مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب


zunaira saqib“ہم سب کون ہیں؟”

“مسلمان”

“لیکن ٹیچر میں تو مسلمان نہیں۔۔۔ میں تو۔”

“چپ چوہڑا کہیں کا”

“چپ کافر کہیں کا”

“چپ رہ یہاں رہنا ہے تو چپ رہ”

٭٭٭ ٭٭٭

“ہندو کون ہیں؟”

“ہندو انڈیا کے رہنے والے رذیل لوگ ہیں۔ یہ ہمارے دشمن ہیں “

“لیکن ٹیچر میں تو ہندو ہوں۔۔۔ میں تو پاکستانی ہوں “

“ہندو ہو تو ہندوستان جاؤ نا “

٭٭٭ ٭٭٭

1965  میں ہندوستان نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کر دیا۔

پاک فوج نے جم کر مقابلہ کیا اور آخر کار 17 دن بعد ہندوؤں کی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔

“لیکن ٹیچر آپریشن جبرالٹر تو پاکستان نے شروع کیا تھا؟”

“کیا کہا؟”

“اور تاشقند معاہدے میں تو سیز فائر کا ذکر ہے”

“کیسا غدار بچہ ہے۔ پاکستان کا نام بدنام کرتا ہے۔ چل مرغا بن مرغا “

٭٭٭ ٭٭٭

مزید پڑھیے: مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب۔ سچ کیا جھوٹ کیا

٭٭٭ ٭٭٭

“ج سے جگ، چ سے چڑیا ، ح سے حبشی”

حبشی؟ حبشی کہنا تو کوئی اچھی بات نہیں”

کیوں بے ! تجھے بڑی ہمدردی ہے کالوں سے ۔۔

چلو بھی آج سے اس کو بھی کالی اندھی بولا کرو”

٭٭٭ ٭٭٭

“سب سے اچھا مذہب کون سا ہے ؟”

“سب سے اچھا مذہب اسلام ہے”

“کیوں بے تو نہیں بول رہا ؟”

“جی میرا مذہب تو۔۔ کچھ اور ہے”

“اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہ۔۔ اسلامی جمہوریہ۔ سمجھا کیا؟ سب سے اچھا مذہب ہے اسلام باقی سب بکواس

٭٭٭ ٭٭٭

“دو قومی نظریہ یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور یہ مل کر نہیں رہ سکتی۔ اسی لئے ہم نے پاکستان بنایا”

ان ” لیکن اگر یہ دونوں مل کر نہیں رہ سکتی تو 1000 سال ہندوستان میں جب مسلمان حکمران تھے تو کیسے مل کر رہتی تھیں “

“چلو چلو بچو بریک کا ٹائم ہو گیا”

٭٭٭ ٭٭٭

“تو یہ رہی پاکستانی کی تاریخ”

“ٹیچر اس میں تو بنگلہ دیش کا کوئی ذکر ہی نہیں”

“بنگلہ دیش تو پرانی خبر ہوئی چلو آج بلوچستان کو پڑھتے ہیں “

٭٭٭ ٭٭٭

“جہاد کیا ہوتا ہے”

“جہاد الله کی راہ میں کافروں کے خلاف جنگ کو کہتے ہیں”

“کافر کون ہوتا ہے “

“جو مسلمان نہ ہو”

“پاکستانی ہندو، عیسائی، یہودی، قادیانی، شیعہ، سب کافر ہیں؟ ان کے خلاف جہاد فرض ہے ؟”

” کیا بے بہت سوال کرتا ہے۔ چل نکل یہاں سے۔ جا جا کر انہی کافروں سے پڑھ۔۔ چل بھاگ “

 


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب

  • 07-06-2016 at 12:55 pm
    Permalink

    درست تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے

  • Pingback: مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب۔ سچ کیا جھوٹ کیا - ہم سب

  • 07-06-2016 at 5:59 pm
    Permalink

    اسے کہتے جوتے سے منہ صاف کرنا ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ھمارے معاشرے کے ان پڑھے لکھے لوگوں پر جو ملک کے تمام اعلی ادارون اور عہدوں کا بلواسطہ حصّہ چلے آ رہے ہیں بلکہ سکول سے یونیورسٹیاں اور میڈیا تک پچھلے ساٹھ سالون سے انہی کے کنٹرول میں ہے اور یہ گماشتے جب بھی بولتے ہیں اپنی کمزرویوں جرائم اور گناہون کا چرچا کرکے خوب داد وصول کرتے ہیں ھمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسلۂ بدعنوانی ہے مالی بدعنوانی فکری بد عنوانی پاکستان کے بہت سے ایسے ہی دانشور دان رات قوم کے مستقبل کی فکر میں ہلکان ہوۓ جا رہے ہیں ۔ مگر ان کے گھروں میں کام کرنے والی غریب بچیاں جن کے ہاتھون میں قلم ہونا چاہیے یہ لوگ ان کے ہاتھوں میں برتنوں کے گھنگرو بجتے دیکھنا انجواۓ کرتے ہیں تعلیم ، رہن سہن روز گار غرض ہر سماجی اور فکری پلیٹ فارم پر ان نام نہاد پڑھے لکھوں نے مساوات اور انسانی اقدار کا جنازہ نکال کے رکھا ہوا ہے ۔۔
    مذھبی ،نظریاتی ، لبرل اور سیکولر کیا ہوتا ہے اس سے کوئی غرض نہیں مگر جو لوگ اپنی گناہوں کے کوڑے پر فکر کی گھاس آگانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ساری زندگی بھی ایسا کرتے رہیں اپنے گناہوں کو نہیں چھپا سکتے ۔

    • 07-06-2016 at 8:01 pm
      Permalink

      میرے گھر میں نہ بچیاں کام کرتی ہیں اور نہ کبھی کریں گی . . مالی بدعنوانی سب سے برا مسلہ ہے تو اس پر آپ کچھ لکھ دیجیے پھر ہی مکالمہ ہو سکتا ہے

    • 25-06-2016 at 1:49 am
      Permalink

      خوب ۔بنیادی مسئلہ طبقاتی ہے

  • 07-06-2016 at 7:29 pm
    Permalink

    تنویر حسین صاحب‘ لگتا ہے آپ بہت غصے میں ہیں۔ براہ مہربانی غصہ تھوک دیجئے کونکہ غصے کی حالت میں ریشنل ڈائیلاگ نہیں ہوسکتا۔

    آپ نے فرمایا ہے کہ ’’سکول سے یونیورسٹیاں اور میڈیا تک پچھلے ساٹھ سالوں سے انہی کے کنٹرول میں ہیں اور یہ گماشتے جب بھی بولتے ہیں اپنی کمزرویوں جرائم اورگناہوں کا چرچا کرکے خوب داد وصول کرتے ہیں۔ـ‘‘

    آپ کا اشارہ کس کی طرف ہے اورآپ نے اڑسٹھ کے بجائے ساٹھ سال کی بات کیوں کی ہے؟ ہمیں کب تک اپنی کمزوریوں اور گناہوں پرپردہ ڈالتے رہنا چاہئے؟ حب الوطنی کا یہ تصور کتنے ملکوں میں پایا جاتا ہے؟ کیا ہمیں اپنے ملک کو تنقید سے بالاتر سمجھنا چاہیئے؟ کیا ایسا کرنے سے صورت حال بہتر ہوجائے گی؟

    آپ نے زنیرہ کے دلائل کا مددل رد کرنے کے بجائے لکھا ہے کہ ’’ان کے گھروں میں کام کرنے والی غریب بچیاں جن کے ہاتھون میں قلم ہونا چاہیے یہ لوگ ان کے ہاتھوں میں برتنوں کے گھنگرو بجتے دیکھنا انجواۓ کرتے ہیں۔‘‘ کیا آپ کو یقین ہے کہ زنیرہ کے گھر میں ایسا ہی ہے اور ان سے مختلف خیالات رکھنے والے محب وطن لوگوں کے گھروں میں ایسا نہیں ہے؟ ریاست نے اس مسؑلہ کے حل کے لئے اب تک کیا کِیا ہے؟

    • 25-06-2016 at 2:16 am
      Permalink

      پاکستان کی مذل کلاس صرف مباحثے روناپیٹنا اور عقلی دلیلوں کے نام پر سسٹم کی خرابیوں کے نتائج کوبنیادی مسائل قراردیتے ہیں مثال کے طورپر معاشرتی اورمعاشی ناہمواریوں ،سامراجی تسلط اورتقسیم ہندنے اس خطے میں جن سماجی ومعاشرتی پیچیدگیوں کوجنم دیا اس نے پورے برصغیرکواپنی لپیٹ میں لے رکھاہے ۔ پاکستانی ریاست شروع دن سے آزادریاست نہ بن سکی اس کی بنیادی وجہ سرمایہ داروں صنعت کاروں کاجدیدیت سے تفاوت جس سے ریاست جدیدڈھانچہ بنانے سے محروم ہوگئ اور انکاکردار فوج کونبھاناپڑا ۔ ریاستی سخت گیر پالیسیوں سے ملک کوچلایاجانے لگا ۔اورنتیجے میں کوئ سنجیدہ سیاسی ڈھانچہ بھی نہ بن سکا ۔پسماندگی اورجدت کے بے ہنگم اورپرانتشارامتزاج سے منصوبہ بندی سے عاری اورگائیڈڈطریقےسےملک امارت اور غربت میں خوفناک تفاوت اور مستقبل سے مایوسی نے مڈل کلاس کی وسیع پرتوں سمیت پسماندہ اورغربت کی لکیرسے نیچے رہنےوالے افراد جوکہ غربت پسماندگی ذرائع معاش کی محدودیت کی وجہ سے غیرصحت مندمعاش سے وابستہ ہونے پر مجبورہوگیے شدت پسندی سے معاشی مفادات حاصل کرنے والوں کے لیے ترنوالہ ثابت ہوے ۔ سرمایہ داروں کی عدم صلاحیت نے افسرشاہی کوریاست کےامورسونپ دیے جس نے خودکوحکمران طبقہ بنانے کے لیےنصابی وسماجی وارداتیں کیں ۔ لیکن ان سارے مسائل سے چھٹکارا پاکستان کے محنت کش طبقےکیطبقاتی فتح میں مضمرہے اب صرف اشتراکی انقلاب ہی پاکستان میں قومی و جمہوری مسائل کوحل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ملکیت کےرشتوں جس پرپورا ریاستی ومعاشرتی ڈھانچہ کھڑاہے کوتبدیل کیے بغیرصرف ڈائلاگ سے ان مسائل پرقابوپاناناممکن ہے

Comments are closed.