اسامہ اور ملا منصور: شہید مہمان ہمارے


saleem malikامریکی ڈرون نے تو مذاق ہی بنا لیا ہے پاکستان آتے ہیں اور جس کو دل کرتا ہے مار کے چلے جاتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ہمارے مہمانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا اسامہ کو تو ساتھ ہی لے گئے تھے اور راستے میں کہیں سمندر میں پھینک دیا۔ اصل میں انہوں نے اور بھی آگے لے جانا تھا اور شاید امریکہ ہی لے جاتے لیکن ان کے سپاہی جنہیں وہ کوئی “سیل” وغیرہ کہتے ہیں ڈر گئے تھے کہ کہیں اسامہ کی روح ان کا پیچھا ہی نہ شروع کر دے۔ اسی خوف سے وہ اسے سمندر میں پھینک کر چلے گئے۔ البتہ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ منور حسن، اوریا مقبول اور اسامہ بن لادن کے اپنے چاہنے والوں کو یہ تسلی ہو گئی کہ اسامہ بن لادن شہید نہیں ہوئے امریکی فوج کو منہ کی کھانی پڑی اور ناکام واپس چلے گئے۔ اوپر سے اپنا ایک ہیلی کوپٹر بھی گنوا چکے تھے اب انہیں محکمانہ کارروائی کا ڈر تھا کہ واپس جاتے ہی سب سے بڑے افسروں کی ترقیاں روک دی جائیں گی، اس سے چھوٹے درجے کے افسروں کی تنزلیاں ہو جائیں گی اور سپاہیوں کو تو نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے تو انہوں نے امریکی صدر کو یہ کہانی سنا دی کہ اسامہ مل گیا تھا، انہوں نے مار دیا، لاش اپنے ساتھ اٹھا لی اور سمندر میں پھینک دی۔ اور فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے آ گئے ہیں۔

ہمیں اس جھوٹ کا بھی پتا چل گیا اور ہم نے سارے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بتا بھی دیا کہ امریکی جھوٹ بول رہے ہیں اسامہ نہیں مرا۔ ہاں البتہ ایک بات بالکل واضح تھی اور اس پر کسی کو بھی کوئی شک نہیں تھا کہ اسامہ شہید ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگوں نے اس طرح کے سوال پوچھ ڈالے کہ اسامہ یہاں کیا کر رہا تھا تو اس کا جواب بالکل واضح تھا کہ وہ کچھ خاص کام نہیں کر رہے تھے تقریباً فارغ رہتے تھے۔ یہاں پر موجود اپنی تین بیویوں کے ساتھ دل بہلاتے تھے اور ان کی اس مصروفیت کے موثر ہونے کا سب سے زیادہ کریڈٹ سب سے چھوٹی بیوی کو جاتا تھا۔ جواب ملنے پر لوگ خاموش ہو گئے۔ یہ سوالات کرنے والوں میں اس وقت کی پارلیمینٹ بھی تھی۔ آپ حیران نہ ہوں آپے سے باہر تو کوئی بھی ہو سکتا ہے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی۔ اس وقت کے وزیراعظم جناب گیلانی صاحب تو ایک دن اپنی اوقات ہی بھول گئے اور پارلیمینٹ کے فلور پر پوچھ بیٹھے کہ اسامہ کو پاکستان کا ویزا کس نے دیا تھا۔ خیر بات آئی گئی ہو گئی اور گیلانی صاحب کچھ دن بعد نوکری سے ڈسمس ہو کر گھر چلے گئے۔

البتہ ہمارے آئندہ کے مہمانوں نے یہ ویزے والے سوال کو کمال سنجیدگی سے لیا اور ایسا بندوبست کیا کہ یہ بحث ہی ختم ہو گئی۔ اس دفعہ ان کے پاس پاسپورٹ ہی پاکستانی تھا۔ خیر یہ تو پرانی بات ہے ہم واپس آتے ہیں آج کے اہم مسئلے کی طرف یعنی اس دفعہ امریکی ناکام جارحیت کی اصلیت کیا تھی۔ ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں اور دفاعی ادارے تو بجا طور پر خاموش رہے۔ کیونکہ وہ حکومتی معاملات میں دخل اندازی کے قائل نہیں ہیں۔ یہ ذمہ داری پڑی ہمارے قابل وزیر داخلہ جناب چودہدری نثار صاحب کے سر اور ظاہر ہے کہ انہوں نے تمام اہم سوالات کے بہت زبردست جواب دئے اور مخالفوں کو چپ کرا دیا۔

انہوں نے واضح کر دیا کہ ڈرون اٹیک ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی ہے اور ہم اس پر بہت برہم ہیں۔ انہوں الٹا امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو سوالات میں پھنسا دیا کہ ملا منصور جب کسی اور ملک جاتا ہے تو تمھارے ڈرون کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور ہمارے ملک میں شیر ہو جاتے ہو جبکہ افغان طالبان کا ہمارے ملک میں کوئی وجود بھی نہیں اور ملا منصور بھی ادھر نہیں تھا تو آپ لوگوں نے اس پر ڈرون مارا کیوں اور مزید یہ کہ ڈرون تم لوگوں نے بہت ہی غلط ٹائم پر مارا ہے اور اصل میں تم لوگوں نے مذاکرات اور پیس پراسیس کا قتل کیا ہے جیسا کہ ایک دفعہ پہلے بھی انہوں نے حکیم اللہ محسود کو غلط ٹائم پر ‘شہید’ کیا تھا اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ مگر یہ امریکی نہ جانے کب سیکھیں گے۔

چودھری نثار کا دوسرا سوال یہ تھا کہ تم لوگوں نے اسے اس وقت کیوں ڈرون مارا جب وہ کہیں سے واپس آ رہے تھے، اس وقت کیوں نہیں مارا جب وہ کہیں جا رہے تھے۔ چودھری صاحب نے مزید کہا کہ غیر ملکیوں کے لئے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ بنوانے کی پاکستان میں کیا سہولیات موجود ہیں اور اس سلسلے میں ان کی وزارت نے کیا کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

چودھری صاحب نے قوم کو مزید بتایا کہ مرنے والے اشخاص دو تھے ایک کا تو معلوم ہو گیا ہے اور اس کی میت بھی اس کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ دوسرے کے بارے میں امریکیوں نے کہا کہ وہ ملا منصور ہے اور طالبان بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ملا منصور ہے لیکن پاکستان حکومت سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے اپنی عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس سے حکومت اور عوام کے درمیان اعتبار میں کمی آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا مرنے والے دوسرے شخص کے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار ہے جونہی پتا چلے گا تو عوام کو آگاہ کر دیا جائے گا کہ وہ ملا منصور ہی تھے۔ اور ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں آپ مولانا شیرانی صاحب کے فتوے سے نہ ڈریں کیونکہ یہ کوئی عورت، بچی یا بچے کے ساتھ ریپ کا معاملہ نہیں کہ وہ بول پڑیں گے یہ ایک امیر کی شہادت کا معاملہ ہے اور بڑا اہم ہے۔

بات مزید واضح ہوتی ہے اگر ہم وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس کو جناب اوریا مقبول صاحب کے تجزیہ کے ساتھ جوڑ کر سنیں۔ اوریا صاحب چونکہ وہاں سروس کر چکے ہیں انہوں کہا کہ ڈرون اٹیک ایک صحرائی علاقے میں ہوا ہے اور طالبان تو پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں لہٰذا امریکیوں کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ ہو گیا ہے۔ مرنے والا ملا منصور نہیں تھا۔

یہ ساری باتیں تو ہو رہی ہیں مگر سب سے اہم سوال کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا کہ اس ڈرون کا شکار ہونے والے ہمارے مہمان ‘شہید ہوئے ہیں’ یا ہلاک ہوا ہے۔ اصل میں اس سوال کی گنجائش پہلے نہیں ہوتی تھی۔ یہ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب کچھ عاقبت نا اندیش لوگوں نے جناب مولانا منور حسن صاحب اور جناب مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے شہادت کے سلسلے میں دئے گئے فتوے کہ کتا بھی شہید ہے اور ہمارے بچوں اور فوجیوں کا قاتل بھی شہید ہے پر ناحق بحث شروع کر دی۔ بہرحال اب چونکہ یہ بحث شروع ہو گئی ہے تو اس کو نمٹانا بھی پڑے گا۔ لہٰذا واضح اعلان کیا جائے کہ اس ڈرون اٹیک نے شہیدوں کی لسٹ میں اضافہ کیا ہے یا ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لسٹ میں۔ فیصلہ تو بہرحال علمائے کرام نے ہی کرنا ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر سمجھ نہ آئے اور اوٹ پٹانگ لگے تو آپ اپنے وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس اور اوریا مقبول صاحب کا تبصرہ خود سن لیں پوری کہانی بالکل واضح ہو جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 60 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “اسامہ اور ملا منصور: شہید مہمان ہمارے

  • 07-06-2016 at 9:33 pm
    Permalink

    ایک اوٹ پٹانگ لیکن بامعنی اورسمجھ میں آنے والی تحریر- خوش ر ہیں

Comments are closed.