8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں کیا ہوا؟


صبح نو کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہو چکا تھا، پرندوں کی سریلی آواز وادی کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی، دیہاتی امید نو کیساتھ کھیتوں کا رخ کر چکے تھے ،عورتیں مال مویشیوں کا چارہ پورا کرنے گہری گھاٹیوں میں اوجھل ہوچکی تھیں،بزرگ اور جوان چوپایوں کو ہانک کر جنگل کا رخ کر چکے تھے، بچے دل میں ماسٹر جی کا خوف لئے نہ چاہتے ہوئے بھی سکول روانہ ہوچکے تھے باقی بچ جانے والے دو چند معصوم بچے دیوار کیساتھ ٹیک لگاکر دھوپ سینکنے والے اپنے بیمار دادی،دادا کے سامنے مٹی کے گھروندے بنانے کے کھیل میں مصروف تھے ۔ گھروں سے ناشتے کیلئے جلائی جانے والے آگ کا دھواں ابھی تک پوری طرح غائب نہیں ہوا تھا کہ زمین نے یکدم پاؤں سے سرکنا شروع کر دیا اور اگلے ہی لمحے پوری وادی گردو غبار سے اٹ چکی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ آہ و بکا میں تبدیل ہو چکی تھی ہر طرف گردو غبار سے اندھیرا چھا چکا تھا اور اس اندھیرے میں صرف اور صرف انسانوں اور حیوانوں کی چیخ و پکار اور فریاد ہی سنائی دے رہی تھی۔ ایک منٹ سے بھی کم رہنے والے اس زلزلے نے پورے علاقے کو تہس نہس کر دیا تھا۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ پہاڑ جو چند منٹ قبل تک ہریالے تھے پھٹ کر تہہ و بالا ہونے کی وجہ سے سفید ہو چکے تھے۔ وہ گھر جہاں سے چند ساعتیں قبل ناشتے کے بعد ہلکا پھلکا دھواں اٹھ رہا تھا وہاں سے اب مٹی ،گرد و غبار اور سسکیاں اور آہیں اٹھنے لگی تھیں۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں تھوڑی دیر پہلے تک تو دنیا ہی دنیا بسی تھی ،جن کے دل و دماغ میں کار دنیا کے جالے تنے ہوئے تھے اچانک ان کے دلوں میں خدا نے ڈیرے ڈال دیئے تھے اور بے ساختہ ان کے لبوں پر کلمے کا ورد جاری تھا۔ یہ تھا 8 اکتوبر 2005 کو مظفر آباد کے مشرقی دہانے پر واقع یونین کونسل پٹن کلاں کوٹلیاں میں طلوع ہونے والی صبح کا ایک منظر جب 7.6 کی شدت کے زلزلے نے خوشیوں کے سویرے اور بسیرے کو تہہ و بالا کیا۔ اس روزچند ساعتوں کے جھٹکے نے علاقے کا نقشہ ہی بدل دیا تھا، محنت مزدوری کی غرض سے گھروں سے باہر لوگ آشکبار آنکھوں کے ساتھ گھروں میں موجود اپنے پیاروں کی فکر میں اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگے جارہے تھے ،بعض خواتین نے گھر کے فکر سے بے نیاز ہو کر سکولوں کی طرف دوڑ لگارکھی تھی تاکہ اپنے جگر گوشوں کی خیریت دریافت کی جائے۔

ہر طرف اداسی، فکر، آنسو اور تباہی ہی تباہی چھائی تھی۔ ایک جھٹکے نے صدیوں سے اس نگری میں رہنے والے لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں بے گھرکر دیا تھا۔ کھانے پینے کی اشیا زمین بوس ہوچکی تھیں لیکن اس سب کے باوجود زندہ بچ جانے والے لوگوں میں ہمدردی اور یکجہتی کی ایک نئی بیل منڈھے چڑھی تھی۔ شاید اگر پہلے نفرتوں کے چند گنے چنے بیج کہیں تھے بھی تو وہ بھی اس زلزلے میں پیوند زمین ہوچکے تھے۔ زلزلے کے بعد لوگوں نے کھلے آسمان تلے ڈیرے ڈال لئے تھے۔ ابتدائی دو چار روز تک تو لوگوں نے غموں کے ساتھ ساتھ اشیائے خور و نوش بھی آپس میں تقسیم کیں لیکن پھر امدادی سرگرمیوں نے اس علاقے کا رخ کیا اور امداد کی صورت میں ملنے والی ریل پیل نے اہلیان علاقہ کے رہن سہن کو ان کی باقی مانندہ زندگیوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ اس علاقے کو شاید زلزلے نے اتنا خالی اتنا ویران نہیں کیا جتنا اس وقت کی امدادی سرگرمیوں نے کیا۔ عوام کو ابتدائی ریلیف کی صورت میں ملنے والی امداد نے ان کے طرز زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ لوگوں کو اموات، گھروں کے منہدم ہونے یا پھر جزوی نقصان کی صورت میں بھی امدادی رقوم ملنے لگیں۔ یہ امدادی رقوم ان لوگوں کی زندگیوں میں ٹرنننگ پوائنٹ تھا جس کے اثرات آج بھی ویرانی کی صورت میں اس علاقے میں چھائے ہوئے ہیں۔

8 اکتوبر 2005 سے قبل اس دیہی علاقے کے 95 فیصد لوگ گاؤں میں ہی رہتے اور کھیتی باڑی ان لوگوں کا ذریعہ معاش تھا ،ان لوگوں کی زندگی سادہ اور خواہشات سے مبرا تھیں۔ پیسہ ان کی زندگیوں میں کسی حد تک ناپید تھا سو خواہشات بھی ان لوگوں کی محدود تھیں یہ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور ہنسی خوشی دو وقت کے کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہوئے صبر وشکر کے ساتھ زندگی گزارتے، لیکن 2005کا زلزلہ جہاں بے پناہ تباہی لے کر آیا ،جہاں اس نے پورے علاقے کو تہہ و بالا کیا وہیں اہل علاقہ کی تقدیر و ضمیر کو بھی ایسا جھنجھوڑا کہ گویا ان میں بھی دراڑیں پڑ گئیں۔ زلزلے کے فوراً بعد لوگوں کو اموات اور گھروں کی تباہی کے پیش نظر امدادی رقوم فراہم کی گئیں۔ یوں رقم ملتے ہی لوگوں نے اس نگری سے جس کے ساتھ ان کے دکھ سکھ سانجھے تھے ،جس آبائی گاؤں کے ساتھ ان کا جینا مرنا جڑا تھا اسی سے منہ موڑ لیا اور شہروں کا رخ کر لیا۔ وہی گاؤں جسے چھوڑنا چند سال قبل تک تو لوگوں کیلئے محال تھا اب اسی گاؤں میں ان لوگوں کا گزارا مشکل ہو گیا۔ جہاں سہولیات نہ ہوتے ہوئے بھی لوگ اسے جنت نظیر سمجھتے تھے اب قدرے سہولیات کے ساتھ بھی ان کا گزارہ نہیں ہو پا رہا۔ بحالی کے مراحل سے ہی لوگ شعور کے نام پر اندھے ہونے لگے اور ہوس نے ان کے اذہان کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا۔ فطر ت سے بھر پور یہ زندگی لالچ میں ڈھلنے لگی اور ذاتی مفاد اور اس کے حصول کیلئے دوسروں کے حقوق کی پامالی اور کینہ و بغض کی بیل آہستہ آہستہ اپنی گرفت مضبوط کرنے لگی۔ آج اس دیس میں ہریالی کم اور شعلے زیادہ نظر آتے ہیں۔ ہر ایک سینہ شعلہ زن ہے اور وہ قلوب جو کبھی عجز سے موجزن ہوا کرتے تھے آج خاک و خشت میں سلگتی چنگاری کا روپ دھار چکے ہیں۔ لوگ اب محبت کے نام پر نفرت بانٹ رہے ہیں۔ پہلے محبت اخلاص اور اتحاد اس علاقے کی پہچان اور پیداوار ہوا کرتی تھی مگر اب ہر سو نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں اور یہی اس علاقے کی اہم پیداوار ہو کر رہ گئی ہے اور محبت اور اخوت کی لڑی میں پروئے یہ لوگ، دانا پانی کے چکر میں دانہ دانہ ہو چکے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نوید اے قریشی کی دیگر تحریریں
نوید اے قریشی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں