ڈونلڈ ٹرمپ: کامن سیسنس کے نام پر حماقت


donald-trumpامریکہ میں صدارت کے لئے ری پبلیکن پارٹی کے متنازع اور منہ پھٹ امید وار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مسلمانوں اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور جج انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کا ورثہ انہیں عزیز ہوتا ہے۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کوئی مسلمان جج ان کے خلاف مقدمہ میں انصاف نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح میکسیکن نسل سے تعلق رکھنے والا جج بھی ’تعصب‘ کا اظہار کرے گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ مؤقف امریکہ میں موجود اس روایت کے خلاف ہے کہ کسی انسان کو اس کے والدین یا نسلی تعلق سے نہیں بلکہ اس کی اپنی صلاحیت اور شخصیت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ روایت کی نہیں کامن سینس کی بات کر رہے ہیں۔ امریکہ کا صدر بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران متنازع بیان دینے، کمزور گروپوں کو نشانہ بنانے، تعصب پھیلانے اور امریکی وسیع القلبی اور برداشت کی روایت کو پامال کرنے کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے۔ ابتدا میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ لوگوں کو متاثر کرنے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ایسے بیان دیتے ہیں جن سے لوگ چونک جائیں۔ یہ حکمت عملی بہت حد تک کامیاب بھی رہی۔ وہ اپنے انوکھے اور سخت گیر بیانات کی وجہ سے میڈیا میں موضوع بحث رہے۔ ان کی پارٹی یا ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں میں کسی کو بھی اتنی توجہ اور میڈیا کوریج نہیں ملی جتنی شہرت ڈونلڈ ٹرمپ کو حاصل ہوئی۔ تاہم پارٹی ٹکٹ کے لئے ان کا مقابلہ کرنے والے تمام امیدواروں کے میدان سے ہٹنے اور نامزدگی کے لئے مناسب تعداد میں ڈیلیگیٹ حاصل کرنے کے بعد، متعدد ماہرین اور تجزیہ نگار یہ امید کررہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب اپنے مؤقف میں نرمی پیداکریں گے تاکہ متنازع بیانات کی وجہ سے ہراس اور خوف کی جو کیفیت پیدا ہوئی ہے، وہ کم ہو سکے۔ اس خیال کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی فقرے بازی ان کے حقیقی سیاسی ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ تاہم کل رات براڈ کاسٹ ہونے والے انٹرویو میں یہ تجزیے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ امریکہ کو دہشت گردی سے محفوظ کرنے کے لئے وہ صدر بنتے ہی امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح اس ملک کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان کی امریکی روایات کے امین اور معتدل مزاج سیاست دانوں حتی ٰ کہ وہائٹ ہاؤس نے بھی سخت مذمت کی تھی اور اسے کسی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے خطرناک رویہ سے مشابہ قرار دیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے میکسیکو سے ناجائز طور سے امریکہ داخل ہونے والے لوگوں کا راستہ روکنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کا خرچہ بھی میکسیکو سے وصول کریں گے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے حوالے سے ہونے والی بحث میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ احمقانہ بیان دیا تھا کہ اگر وہ صدر ہوں گے تو آفریدی دو منٹ میں آذاد ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں کہوں گا اور پاکستان کو اسے فوری طور سے چھوڑنا پڑے گا‘۔ ان کی ایسی باتیں معروضی حالات سے متصادم ہونے کے علاوہ مسلمہ عالمی اصولوں اور امریکی جمہوری روایات کے خلاف سمجھی جاتی ہیں۔

گزشتہ رات امریکی ٹیلیویژن سی بی ایس CBS کے پروگرام فیس دی نیشن Face The Nation میں بات کرتے ہوئے انہوں نے تجزیہ کاروں کے ان اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے کی وہ نامزدگی کے مرحلے میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سے مقابلہ کرنے کے لئے متوازن اور معقول رویہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی مسلمان جج ان کے کسی مقدمہ میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ اس امریکی روایت کے خلاف نہیں ہے کہ کسی شخص کو اس بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا کہ اس کے والدین کون تھے اور وہ کہاں سے آیا ہے۔ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب تھا کہ وہ روایت کی بات نہیں کررہے بلکہ کامن سینس کی بات کررہے ہیں۔ ’ایک مسلمان جج ایسا شخص ہوگا جو اپنی روایت اور ورثہ پر فخر کرتا ہے۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے کہ وہ اپنے ورثہ پر فخر کرے‘۔ ٹرمپ اپنے اس مؤقف پر بھی اڑے رہے کہ ٹرمپ یونیورسٹی کیس میں شامل ایک میکسیکن ڈسٹرکٹ کورٹ جج گونزالو کوریل Gonzalo Curielان کے خلاف تعصب برتیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ وہ میکسیکن نواز سوسائیٹی یا کلب کے رکن ہیں۔ اس میں مضائقہ نہیں۔ لیکن وہ متعصب ہیں۔ میں دیوار تعمیر کرنا چاہتا ہوں اور میں دیوار تعمیر کروں گا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ لاطینی، ہسپانوی اور میکسیکن باشندوں کے ساتھ میرے تعلقات اچھے ہیں ‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے وکیلوں سے کہیں گے کہ جج کوریل کو ان کے خلاف مقدمہ سے ہٹوانے کی کوشش کریں۔

کامن سینس کے نام پر تعصب اور امتیازی سلوک کا پرچار کرنے والا یہ شخص امریکہ کا صدر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اب تک اس نے اپنے راستے میں حائل سب رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔ ٹرمپ اسی طرح پاپولسٹ رویوں کے ساتھ مقبولیت حاصل کرتے رہے تو یہ ناممکن نہیں ہے کہ وہ صدارتی انتخاب بھی جیت جائیں اور وہائٹ ہاؤس میں ایک ایسا صدر پہنچ جائے جو امریکی اور جمہوری روایات کو ضرورت اور کامن سیسنس کے نام پر مسترد کرے گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali