میاں صاحب کا آپریشن اور ہمارا غیب کا علم


adnan-khan-kakar-mukalima-3

ایک راندہ درگاہ قدیم قوم کے علم غیب کی انتہا کے متعلق ایک حکایت مشہور ہے۔ ممکن ہے کہ آپ نے پہلے سن رکھی ہو۔ حکایت ہے تو ظاہر ہے کہ سبق سکھانے کے لیے ہی بنائی گئی ہے اور اس میں سچ جھوٹ ڈھونڈنا ویسا ہی ہو گا جیسا کہ کچھوے اور خرگوش کی دوڑ کو یا لومڑی کے انگور کھٹے ہونے پر دیے گئے بیان کو حقیقت ماننا۔

کہتے ہیں کہ اس قوم کے ستارہ شناسی کے علم کی انتہا یہ تھی کہ اس کے کاہن کیا، اس کا بچہ بچہ ستاروں کی چال دیکھ کر غیب کا حال بتا دیتا تھا۔ عذاب کا فرشتہ وہاں گیا کہ ان کے علم کو پرکھے اور اگر ویسا ہی علم ہو جیسا مشہور تھا تو ان پر عذاب نازل کر دے۔ سو وہ اس سرزمین پر پہنچ گیا۔ اسے شہر سے باہر ایک پہاڑی پر ایک ننھا سا گڈریا ملا۔ فرشتے نے پوچھا کہ کیا تم ستاروں کا علم جانتے ہو؟ گڈریے نے جواب دیا کہ تھوڑی سی شد بد تو ہے۔

فرشتے نے اپنا نام بتا کر پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ یہ فرشتہ اس وقت کہاں ہے؟ بچے نے اپنی چھڑی سے زمین پر چند آڑی ترچھی لکیریں کھینچیں اور کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا کہ یہ فرشتہ اس وقت ساتوں آسمانوں میں سے کسی پر نہیں ہے۔ پھر کچھ اور لکیریں کھینچیں اور کہنے لگا کہ وہ اس وقت ساتوں زمینوں میں سے اسی زمین پر موجود ہے۔ مزید کچھ لکیریں کھینچیں اور کہنے لگا کہ وہ فرشتہ اس وقت ہمارے ملک میں ہی ہے۔ اس کے بعد وہ طویل حساب کتاب میں لگ گیا اور کہنے لگا کہ وہ فرشتہ اسی میدان میں موجود ہے اور یہاں صرف ہم دونوں ہی ہیں۔ اس لیے وہ یا تو تم ہو سکتے ہو یا میں، اور میں فرشتہ نہیں ہوں۔ اس لیے تم ہی وہ فرشتے ہو۔ نتیجہ یہ کہ حساب کتاب کی ساری مہارت رکھنے کے باوجود وہ یہ نہ جان سکا کہ یہ فرشتہ اسی کی قوم کو تباہ کرنے کے لیے یہ سب پوچھ رہا ہے اور وہ قوم فنا کر دی گئی۔

حکایت کئی بار پڑھی تھی، مگر سمجھ اب آئی ہے جب اپنی پیاری قوم کے بچے بچے کو بھی علم غیب کا ایسا ہی غضب کا ماہر پایا ہے۔ تازہ ترین واقعہ تو یہ ہے کہ ہم سب جان گئے ہیں کہ نواز شریف صاحب کا کوئی دل ول کا آپریشن نہیں ہوا ہے۔ وہ تو بس ہئیت مقتدرہ سے گھبرا کر ملک سے فرار ہوئے تھے کیونکہ پاناما لیکس میں وہ ایسے پھنس چکے تھے کہ کسی وقت بھی ان کی سناؤنی آ سکتی تھی۔ جب جنرل راحیل شریف صاحب کرپشن کے جرم میں جرنیلوں کو سزا دے رہے ہوں، تو سیاستدانوں نے کہاں بچنا ہے۔ اس لیے میاں صاحب نے دل کے آپریشن کا مکر کیا اور ملک سے غتربود ہو گئے۔ ایسی بات نہ ہوتی تو آپریشن سے چند دن قبل وہ لندن کے شاپنگ سینٹر میں کیوں گھوم رہے ہوتے اور ریستوران میں کھانا کیوں کھا رہے ہوتے؟ اگر سچ مچ میں دل کا آپریشن ہوتا تو موت کے خوف سے ان کی بری حالت ہوئی ہوتی۔ ان کو تو روزے رکھنے چاہئیں تھے اور مصلے سے اٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

بخدا ہم واقعی ایک عظیم قوم ہیں۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں۔ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ پر کا کوا بنا ڈالتے ہیں۔ اسے چھوٹا کوئی چھوٹا کام جانے تو رائی کا پربت بنانے میں ہماری مہارت کا جواب کوئی اور قوم دے سکتی ہے؟ لیکن یہ سب تو آسان باتیں ہیں، ہم تو بستر پر پڑے ایک شخص کی دھندلی سی تصویر دیکھ کر اس کے بال تک گن سکتے ہیں۔

غتربود ہونے کا ذکر چلا تو زرداری صاحب بھی یاد آ گئے۔ کیا دور تھا وہ بھی۔ علم الغیب کے ماہر اینکروں کے مطابق جنرل کیانی ان پر شیر کی سی نگاہ ڈال رہے تھے اور ان کا بچنا ناممکن تھا۔ قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ میمو گیٹ وغیرہ جیسے تین چار معاملات میں تو یہ حال ہو گیا تھا کہ اسلام آباد کے ائیرپورٹ پر جہاز انجن چلائے تیار کھڑا تھا کہ جیسے ہی زرداری صاحب قصر صدارت سے جیمز بانڈ کے انداز میں فرار ہو کر جہاز تک پہنچیں تو وہ ان کو ملک سے اڑا کر لے جائے۔ ایک مرتبہ تو وہ بھی اپنے دور صدارت میں ایسے ہی احتساب سے بچنے کی خاطر بیماری کا مکر کر کے امارات کے ایک ہسپتال میں پہنچ گئے تھے۔ ہمارا بچہ بچہ جانتا تھا کہ وہ مکر کر رہے ہیں اور اب واپس نہیں آئیں گے۔

shepherd2b

بچے بچے کے غیب کے حالات جاننے کا ذکر چل رہا ہے تو پھر ملالہ تو لازمی یاد آئے گی۔ ہماری قوم کے ان تارک الدنیا درویشوں کو بھی جو کہ کئی سال سے چلہ کاٹ رہے ہیں اور اپنے حجرے سے باہر نہیں نکلتے، اس بات کا غیب سے علم ہو گیا تھا کہ ملالہ کو کوئی گولی شولی نہیں لگی ہے، طالبان نے اس پر قاتلانہ حملہ نہیں کیا ہے، وہ بس یہ ڈرامہ کر رہی ہے۔ ان حقائق سے کوئی کنفیوز نہ ہوا کہ طالبان خود اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ انہوں نے حملہ کیا تھا، فوج نے اس کو اپنے ہیلی کاپٹر میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں لے جا کر اس کا کئی دن تک علاج کیا تھا، اور پھر امارات کے سربراہ کی فضائی ایمبولینس میں اسے برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے چہرے کے مفلوج عضلات آج بھی نمایاں ہیں، مگر ہماری قوم کا بچہ بچہ اپنی چھڑی سے زمین پر چند لکیریں کھینچے بغیر ہی جانتا ہے کہ یہ سب ڈرامہ ہے جس میں تحریک طالبان، پاک فوج، پاکستانی اور اماراتی اور برطانوی حکومتیں سب نے مل کر یہ مشہور کیا تھا کہ ملالہ کو گولی لگی ہے۔

ایسا ہی ماجرا باقی معاملات میں ہے۔ ہمیں کسی بھی ذریعے کے بغیر ہی ہر شے کی خبر ہوتی ہے۔ جب قوم کے علم کا یہ عالم ہو کہ اس کا بچہ بچہ دنیاوی علوم کی بجائے علم غیب پر تکیہ کرتا ہوں اور ایسا روشن ضمیر ہو کہ ساتوں زمینوں اور آسمانوں کا حال کسی ظاہری علم کے بغیر خود سے ہی جانتا ہو، تو اس قوم پر عذاب کا فرشتہ تو نازل ہوتا ہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “میاں صاحب کا آپریشن اور ہمارا غیب کا علم

  • 07-06-2016 at 11:57 am
    Permalink

    یقیناََ یہ روش غلط ہے مگر ہم انفرادی و اجتماعی طور پر جس قدر جھوٹ بولتے اور سنتے ہیں اس لحاظ سے ہم ہر بات میں غیر محسوس طریقہ سے وہ دوسرا پہلو تلاش کرنے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں جو بلا دلیل و منطق صرف ہمارے اپنے خیال میں دانستہ پوشیدہ رکھا گیا ہے، کہ اب ہم اُسی دوسرے رخ کو بلا تصدیق سچ مانتے ہیں جس کی مثال صرف یہی ایک بات نہیں۔ یہ نہ جہالت ہے نہ ہی کچھ اور یہ صرف جھوٹ کی فراوانی ہے جس سے الا ماشاءاللہ ہی کوئی خوش بخت مبرا ہو

Comments are closed.