دن کا وہ وقت جب ہر گز کافی نہیں پینی چاہیے


دن کا وہ وقت جب ہر گز کافی نہیں پینی چاہیے، سائنسدانوں نے وارننگ دے دی


دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ ایک کپ گرماگرم چائے یا کافی پیتے ہیں، لیکن سائنسدانوں نے خبردار کر دیا ہے کہ یہ کام ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کا فائدے کی بجائے سخت نقصان ہوتا ہے۔

آسٹریلوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چائے اور کافی میں پائی جانے والی کیفین ہمارے جسم میں ہارمون کورٹیسول کا لیول بڑھا دیتی ہے جس سے دماغ ہشاش بشاس اور جسم چست و توانا محسوس ہونے لگتا ہے، مگر اہم بات یہ ہے کہ ہارمون کورٹیسول کا لیول صبح بیدار ہونے کے وقت قدرتی طور پر ہی ہائی لیول پر ہوتا ہے، یعنی اس میں مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ صبح جاگتے ہی چائے یا کافی پیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس ہارمون کے لیول میں مزید اضافہ کررہے ہیں جبکہ آپ کے جسم کو اس اضافے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ یہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ صبح جاگنے کے بعد کم از کم دو گھنٹے کے دوران تو کافی یا چائے بالکل نہیں پینی چاہیئے، یعنی چائے، کافی یا کیفین والے کسی بھی مشروب کا استعمال بیدار ہونے کے کم از کم دو گھنٹے بعد کرنا چاہیے۔ ماہر غذائیات ڈاکٹر سارا بروور نے اس بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ چائے یا کافی کے لئے بہترین وقت 10 بجے کا ہے، اگر آپ سات یا آٹھ بجے بیدار ہوتے ہیں، لیکن بیشتر لوگ اس سے پہلے چائے یا کافی کا استعمال کررہے ہیں جس سے انہیں فائدے کی بجائے نقصان ہورہا ہے۔ دوپہر یا بعداز دوپہر چائے یا کافی پینا بھی کورٹیسول کا لیول بڑھا کر ہمارے جسم کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے، لیکن شام کے بعد پئیں گے تو اس کا بھی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے نیند کی خرابی کے مسائل پید اہوں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں