ڈرامہ عشق بے پناہ کے ڈائیلاگ پر ہنگامہ


ایک دور تھا کہ پاکستانی ڈراموں کو اعلیٰ معیار، عمدہ کہانیوں اور معاشرتی مسائل کا خوبصورتی سے احاطہ کرنے پر ناصرف وطن عزیز بلکہ بھارت تک میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اُن کا طوطی سارے جہاں میں بولتا تھا۔ ان ڈراموں کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ سرکاری ٹی وی (اُس وقت صرف اکلوتا پی ٹی وی ہی ہوتا تھا) پر پیش کیے جارہے ہوتے تھے تو اکثر شہروں کی سڑکوں پر سنّاٹے کا راج ہوتا تھا۔ لوگ تفریح کے اس نادر موقع سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

پھر وقت بدلا، مشرف دور میں بڑے پیمانے پر نجی چینلوں کی آمد ہوئی، ابتدا میں زیادہ تر ٹی وی چینل نیوز کے تھے، پھر رفتہ رفتہ انٹرٹینمنٹ چینلز متعارف کرائے گئے، اس سے ان کے درمیان مقابلے کے مثبت رُجحان کو فروغ ملا۔ ابتدا میں تو اس میدان میں کئی اچھی اور بامقصد کہانیاں سامنے آئیں اور اُن معاشرتی مسائل کو بھی مناسب طور پر اُجاگر کیا گیا، جن سے پہلے صرفِ نظر کیا جاتا تھا۔ پذیرائی ملنی یقینی تھی، خوب ستائش ہوئی۔ پھر نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ اس شعبے سے وابستہ لوگ سہل پسندی کا شکار ہوگئے۔

ایک جیسی روایتی کہانیوں، کرداروں کے اُلٹ پھیر کے ذریعے بعض لکھاری اپنے کھاتے میں ڈراموں کی تعداد تو بڑھاتے رہے مگر معیار برقرار نہ رکھ سکے اور نئی کہانیوں کا قحط بڑھتا ہی چلا گیا۔ ناظرین بھی ایک جیسی کہانیوں سے اُکتانے لگے۔ ایک جیسے مارننگ شوز نے بھی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو زوال کی جانب گامزن کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ سماج پر بھی اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ یہی روش اب انٹرٹینمنٹ انڈسٹری (جس نے نجی چینلوں کی آمد کے ساتھ مثبت اور درست سمت کا انتخاب کیا تھا) کو دیمک کی طرح چاٹ کے کھوکھلا کرچکی ہے اور آج وہ بدترین بحران سے دوچار نظر آتی ہے۔ اس صنعت سے وابستہ لوگ سنگین معاشی مسائل کی لپیٹ میں ہیں۔ بعض چینلوں پر تو کئی کئی مہینوں سے اُنہیں تنخواہوں کی ادائیگی رُکی ہوئی ہے۔ بڑے بڑے انٹرٹینمنٹ چینلز اپنی بقا کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ عالم یہ ہے کہ ڈراموں کی طویل فہرست میں ایک آدھ ہی کوئی ایسی کہانی سامنے آپاتی ہے، جس سے ناظرین متاثر ہوتے ہیں۔

ایسے دگرگوں حالات میں ڈرامہ انڈسٹری کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بامقصد اور نئے منفرد ڈرامے تخلیق کیے جائیں، جن کے ذریعے معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل سے لوگوں کو ناصرف آگہی دی جائے بلکہ ان کے حل بھی سامنے لائے جائیں۔ ایسی ہی ایک روایت شکن کہانی ’عشق بے پناہ‘ کی صورت سامنے آئی ہے جو ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ بحرانی دور میں خوش گوار ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ اس میں ہمارے معاشرے کے لوگوں کی محدود سوچ، منفی اور صنف نازک کے متعلق انتہائی فرسودہ خیالات کو ناصرف اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ اس کے ذریعے کئی سلگتے سوالات کو بھی اُٹھایا گیا ہے۔

اس ڈرامہ سیریل کا ذکر کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گزشتہ دنوں اس کے ایک ڈائیلاگ کو سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ایک کردار نے یہ جملہ بڑے دل دوز انداز میں ادا کیا ہے جو اپنے اندر گہری فکر لیے ہوئے ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اندھی تقلید کے عادی لوگوں نے اس جملے پر خوب غل غپاڑہ مچایا ہے، یہ جانے بغیر کہ کردار نے یہ جملہ ڈرامے میں کن حالات اور کس کیفیت سے دوچار ہونے کے بعد اور کیوں کر ادا کیا ہے۔

لوگوں کو اتنی عقل تو ہونی چاہیے کہ اکثر ڈرامے حقیقی کہانیوں سے متاثرہوکر ہی تخلیق کیے جاتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں ڈرامائی موڑ آتے رہتے ہیں اور اس جیسے کئی مکالمے اُن کا حصّہ بنتے ہیں جو معاشرے میں جاری ظلم و ستم کے خلاف ایک آواز کے طور پر ڈرامہ رائٹر اپنی تخلیق کا حصّہ بناتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز کسی کی دل آزاری نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے سُلگتے مسائل اور ان پر کرب کی کیفیت سے گزرنے والوں کے دل کے حال اور اُن کی زندگی کے عذابوں کی عکاسی بہتر طور پر کرنے کے لیے ڈرامے کی ضروریات میں یہ عنصر شامل ہے۔

پر اس سوچ کا کیا کیا جائے کہ ہمارے لوگوں کو بال کی کھال نکالنے کی عادت سی ہوگئی ہے، فکری اور نظریاتی طور پر وہ ایک دائرے تک محدود ہوتے ہیں اور وہ لاحاصل مباحث میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔ اس سے وہ کسی طور باز نہیں رہتے۔ اس طرح کرنے سے سماج کو لاحق مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اُن میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی سماجی ذرائع ابلاغ میں ایسے فارغ لوگوں کی کمی نہیں جوفضولیات میں دل چسپی لینے کی عادتِ بد میں مبتلا ہیں۔

بہرحال ہماری ڈراموں کی صنعت کو دوبارہ بلندیوں پر پہنچانے کے لیے ’عشق بے پناہ‘ ایسی کئی کہانیوں کی ضرورت ہے۔ اس ڈرامے کے ہدایت کار محمد مصور خان ہیں جو اس سے قبل کئی اہم اور کامیاب ڈراموں میں بہ حیثیت لکھاری اور ہدایت کار اپنا حصّہ ڈال چکے ہیں۔ اس کہانی کے ذریعے شائقین کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہونے کے ساتھ ایک جیتی جاگتی انسان بھی ہے، اُس کے بھی جذبات ہیں۔ اگر کوئی اُس کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے یا عزت کے درپے ہوتا ہے تو اس میں اُس کا کوئی قصور نہیں، وہ بے چاری تو مظلوم ہے۔ وہ ہر لحاظ سے لائق عزت و احترام ہے۔ آخر اُسے ہی سماج کیوں موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ سزا کی مستحق وہی کیوں ٹھہرتی ہے۔ اصل قصوروار تو اُس کے ساتھ نا انصافی برتنے والا فرد ہے۔

یہ رُجحان ساز کہانی ہماری ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ٹانک کی مانند ثابت ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف اب اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو بامقصد ڈراموں اور پروگراموں کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ جس سے معاشرے میں بہتری آئے اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری زوال سے کمال کی جانب گامزن ہوسکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں