یہ والدین نہیں جنسی تعلق کے رسیا ہیں


کسی سے جنسی تعلق ہونا یا رکھنا میرے نزدیک غلط نہیں بشرطیکہ یہ دونوں افراد کی خواہش کے مطابق ہوں۔ ہم اس کی قانونی، غیر قانونی، شرعی یا اخلاقی ہونے کی بحث میں نہیں پڑتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ایک جسمانی ضرورت ہے ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ آپ ایک بھرپور مرد ہیں یا عورت یہ آپ کی جسمانی خواہش ہے۔ جو آپ نے مختلف طریقوں سے پوری کرنی ہے۔ شاید آپ ایک مکمل مرد یا مکمل عورت نا بھی ہوں تب بھی جسمانی خواہشات آپ کو کسی نا کسی طریقے سے مجبور کرتی ہیں کہ آپ ان کو کسی طریقے سے تسکین فراہم کر سکیں۔ جنسی تعلقات کا انکار کسی صورت ممکن نہیں اور آپ کر بھی نہیں سکتے۔ اگر پھر بھی کرنا چاہیں تو آپ کی مرضی و منشا ہے میں کیا کر سکتا ہوں یا کوئی بھی اس صورت میں کیا کر سکتا ہے۔

اب بات آتی ہے دو کنٹریکٹ زدہ میرا مطلب ہے والدین نامی دو افراد کو جنسی خواہشات کا رسیا کہنا، آپ کے نزدیک یہ ایک شدید گستاخی ہو سکتی ہے۔ اور میں ایک بے غیرت بے حیا اولاد ہو سکتا ہوں۔ شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ ایسی اولادیں پیدا ہونے سے پہلی مار دی جائیں یا پیدا ہوتے ان کا گلا گھونٹ دیا جائے۔

جی اگر آپ یہی سوچ رہیں ہیں تو آپ درست سوچ رہیں ہیں۔ ہر انسان کو ایسا ہی سوچنا چاہیے۔ آپ والدین ہیں اور ہم جیسی بدکردار اولادیں آپ کے گھر پیدا ہو گئیں ہیں تو مہربانی کر کے انہیں مار ہی دیجیے۔ اس سے پہلے کہ وہ خود مر جائیں یا آپ کو مار دیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اس بد کردار اولاد کاردعمل کیوں ہے؟

آپ کیوں جاننا چاہیں گے؟ آپ والدین ہیں آپ کو حق ہے کہ آپ نا ہی جانیں۔ آپ جان کر کر بھی کیا سکتے ہیں۔

لیکن ہم بد کردار اولادیں سوال کررہی ہیں اور سوال کرتی رہیں گے۔ جب تک آپ اپنے جسمانی تعلقات کو حقیقی والدین ہونے کی عملی تصویر کا رنگ نہیں دیتے۔ ہم جیسی نا فرمان اولادیں کوچہ کوچہ، قریہ قریہ رقص کرتے کرتے یہ سوال کرتی رہیں گی۔

بس یہی جاننا چاہتے ہیں کہ آپ جنسی تعلقات کے لئے شادی جیسے کنٹریکٹ کا سہارا کیوں لیتے ہیں۔ اگر آپ نے لے ہی لیا ہے تو بچے کیوں پیدا کرتے ہیں؟ اور پھر طلاق لے کر خود اپنی آزادی کو فوقیت دے کر اولادوں کی زندگیاں کیوں تباہ کرتے ہیں۔ آپ والدین نہیں ہو سکتے بس جنس کے طالب ہیں۔ ان سوالوں کاذہن میں ابھرنا ایسے ہی نہیں ہے۔ یہ سوال دبے رہتے ہیں مگر جیسے ہی کوئی سانحہ ہوتا ہے یہ سوال خود بخود چیخنے لگتے ہیں۔ دو اکتوبر کو لاہور میں انڈیسٹریل ایریا میں ایک 17 سالا نوجوان نہل کا اپنی دادی اور باپ کا قتل انہی سوالات کا عکاس ہے۔

آپ اولاد کو دولت دے کر ان کی خواہشات تو پوری کر سکتے ہیں۔ مگر وقت نہیں دے سکتے ان کو سینے پر سلا نہیں سکتے رات کی تنہائی میں ان کی دن بھر کی شرارتوں کی باتیں نہیں سن سکتے تو یقین مانیں آپ کوئی والدین کا کردار ادا نہیں کر رہے۔ آپ سے التماس ہے ان معصوم خوابوں کو تعبیر نا دیں بس سن لیں۔ آپ نہیں سنیں گے تو کوئی اور سنے گا کوئی اور ان کی دلجوئی کرے گا۔ بچوں کو ساتھ چاہیے انہیں لمس چاہیے ماں کی آغوش کا باپ کی شفقت بھرے ہاتھوں کا۔

اگر آپ یہ سب نہیں کر سکتے تو ہم جیسی بدکردار اولادوں کو جنم نا دیں تھوڑا وقت نکال لیں اور کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں، نہیں کر سکتے تو ڈاکٹر سے مناسب دوا لے کر چند گوشت کے لوتھڑوں کو ایک جان بننے کے مرحلے میں تبدیل ہونے سے بچائیں۔

میں سوچ رہا ہوں اس کیفیت کو جب سترہ سالہ لڑکے نے اپنی گھریلو ملازمہ جو اس کی بچپن کی ضروریات کو پورا کرتی رہی اور پھر وہی تعلقات اس نہج پر پہنچے کہ وہ اس کی جوانی کی جسمانی ضروریات کو بھی پورا کرنے لگے۔ اس وقت والد کہاں تھے دادی کہاں تھیں۔ کس طرح سے اس گھریلو ملازمہ اور اس کے شوہر نے دولت کے لالچ یا بلیک میل کر کے نہل کو راضی کیا اور اس نے اپنی محرومیوں کا بدلہ لیا۔

اس لڑکے کا اقبالی بیان جب وہ اور قاتل (ملازمہ کا خاوند) باپ کو قتل کرنے کے ارادے سے بیڈ روم تک پہنچے اور بیڈ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا اور باپ کے دروازہ کھولنے پر قاتل نے اس کے باپ کے سینے میں خنجر گھونپ دیا۔ اور لڑکے نے گرے ہوئے باپ کے پاؤں پکڑے اور وہ زور زور سے کہ رہا تھا کہ چاچو بابا کے سینے پے مارو، بابا کے سینے پے مارو، یہ بچنے نا پائیں وہ سوچ رہا ہو گا یہ سینہ جو میری آغوش بننے کے قابل نا تھا وہ اسی قابل ہے کہ چھلنی کر دیا جائے۔

اور دادی کو دھکا دے کر اس نے قاتل کو کہا آپ دادی کو مارو میں بابا کو پکڑتا ہوں۔ کہ یہی دادی آج میری تنہائی کا باعث ہے میرے والدین کی طلاق کا، اسے مت چھوڑنا۔

آپ بچوں کو نوکرانیوں کے سہارے چھوڑیں گے تو کیا امید کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کی ذمہ داری مکمل ہو گئی۔ اس ماں کی جس کے گھر سے وہ بچے کو کئی بار جھڑک کے نکال چکی۔ کہ میرے گھر مت آیا کرو۔

میں کسی کے مرنے کے بعد اس کو رحمت اللہ کی کھونٹی پے لٹکانے کا قائل نہیں۔ ہمیں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ منٹو نے صحیح کہا تھا کہ
مجھے مرنے والوں سے زیادہ تکلیف ہے اس بچے کے لئے، چاہے آپ جو کہیں جس کی زندگی نا مکمل رہی جو ساری زندگی اسی صدمے اور تکلیف کے ساتھ رہا اور رہے گا۔

آپ برائے مہربانی شادی کربھی لیتے ہیں تو کوشش کریں کہ بچے پیدا نا کریں۔ جب تک آپ اس قابل نا ہوں کہ بچوں کی ذمہ داری پوری کر سکیں۔ ورنہ آپ والدین نہیں

جماع کرتے اپنے اکیلے پن سے فرار کے لئے بھینچ کر ایک دوسرے سے چمٹ جانے والے جنسی جانورہی رہیں گے۔ اور آپ کی زینب کوڑھے کے ڈھیر پر آپ کی لا پرواہی کی تصویر بنے پڑی ہو گی یا نہل کی مانند اپنے باپ کے سینے
میں نفرت کا خنجر گھونپ رہی ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں