دیار غیر میں پہلا روزہ


khurram niaziخدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ ٹھنڈے ممالک میں اتنے طویل روزوں کی غرض و غایت پر بہت غور کیا تو یہی حکمت سمجھ میں آئی کہ ماہ صیام میں ہم جیسے صبر، تحمل، برداشت اور استقامت کے مجسموں کو دیکھ کر اقوام مغرب کے بے دین جو اس فانی دنیا کی آسائشات اور تعیشات میں مگن ہو کر اگلے جہان کی تیاریوں سے قطعا غافل ہو چکے ہیں ترغیب پائیں اور راہ راست پر آئیں۔

سحری

پہلے روزے کی تیاری کے لئے ہم نے کل شام ہی سے اہتمام کرلیا تها۔ پاکستانی آموں اور فل کریم دودھ کے ملک شیک کی ایک بالٹی اہلیہ سے کہلوا کر فرج میں یخ بستہ ہونے کو چھوڑ دی تهی جس سے ہم ہر آدھ گھنٹے بعد دو گلاس نوش جان کرلیتے تهے ورنہ سحری میں یکدم سادہ پانی پینے سے ایک تو گرانی ہو جاتی ہے دوسرے دیگر لوازمات کے لئے معدہ میں جگہ نہیں بچتی اور روزہ مکروہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مغرب کے ساتھ ہی ہم نے ہلکی پھلکی غذا یعنی بکرے کا قوامی قورمہ اور مصالحہ لگی مرغی کی بس ایک ٹانگ صرف ایک افغانی نان کے ساتھ لے لیا تها لیکن باقاعدہ سحری کا آغاز تو عشاء اور تراویح سے فارغ ہو کر کیا۔ کیونکہ بچے ہوئے کهانے کی بڑی فضیلت آئی ہے اس لئے کل دوپہر سے پکی ہوئی ڈیوڑهے گوشت کی بریانی سے ابتداء کی۔ پودینے کا رائتہ اس خیال سے ساتھ لے لیا کہ ہاضم ہے اور معدوں اور مردوں کی گرمی کے لئے اکسیر ہے۔ برصغیر کے مسلمان ہوں اور دسترخوان پر چولہے سے اترتی روٹی نہ ہو یہ تصور بهی محال ہے۔ اگلے دن بهوکے رہنے کے خیال سے زوجہ کو تاکید کردی تهی کہ سحر میں روغنی پراٹھے لازمی ہونے چاہئیں کہ ان سے نکلتی غذائیت آہستہ آہستہ جزو بدن بنتی جائے گی۔ بہت کوشش کے باوجود بس تین ہی حلق سے اترے۔ خیر ابهی آغازِ رمضان ہے دو چار روز میں جسم عادی ہوجائے گا تو نصف درجن تک تو کهائے جائیں گے۔ روزہ میں سستی، سردرد اور غشی کا اصل سبب جسم میں کاربوہائیڈریٹس کے ذخائر میں کمی ہوتا ہے چنانچہ ایک لیٹر کڑهے ہوئے دودھ میں ڈلی سرخ سرخ جلیبیاں کهائیں اور ثواب سمجھ کر بیس دانے سعودیہ سے آئی ہوئی کالی مکهی کے شہد میں تیرتی کھجوروں کے لئے جن میں گهٹلی کی جگہ بادام تهے۔ صبح کاذب کا وقت قریب آرہا تها ره رہ کر پرانے محلے کے امام صاحب مرحوم یاد آگئے جو عشاء سے لاوڈ اسپیکر پر ایسا زور دار خطاب شروع کرتے تهے کہ کوئی اہل محلہ سو ہی نہیں سکتا تها۔ گونج دار آواز میں درود و سلام پڑهتے ہوئے درمیان میں یہ صدا ضرور لگاتے کہ “روزہ داروں اللہ کے پیاروں۔ اپنی پیاری پیاری نیند سے جاگ جائیے اور سحری کر لیں!” یہاں کی خاموشی اور تنہائی کا سوچ کر آنکھیں نم ہوا ہی چاہتی تھیں کہ دیوار پر لگے گھڑیال پر نظر پڑی جلدی سے نمکین لسی کے چار گلاس پئے اور ایک کیپسول اومیپرازول کے ساتھ، سردرد سے بچنے کے لئے دو گولی پیراسیٹامول اور پاکستان سے لائی ہوئی ڈائزاپام کی ایک گولی اس خیال سے لے کر بیڈ پر دراز ہوگئے کہ اب مغرب تک سونے میں ہی عافیت ہے۔ ورنہ روزہ کی حالت میں خوامخواه ہر دوسرے شخص کا سر پھوڑنے کا دل چاہتا ہے۔ آج تو کام سے بیماری کی رخصت لے رکهی ہے۔ خیریت سے دن گزر گیا تو افطار کے بعد سوچیں گے کہ اگلے روزے کا کیا کرنا ہے۔

افطاری

انتہائی نورانی شکل والے بزرگ نے ہمیں تهال میں رکهی قاب پیش کی۔ ہم نے اسی طرح جیسے شیر خوار بچہ شیر مادر کی طرف لپکتا ہے، انتہائی بے صبرے پن سے ڈهکنا اٹهایا تو بهاپ کے نیچے کیوڑے کی خوشبو میں بسا متنجن برآمد ہوا۔ رنگ برنگے میٹهے چاولوں میں پستے، بادام، کهوپرے اور کهوئے کی بہار دیکھ کر دل بے قابو ہوگیا۔ اشرفی مربہ جسے کهائے زمانے گزر گئے اوپر سے سجی چهوٹی چهوٹی چم چم – ہم تمام آداب بهلا بیٹھے۔ چمچے سے گلابی رنگ کی ایک چم چم اٹھانے کی جو کوشش کی تو وہ پھسلتی چلی گئی اور گیند کی طرح اچھل کر پہلے تهال پر اور پهر لکڑی کے فرش پر زور سے ٹکرائی۔ ہر جگہ سے ٹهک ٹهک, ٹهک ٹهک کی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی ہمارے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا ہو۔ ہڑبڑا کر آنکھ کهل گئی سر درد سے پهٹا جا رہا تها، حلق میں کانٹے پڑگئے تهے اور ہونٹوں پر پپڑیاں جم گئی تھیں۔ دل ایسے دهڑک رہا تها جیسے سینے کو پھاڑ کر باہر آجائے گا۔ “پپو کی اماں!!” ہم خوف سے چلائے۔ زوجہ محترمہ باورچی خانے سے ایپرن پہنے، ہاتھ میں تلنے والا چهلنا لئے نمودار ہوئیں۔ ” بادشاہ سلامت اب بیدار یو جائیے روزہ کهلنے میں بس پندرہ منٹ رہ گئے ہیں” ان کے طنزیہ لہجے کا مناسب جواب دینے والے ہی تهے کہ منجهلے چچا کا چہرہ نگاہوں کے سامنے گهوم گیا جنہوں نے اسی طرح ایک دن حالتِ صوم میں منجھلی چچی کو طیش میں آکر تین حرف کہہ کر فارغ کردیا تها اور پهر ساری عمر در در کی ٹھوکریں کهاتے رہے تهے۔

کهانے کے کمرے میں پہنچ کر یہ دیکھ کر خون کهول گیا کہ دسترخوان کے بجائے انتظام ڈائیننگ ٹیبل پر کیا گیا تها۔ میز کرسی پر بیٹھ کر کهانا انتہائی غیر فطری اور خلافِ آداب عمل ہے مسلمانوں میں ترکوں کی ایک اقلیت کے سوا سب فرشی نشست کے عادی ملیں گے۔ بیٹھ کر افطاری کرنے میں یہ مصلحت بهی پوشیدہ ہے کہ آپ کهاتے کهاتے نہ صرف دائیں یا بائیں کروٹ سے لیٹ سکتے ہیں بلکہ کهانا اوپر چڑھ جانے کی صورت میں چار تکیوں پر ٹیک لگا کر نیم دراز بهی ہو سکتے ہیں۔

ہمارے حکم پر بچوں اور ان کی والدہ نے جلدی جلدی کهانا زمین پر تو چن دیا لیکن ان کے تیور دیکھ کر ہمیں اپنی جوانی یاد آگئی جب ایک دفعہ افطار سے قبل بازار سے خریداری کے دوران ایک پهل فروش سے گالم گلوچ کے بعد ہم نے اس کا ٹهیلا الٹ دیا تها۔ روڈ پر لڑکتے پپیتے، خربوزے اور تربوز اور ان کو لوٹتے لوگوں کا سوچ کر آج بهی جی کهل اٹهتا ہے۔ اذان مغرب سے قبل گھر پہنچنے کے لئے ہم نے اپنی تیز رفتار موٹر بائیک پر کتنے سگنل توڑے، کتنی دفعہ یکطرفہ ٹریفک کے بہاؤ کے خلاف چلے ایک ٹیس سی دل میں اٹھی کہ کاش ایک دن ایسے مذہبی جوش و جذبے کے اظہار کا موقع ہمیں ان سرد مہر ملکوں میں بھی ملے۔

خدا خدا کرکے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور مغرب کا وقت یوا۔ الہم انی لک صمت پڑھتے ہوئے انگشت شہادت نمک سے مس کر کے زبان پر رکهی۔ اس طرح ہم ان غریب غربا کے ساتھ شامل ہوگئے جن کو اللہ کی نعمتیں نصیب نہیں اور یہی روزہ کی روح ہے۔ پهر آب زمزم کے دو گھونٹ بهر کر مدینہ سے آئی خالص عجوہ کهجور کے چند دانے تبرکاً لئے۔ گهٹلیاں عقیدت سے سنبھال کر رکھ لیں کہ ان سے تسبیح بنوائیں گے۔ فلسطینی اور ایرانی کهجوروں سے سنت پوری کرنے کے بعد ہم افطاری کی جان یعنی پکوڑوں کی جملہ اقسام آلو، بینگن، پالک، پیاز اور ہری مرچوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ چاٹ مصالحہ اور کالی مرچ کی دو مختلف فروٹ چاٹ کہ محض صحت مندانہ غذا کا بہانہ ہیں سے خوب سیر ہوئے۔ بغیر دودھ کے قہوہ کی چسکیاں لیتے ہوئے ہم نے چار شامی کباب ٹماٹو کیچ اپ سے لگا کر کهائے۔ آلو چنے کی چاٹ پر پیاز کے لچهے ڈال کر ایک پیالہ چکها۔ ماش کی دال کے دہی بڑے بنانا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ پهر بهی دونوں بیٹیوں کا دل رکھنے کو ان پر املی کی چٹنی ڈال کر دو رکابیاں زہر مار کیں۔ ٹهنڈے مشروبات کا متوازن استعمال کرتے ہوئے ہم نے دو گلاس سردائی اور دو گلاس روح افزا دوده کے انڈیلے۔ قیمے کی درجن بهر گولیاں سٹکیں اور پهر ایلومینیم فوائل میں لپٹے شیش کبابوں سے لطف اندوز ہوئے۔

جلیبیوں پر نظر پڑی تو غصہ پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا بیگم کو دسیوں مرتبہ جلیبی اور امرتی کا فرق سمجھایا ہے کہ ثانی الذکر ارد کی دال سے بنتی ہے۔ زود ہضم اور مقویء قلب و دماغ ہے۔ مٹھائیوں میں اس کا مقام میدہ کی بنی جلیبی سے اعلیٰ ہے جو کئی سو سال سے غریبوں کی نیاز کی شیرینی رہی ہے اور ہمیں صرف سحری میں مرغوب ہے۔ ضبط کرتے کرتے بس اتنا کہا کہ تمہاری سات پشتوں کو بهی گلاب جامن اور چم چم میں تمیز نہیں آئے گی۔ اس پر وہ چپ تو رہیں لیکن اتنا برا منہ بنایا کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ آج دن بهر کی ان کی عبادت مجازی خدا کو نا خوش کرنے پر اکارت ہی جائے گی۔ اس لئے جب کسٹرڈ میں آم کے قتلوں کی جگہ وہی سٹرابیری کی قاشیں نظر آئی تو مصلحتاً خاموشی اختیار رکهی اور خود پر بہت فخر محسوس کیا۔

رات کا کهانا ہم ذرا ٹھہر کر دو پیالے دودھ پتی چائے سے فارغ ہو کر تناول کریں گے۔

چونکہ اب ہم اگلا عشرہ آنے تک بیس گھنٹے روزہ رکھنے سے خود کو قاصر پاتے ہیں۔ اس لئے بیوی کو ہدایت کردی ہے کہ کل کی بریانی اور آج کی بچی کھچی افطاری منجمد کردیں اور اسی سے روزانہ دو آدمیوں کا کھانا مسجد بھیجتی رہیں ۔ ویسے بھی خوراک کا زیاں تعلیمات کے خلاف ہے۔ ماہ صیام کی فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کے لئے ہم پچھلے برسوں کی طرح سحری و افطار میں خشوع و خضوع سے شرکت فرماتے رہیں گے اور روزے بھی کھاتے رہیں گے۔ دین میں آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ۔ وما توفیقی الا باللہ


Comments

FB Login Required - comments