کنواری لڑکیوں کے خون سے نہانے والی الزبتھ اور سائنسی تحقیق


ہزاروں لوگ پیسے دے کر خود کو نوجوانوں کا خون لگوارہے ہیں، اس سے فائدہ کیا ہوتا ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

 

ہنگری کی عالی مرتبہ خاتون الزبتھ بیتھوری (Elizabeth Bathory)کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر کنواری لڑکیوں کے خون سے نہاتی تھی۔ 16ویں صدی کی اس نواب زادی نے جب نہانا ہوتا، اتنی کنواری لڑکیوں کوقتل کیا جاتا کہ ان کے خون سے ٹب بھر جائے اور پھر الزبتھ اس ٹب میں نہاتی تھی۔ الزبتھ بیتھوری کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہے جہاں اسے دنیا کی سب سے زیادہ قتل کرنے والی سیریل کلر خاتون قرار دیا گیا ہے۔اس کے خون سے نہانے کے پیچھے یہ خیال کارفرما تھا کہ وہ اس سے نوجوان رہے گی اور اس کی عمر بہت زیادہ طویل ہو گی۔ اب اسی خیال کے پیش نظر امریکہ میں سینکڑوں لوگ ہزاروں ڈالر خرچ کرکے نوجوانوں کا خون اپنے جسم میں داخل کروا رہے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق کیلیفورنیا کی سٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں نوجوان خون میں ایک ایسا پروٹین پایا جاتا ہے جو جسم کو توانا کرنے کے ساتھ ساتھ دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور بوڑھے لوگوں میں نوجوان خون داخل کرنے سے ان میں عمررسیدگی کی علامات کم ہو جاتی ہیں۔چنانچہ امریکہ کے امیرکبیر لوگوں میں نوجوان خون لگوانے کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے اور ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہاں کئی کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک کا نام ’ایمبروسیا‘ ہے جو کیلیفورنیا میں ہی بنائی گئی ہے۔ یہ کمپنیاں نوجوانوں سے خون خرید کر اس کا پلازما امراءکو ہزاروں ڈالرز کے عوض فروخت کررہی ہیں۔

ایمبروسیا ڈاکٹر جیسی کرمزین نے قائم کی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ”ان کے پاس نوجوان خون لگوانے کے لیے آنے والوں کی اوسط عمر 60سال ہوتی ہے۔ ہم اپنے پاس آنے والے ہر شخص کے جسم میں 8ہزار ڈالر (تقریباً 9لاکھ 85ہزار روپے) کے عوض نوجوانوں کے خون سے نکالا گیا لگ بھگ اڑھائی لیٹر پلازما انجیکٹ کرتے ہیں۔اس عمل میں دو دن لگتے ہیں۔ اب تک ہمارے پاس جتنے لوگ آچکے ہیں ان میں دو تہائی مرد تھے۔ “

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں