نالے چور ، نالے چتر


mubashirمضمون  کا عنوان پنجابی میں ہے، صاحبو۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ خود ہی آپ چور ہیں، اور خود ہی چوکیدار بھی۔ میری معلومات کے مطابق، لفظ “چتر” کے ماخذ، پنجابی کا اک اور لفظ “چیتہ” ہے، کہ جسکا مطلب دھیان رکھنے والا ہوتا ہے۔ صاحبان پنجابی سے کچھ رہنمائی اور درستی کی اپیل بہرحال ہے۔

خیر، اس پوسٹ کے ساتھ اک تصویر بھی منسلک کی ہے۔ اس تصویر کو غور سے دیکھیے تو آپ کل تیرہ افراد دیکھ سکیں گے جنہوں نے  اک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہیں۔ چند اک افراد اور بھی سٹیج پر تھے، مگر تصویر  میں وہ  نہیں آ سکے۔ حوالہ کے لیے اتنا کہے دیتا ہوں کہ کشمیر کے مرحوم، اور کہنے دیجیے کہ خودساختہ مجاہد اول کے فرزند ارجمند، بھی اس ہجوم کا حصہ تھے۔ موصوف مشرفی دور میں “ملٹری ڈیموکریسی” کا عظیم فلسفہ بھی پیش کر چکے ہیں۔

میری آپ سب سے درخواست ہے کہ اس تصویر کو غور سے اک بار پھر دیکھیے، اور سوچیے کہ کیا یہ لوگ عمومی پاکستانی سیاسی اور سماجی معاشرت کی نمائندگی کرتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو آپ کی ہاں پر اک اور جوابی سوال ہے کہ پھر یہ لوگ پاکستانی آئین میں درج طریقہءکار کے مطابق پاکستان میں جمہوری اور عوامی اکثریت کیوں حاصل نہیں کر پائے ابھی تک، اور میرے آپ کے حکمران کیوں نہیں بن سکے؟ اگر معاشرت میں ان کی قبولیت بہترین درجہ کی ہے تو  سٹیج پر موجود اس ہجوم اور ان کے نام لیواؤں کو پاکستان کے مقدر کا سیاسی مالک ہوجانا چاہیے تھا ابھی تک، کہ تقریبا ستر سال تو ہو گئے وطن عزیز کو جنم لئے ہوئے۔

دوسرا رخ، میرے دوستو یہ ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی، میری اور عمومی پاکستانی معاشرت کی نمائندگی نہیں کرتے تو یہ ہمارے اجتماعی شعور پر پچھلے ، کم از کم، پینتالیس سال سے مسلط کیوں ہیں؟ ان لوگوں نے پاکستانی معاشرت میں کیا مثبت حصہ ڈالا ہے اور کیا یہ لوگ جمہوری معاشروں میں مروج  اجتماعیت کے اصولوں  کے پرچارک ہیں، یا اس اجتماعیت کو تقسیم کرنے والوں میں سے ہیں؟

DPCانہی حضرات میں سے چند ایک وہ ہیں کہ جن  کی تنظیموں کو پاکستان کی سیکیورٹی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ دھشتگردی کے خلاف، نیشل ایکشن پلان کے تحت  کالعدم قرار دے چکی ہیں، اور وہ کھلم کھلا ہی نہیں، بلکہ پاکستانی دارلخلافہ کے سوشل آرڈر کو  رد کر کے کل جلسہءعام منعقد کرتے رہے ہیں۔ آپ شاید یہ نہ جانتے ہوں کہ کل جماعۃ الدعوۃ کے رضاکاران نے فیض آباد،  کے قریب انسانی قطاریں بنا  کر ٹریفک کو روکے رکھا، اور پھر اس جلسہ کے شروع ہونے سے پہلے کے کارواں نے  سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک کے رستہ میں بھی رکاوٹ ڈالے رکھی۔

مجھے بحیثیت اک سیاسی شہری، کسی بھی شخص یا تنظیم کے کھلے عام جلسہ کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں،  بشرطیکہ ریاست کے قانون میں وہ شخص یا تنظیم  اس کا حق رکھتی ہو۔ ریاست، کہ جس کے قانون کی پاسداری میرا، آپ کا اور ہم سب کا فرض ہے، اپنے ہی اک قانون کو جب مذاق سمجھے تو شہریوں پر اسکے کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے؟ جواب آپ بھی جانتے ہیں۔ اک اضافی زاویہ یہ ہے کہ مذہبی تقدیس میں بھیگے، میرے ملک کے بیٹے ، جب جی چاہے، اپنے امیر کے حکم پر کہیں بھی کچھ بھی کر گزریں گے تو کیا یہ درست ہو گا؟ یاد رہے کہ خود کو ریاست اور ملک کے قانون سے بالاتر سمجھنے والے کل کو آپ کا اور میرا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے، تو کیا کیجیے گا کہ مذہبی تشریحات کی تقدیس میں بھیگے میرے ملک کے یہ بیٹے، اپنے تئیں کسی عظیم تر مقصد کی خدمت کررہے ہوں گے؟آپ اور میں انکے سامنے کچھ بھی نہ ہوں گے، جناب۔

لاہور میں چوبرجی کے قریب چلنے والی اک عدالت  کے خبریں پہلے ہی عام ہیں، اور جن صاحب نے اس “عدالت” کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی، انکو ہراساں بھی  کیا گیا۔ یہ دونوں خبریں، پاکستان کے  مؤقر انگریزی اخبار، ڈان نے ہی دیں۔ کل آپ کو بھی ایسے “نوٹس” ملے تو کس کا در کھٹکھٹائیے گا، حضور؟

ان لوگوں، اور ان لوگوں کو پاکستانی معاشرت پر مسلط کروانے والوں نے پاکستان اور پاکستانی شہریوں کی کوئی خدمت نہیں کی۔  آج پاکستانی شہری، ساری دنیا میں شک کی نظر سے دیکھ جاتے ہیں، پاسپورٹ اور شہریت کی دنیا بھر میں کوئی عزت نہیں، پاکستانیوں کے لیے دوسرے ملکوں میں داخل ہونے کے لیے بعض اوقا ت الگ قطاریں بنائی جاتی ہیں۔  مذہب کی تشریحاتی تقدیس میں بھیگے، میرے ملک کے بیٹوں کے ذریعے پاکستانی کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کو مشتہر کرنے کی بقراطی پرانی ہے، اور اس بقراطی کا 1953 کی نظام مصطفےٰ تحریک سے لے کر ملا منصور اختر کے بلوچستان میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اور اگر اس پالیسی کا ماضی میں کوئی فائدہ نہیں ہوا تو مستقبل میں کیسے ممکن ہوگا؟ میری عقل یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ ویسے بھی بقول آئن سٹائن کے کہ اگر آپ آزمودہ اجزاء سے ہی تجربہ کرکے کوئی نیا نتیجہ چاہتے ہیں تو آپ محض احمق ہیں، اور کچھ نہیں۔

آپ کو اور مجھے احمق جاننے والے، احمق بنانے والے اور احمق رکھنے والے، کس بستی میں رہتے ہیں، ساتھ منسلک تصویر کو غور سے دیکھیں، پڑھیں، اک خاموش تجزیہ کریں، جان جائیں گے۔

باقی رہے نام اللہ کا!

(بھائی مبشر، میرے محدود علم کے مطابق اس کا مادہ ہندی کا لفظ چاتر ہے، کاری گر اور چالاک کے معنوں   میں۔ )


Comments

FB Login Required - comments