آپریٹرز کی رسید دیکھ رہا ہوں۔ کیا اتفاق ہے۔ دونوں پر ایک جیسے ہندسے ہیں۔ بالکل ایک جتنی رقم۔

سویرے سلمان حسن نے فون کرکے بتایا کہ کچھ دیر پہلے کاظم کی موٹرسائیکل کو کسی وڈیرے کی ڈبل کیبن گاڑی نے ٹکر ماردی۔ وہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔

ابھی ابھی محفل شاہ خراسان پر کاظم کے جنازے کی نماز پڑھ کے آرہا ہوں۔

’یار کاظم، مجھے گناہ ثواب جنت جہنم جیسی باتوں سے کم ہی دلچسپی ہے۔

حج کرنے جاؤں گا تو ثواب تمھارے کھاتے میں لکھوادوں گا۔

جنت میں رسید کٹوالینا۔‘

 

(تین برس پرانی ایک یاد)

 


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

One thought on “آخری بیسی

  • 09-06-2016 at 11:42 am
    Permalink

    بہت خو ب مبشر بھا ئی ۔ ۔ ۔ ۔

Comments are closed.