میرے اساتذہ میرے رہبر


یوم اساتذہ کے موقع پر میں اپنے تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی بدولت میں آج ایک آدمی سے انسان بننے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔ گیارہ سال کی ریاضت کے بعد امام غزالی کو اپنی محنت کا جو نچوڑ نظر آیا وہ یہ تھا کہ ”آدمی کو انسان بنانا ہی مقصد حیات ہے“۔ اگر وہ میری زندگی میں نہ ہوتے تو بقول غالب کے ”آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا“ والا معاملہ میرے ساتھ بھی ہوتا۔ اس لئے ان کا ذکر نہ کرنا ناشکری اور کفران نعمت ہوگی۔

میرا پہلا استاد میری ماں ہیں۔ ان کی کوششوں اور محنت کے بغیر شاید ہی میں اپنا نام لکھنے کے قابل ہوتا۔ ان کی دلچسپی، محبت، خلوص اور غصے نے مجھے سبق کی طرف مائل کیا۔ یہی وجہ ہے مجھے سبق سے چھٹی آج تک نہیں ملی ہے۔

میرے دوسرے استاد ولی خان (عرف لالی خان میکی) تھے۔ ان کی محبت میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس کے دل میں طالب علموں کے لئے جو محبت ہوتی ہے وہ قابل دید ہوتی ہے۔ کسی کو سبق پڑھتے ہوئے دیکھ کر اس کی مدد کرنا، کتاب قلم اور کاپی لانا ان کا معمول تھا۔ اس نے جتنے خلوص کے ساتھ میرے ساتھ محنت کی ہے اس کا بدلہ شاید ہی میں ادا کر سکوں۔

پھر سکول کا زمانہ آیا۔ نرسری اور کے۔ جی کلاس میں سیورج پبلک سکول کی ساری استانیاں پر خلوص تھیں لیکن ان سب میں الگ مس بشرا ہوا کرتی تھیں۔ آپ کی محنت اور خلوص کسی ماں سے کم نہیں ہوا کرتی تھی۔ آپ کے پڑھانے کا انداز اور پیار بھرے بول سبق یاد کرنے کا سامان مہیا کرتے۔

پھر مسلم ماڈل سکول میں ایک عظیم دور شروع ہوا جہاں اساتذہ ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ وہاں ہماری پہلی کلاس سر ثنا اللہ کے ساتھ تھی۔ میری یہ پہلی کلاس خوف اور خوشی کی آمیزش تھی۔ نئے سکول میں ڈر بھی لگ رہا تھا اور سر ثنا اللہ کی پر خلوص اور محبت بھرے بول خوشی بھی دے رہے تھے۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ رشتہ اتنا مضبوط ہوتا جائے گا کہ ایک دن یہ ایک تن آور درخت بن جائے گا۔

دوسری کلاس سر ظہیر اللہ کے ساتھ تھی۔ آپ کے اردو پڑھانے کا انداز اور محبت کبھی نہیں بھولے گی۔ یہ سلسلہ دو سال تک چلتا رہا پھر آپ چلے گئے۔ آج تک آپ سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ دل کرتا ہے کہ آپ سے مل کر آپ کے دونوں ہاتھوں کو چوم لوں۔

اس سکول میں سر مختار کا خوف تھا تو وہیں سر عبید الرحمن کی محبت بھرے میٹھے بول ہوتے تھے جو آپ کو آگے جانے اور محنت کرنے کا حوصلہ دیتے تھے۔ سر اسرار نبی کے ساتھ گزارے وہ تین سال کبھی نہیں بھول سکتا۔ تو وہیں سر نصیر اللہ اور سر حبیب الرحمن نے جو عربی پڑھائی اسی کا سہارا لے کر تھوڑا دین کو سمجھ کے ان کو دعا دینے کے لئے ہاتھ بے اختیار اٹھتے ہیں۔

علم اور عمل کے عملی نمونے مجھے سر رحیم اللہ کی صورت میں میسر آئے۔ وقت کے پابند اور انگریزی پر وہ عبور کہ اس کی کلاس لے کر دل خوشی سے جھوم اٹھتا۔ کسی ٹریننگ کے بغیر پڑھانے کا وہ انداز جسے آج کل ٹییچرز کو ٹریننگ دے کر سکھائی جاتی ہے۔

سر ریاض اور سر اجمل کے ساتھ بمشکل ایک سال پڑھنے کا موقع ملا۔ لیکن سائنس میں جو تھوڑا بہت کچھ آتا ہے وہ انہی کی بدولت ہے۔ آج بھی ایک بات سوچتا ہوں کہ اے کاش انہی سے چار سال پڑھا ہوتا تو شاید میرا مقام کہیں اور ہوتا۔ بہر حال جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے سر اقرار سے ریاضی پڑھنے کا موقع نہیں ملا لیکن آپ سے سنی پیغمبروں کی کہانیاں آج بھی یاد ہیں جو آپ ہمیں ہماری فری کلاسز میں آکر سنایا کرتے تھے۔

کالج دور میں صرف سر مراد علی سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ آپ کی کلاس کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ آپ کا انداز بیان ہی الگ تھا۔ آپ کی محبت اور خلوص دیدنی ہوتی تھی۔ اس دور میں فزکس کی کلاس چھوڑ کے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کے کلاس میں بیٹھ کر اردو پڑھنے کا مزہ ہی اور ہوتا تھا۔

ڈاکٹر فیضی صاحب سے میری پہلی ملاقات آج اخبار میں آپ کے ایک کالم کے ذریعے ہوا تھا۔ اس وقت میں چھٹی جماعت میں ہوا کرتا تھا۔ پھر روزانہ کی بنیاد پر آپ کے کالموں کے ذریعے آپ سے ملاقات ہوتی رہی۔ ڈگری کالج چترال میں آپ آرٹس والوں کو اردو پڑھاتے تھے۔ اور میں فزکس کی کلاس چھوڑ کے آپ کی کلاس میں آکر بیٹھتا تھا۔ پہلے دن تو یقین ہی نہ آیا کہ آپ کی کلاس میں آپ کے رو برو بیٹھ کر آپ کو سن رہا ہوں۔ پھر چترال ماڈل کالج میں آپ کے ماتحت کام کرکے جو سیکھا وہ میری پوری زندگی کی جمع پونجی ہے۔ آپ سے سیکھنے کا یہ عمل آج بھی جاری ہے۔

یونیورسٹی لائف میں جو اساتذہ میسر آئے سارے ہی قابل تعریف ہیں۔ سب کا ذکر نہیں کیا جا سکتا اس لیے چند ایک کا ذکر کروں گا جنہوں نے میری زندگی بدل دی۔

لٹریچر اور زندگی کو سمجھنے کی بات ہو تو سب کی زبان پر بے اختیار ڈاکٹر صبغت اللہ صاحب کا نام آئے گا۔ علم اور عمل کا عملی پیکر۔ وقت کے پابند اور طلباء کے ساتھ پر خلوص۔ کسی کو کتاب پڑھتے دیکھ کر آپ کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی تھی تو وہیں کتابیں لا لا کر طلباء میں کتاب بینی کا شوق پیدا کرنے کی سعی کرتے۔ کہتے کہ ”اگر کسی کلاس میں ایک کتاب بین بھی پیدا ہو تو بحیثیت ایک استاد ہمارا مقصد پورا ہوگا“۔

سر شجاعت، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر سر سید سے زندگی اور اس کی تلخ حقائق کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ آپ چونکہ جو کچھ کہتے بر ملا کہتے ہیں اس لیے میرے پسندیدہ اساتذہ میں سے ہیں۔ آپ طلباء کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے۔ زندگی کی تلخ حقائق اور ان سے سبق سیکھنے کا سلیقہ آپ ہی سے سیکھا۔

اس کے علاؤہ سر حسیب، سر راشد اور ڈاکٹر ذولفقار حیدر صاحب کی محبت اور خلوص کو بھولنا ممکن نہیں۔ آج بھی آپ بہت ہی پیار اور محبت سے ملتے ہیں اور حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔

اساتذہ کے معاملے میں میں کافی خوش قسمت رہا ہوں۔ مجھے وہ اساتذہ میسر آئے ہیں جن سے پڑھنا اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ سکول کے زمانے سے لے کر یونیورسٹی تک سارے عظیم لوگ میرے رہبر اور رہنما رہے ہیں۔ چونکہ علم گود سے گور تک ہے اس لیے آج بھی میں اساتذہ کی تلاش میں رہتا ہوں۔ ان میں سر فہرست پروفیسر ممتاز صاحب ہیں جو اپنی قلم کی نوک سے موتیاں بکھیرتے ہیں جو مجھ جیسے ایک طالب علم کے لئے کسی خزانے سے کم نہیں۔ اس طرح قاری فدا صاحب اور قاضی سلامت صاحب سے دینی علوم اور مسائل جاننے کا موقع ملتا ہے جو اس اہم ترین شعبے میں سب سے ریشنل اور میرے پسندیدہ شخصیات میں سے ہیں۔

نام بہت سارے ہیں اور ان کی مجھ پر مہربانیوں کا کوئی اندازہ نہیں۔ ان کا احاطہ کرنے میرے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ میرے لیے اتنا ہی ممکن ہوتا ہے کہ جب بھی باری تعالیٰ کے حضور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو اپنے ان محسنوں کے لیے بے اختیار دعا نکلتی ہے کہ اے اللہ ان کو صحت، عمر میں برکت اور علم میں وسعت عطا کرکے ان کو سب کے لئے مشعل راہ بنانا۔

یہی وہ عظیم لوگ ہیں جن کی وجہ سے میں اپکا شعبہ اپنانے کی دلی خواہش رکھتا ہوں۔ میری دلی آرزو ہے کہ میں آپ جیسا بنوں۔ آپ جیسا بننا شاید ناممکن ہو لیکن اس عزم کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھوں گا کہ اللہ مجھے آپ جیسا بنانے میں میری مدد فرمائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں